URDUبکھرا ہوا اعتماد ، پست حوصلے اور ایجبسٹن کا آخری ٹیسٹ

بکھرا ہوا اعتماد ، پست حوصلے اور ایجبسٹن کا آخری ٹیسٹ

دورہ ختم ہونے سے پہلے ہی کیے گئے انتہائی اہم فیصلوں کے بعد  پاکستان کرکٹ ٹیم اس ہنگامہ خیز  مایوس کن  دورے کے آخری مرحلے میں اسوقت  برمنگھم میں ہے  جہاں ایجبسٹن گراؤنڈ  9 ستمبر سے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کا میزبان ہے لیکن یہ بے رحم میزبان ہے کیونکہ اس گراؤنڈ پر پاکستان کو 8 ٹیسٹ میچوں میں کبھی جیت نہیں ملی البتہ 5 ناکامیوں کا منہ ضرور دیکھنا پڑا ہے اور جن حالات کا سامنا پاکستان ٹیم کو کرنا پڑا ہے ان میں  اگر ایک اور خراب کارکردگی سامنے آگئی تو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

ہیڈنگلے میں اننگز اور 103 رنز  اور  پھر لارڈز میں 194 رنز کی ہزیمت کے بعد صرف دو افراد سلیکٹر عاقب جاوید اور کپتان بابراعظم کی پوزیشن برقرار رہی ہے ۔ نزلہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمرگل پر گرا ۔ اس کے ساتھ ہی سات کھلاڑی بھی ٹیم سے نکال باہر کرکے گھروں کو بھیج دیے گئے اور ان کی جگہ سات نئے کھلاڑی گھروں سے بلاکر انگلینڈ پہنچادیے گئے ۔

وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اب ریڈ بال ہیڈ کوچ بھی ہوگئے ہیں اور ان کے پسند کے  وائٹ بال کرکٹرز  کی انٹرنیشنل ریڈ بال کرکٹ میں بھی انٹری ہونے والی ہے ۔

ایجبسٹن ٹیسٹ کے لیے طلب کردہ سات کھلاڑیوں میں صائم ایوب ۔ عبداللہ فضل۔ عمران جونیئر، عمران رندھاوا۔ سعد بیگ ۔رضاء اللہ اور عرفات منہاس شامل ہیں۔

سات کھلاڑیوں کو فارغ کرنے کے بعد جو کھلاڑی انگلینڈ میں رہ گئے تھے ان میں کپتان بابراعظم ۔ اذان اویس۔ شان مسعود۔عبداللہ شفیق۔ سعود شکیل۔ غازی غوری۔ محمد عباس ۔ عبید شاہ ۔ ساجد خان اور محمد علی شامل ہیں۔

ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ میدان میں اترنے والی گیارہ رکنی حتمی ٹیم کن کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی تاہم صائم ایوب اور عبداللہ فضل کے کھیلنے امکانات روشن نظر آرہے ہیں۔

مائیک ہیسن کے  پسندیدہ بیٹر صائم ایوب  پچھلے سیزن میں قائداعظم ٹرافی کے صرف دو فرسٹ کلاس میچز کھیلے تھے۔انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا تھا۔

عبداللہ فضل آناً فاناً ویسٹ انڈیز سے یہ کہہ کر پاکستان روانہ کردیے گئے تھے کہ وہ کمر کی تکلیف کےسبب ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دورے سے مکمل طور پر باہر ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ عبداللہ شفیق کو فوری طور پر ویسٹ انڈیز روانہ کردیا گیا تھا لیکن اب یہی عبداللہ فضل فٹ قرار دیے جانے کے بعد انگلینڈ میں ہیں تو کیا اس بارے میں پی سی بی کے میڈیکل پینل کی اہلیت اور قابلیت کے بارے میں سوال نہیں اٹھتا کہ انہیں ویسٹ انڈیز سے روانہ کرنے کی جلدبازی کیوں کی گئی تھی ؟۔

عبداللہ فضل کے آنے کے بعد پلیئنگ الیون میں  شان مسعود اور اذان اویس میں سے کوئی ایک باہر بیٹھ سکتا ہے۔

وکٹ کیپر رضوان کے وطن واپس بھیجے جانے کے بعد غازی غوری کا ٹیسٹ ڈیبیو  یقینی ہے۔۔

بولنگ میں محمد عباس اور محمد علی کا کھیلنا یقینی دکھائی دے رہا ہے۔عبید شاہ تیسرے فاسٹ بولر ہوسکتے ہیں اور چوتھے بولر کے طور پر عمران جونیئر ۔عمران رندھاوا اور رضاء اللہ کی چوائس ہیڈ کوچ کے پاس موجود ہے۔

عمران جونیئر گزشتہ  سیزن میں پانچ نان فرسٹ کلاس میچز لیکن  صرف ایک فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں اس لیے ان کا ریڈ بال ٹیم میں سلیکشن حیران کن معلوم ہوتا ہے۔مجموعی طور پر چار سیزن میں ان کے صرف 8 فرسٹ کلاس میچز ہیں۔

رضاء اللہ نے بھی صرف ایک فرسٹ کلاس سیزن کھیلا ہے جس کے بعد ان کا بھی ٹیم میں سلیکشن ہوگیا ہے۔

عمران رندھاوا کا فرسٹ کلاس کا تجربہ عمران جونیئر اور رضاء اللہ سے کہیں زیادہ ہے اور وہ مجموعی طور پر  58 فرسٹ کلاس میچوں میں 110 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ان سے کہیں زیادہ وکٹیں اور اچھی کارکردگی دکھانے والے فاسٹ بولرز جن میں انگلش کنڈیشنز کا  تجربہ رکھنے والے میر حمزہ قابل ذکر ہیں،  نظرانداز کردیے گئے ۔

علی عثمان کو واپس بھیج کر انگلینڈ بلائے گئے عرفات منہاس کو ٹیسٹ کیپ کے لیے شاید ابھی کچھ اور انتظار کرنا پڑے ۔

دوسری جانب انگلینڈ کا پندرہ رکنی اسکواڈ  کپتان جوروٹ۔ ایمیلیو گے۔ بین ڈکٹ ۔جارڈن کاکس۔ ہیری بروک۔ سام کک۔ جیمی اسمتھ۔ ڈین لارنس۔ اولی پوپ۔ جوفرا آرچر۔ اولی رابنسن۔ گس اٹکنسن۔ جوش ٹنگ۔ شعیب بشیر اور سونی بیکر پر مشتمل ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم  ہیڈنگلے اور لارڈز کی جیت کے بعد  آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں چھٹے نمبر پر آگئی ہے جبکہ پاکستان ٹیم  9 ویں یعنی آخری نمبر پر ہے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.