URDUپاکستان ویسٹ انڈیز تاریخی رقابت ، خوبصورت اور تلخ یادیں

پاکستان ویسٹ انڈیز تاریخی رقابت ، خوبصورت اور تلخ یادیں

یہ کہانی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں۔پاکستان نے ویسٹ انڈیز کا نو مرتبہ دورہ کیا ہے۔ یہ اڑسٹھ برس کا طویل سفرہے جس میں صرف ایک ٹیسٹ سیریز جیتی ہے مگر اس سے کہیں زیادہ اہم وہ اصل داستان ہے جس میں اس تاریخی رقابت نے ٹیسٹ کرکٹ کی چند غیر معمولی انفرادی کارکردگیوں، دل توڑ دینے والے انجام اور ڈومینیکا کی ایک ناقابلِ فراموش دوپہر کو جنم دیا جہاں پاکستان نے بالآخر وہ تاریخ رقم کی جس کے لیے اسے چھ دہائیوں اور اپنے آٹھ عظیم ترین کرکٹرز کا انتظار کرنا پڑا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم اس ماہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ایک بار پھر ویسٹ انڈیز کا رخ کر رہی ہے۔ پہلا ٹیسٹ 25 سے 29 جولائی تک تاروبا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 2 سے 6 اگست تک پورٹ آف اسپین میں کھیلا جائے گا یہ 58-1957 میں عبدالحفیظ کاردار کی قیادت میں ہونے والے پہلے دورے کے بعد پاکستان ٹیم کا کیریبین کا دسواں دورہ ہوگا۔

ان نو سابقہ دوروں میں کرکٹ نے کئی لازوال داستانیں رقم کیں۔ حنیف محمد کی ناقابلِ فراموش 337 رنز کی اننگز جسے کھیل کی تاریخ کی عظیم ترین مزاحمتی اننگز میں شمار کیا جاتا ہے، گارفیلڈ سوبرز کے 365 رنز جو ایک وقت میں ٹیسٹ کرکٹ کا عالمی ریکارڈ تھے، عمران خان کی آٹھ ٹیسٹ میچوں میں 48 وکٹیں، جاوید میانداد کی مسلسل دو سنچریاں، گرینیڈا کا وہ ساحل جو کچھ عرصے کے لیے کسی بھی کرکٹ گراؤنڈ سے زیادہ مشہور ہو گیا، 21 برس کے وقفے سے ایک جیسے انداز میں ایک وکٹ سے دو تکلیف دہ شکستیں اور پاکستان کرکٹ کے دو عظیم کھلاڑیوں کو یادگار انداز میں الوداع کہنا، یہ سب اسی داستان کا حصہ ہیں۔

یہ ہے اس تاریخی سفر کی جھلک۔

58-1957 سوبرز کا تعارف ، حنیف کی استقامت

پاکستان کا ویسٹ انڈیز کا پہلا دورہ کسی بھی کمزور ٹیم کا حوصلہ توڑ سکتا تھا۔ پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ویسٹ انڈیز نے 1-3 سے کامیابی حاصل کی اور اس دوران ٹیسٹ کرکٹ کی بے رحم حقیقت بھی پاکستان پر آشکار ہوئی۔ جمیکا میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میں گارفیلڈ سوبرز نے ناقابلِ شکست 365 رنز بنا کر اس وقت کا عالمی ریکارڈ قائم کیا جبکہ اسی میچ میں پاکستان کو اننگز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم اس سیریز میں پاکستان کے لیے سب سے روشن باب حنیف محمد نے رقم کیا۔ بارباڈوس میں پہلے ٹیسٹ کے دوران ان کی 337 رنز کی تاریخی اننگز 970 منٹ پر محیط تھی، اگرچہ حنیف محمد ہمیشہ کہتے رہے کہ وہ درحقیقت 999 منٹ تک کریز پر موجود رہے۔ اس غیر معمولی اننگز نے ایک نوجوان بیٹر کو راتوں رات قومی ہیرو بنا دیا۔

حنیف محمد نے پوری سیریز میں 628 رنز اسکور کیے جبکہ فضل محمود نے 20 وکٹیں حاصل کیں تاہم پاکستانی ٹیم کا سب سے یادگار لمحہ سیریز کے آخری ٹیسٹ میں آیا جب پورٹ آف اسپین میں اننگز سے فتح حاصل کرکے اس نے اپنے پہلے کیریبین دورے کا اختتام کم از کم ایک کامیابی کے ساتھ کیا۔ بظاہر یہ ایک معمولی کامیابی تھی، مگر اسی نے اس تاریخی رقابت کی آئندہ داستان کا مزاج بھی متعین کر دیا۔

77-1976 فاسٹ بولنگ کی خوفناک قوت کا آغاز

تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر ویسٹ انڈیز کا رخ کیا، لیکن 77-1976 میں اس کا سامنا ایک بالکل مختلف ویسٹ انڈیز سے تھا۔دو ان کیپڈ فاسٹ بولرز کالن کرافٹ اور جوئیل گارنر نے اسی دورے میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور پہلے ہی موقع پر ثابت کر دیا کہ وہ غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ یہی وہ آغاز تھا جس نے ویسٹ انڈیز کی اس خوفناک فاسٹ بولنگ روایت کی بنیاد رکھی جس نے اگلے پندرہ برس تک عالمی کرکٹ پر حکمرانی کی۔

پاکستان نے اس برق رفتار بولنگ کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔

وسیم راجہ اس سیریز کی سب سے بڑی دریافت ثابت ہوئے۔ انہوں نے 517 رنز بنائے جن میں ایک سنچری اور پانچ نصف سنچریاں شامل تھیں۔ پہلے ٹیسٹ میں ان کی ناقابلِ شکست 117 رنز کی اننگز خاص طور پر یادگار رہی جو انہوں نے وسیم باری کے ساتھ آخری وکٹ کی 133 رنز کی شاندار شراکت قائم کرتے ہوئے کھیلی۔ اس مزاحمتی شراکت نے یقینی شکست کو ڈرا میں بدل دیا۔

ماجد خان نے پورے دورے میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ 530 رنز اسکور کیےجن میں گیانا میں فالو آن کے بعد کھیلی گئی 167 رنز کی شاندار اننگز بھی شامل تھی جس نے پاکستان کو مشکلات سے نکالا۔

چوتھے ٹیسٹ میں جو پورٹ آف اسپین میں کھیلا گیا کپتان مشتاق محمد نے اپنے کریئر کی بہترین آل راؤنڈ کارکردگی پیش کی۔ انہوں نے پہلی اور دوسری اننگز میں بالترتیب 121 اور 56 رنز بنائے، جبکہ پہلی اننگز میں 28 رنز دے کر پانچ اور دوسری اننگز میں 69 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں جس کی بدولت پاکستان نے سیریز ایک ایک سے برابر کر دی۔

تاہم یہ برابری زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ کنگسٹن میں فیصلہ کن ٹیسٹ ویسٹ انڈیز نے 140 رنز سے جیت لیا۔ عمران خان کی شاندار 90 رنز کے عوض چھ وکٹیں بھی پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکیں۔

ویسٹ انڈیز نے سیریز 2-1 سے اپنے نام کی لیکن پاکستان نے کیریبین سے یہ پیغام ضرور دے دیا کہ وہ اب ابھرتی ہوئی فاسٹ بولنگ کی اس قوت کے سامنے آسانی سے جھکنے والا نہیں تھا۔

88-1987تاریخ کے قریب ترین مگر ادھورے خواب کی داستان

اگر کوئی ایک دورہ ہے جسے پاکستانی شائقین آج بھی یاد کر کے سوچتے ہیں کہ “اگر ایسا ہو جاتا تو؟”، تو وہ یہی تھا۔

عمران خان ریٹائرمنٹ سے واپس آئے اور ایک بار پھر ٹیم کی قیادت سنبھالی۔ جارج ٹاؤن کے بورڈا گراؤنڈ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے اپنی زندگی کی یادگار کارکردگی پیش کی۔ میچ میں 11 وکٹیں حاصل کیں جبکہ جاوید میانداد نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی۔ پاکستان نے یہ میچ نو وکٹوں سے جیت کر ویسٹ انڈیز کی اپنے ہوم گراؤنڈ پر ایک دہائی سے جاری ناقابلِ شکست فتوحات کا سلسلہ توڑ دیا جو 1978 سے برقرار تھا۔ کسی بھی غیرملکی ٹیم کے لیے اس مضبوط قلعے کو فتح کرنا کیریبین کرکٹ میں سب سے بڑی کامیابیوں میں شمار ہوتا تھا۔

لیکن اس کے بعد خواب بکھرنے لگا۔ دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو سیریز اپنے نام کرنے کے لیے صرف ایک آخری دھکے کی ضرورت تھی مگر ایسا نہ ہو سکا۔ آخری بیٹر عبدالقادر کو میچ بچانے کے لیے ویوین رچرڈز کی پانچ گیندیں کھیلنا پڑیں۔ وہ کامیاب تو رہے لیکن پاکستان تاریخی فتح سے صرف 31 رنز دور رہ گیا۔

تیسرا ٹیسٹ بارباڈوس میں اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوا۔ ویسٹ انڈیز کو 266 رنز کا ہدف ملا تھا اور ایک موقع پر اس کا اسکور آٹھ وکٹوں پر 207 رنز تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان سیریز جیتنے جا رہا ہے مگر جیف ڈوجون (29 ناٹ آؤٹ ) اور ونسٹن بینجمن ( 40 ناٹ آؤٹ ) نے نویں وکٹ کے لیے ناقابلِ شکست 61 رنز کی شراکت قائم کر کے شکست کے دہانے سے فتح چھین لی۔

عبدالقادر کا ایک تماشائی کو مکہ رسید کردینا اور ایک ہزار ڈالرز ادا کرکے قانونی چارہ جوئی سے جان چھڑالینا۔

93-1992 ایک ایسا دورہ جسے کرکٹ بھلانا چاہے گی

دو حریفوں کی تاریخ کے ہر باب کو سنہری لمحات کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ وسیم اکرم کی پاکستان کے ٹیسٹ کپتان کے طور پر پہلی سیریز تقریباً مکمل طور پر میدان سے باہر پیش آنے والے واقعات کی نذر ہو گئی۔ وسیم اکرم، وقار یونس، عاقب جاوید اور مشتاق احمد کو گرینیڈا کے ساحل پر چرس رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا اور اس تنازع نے اس 2-0 کی سیریز شکست کو بھی پس منظر میں دھکیل دیا جس میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو ہر شعبے میں واضح طور پر زیر کر لیا۔

تاہم اس تباہ کن دورے کے ملبے میں ایک عظیم بیٹر کی آمد کی پہلی جھلک بھی موجود تھی۔ اینٹیگا میں اپنے کریئر کی محض 13ویں ٹیسٹ اننگز میں انضمام الحق نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی جو آگے چل کر ان کے مجموعی 25 ٹیسٹ سنچریوں کے سفر کا آغاز ثابت ہوئی۔ اس روز شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ وہ مستقبل میں پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر بنیں گے۔

2000- 1999 وہ زخم جو کبھی نہ بھر سکا

اگر اس تاریخ میں کسی ایک لمحے کو سب سے زیادہ دل شکن قرار دیا جائے بلکہ شاید پاکستان کی پوری ٹیسٹ تاریخ کا سب سے المناک لمحہ ، تو وہ اینٹیگا، 2000 تھا۔

معین خان کی قیادت میں پاکستان نے تقریباً ہر کام درست انداز میں کیا تھا۔ گیانا میں بارش سے متاثرہ ڈرا اور بارباڈوس میں ہائی اسکورنگ برابری کے بعد پاکستان اینٹیگا پہنچا تو سیریز ابھی بھی فیصلہ کن مرحلے میں تھی اور اس کے پاس پہلی بار کیریبین میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے کا سنہری موقع موجود تھا۔

مگر اس کے بعد جو ہوا وہ کرکٹ کی بے رحمی کی بدترین مثال بن گیا۔

چوتھی اننگز میں ہدف کے تعاقب کے دوران ویسٹ انڈیز کے کپتان جمی ایڈمز اور آخری نمبر کے بیٹر کورٹنی والش نے آخری وکٹ کے لیے 19 رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کو صرف ایک وکٹ سے تاریخی فتح دلا دی۔

اس دوران امپائروں کے دو متنازع فیصلے بھی پاکستان کے خلاف گئے۔ ایک موقع پر جمی ایڈمز کے بلے کا اندرونی کنارہ نظر انداز کر دیا گیا جبکہ کورٹنی والش کے خلاف بیٹ اور پیڈ کی کیچ کی اپیل بھی مسترد کر دی گئی۔ اس کے علاوہ ثقلین مشتاق ایک نہایت آسان رن آؤٹ کا موقع بھی گنوا بیٹھے جو میچ کا خاتمہ ثابت ہو سکتا تھا۔

انضمام الحق کے 295 رنز اور وسیم اکرم کی 15 وکٹیں مگر آخرکار یہ تمام کارکردگیاں بے معنی ہو کر رہ گئیں۔

پاکستانی شائقین کی ایک پوری نسل آج تک اینٹیگا کے اس آخری سیشن کو فراموش نہیں کر سکی۔

05-2004 لارا کے ہوم گراؤنڈ پر باوقار جیت

پاکستان کی ٹیم اپنے کپتان انضمام الحق کے بغیر ویسٹ انڈیز پہنچی۔ انضمام بھارت کے خلاف بنگلورو ٹیسٹ میں امپائر سے اختلاف پر ایک میچ کی پابندی کا شکار تھے اور ان کی عدم موجودگی کا خمیازہ ٹیم کو بھگتنا پڑا۔ ویسٹ انڈیز نے بارباڈوس میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 276 رنز سے شکست دی جبکہ برائن لارا نے اپنے ٹیسٹ کریئر کی 30ویں سنچری مکمل کر کے سر ڈون بریڈمین کی 29 سنچریوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

انضمام دوسرے ٹیسٹ میں جمیکا میں ٹیم میں واپس آئے اور وہی کردار ادا کیا جس کی پاکستان کو اشد ضرورت تھی۔ انہوں نے 50 اور 113 رنز کی شاندار اننگز کھیلیں جبکہ یونس خان نے 106 اور شعیب ملک نے 64 رنز بنائے۔ دوسری جانب دانش کنیریا نے ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرکے میزبان ٹیم کو صرف 143 رنز پر ڈھیر کر دیا اور پاکستان نے 136 رنز سے فتح حاصل کر کے سیریز ایک ایک سے برابر کر دی۔

یہ ایسا دورہ تھا جو صرف دو ہفتوں کے اندر ہزیمت سے وقار کی بحالی تک جا پہنچا ۔ تلخی اور خوشی کا ایسا امتزاج، جو شاید دو حریفوں کے اس تاریخی مقابلے کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

11-2010 ایک پرسکون باب، برابر کی کشمکش

جب 11 ۔ 2010 میں مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان ٹیم ویسٹ انڈیز پہنچی تو دونوں ٹیموں کے درمیان طاقت کا فرق کافی حد تک کم ہو چکا تھا۔

پاکستان پہلا ٹیسٹ گیانا میں ایک ناقص معیار کی پچ پر ہار گیا جہاں سعید اجمل کی میچ میں 11 وکٹیں بھی شکست کو نہ ٹال سکیں۔ تاہم سینٹ کٹس میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ مکمل طور پر پاکستان کے نام رہا۔ اظہر علی اور عمر اکمل کی نصف سنچریوں،مصباح الحق کی بطور کپتان پہلی ٹیسٹ سنچری، اور توفیق عمر کی 135 رنز کی عمدہ اننگز نے پاکستان کو بڑا مجموعہ فراہم کیا۔

جواب میں ویسٹ انڈیز ہدف حاصل نہ کر سکا، جبکہ عبدالرحمن اور سعید اجمل نے مشترکہ طور پر وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کو فتح دلائی اور سیریز ایک ایک سے برابر کر دی۔

اگرچہ یہ سیریز اس تاریخی رقابت کے دیگر یادگار ابواب جتنی ڈرامائی نہیں تھی لیکن اس نے یہ ضرور ثابت کر دیا کہ پاکستان اب ویسٹ انڈیز کا تقریباً برابر کا حریف بن چکا تھا

17-2016 وہ کامیابی جس کا انتظار چھ دہائیوں تک رہا

ہر بڑی کرکٹ رقابت کو ایک ایسے لمحے کی ضرورت ہوتی ہے جو اس سے پہلے گزرنے والی پوری تاریخ کو معنی دے دے ۔ ویسٹ انڈیز میں پاکستان کے لیے وہ لمحہ آخرکار 2017 میں آیا۔ حنیف محمد کی تاریخی 337 رنز کی اننگز کے ساٹھ برس بعد مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے وہ کارنامہ انجام دیا جو حنیف محمد، مشتاق محمد، ظہیر عباس، جاوید میانداد، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس اور انضمام الحق جیسے پاکستان کے عظیم ترین کرکٹرز بھی اپنے چھ سابقہ دوروں میں نہ کر سکے تھے۔ پاکستان نے پہلی بار ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیت لی۔

یہ سیریز ہر اعتبار سے یادگار تھی۔ کنگسٹن میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں جسے پاکستان نے باآسانی جیت لیا، یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز مکمل کرنے والے پہلے پاکستانی بیٹر بنے۔ ویسٹ انڈیز نے بارباڈوس میں دوسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کر دی جبکہ مصباح الحق دوسری مرتبہ اس سیریز میں بدقسمتی سے 99 رنز پر رہ گئے ۔

پھر فیصلہ کن ٹیسٹ ڈومینیکا میں کھیلا گیا۔ روسٹن چیز نے ناقابلِ شکست 101 رنز کی اننگز کھیلی لیکن سیریز میں مجموعی طور پر 25 وکٹیں لینے والے یاسر شاہ نے آخری سے پہلے اوور کی آخری گیند پر آخری بیٹر شینن گیبریل کو آؤٹ کر کے پاکستان کو 101 رنز سے تاریخی فتح دلا دی اور سیریز اپنے نام کر لی۔

اپنی آخری ٹیسٹ سیریز کھیلنے والے مصباح الحق اور یونس خان اس سے زیادہ یادگار انداز میں رخصت نہیں ہو سکتے تھے۔ پاکستان نے آخرکار ساٹھ برس بعد ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر کامیابی کا راز پا لیا تھا۔

22-2021 تاریخ نے ایک بار پھر بے رحمی سے خود کو دوہرایا

مگر پھر جیسے اس رقابت نے ایک اور ڈرامائی موڑ سنبھالنے کا فیصلہ کر رکھا ہو۔ تاریخ نے خود کو ایک بار پھر دوہرا دیا۔

اگست 2021 میں سبائنا پارک میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں حسن علی نے کیمار روچ کا کیچ اس وقت چھوڑ دیا جب وہ صرف 19 رنز پر تھے۔ روچ نے بعد ازاں ناقابلِ شکست 30 رنز بنائے اور ویسٹ انڈیز کو ایک وکٹ سے ایسی فتح دلائی جو سن 2000 کے اینٹیگا ٹیسٹ کی ہوبہو یاد دلاتی تھی۔ جیت کا فرق بھی ایک وکٹ، نچلے نمبروں کے بیٹرز کی وہی جرات، اور پاکستان کے لیے وہی مایوسی جو کئی مواقع ملنے کے باوجود حریف کو میچ ختم کرنے سے نہ روک سکی۔

فرق صرف یہ تھا کہ اس بار پاکستان نے جواب دینے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔

دو دہائیوں تک اس شکست کا بوجھ اٹھانے کے بجائے پاکستان نے اسی میدان پر اگلے ہی ٹیسٹ میں شاندار واپسی کی۔ فواد عالم کی 124 رنز کی اننگز اور شاہین شاہ آفریدی کی میچ میں 10 وکٹوں کی بدولت پاکستان نے 109 رنز سے کامیابی حاصل کی اور سیریز ایک ایک سے برابر کر دی۔

اس بار تلخی اور خوشی کا یہ امتزاج صرف دو ہفتوں کے اندر مکمل ہو گیا۔

اب کیا ہونے والا ہے ؟

نو دوروں میں پاکستان کو صرف ایک ٹیسٹ سیریز جیتنے کا اعزاز ملا لیکن انہی دوروں نے کرکٹ کی تاریخ کی چند عظیم ترین انفرادی کارکردگیاں بھی دیکھیں اور کم از کم دو ایسی شکستیں بھی دیں جن پر اس رقابت کا ذکر ہونے تک بحث جاری رہے گی۔

جب پاکستان ٹیم اگلے ہفتے اپنے دسویں دورے کے لیے تاروبا روانہ ہوگی تو اس کے ساتھ یہ پوری تاریخ بھی سفر کر رہی ہوگی۔ ایک طرف 2017 میں ڈومینیکا میں قائم کیا گیا معیار ہوگا اور دوسری طرف اینٹیگا اور سبائنا پارک کی وہ تلخ یادیں جنہیں ٹیم ہرگز دوبارہ نہیں دوہرانا چاہے گی۔

آنے والے دو ہفتوں میں جو بھی ہوگا، وقت گزرنے کے ساتھ وہ بھی پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی اس طویل رقابت کی اسی تلخ و شیریں داستان کا ایک اور باب بن جائے گا۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.