ون ڈے ورلڈ کپ کی گھڑی ٹک ٹک کر رہی ہے، کیا پاکستان واقعی تیار ہے ؟
پاکستان نے آئی سی سی ورلڈ کپ 2027 کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جس کی فکر پاکستان کو اب نہیں کرنی پڑے گی کیونکہ ورلڈ کپ 2027 کے آغاز کی الٹی گنتی تیز ہو رہی ہے۔
لیکن اس کے بعد کیا ہوگا؟ یہ زیادہ اہم اور قدرے پریشانی والا سوال ہے۔
جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ورلڈ کپ شروع ہونے میں صرف 12 ماہ سے کچھ زیادہ وقت باقی رہتا ہے اور بڑی ٹیموں نے اپنی توجہ 50 اوورز کے فارمیٹ کی طرف منتقل کرنا شروع کر دی ہے۔ پاکستان کے لیے اگلا ایک سال اس بات کا موقع ہے کہ وہ اپنی ون ڈے کرکٹ میں وہ استحکام، وضاحت اور تسلسل پیدا کرے جو گزشتہ کچھ عرصے سے اکثر نظر نہیں آیاہے۔
پاکستان کا حالیہ ورلڈ کپ ریکارڈ اس چیلنج کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
2011 میں سیمی فائنل اور 2015 میں کوارٹر فائنل کھیلنے کے بعد پاکستان 2019 اور 2023 دونوں ورلڈ کپ میں ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے چنانچہ 2027 کے ورلڈ کپ کے آغاز تک پاکستان کو اپنے آخری ورلڈ کپ سیمی فائنل میں پہنچے 14 سال گزر چکے ہوں گے۔
1992 کے عالمی چیمپئن اور خود کو کرکٹ کی بڑی طاقتوں میں شمار کرنے والے ملک کے لیے یہ ایک تشویش ناک رجحان ہے۔
اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جہاں پاکستان کے کئی بڑے حریف اپنی قابلِ شناخت اور مستحکم ٹیم کامبی نیشن کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، وہیں پاکستان کے سامنے تقریباً ہر شعبے میں سوالات موجود ہیں۔
کون مستقل طور پر ٹیم کا حصہ ہوگا ؟ ترجیحی بیٹنگ آرڈر کیا ہوگا ؟ جنوبی افریقہ کے حالات کے لیے بولنگ اٹیک کا بہترین توازن کیا ہوگا؟ اننگز کے آخری مرحلے میں رنز کون بنائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگلے 12 ماہ کے دوران قیادت، سلیکشن اور کوچنگ میں تسلسل برقرار رہے گا یا نہیں؟
کپتانی بھی بحث کا موضوع ہے۔
شاہین شاہ آفریدی پاکستان کے نامزد ون ڈے کپتان ہیں
تاہم حالیہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے طویل مدتی مفروضے قائم کرنا آسان نہیں۔ پاکستان کرکٹ میں قیادت، سلیکشن کے نظام اور ٹیم مینجمنٹ میں بارہا تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ آج کپتان کون ہے بلکہ یہ کہ کیااسی قیادت کے ڈھانچے کو ورلڈ کپ تک ڈیویلپ کیا جائے گا یا نہیں ؟۔
وائٹ بال کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اس وقت ایشین گیمز میں پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے ساتھ مصروف ہیں۔ یہ بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ اصل ضرورت ایک واضح ون ڈے پروگرام کی ہے جس میں کپتان، کوچ، سلیکٹرز اور کھلاڑی ایک ہی ورلڈ کپ منصوبے کے تحت کام کر رہے ہوں۔
13 ون ڈے، اگر درست انداز میں استعمال کیے جائیں تو کافی ہیں
موجودہ فیوچر ٹورز پروگرام کے مطابق پاکستان یکم ستمبر 2026 سے 25 ستمبر 2027 کے درمیان 13 ون ڈے میچز کھیلنے والا ہے۔
اسی عرصے میں انگلینڈ 27، سری لنکا 17 اور بھارت 14 ون ڈے کھیلے گا جبکہ نیوزی لینڈ کے شیڈول میں بھی پاکستان کی طرح 13 ون ڈے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے 9 اور آسٹریلیا کے صرف 3 ون ڈے موجودہ شیڈول میں شامل ہیں۔
فیوچر ٹورز پروگرام میں تبدیلی ممکن ہے اور بورڈز ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے مزید میچز بھی شامل کر سکتے ہیں لیکن یہ اعداد ایک اہم بات واضح کرتے ہیں کہ پاکستان یہ شکایت نہیں کر سکتا کہ اسے ون ڈے کرکٹ کم مل رہی ہے۔
13 میچز ورلڈ کپ اسکواڈ کے بنیادی ڈھانچے کو طے کرنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں۔ پاکستان یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ آخری چند ماہ تک دو طرفہ سیریز کے دوران بھی کپتانی، کھلاڑیوں اور ان کے رول جیسے بنیادی سوالات کے جواب تلاش کیے جا رہے ہوں۔
اب ہر ون ڈے کا ایک واضح مقصد ہونا چاہیے۔
پاکستان کی تیاری اگلے ماہ مؤثر طور پر شروع ہوگی جب وہ سری لنکا اور انگلینڈ کے ساتھ سہ فریقی سیریز کی میزبانی کرے گا۔ اسے محض ایک اور ہوم اسائنمنٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔یہ ورلڈ کپ کے لیے سلیکشن کے عمل کا آغاز ہونا چاہیے۔
پاکستان نے 2026 میں اب تک چھ ون ڈے کھیلے ہیں، جن میں تین جیتے اور تین ہارے ہیں۔ یہ ریکارڈ نہ تباہ کن ہے اور نہ ہی خاص طور پر اطمینان بخش۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ان میچز نے پاکستان کو اس ٹیم کی شناخت کے کتنا قریب پہنچایا ہے جسے وہ افریقہ میں میدان میں اتارنا چاہتا ہے۔
اب بھی کچھ جگہیں خالی ہیں اور ورلڈ کپ سے 12 ماہ قبل یہ صحت مند مقابلہ ہو سکتا ہے۔ مسابقت ٹیم کو بہتر بنا سکتی ہے لیکن کسی مستحکم ٹیم میں دو یا تین پوزیشنز کے لیے مقابلے اور پوری ٹیم کے ڈھانچے میں غیر یقینی کے درمیان واضح فرق ہے۔پاکستان کو تیزی سے پہلے مرحلے کی طرف بڑھنا ہوگا۔
حریف بظاہر زیادہ آگے بڑھ چکے ہیں ۔موجودہ ون ڈے مرحلے کی اہمیت دوسری ٹیموں کی مثال سے بھی واضح ہوتی ہے۔
آسٹریلیا جو دفاعی عالمی چیمپئن ہے، پہلے ہی جنوبی افریقہ میں کھیل رہا ہے اور ان حالات سے واقفیت حاصل کر رہا ہے جن کا سامنا اسے اگلے سال اپنے ٹائٹل کے دفاع کے دوران ہوگا۔
جنوبی افریقہ کے پاس ایسے تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں جن کے گرد وہ اپنی ورلڈ کپ ٹیم تشکیل دے سکتا ہے جبکہ بھارت اور انگلینڈ کے پاس مستند وائٹ بال کھلاڑیوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ حالیہ کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان چاروں ٹیموں کے پاس اپنی ورلڈ کپ کامبی نیشن کے بہت سے بنیادی اجزا پہلے ہی موجود ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ اکتوبر 2027 میں یہی صورتحال برقرار رہے گی۔ فارم ختم ہو سکتی ہے، انجریز ہو سکتی ہیں اور پہلے سے مستحکم کامبی نیشن بھی بکھر سکتے ہیں لیکن استحکام اس لیے اہم ہے کہ اس سے ٹیموں کو آخری ایک سال میں نئی ٹیم بنانے کے بجائے اسے بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔پاکستان کو بھی جلد اس مرحلے تک پہنچنا ہوگا۔
کوالیفکیشن نے ایک پریشانی ختم کردی ہے۔
کم از کم پاکستان اب کوالیفائنگ ٹورنامنٹ کے ذریعے ورلڈ کپ میں جگہ بنانے کی پریشانی سے آزاد ہے۔
جنوبی افریقہ اور زمبابوے میزبان ہونے کی وجہ سے براہِ راست کوالیفائی کر چکے ہیں جبکہ پاکستان نے بھارت، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، سری لنکا، انگلینڈ، افغانستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ براہِ راست ورلڈ کپ کوالیفکیشن حاصل کر لی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ اگلا ایک سال مکمل طور پر ایسی ٹیم بنانے پر صرف کیا جا سکتا ہے جو ٹورنامنٹ میں آگے تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہو، بجائے اس کے کہ یہ فکر کی جائے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں پہنچ بھی پائے گا یا نہیں ؟۔
لیکن کوالیفائی کرنا اور ٹائٹل کے لیے مقابلہ کرنا دو مختلف معیار ہیں۔
پاکستان کے لیے صرف ورلڈ کپ تک پہنچ جانا کبھی کامیابی کا آخری مقصد نہیں رہا۔ اصل ہدف جنوبی افریقہ میں ایسی ٹیم کے ساتھ پہنچنا ہونا چاہیے جو ٹائٹل کے لیے چیلنج پیش کر سکے۔
افریقی حالات کے لیے تیاری
ورلڈ کپ کے مقام کو پاکستان کی منصوبہ بندی پر ابھی سے اثر انداز ہونا چاہیے۔ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کے حالات مختلف ہوں گے لیکن تیز گیند، باؤنس، حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت اور فیلڈنگ/ ایتھلیٹزم خاص اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔
اس لیے پاکستان کو صرف اپنے بہترین کھلاڑی ہی نہیں بلکہ ان حالات کے لیے اپنے بہترین کھلاڑی بھی تلاش کرنے ہوں گے۔
شاہین کو اس منصوبے کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے لیکن پاکستان کو ان کے گرد باؤلنگ اٹیک بھی طے کرنا ہوگا۔ اسے ایسے فاسٹ بولرز درکار ہوں گے جو نئی گیند سے وکٹیں حاصل کر سکیں اور اننگز کے بعد کے مرحلے میں بھی کنٹرول برقرار رکھیں۔ مختلف پچز کے لیے مناسب اسپن آپشنز بھی درکار ہوں گے جبکہ بیٹنگ آرڈر کو اعلیٰ معیار کی تیزبولنگ کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جدید ون ڈے کرکٹ کے مطابق رفتار بھی پیدا کرنا ہوگی۔
سب سے بڑھ کر کردار واضح ہونے چاہئیں۔
ہر کھلاڑی کو ون ڈے میں داخل ہوتے وقت معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کیوں منتخب کیا گیا ہے، وہ کہاں بیٹنگ کرے گا، اس سے اننگز کے کس مرحلے کو کنٹرول کرنے کی توقع ہے اور ورلڈ کپ پلان کا حصہ رہنے کے لیے اسے کیا کرنا ہوگا۔
12 ماہ ایک اور تجربہ نہیں بننے چاہئیں۔
پاکستان کرکٹ میں ٹیلنٹ کی کبھی کمی نہیں رہی۔ بار بار آنے والی مشکل یہ رہی ہے کہ اس ٹیلنٹ کو ایک مستحکم اور مربوط عالمی معیار کی ٹیم میں تبدیل کیسے کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلے 12 ماہ کا چیلنج کرکٹ کے ساتھ ساتھ انتظامی بھی ہے۔
سلیکٹرز کو ہر انفرادی کارکردگی پر ڈرامائی ردعمل نہیں دینا چاہیے۔ ٹیم مینجمنٹ کو منصوبہ نافذ کرنے کے لیے مناسب تسلسل ملنا چاہیے۔ کپتان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی پوزیشن کیا ہے۔ کھلاڑیوں کو اپنے کردار واضح طور پر معلوم ہونے چاہئیں۔
تبدیلیاں بہرحال ہوں گی۔ آج کے اسکواڈ سے باہر کوئی کھلاڑی اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں جگہ بنا سکتا ہے۔ کوئی مستقل کھلاڑی فارم کھو سکتا ہے۔ انجریز کامبی نیشن تبدیل کر سکتی ہیں۔
یہ سب معمول کی تیاری کا حصہ ہے۔ لیکن خود منصوبے کو بار بار تبدیل کرتے رہنا معمول کی تیاری نہیں۔
پاکستان کے پاس موجودہ شیڈول کے مطابق 13 ون ڈے ہیں جن میں وہ غیر یقینی صورتحال کو واضح منصوبے میں تبدیل کر سکتا ہے۔ آخری پانچ یا چھ میچز تک گفتگو کا محور یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کپتان کون ہوگا، آدھی بیٹنگ لائن اپ کیسے بنانی ہے یا بنیادی بولنگ اٹیک کون سا ہے۔
ان میچز کو کامبی نیشن بہتر بنانے، متبادل آپشنز آزمانے اور مخصوص حالات کے لیے مخصوص کھلاڑیوں کو تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
ورلڈ کپ سے پہلے کے آخری چند ماہ اسی مقصد کے لیے ہوتے ہیں۔
ایک مرتبہ پھر کوالیفکیشن کا معاملہ پاکستان کے لیے اطمینان کا باعث ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ جنوبی افریقہ پہنچے گا۔
لیکن ابھی کوئی نہیں جانتا کہ وہاں کس نوعیت کی پاکستانی ٹیم پہنچے گی۔
کیا یہ ایک ایسی مستحکم ٹیم ہوگی جو ایک سال کی بامقصد ون ڈے کرکٹ سے مضبوط ہو چکی ہوگی جس کا کپتان طے شدہ ہوگا، کھلاڑیوں کے کردار واضح ہوں گے اور ٹیم مینجمنٹ ایک ہی سمت میں کام کر رہی ہوگی؟
یا پاکستان ایک اور ورلڈ کپ میں کامبی نیشن، قیادت اور سلیکشن پر بحث کرتا ہوا پہنچے گا؟
موجودہ شیڈول کے مطابق انگلینڈ کے پاس تیاری کے لیے 27 ون ڈے ہیں۔ بھارت کے پاس 14، جبکہ نیوزی لینڈ اور پاکستان کے پاس 13، 13 میچز ہیں۔ صرف یہ اعداد و شمار اس بات کا تعین نہیں کریں گے کہ ٹرافی کون اٹھائے گا۔
اصل فرق اس بات سے پڑ سکتا ہے کہ ٹیمیں ان میچز کو کس طرح استعمال کرتی ہیں۔
پاکستان کے پاس ایک مسابقتی ورلڈ کپ ٹیم بنانے کے لیے کافی کرکٹ موجود ہے۔ اس کے پاس ایسی ٹیم تشکیل دینے کے لیے کافی ٹیلنٹ بھی ہے۔ اور براہِ راست کوالیفکیشن حاصل ہونے کی وجہ سے اس کے پاس تیاری پر مکمل توجہ مرکوز کرنے کی سہولت بھی موجود ہے لیکن اب وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں۔




Leave a Reply