URDUکیا پاکستان ٹیم بکھرا ہوا اعتماد لارڈز میں بحال کرسکے گی ؟

کیا پاکستان ٹیم بکھرا ہوا اعتماد لارڈز میں بحال کرسکے گی ؟

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپین ٹیسٹ کی جیت نے اس کے اعتماد کو بڑھادیا تھا لیکن ہیڈنگلے ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز کی ہزیمت نے اس اعتماد کو بکھیر کر رکھ دیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے سب سے بڑا مسئلہ فٹ اور پرفارم کرنے والے گیارہ کھلاڑیوں کے ساتھ لارڈز کے دوسرے ٹیسٹ میں سیریز کو ہاتھ سے نکلنے سے روکنا ہے جو 27 اگست کو شروع ہورہا ہے۔

کپتان بابراعظم نے تکلیف زدہ انگلی کے ساتھ ٹیم کی شکست کا تکلیف دہ منظر باہر بیٹھ کر دیکھا لیکن اب وہ پوری کوشش میں ہیں کہ فٹ ہوکر ٹیم کی قیادت دوبارہ سنبھالیں۔

بابراعظم نے منگل کے روز پہلے ٹریننگ سیشن میں مکمل بیٹنگ پریکٹس کی ہے اور بولنگ کوچ عمرگل نے میڈیا ٹاک میں بھی اس ُامید کا اظہار کیا ہے کہ بابراعظم لارڈز ٹیسٹ میں دستیاب ہونگے۔

بابراعظم نے انگلینڈ میں ابتک چھ اننگز کھیلی ہیں جن میں ان کی تین نصف سنچریاں ہیں۔

بابراعظم کی غیرموجودگی میں پہلی بار ٹیسٹ میں کپتانی کرنے والے سلمان علی آغا کے لیے یہ تجربہ کسی بھیانک خواب سےکم نہ رہا اس کی وجہ خود کی اپنی خراب بیٹنگ فارم بھی ہے ۔ ویسٹ انڈیز میں تین اننگز میں 23 ۔صفر اور صفر کے بعد ہیڈنگلے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں صرف 21 اور 4 رنز بنانے کے علاوہ انہوں نے ہیری بروک کا ایک رن پرکیچ ڈراپ کرکے انہیں 91 رنز بنانے کا موقع فراہم کردیا۔

امام الحق پہلی اننگز میں 42 رنز کے بعد دوسری اننگز میں کوئی رن نہ بناسکے۔وہ ابتک اپنی آخری 26 ٹیسٹ اننگز میں کوئی سنچری نہیں بناسکے ہیں اور ویسے بھی ان کی تینوں ٹیسٹ سنچریاں راولپنڈی میں ہی بنی ہیں۔

شان مسعود کا انگش کنڈیشنز میں کھیلنے کا تجربہ کام نہ آسکا اور وہ 5 اور 29 رنز ہی بناپائے۔

سعود شکیل سے وابستہ بے پناہ توقعات بھی پوری نہ ہوسکیں اور وہ ٹیم میں واپس آنے کے بعد صرف 5 اور 14 رنز ہی بناپائے۔ ریویو لینے کے بارے میں ان کی غیریقینی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس وقت کتنے دباؤ میں ہیں ۔

سعود شکیل بھی کافی عرصے سے آؤٹ آف فارم ہیں اور 2024 میں انگلینڈ کے خلاف پنڈی میں سنچری کے بعد سے آخری 18 اننگز میں وہ ایک بھی سنچری نہیں اسکور کرسکے ہیں۔

ایک اور سینئر کھلاڑی محمد رضوان بھی جیسے بیٹنگ کرنا بھول گئے ہیں۔ان کی آخری 29 ٹیسٹ اننگز کسی سنچری کے بغیر گزر چکی ہیں لیکن سنچری نہ سہی کوئی ایسی اننگز بھی نہیں ہے جو ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکے اور جس انداز سے وہ اپنی وکٹ گنواتے آئے ہیں وہ بھی حیران کن ہے۔اس تمام تر صورتحال میں غازی غوری کا کیس مضبوط ہوتا نظر آرہا ہے لیکن ٹیم منیجمنٹ رضوان جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو ڈراپ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے قبل کافی سوچ بچار کرے گی کیونکہ یہ آسان فیصلہ نہیں ہوگا۔

دوسرے ٹیسٹ میں ایک تبدیلی جو یقینی نظر آرہی ہے وہ ہے اذان اویس کو ڈراپ کیا جانا جو ٹیسٹ ڈیبیو پر سنچری کے بعد سے 9 اننگز میں صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں ۔ اس صورت میں عبداللہ شفیق اور شان مسعود میں سے کسی ایک کو امام الحق کے ساتھ اوپن کرایا جاسکتا ہے۔

بولنگ کے شعبے میں خرم شہزاد کو بھی ڈراپ کیے جانے کا امکان موجود ہے جن کی بولنگ پر ہیڈنگلے میں مجموعی طور پر ایک چھکا اور 22 چوکے لگے تھے اس کے علاوہ وہ نوبال پر کنٹرول کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سلہٹ۔ تاروبا اور ہیڈنگلے کے صرف تین ٹیسٹ میچوں میں وہ 29 نوبالز کراچکے ہیں۔

دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم فیلڈ میں جتنا اچھا پرفارم کررہی ہے فیلڈ سے باہر کے معاملات اس کے لیے جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں۔ فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو نائٹ کلب کے واقعے کے بعد دوسرے ٹیسٹ کے اسکواڈ سے باہر کیا چکا ہے۔

اس سے قبل بین اسٹوکس ، گس اٹکنسن اور ہیری بروک بھی ماضی میں نائٹ کلب میں ہنگامہ اور مارپیٹ کے واقعات میں ملوث ہو چکے ہیں۔

انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے برائیڈن کارس کے واقعے پر سخت مایوسی اور غصہ ظاہر کیا ہے۔

پاکستان کے لیے لارڈز انگلینڈ کے دیگر گراؤنڈز کے مقابلے میں نسبتاً کامیاب رہا ہے۔ پاکستان نے لارڈز پر 16 ٹیسٹ کھیلے ہیں جن میں اس نے 5 جیتے ہیں 5 میں ہی اسے شکست ہوئی ہے اور 6 ٹیسٹ ڈرا ہوئے ہیں۔ان میں 15 ٹیسٹ انگلینڈ اور ایک ٹیسٹ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا ہے۔

لارڈز پر پاکستان نے 1982 میں 10 وکٹوں سے 1992میں 2 وکٹوں سے 1996 میں 164 رنز سے 2016 میں 75 رنز سے اور 2018 میں 9 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے یعنی پاکستان نے لارڈز پر لگاتار دو ٹیسٹ میچ جیت رکھے ہیں۔

ماضی میں اس تاریخی میدان میں حنیف محمد ۔ محسن خان ۔انضمام الحق محمد یوسف اور مصباح الحق یادگار اننگز کھیل چکے ہیں جبکہ گولڈن آرم بولر مدثر نذر ، یاسر شاہ اور محمد عباس کی میچ وننگ بولنگ اور مصباح الحق کے پش اپس آج بھی شائقین کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔

2010 میں اسی لارڈز گراؤنڈ پر پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی سب سے بڑی شکست اننگز اور 225 رنز سے دوچار ہونا پڑا تھا لیکن اس سے بھی بڑی خبر تین پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ ۔ محمد عامر اور محمد آصف کا اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونا تھی ۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.