پاکستان کا ایک ہزار ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کا یادگار سفر
لاہور۔ 11 فروری 1973 کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کے لنکاسٹر پارک کے میدان میں قدم رکھنے والے گیارہ کرکٹرز کے ذہنوں میں یہ خیال بھی نہ تھا کہ وہ جس میچ میں حصہ لینے جارہے ہیں یہ دراصل پاکستان کرکٹ کے ایک نئے باب کی ابتدا ہے۔
یہ پاکستان کا ون ڈے انٹرنیشنل میں آغاز تھا ۔ اس سے قبل دنیا نے صرف چار ون ڈے انٹرنیشنل دیکھے تھے اور کرائسٹ چرچ کا میچ محض پانچواں ون ڈے انٹرنیشنل تھا۔
اس میچ میں پاکستان کے کپتان انتخاب عالم تھے اور دیگر کھلاڑیوں میں آصف اقبال۔ ماجد خان، مشتاق محمد، صادق محمد، سرفراز نواز، ، وسیم باری، وسیم راجہ، نسیم الغنی، سلیم الطاف اور آصف مسعود شامل تھے۔
1973میں بھلا کون سوچ سکتا تھا کہ پاکستان کا ون ڈے انٹرنیشنل کا یہ سفر آنے والے برسوں میں ایک اہم سنگ میل عبور کرلے گا ۔
وہ لمحہ آج آ پہنچا ہے جب شاہین شاہ آفریدی راولپنڈی میں آسٹریلیا کے خلاف پاکستان ٹیم کی قیادت کریں گے تو یہ پاکستان کا1000 واں ون ڈے انٹرنیشنل ہوگا۔ یہ ایک ایسا سنگ میل ہے جسے اس سے پہلے صرف آسٹریلیا اور بھارت نے عبور کیا ہے گویا پاکستان ون ڈے کرکٹ کے سب سے خاص کلب میں شامل ہونے والا ہے۔
یہ واقعی ایک طویل اور شاندار سفر رہا ہے۔
جب پاکستان نے کرائسٹ چرچ میں اپنا پہلا ون ڈے میچ کھیلا تو ون ڈے کرکٹ خود بھی محض دو سال پرانی تھی۔ یہ فارمیٹ جنوری 1971 میں تقریباً اتفاقی طور پر وجود میں آیا تھا جب میلبرن میں ایشیز ٹیسٹ میچ بارش کی نذر ہو گیا اور اس کی جگہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان 40 اوورز کا میچ کھیلا گیا جسے دیکھنے کے لیے میں 46 ہزار تماشائی میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں موجود تھے۔
پاکستان کے اولین ون ڈے انٹرنیشنل کا احوال کچھ اس طرح ہے کہ پاکستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ سرفراز نواز نے 46 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں اور نیوزی لینڈ کو 187 رنز پر آؤٹ کر دیا جن میں مارک برجس نے سب سے زیادہ 47 رنز بنائے۔ 188 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹسمین اعتماد سے نہ کھیل سکے۔ صادق محمد نے سب سے زیادہ 37 رنز بنائے، ڈیل ہیڈلی نے 34 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں پاکستان ٹیم 165 رنز پر آؤٹ ہوکر 22 رنز سے میچ ہارگئی۔
بظاہر یہ شکست تھی لیکن یہ ایک آغاز بھی تھا۔ معمولی ابتدا سے پاکستان نے کرکٹ کی تاریخ میں کئی بڑے ریکارڈ قائم کیے۔ 999 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پر مشتمل اس 53 سالہ سفر میں 19 حریف ٹیمیں، پانچ براعظم اور 254 کھلاڑی شامل رہے جن میں پاکستان نے 527 میچ جیتے، 442 میں شکست کھائی، 9 میچ ٹائی رہے اور 21 نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے۔ صرف بھارت، جس نے 1,075 میچوں میں 571 جیتے اور آسٹریلیا جس نے 1,019 میچوں میں 617 جیتے، پاکستان سے زیادہ میچز کھیلے ہیں۔
پاکستان کی ون ڈے کہانی چند انتہائی غیر معمولی کرکٹرز نے لکھی ہے۔ شاہد آفریدی 1996 سے 2015 تک 393 ون ڈے انٹرنیشنل کے ساتھ سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی ہیں۔ 19 سال کا یہ طویل عرصہ ان کی غیر معمولی صلاحیت اور مختلف ادوار میں ڈھلنے کی قابلیت کا ثبوت ہے۔
انضمام الحق نے 375 ون ڈے کھیلے اور 11,701 رنز بنائے۔ وہ پاکستان کی جانب سے اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں۔
وسیم اکرم نے 356 ون ڈے میں 502 وکٹیں حاصل کیں جو دنیا بھر میں بائیں ہاتھ کے تیز بولرز کے لیے ایک معیار ہے۔ ان تینوں کھلاڑیوں کے مجموعی میچوں کی تعداد 1,124 ہے جو اکثر کرکٹ کھیلنے والی قوموں کی کل ون ڈے تاریخ سے بھی زیادہ ہے۔
پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں ظہیرعباس کا ہمیشہ بلند مقام رہا ہے جن کے خوبصورت اسٹروکس آج بھی شائقین کو یاد ہیں ۔ انہوں نے صرف 62 ون ڈے میں سات سنچریوں اور تیرہ نصف سنچریوں کی مدد سے2572 رنز بنائے اور آٹھ مرتبہ پلیئر آف دی میچ ایوارڈ حاصل کیا۔انہوں نے تیرہ ون ڈے میں کپتانی کرتے ہوئے سات میں کامیابی حاصل کی۔
قیادت کی کہانی بھی اتنی ہی دلچسپ ہے۔ 31 مختلف کھلاڑیوں نے ون ڈے میں پاکستان کی قیادت کی ہے۔ یہ تعداد ایک طرف دستیاب ٹیلنٹ کی گہرائی اور دوسری طرف پاکستان کرکٹ کے طوفانی ادوار کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ عمران خان نے 139 میچوں میں ٹیم کی قیادت کی اور 53.95 فیصد میچ جیتے۔ وسیم اکرم نے 109 ون ڈے میں 60.55 فیصد جیت کے ساتھ قیادت کی ۔ یہ 50 سے زائد میچوں میں کپتانی کرنے والے پاکستانی کپتانوں میں سب سے بہترین ہے۔ انضمام الحق نے اپنے 87 میچوں میں 58.62 فیصد جیت حاصل کی۔
اعداد و شمار کے ماہرین کو ان پانچ دہائیوں میں بہت مصروف رہنا پڑا ہے۔ انضمام کے 11,701 رنز بیٹسمینوں کی فہرست میں سرفہرست ہیں ان کے بعد محمد یوسف کے 281 میچوں میں 9,554 رنز اور سعید انور کے 247 میچوں میں 8,824 رنز ہیں۔ سعید انور اور بابر اعظم نے مشترکہ طور پر سب سے زیادہ 20 سنچریاں اسکور کی ہیں تاہم بابر نے یہ سنگ میل صرف 140 اننگز میں عبور کیا جبکہ سعید انور نے 247 اننگز کھیلی ہیں ۔ وسیم کی 502 وکٹوں کے بعد وقار یونس کی 262 میچوں میں 416 اور شاہد آفریدی کی 393 میچوں میں 393 وکٹیں ہیں۔ وکٹوں کے پیچھے شکار کی بات کریں تو مین خان 219 میچوں میں 287 شکار کے ساتھ پاکستان کے سب سے کامیاب وکٹ کیپر ہیں۔ کسی بھی ملک نے آل راؤنڈرز کی اتنی بھرپور کھیپ تیار نہیں کی۔ وسیم اکرم نے 502 وکٹوں کے ساتھ ساتھ 3,717 رنز بنائے۔ شاہد آفریدی نے 8,027 رنز بنائے اور 393 وکٹیں حاصل کیں ۔عبدالرزاق، شعیب ملک اور محمد حفیظ سب نے 5,000 رنزبنائے اور 100 وکٹیں مکمل کیں۔
ہر سو میچوں پر ایک یادگار لمحہ آتا رہا۔ سوواں میچ ایک جیت تھی مارچ 1986 میں کولمبو میں پاکستان نے سری لنکا کو 81 رنز سے شکست دی۔ دو سوویں میچ میں نومبر 1990 میں لاہور میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچ وکٹوں سے فتح ملی۔ تین سوواں میچ اپریل 1995 میں شارجہ میں بھارت کے خلاف 97 رنز کی زبردست فتح تھی۔ چھ سوواں میچ اکتوبر 2004 میں کراچی میں سری لنکا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دینے پر ختم ہوا۔ البتہ ہر سنگ میل خوشگوار نہیں رہا۔ چار سوواں میچ 1998 میں بینونی میں سری لنکا کے خلاف 115 رنز کی شکست پر ختم ہوا، پانچ سوواں میچ 2001 میں لارڈز پر آسٹریلیا کے خلاف نو وکٹوں کی شکست پر اور آٹھ سوواں میچ شاید سب سے تکلیف دہ تھا جب اکتوبر 2013 میں شارجہ میں جنوبی افریقہ کے خلاف صرف ایک رن سے شکست ہوئی۔ نو سوواں میچ نومبر 2018 میں ابوظہبی میں نیوزی لینڈ کے خلاف 47 رنز کی ہار پر ختم ہوا۔
ایک ہزارواں میچ، آج کی شام راولپنڈی میں ابھی لکھا جانا باقی ہے۔
اس سفر کے عروج و زوال اپنی کہانی خود بیان کرتے ہیں۔ پاکستان کا سب سے شاندار سلسلہ نومبر 2007 سے جون 2008 کے درمیان 12 مسلسل ون ڈے فتوحات کا تھا۔ اس نے اپریل سے نومبر 1990 کے درمیان بھی 10 میچ مسلسل جیتے۔


سب سے تاریک دور جنوری سے مئی 2019 کے درمیان آیا جب 11 مسلسل شکستیں ہوئیں۔ یہ اس فارمیٹ میں اس کا سب سے طویل ہارنے کا سلسلہ تھا جبکہ اکتوبر 1987 سے مارچ 1988 کے درمیان 10 مسلسل ناکامیاں دوسرے نمبر پر ہیں۔ پاکستانی کرکٹ میں ڈرامے کی کبھی بھی کمی نہیں رہی۔
پاکستان کی ون ڈے کہانی کا سب سے خوبصورت باب شارجہ کے برسوں کا ہے۔ 1984 سے 2019 تک شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم اور متحدہ عرب امارات پاکستان کا دوسرا گھر بن گیا۔ صحرا میں ایک منفرد اور غیر معمولی مقام جہاں برصغیر کی کرکٹ اپنے عروج کو پہنچی۔ پاکستان نے غیر جانبدار مقامات پر 415 میچوں میں سے 126 متحدہ عرب امارات میں کھیلے اور ان میں سے 83 جیتے۔ خاص طور پر بھارت کے خلاف ُپرجوش شائقین سے بھرے ہوئے اسٹینڈز کے سامنے مقابلے ایک نسل کے لیے فیصلہ کن معرکے تھے۔ 1986 میں جاوید میاں داد کا چیتن شرما کی آخری گیند پر چھکا پاکستان کی ون ڈے تاریخ کا شاید سب سے مشہور لمحہ ہے ۔ یہ شاٹ لاکھوں بار دکھایا جا چکا ہے اور کرکٹ کی روایات میں ہمیشہ کے لیے امر ہو چکا ہے۔ پاکستانی شائقین کی ایک پوری نسل کے لیے شارجہ محض ایک میدان نہیں تھا۔ یہ ایک پناہ گاہ، ایک اسٹیج اور ایک دوسرا گھر سب کچھ ایک ساتھ تھا۔
گھر کی بات کریں تو پاکستان اپنے میدانوں پر سب سے خطرناک ثابت ہوا ہے۔ 210 ہوم میچوں میں 132 فتوحات کا ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسے اپنی سرزمین اور ُپرجوش کراؤڈ سے کتنا فائدہ ہوتا ہے۔ اس نے غیر جانبدار مقامات پر 415 میں سے 224 اور حریف ممالک میں 374 میں سے 171 میچ جیتے ہیں۔
لیکن 2009 سے 2019 کا درمیانی عرصہ بڑا تکلیف دہ تھا جب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہورہی تھی ۔ مارچ 2009 میں لاہور میں سری لنکا کی ٹیم کی بس پر حملے کے بعد پاکستان ایک دہائی تک اپنے میدانوں میں بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی نہ کر سکا اور متحدہ عرب امارات میں 67 ون ڈے کھیلنے پر مجبور ہوا جبکہ اس کے اپنے میدان خالی پڑے رہے۔ پاکستان نے نہ صرف اس دہائی کو برداشت کیا بلکہ اس دوران نئے کھلاڑی تیار کرتے ہوئے کامیابیاں بھی حاصل کیں۔یہ اس لچک کا ثبوت ہے جو ہمیشہ سے پاکستانی کرکٹ کی پہچان رہی ہے۔
ون ڈے کرکٹ میں پاکستان کا سب سے شاندار لمحہ 1992 کے ورلڈ کپ میں آیا۔ عمران خان کی ٹیم کو ابتداء ہی میں مسترد کر دیا گیا تھا، ایک موقع پر وہ پوائنٹس ٹیبل میں آخری نمبر پر تھی اور اس کی مہم ختم ہوتی نظر آ رہی تھی۔ عمران خان نے اپنے کھلاڑیوں کو گھرے ہوئے شیروں کی طرح لڑنے کی تلقین کی اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پانچ مسلسل فتوحات انہیں ایم سی جی میں فائنل تک لے گئیں جہاں انہوں نے انگلینڈ کو 22 رنز سے شکست دی۔وہی 22 رنز جن سے وہ کرائسٹ چرچ میں 19 سال پہلے اپنا پہلا ون ڈے ہارے تھے۔ یہ ایک خوبصورت اتفاق تھا۔ یہ اب تک واحد 50 اوورز کا ورلڈ کپ ہے جو پاکستان نے جیتا ہے اگرچہ 1999 میں وہ دوسرے کے قریب آئے اور فائنل تک پہنچے لیکن آسٹریلیا کے ہاتھوں بری طرح ہارے۔ 1979، 1983، 1987 اور 2011 میں سیمی فائنل اور 1996 اور 2015 میں کوارٹر فائنل تک پہنچنا ان کے ورلڈ کپ ریکارڈ کو اگرچہ شاندار نہیں لیکن بڑی حد تک ممتاز بناتا ہے۔
پاکستان نے ورلڈ کپ کے علاوہ 2017 میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتی جس کے فائنل میں بھارت کو ہرایا ۔2000 اور 2012 میں ایشیا کپ میں کامیابی حاصل کی جبکہ 1989میں نہرو کپ جیتا۔
آج پاکستان کی حریف آسٹریلیا 111 میچوں میں 71۔ 36 کے فرق سے سرفہرست ہے لیکن یہ ریکارڈ بدل رہا ہے۔ پاکستان نے 2022 اور 2024 میں آسٹریلیا کے خلاف آخری دونوں دوطرفہ سیریز جیتی ہیں اورآج اس تاریخی میچ میں مضبوط پسندیدہ ٹیم کے طور پر اترنے والے ہیں جبکہ آسٹریلیا پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ، ٹریوس ہیڈ اور مچل مارش کے بغیر میدان میں ہے۔
پاکستان کرکٹ کا یہ ون ڈے سفر ابھی جاری ہے۔ یقیناً آنے والے برسوں میں ہمیں بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا لیکن ابتک جو بھی سفر اس نے طے کیا ہے وہ بہت ہی شاندار رہا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم دنیائے کرکٹ کی چند ہی دلچسپ ٹیموں میں سے ایک ہے جو جیت یا ہار دونوں صورتوں میں سب کو حیران کردینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔



Leave a Reply