پاکستان اپنے 1000 ویں ون ڈے میں 5 وکٹوں سے کامیاب ، عرفات منہاس کا شاندار ڈیبیو
راولپنڈی ۔ پاکستان نے 21 سالہ عرفات منہاس کی ون ڈے ڈیبیو پر5 وکٹوں کی شاندار کارکردگی اور بابراعظم اور غازی غوری کی نصف سنچریوں کی بدولت آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر اپنے 1000 ویں ون ڈے انٹرنیشنل کو یادگار بنادیا۔
عرفات منہاس اپنی لیفٹ آرم اسپن بولنگ سے صرف 32 رنز کےعوض 5 وکٹیں حاصل کرکے اپنے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے۔
ہفتے کے روز راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر جوش انگلیز کی آسٹریلوی ٹیم کو پہلے بیٹنگ دی جو 44.1 اوورز میں 200 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
جواب میں پاکستان نے 42.3 اوورز میں 5 وکٹوں پر ہدف حاصل کرلیا۔
الیکس کیری اور میتھیو شارٹ نے شاہین آفریدی اور حارث رؤف کی بولنگ پر اعتماد سے آغاز کیا لیکن اسپنرز کے آتے ہی صورتحال بدل گئی۔ پہلے ابرار احمد نے چار چوکوں کی مدد سے 19 رنز بنانے والے الیکس کیری کو آؤٹ کیا اور پھر عرفات منہاس نے شاندار بولنگ سے شہ سرخیوں میں جگہ بنالی۔
انہوں نے اپنے چوتھے اوور میں پہلے کپتان جوش انگلیزکو 13رنز پر ایل بی ڈبلیو کیا اور پھر مارنس لبوشین کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کردیا۔ انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے اگلے اوور میں کیمرون گرین کو بھی صفر پر بولڈ کرکے آسٹریلیا کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔اسوقت آسٹریلیا کا اسکور 4 وکٹوں پر68 رنز تھا۔
اوپنر میتھیو شارٹ اور میٹ رینشا نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں 55 رنز کا اضافہ کیا ۔ یہ شراکت عرفات منہاس نے میتھیو شارٹ کو 55 رنز پر غازی غوری کے ہاتھوں اسٹمپڈ کراکرختم کی۔ انہوں نے اننگز میں پانچویں وکٹ نیتھن ایلیز کو بولڈ کرکے حاصل کی۔
میٹ رینشا پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے کریئر بیسٹ 61 رنز بناکر ابرار احمد کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ اپنا پہلا ون ڈے کھیلنے والے اولیور پیک صرف 7 رنز بناکر سلمان آغا کی گیند پر غازی غوری کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
اسکور کو دو سو پہنچانے میں میتھیو کونیمن کے 24 رنز اہم ثابت ہوئے۔
عرفات منہاس نے 10 اوورز میں صرف 32 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔
ان سے قبل سرفراز نواز ( 46/4 ) عبدالقادر ( 21/4 ) ذاکر خان ( 19/4 ) ابرار احمد ( 33/4 ) اور سفیان مقیم ( 52/4 ) ون ڈے ڈیبیو پر چار وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔
ابرار احمد نے 44 رنز دے کر 2 اور سلمان آغا نے 21 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔
شاہین شاہ آفریدی کو گرنے والی نویں اور حارث رؤف کو آخری وکٹ مل گئی لیکن شاداب خان کی جانب سے ایک اور مایوس کن کارکردگی سامنے آئی اور وہ 8 اوورز میں 54 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہ کرپائے۔
شاداب خان نے آخری ون ڈے انٹرنیشنل وکٹ اکتوبر 2023 میں ورلڈ کپ کے دوران سری لنکا کے پاتھوم نسانکا کو آؤٹ کرکے حاصل کی تھی جس کے بعد سے ان کی کارکردگی کچھ اس طرح رہی ہے 31 / صفر۔ 49 / صفر۔ 57 / صفر اور 54 / صفر۔
پاکستان کے دونوں اوپنرز معاذ صداقت 8 اور صاحبزادہ فرحان 28 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو مجموعی اسکور 49 رنز تھا جس کے بعد بابراعظم اور غازی غوری نے تیسری وکٹ کی شراکت میں 127 رنز کا اضافہ کرکے ٹیم کو جیت کے قریب کردیا
بابراعظم نے 94گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 69 رنز کی اننگز کھیلی جس میں ایک چھکا اور 4 چوکے شامل تھے۔ یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی 38 ویں نصف سنچری ہے۔
39 کے اسکور پر ان کےخلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل ہوئی آسٹریلیا نے ریویو لیا لیکن فیصلہ بابر کے حق میں رہا۔ 50 کے اسکور پر ایک بار پھر آسٹریلیا نے بابر اعظم کے خلاف کاٹ بی ہائنڈ پر ریویو لیا لیکن گیند بلے کو چھوتی ہوئی کیپر کے پاس نہیں گئی تھی۔اسی اسکور پر ان کا کیچ کونیمن نے بھی ڈراپ کردیا۔
غازی غوری نے اپنے دوسرے ون ڈے میں پہلی نصف سنچری اسکور کرتے ہوئے8 چوکوں کی مدد سے 65 رنز کی اننگز کھیلی ۔
بابر اور غوری دونوں کی وکٹیں نیتھن ایلیز نے حاصل کیں۔
ہدف تک پہنچتے پہنچتے سلمان آغا بھی 6 رنز بناکر لبوشین کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے تاہم عرفات منہاس کے وننگ چھکے نے پاکستان کو جیت سے ہمکنار کردیا ۔ وہ ایک چھکے اور دو چوکوں کے ساتھ 18 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کے ساتھ عبدالصمد ایک رن پر کریز پر موجود تھے۔
اس میچ میں جن چھ آسٹریلوی بولرز نے بولنگ کی ان کی ون ڈے انٹرنیشنل میں مجموعی وکٹوں کی تعداد صرف 42 ہے جس سے آسٹریلوی بولنگ قوت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے 112 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں یہ پاکستان کی 37 ویں کامیابی ہے۔آسٹریلیا نے 71 میچز جیتے ہیں۔ایک میچ ٹائی اور تین نامکمل رہے ہیں۔
تین میچوں کی سیریز کے بقیہ دو میچز2 اور 4 جون کو لاہور میں کھیلے جائیں گے۔



Leave a Reply