URDUبابر اعظم کے پیچھے ُچھپنا بند کریں، پوری ٹیم جوابدہ ہے

بابر اعظم کے پیچھے ُچھپنا بند کریں، پوری ٹیم جوابدہ ہے

ہیڈنگلے میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی شرمناک شکست نے بجا طور پر غصے، مایوسی اور بعض حلقوں میں حیرت کو جنم دیا ہے۔ پاکستان جیسی کرکٹ کی تاریخ، روایات اور شاندار ماضی رکھنے والی ٹیم سے توقع تھی کہ وہ تین دن کے اندر اننگز اور 103 رنز سے شکست کھانے کے بجائے کہیں زیادہ مزاحمت دکھائے گی۔

لیکن شکست کے بعد ایک اور بیانیہ تیزی سے زور پکڑ گیا ہے کہ لارڈز میں بابر اعظم کو واپس آنا چاہیے۔

اگر وہ فٹ ہیں تو انہیں یقیناً واپس آنا چاہیے۔

بابر اعظم اب بھی پاکستان کے سب سے زیادہ باصلاحیت اور کامیاب فعال بیٹرہیں۔ ان کی غیر موجودگی بیٹنگ لائن میں ایک بڑا خلا پیدا کرتی ہے۔ ان کا تجربہ اہم ہے۔ ان کی موجودگی مخالف ٹیم کو اضافی منصوبہ بندی پر مجبور کرتی ہے۔ انگلینڈ یقیناً انہیں اسٹینڈز کے بجائے ڈریسنگ روم میں دیکھنا زیادہ پسند کرے گا۔

لیکن کہیں نہ کہیں ایک بالکل جائز دلیل کو ایک خطرناک تصور میں تبدیل کر دیا گیا ہے ، یہ یقین کہ بابر کی واپسی ہیڈنگلے میں سامنے آنے والی پاکستان کی تمام کمزوریوں کو کسی طرح ختم کر سکتی ہے۔ایسا نہیں ہو سکتا۔

اور جتنی جلد پاکستان کے کرکٹ منتظمین، کھلاڑی، ماہرین اور میڈیا یہ حقیقت تسلیم کر لیں، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ بلاشبہ پاکستان اپنی ٹیم میں بابر اعظم کے ساتھ ایک بہتر ٹیم ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بابر کے بغیر پاکستان مقابلہ کرنے کے قابل ہی نہیں۔

اگر پاکستان ایک کھلاڑی کے بغیر مقابلہ نہیں کر سکتا تو مسئلہ اس ایک کھلاڑی کی غیر موجودگی سے کہیں بڑا ہے۔

پھر باقی کھلاڑی وہاں کیوں ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جو پوچھنے کی ضرورت ہے۔

بابر کی فٹنس ایک الگ معاملہ ہے۔ کینٹربری میں کاؤنٹی سلیکٹ الیون کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے ان کے دائیں ہاتھ پر چوٹ لگی جس کے بعد وہ ہیڈنگلے ٹیسٹ سے باہر ہو گئے۔ مسلسل درد اور سوجن کی اطلاعات کے باعث لارڈز میں ان کی شرکت صحت یابی سے مشروط ہے۔

ہر پاکستانی مداح انہیں واپس دیکھنا چاہتا ہے۔ ہر کرکٹ شائق یہی چاہے گا کہ کھیل کے بہترین بیٹرز میں شمار ہونے والا بابر لارڈز میں کھیلے۔

لیکن بابر کی واپسی کی خواہش ایک بات ہے اور یہ توقع رکھنا کہ وہ پاکستان کو مشکلات سے نکال دیں گے بالکل دوسری بات ہے۔

یہ توقع صرف غیر حقیقت پسندانہ ہی نہیں بلکہ بابر کے لیے ناانصافی اور پاکستان کے لیے خطرناک بھی ہے کیونکہ اس کے ذریعے باقی سب کو ُچھپنے کا موقع مل جاتا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ بابر کے پیچھے نہیں ُچھپ سکتا۔ ٹیم مینجمنٹ بابر کے پیچھے نہیں ُچھپ سکتی۔ کھلاڑی بابر کے پیچھے نہیں ُچھپ سکتے۔

اور خود بابر کو بھی پاکستان کرکٹ میں ہونے والی ہر خرابی کی آسان اور سہل وضاحت نہیں بنا دینا چاہیے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ انہیں اس مقام پر کھڑا کیا گیا ہو۔

شان مسعود کی قیادت میں پاکستان کے 16 میں سے 12 ٹیسٹ ہارنے کے بعد بابر کو دوبارہ ٹیسٹ کپتان مقرر کیا گیا۔ وہ ایسے وقت میں قیادت میں واپس آئے جب ان کا اپنا کریئر بھی دوبارہ اس بابر اعظم کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا تھا جسے کرکٹ کی دنیا جانتی تھی۔

انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اچھی کارکردگی دکھائی۔ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 193 رنز 96.50 کی اوسط سے بنا کر پاکستان کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر رہے اور پلیئر آف دی سیریز کا ایوارڈ بھی شیئر کیا۔

لیکن ایک اچھی سیریز کسی ایک کھلاڑی کو پوری ٹیم کی قسمت کا ذمہ دار نہیں بنا دیتی۔

اور ایک خراب ترین ٹیسٹ اچانک باقی تمام کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے لیے نااہل نہیں بنا دیتا۔ یہ فرق اہم ہے۔ ہیڈنگلے میں میدان میں اترنے والے کھلاڑیوں کی کارکردگی ناقص تھی۔ اس حقیقت کو نرم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ٹیم اعتماد، توجہ اور بعض اوقات ٹیسٹ کرکٹ میں مقابلہ کرنے کے لیے درکار بنیادی نظم و ضبط سے بھی محروم نظر آئی۔ پاکستان کی بیٹنگ بکھر گئی۔ بولنگ دباؤ برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔ فیلڈنگ اور فیصلوں نے بھی میچ کا رخ تبدیل کرنے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا جبکہ انگلینڈ نے تقریباً آغاز ہی سے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔

ان کھلاڑیوں کو تنقید کا سامنا کرنا چاہیے۔ لیکن انہیں ایک اور چیز بھی ملنی چاہیے ، ذمہ داری۔ ایسی ذمہ داری جو بابر کی طرف منتقل نہ کی جاسکے۔

ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہونی چاہیے جو میدان میں موجود تھے، اس میچ کے لیے جنہوں نے انہیں تیار کیا اور اس ٹیم کو منتخب کرنے والے نظام پر بھی۔

اس کے بجائے ہیڈنگلے کے بعد ہونے والی زیادہ تر گفتگو ایسے شخص کے گرد گھوم رہی ہے جو میچ میں کھیلا ہی نہیں۔ یہ آسان راستہ ہے لیکن خطرناک بھی ہے۔

کیونکہ جب بابر ہی ہر مسئلے کی وجہ بن جائیں تو باقی سب کے لیے بہانہ پیدا ہو جاتا ہے۔ پاکستان ہارا تو بابر کی غیر موجودگی کو ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان ان کی واپسی کے بعد جیت گیا تو سارا کریڈٹ ان کی موجودگی کو دیا جا سکتا ہے۔اور ان دونوں صورتوں کے درمیان وہ مشکل سوال کہیں غائب ہو جاتے ہیں جو اصل میں پوچھے جانے چاہئیں۔

پاکستان کی بیٹنگ کیوں بکھر گئی؟ انگلینڈ کو اتنی جلدی میچ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ جب میچ پاکستان کے خلاف جانے لگا تو کھلاڑی اس کا جواب دینے کے لیے اتنے بے بس کیوں دکھائی دیے؟ ٹیم میں ایک بین الاقوامی ٹیم سے توقع کی جانے والی اجتماعی مزاحمت کیوں نظر نہیں آئی؟

یہ سوال اس بات سے کہیں زیادہ اہم ہیں کہ ایک کھلاڑی لارڈز کے لیے وقت پر واپس آ سکتا ہے یا نہیں؟

لارڈز میں پاکستان کی اپنی تاریخ بھی بابر کو نجات دہندہ سمجھنے کے نظریے کا جواب دیتی ہے۔

1992 میں پاکستان نے انگلینڈ کے 175 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد 138 رنز کا ہدف حاصل کیا۔ پاکستان 18 رنز پر تین وکٹیں اور بعد میں 95 رنز پر آٹھ وکٹیں کھو چکا تھا اور میچ ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا تھا پھر وسیم اکرم نے اپنے کریئر کی ایک بہترین میچ وننگ کارکردگی پیش کی لیکن وسیم نے بھی وہ ٹیسٹ اکیلے نہیں جتوایا۔ انہوں نے ناقابل شکست 45 رنز بنائے جبکہ وقار یونس 20 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ پاکستان کے بولرز پہلے ہی انگلینڈ کو کم اسکور پر آؤٹ کر کے جیت کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ وسیم نے خود میچ میں چھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔پاکستان دو وکٹوں سے جیت گیا۔

یہ غیر معمولی انفرادی صلاحیت تھی لیکن ایک اجتماعی کارکردگی کے اندر۔

24 سال بعد پاکستان نے لارڈز میں ایک بار پھر دکھایا کہ ٹیم کی کارکردگی کیسی ہوتی ہے۔

مصباح الحق نے 114 رنز بنائے۔ اسد شفیق نے 73 رنز اسکور کیے۔ یاسر شاہ نے 10 وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری اننگز میں اسد، سرفراز احمد اور یاسر نے قیمتی رنز کا اضافہ کیا جس کے بعد پاکستان کے بولنگ اٹیک نے 75 رنز سے فتح مکمل کی۔ یہ ایک سپراسٹار کارکردگی تھی۔ اس کے ساتھ معاون کارکردگیاں بھی تھیں۔ مختلف مراحل پر دباؤ برداشت بھی کیا گیا اور مخالف پر دباؤ ڈالا بھی گیا۔ مختلف کھلاڑیوں نے مختلف مواقعوں پر اپنا کردار ادا کیا۔

ٹیسٹ میچ اسی طرح جیتے جاتے ہیں۔ کسی نجات دہندہ کے ذریعے نہیں، ایک ٹیم کے ذریعے۔

بابر لارڈز میں سنچری بنا سکتے ہیں۔ وہ ڈبل سنچری بھی بنا سکتے ہیں۔ اس سے بلاشبہ پاکستان کے جیتنے کے امکانات بہتر ہوں گے لیکن ان میں سے کوئی بھی چیز فتح کی ضمانت نہیں دے سکتی۔

وہ 20 وکٹیں اکیلے نہیں لے سکتے۔ ہر کیچ خود نہیں پکڑ سکتے۔ ہر بولنگ فیصلہ خود نہیں کر سکتے۔ دوسرے بیٹرز کے شاٹ سلیکشن کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ ٹیم کو تیار نہیں کر سکتے۔ وہ کریز پر بیٹنگ کرتے ہوئے بیک وقت کپتانی، بولنگ اور فیلڈنگ نہیں کر سکتے۔ اور یقیناً وہ پوری ٹیم میں اجتماعی حوصلہ پیدا نہیں کر سکتے۔

اسی لیے دیگر عظیم کھلاڑیوں سے موازنہ بھی اہم ہے۔

سچن ٹنڈولکر اور برائن لارا کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین بیٹرز میں شمار ہوتے ہیں لیکن ان دونوں میں سے کوئی بھی اپنی ہر ٹیم کو ایک فاتح مشین میں تبدیل نہیں کر سکا۔

ان کی عظمت حقیقت تھی۔ ان کی ٹیموں کی کمزوریاں بھی حقیقت تھیں۔ پاکستان کو ان سے یہی سبق حاصل کرنا چاہیے۔

ایک عظیم کھلاڑی میچ کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ ایک عظیم کھلاڑی میچ جتوا سکتا ہے۔ ایک عظیم کھلاڑی پوری سیریز کا رخ بدل سکتا ہے۔ لیکن کوئی ایک فرد پوری ٹیسٹ ٹیم کی خامیوں کی مستقل تلافی نہیں کر سکتا۔

اور یہی وجہ ہے کہ بابر کے حوالے سے موجودہ بیانیہ خطرناک ہے۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلے کا ایک سادہ حل ہونے کا تاثر پیدا کرتا ہے۔

بابر کو واپس لائیں۔ مسئلہ حل ہو گیا۔

لیکن اگر وہ مکمل فٹ ہونے سے پہلے واپس آ گئے تو کیا ہوگا؟ اگر زخمی ہاتھ کے ساتھ کھیلتے ہوئے ان کی کارکردگی متاثر ہوئی تو کیا ہوگا؟ اگر پاکستان دوبارہ ہار گیا تو کیا ہوگا؟

آج بابر کی واپسی کا مطالبہ کرنے والے یہی لوگ کل یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ انہیں منتخب ہی کیوں کیا گیا تھا؟ ۔

یہ بابر کے ساتھ انتہائی ناانصافی ہوگی۔

انہیں اس لیے کھیلنا چاہیے کہ وہ فٹ ہیں اور پاکستان کو یقین ہے کہ وہ جیتنے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ پورے کرکٹ نظام نے خود کو یہ یقین دلایا ہوا ہے کہ وہ بابر کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔

کسی ٹیم کے معیار کے لیے ناگزیر ہونا اور اس کے وجود کے لیے ناگزیر ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔

پاکستان کو بابر کے تعاون کی ضرورت ہے لیکن پوری ٹیم کا بوجھ اٹھانے کی نہیں ۔

اور اگر پاکستان کے کھلاڑی یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیسٹ کی سطح پر اپنی جگہ ثابت کرنے کے لیے انہیں بابر کی موجودگی درکار ہے، تو پھر مسئلہ بابر کی غیر موجودگی نہیں مسئلہ ٹیم کی ذہنیت ہے۔

یہ وہ تلخ حقیقت ہے جسے ہیڈنگلے نے ایکسپوز کیا ہے۔

ایک شرمناک شکست کا جواب صرف اس کھلاڑی کی واپسی نہیں ہو سکتا جو میچ میں موجود نہیں تھا۔ جواب ان کھلاڑیوں کی طرف سے آنا چاہیے جو میدان میں موجود تھے۔

پاکستان کو اپنے بیٹرز سے توقع ہے کہ وہ مشکل وقت میں وکٹ پر ٹھہریں اور اچھے آغاز کو بڑی اننگز میں تبدیل کریں۔ بولرز کو 20 وکٹیں حاصل کرنی ہوں گی۔ فیلڈرز کو اپنے مواقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ کپتان کو دباؤ میں درست فیصلے کرنا ہوں گے۔ کوچز کو ٹیم کو مناسب انداز میں تیار کرنا ہوگا۔

اور سب سے بڑھ کر، پاکستان کو ایسے گیارہ کھلاڑی درکار ہیں جو یہ یقین رکھتے ہوں کہ وہ کسی اور کے بچانے کا انتظار کیے بغیر انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ جیت سکتے ہیں۔

اگر بابر فٹ ہیں تو انہیں لارڈز میں کھیلنا چاہیے۔ ان کی موجودگی سے پاکستان یقیناً مضبوط ہوگا لیکن ان کی واپسی کو ایک اور فرار کا راستہ نہیں بننا چاہیے کیونکہ اصل خطرہ یہ نہیں کہ پاکستان بابر کے بغیر ہار جائے گا۔

اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر بابر کی غیر موجودگی کو ہمیشہ شکست کی وجہ بنا دیا گیا تو پاکستان کبھی یہ نہیں سیکھ پائے گا کہ وہ اصل میں ہار کیوں رہا ہے؟

بابر اعظم پاکستان کے حل کا ایک حصہ ہیں۔ وہ پاکستان کا مکمل حل نہیں ہیں۔

پاکستان کو لارڈز میں کسی نجات دہندہ کی ضرورت نہیں۔ اسے ایک ایسی ٹیم کی ضرورت ہے جو کھڑے ہو کر مقابلہ کرے۔ اسے ایسی مینجمنٹ کی ضرورت ہے جو درست فیصلے کرے۔ اسے ایسے کرکٹ بورڈ کی ضرورت ہے جو مشکل اور تلخ سوالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو۔

اور ٹیم کے ہر کھلاڑی کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کی شرٹ پہننے کے ساتھ ایک ایسی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جسے ملک کے سب سے بڑے اسٹار کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔

بابر اعظم کے پیچھے ُچھپنا بند کریں۔ پوری پاکستانی ٹیم کو جواب دہ بنائیں۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.