365 رنز کی یادگار اننگز کھیلنے والے سرگارفیلڈ سوبرز اب دنیا میں نہیں رہے
ویسٹ انڈیز کے عظیم آل راؤنڈر سر گارفیلڈ سوبرز جنہیں کرکٹ کی تاریخ کا سب سے مکمل کھلاڑی تصور کیا جاتا ہے، جمعہ کے روز بارباڈوس میں اپنے گھر میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 89 برس تھی اور وہ اپنی 90ویں سالگرہ سے صرف گیارہ دن پہلے دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کی وفات کی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
سر گارفیلڈ سوبرز نے 1954 سے 1974 کے درمیان 93 ٹیسٹ میچوں میں 57.78 کی اوسط سے 8,032 رنز بنائے جن میں 26 سنچریاں اور 30 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ انہوں نے فاسٹ میڈیم، آرتھوڈوکس اسپن اور رسٹ اسپن، تینوں انداز میں بولنگ کرتے ہوئے 235 وکٹیں حاصل کیں جبکہ زیادہ تر سلپ میں فیلڈنگ کرتے ہوئے 109 کیچ بھی پکڑے۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کی 39 ٹیسٹ میچوں میں قیادت کی جو اس وقت ایک ریکارڈ تھا۔
وزڈن نے انہیں 20 ویں صدی کے پانچ عظیم ترین کرکٹرز میں شامل کیا جن میں سر ڈان بریڈمین، سر جیک ہوبز، سر ویوین رچرڈز اور شین وارن بھی شامل تھے۔ خود سر ڈان بریڈمین نے سوبرز کو کرکٹ کی تاریخ کا بہترین آل راؤنڈر قرار دیا تھا۔ 1975 میں ملکہ الزبتھ دوم نے انہیں نائٹ ہڈ سے نوازا تھا جبکہ 2009 میں آئی سی سی نے انہیں اپنے ہال آف فیم میں شامل کیا تھا۔
وہ ریکارڈ جس کا آغاز پاکستان کے خلاف ہوا
سرگیری سوبرز کی سب سے یادگار اننگز پاکستان کے خلاف تھی۔ فروری 1958 میں کنگسٹن کے سبائنا پارک میں حنیف محمد کی بارباڈوس میں کھیلی گئی تاریخی 337 رنز کی اننگز کے صرف دو ٹیسٹ بعد 21 سالہ سوبرز نے ناقابل شکست 365 رنز بنا کرسر لین ہٹن کا 364 رنز کا عالمی ٹیسٹ ریکارڈ توڑ دیا۔ یہ ریکارڈ 36 برس تک قائم رہا جب 1994 میں انہی کے ہم وطن برائن لارا نے انگلینڈ کے خلاف 375 رنز بنا کر اسے اپنے نام کر لیا۔
سوبرز نے پاکستان کے خلاف مجموعی طور پر آٹھ ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں 58-1957 کی پانچ ٹیسٹوں پر مشتمل ہوم سیریز اور 1958 کا پاکستان کا تین ٹیسٹ کا دورہ شامل تھا۔ ان تمام میچوں میں انہوں نے مجموعی طور پر 984 رنز اسکور کیے۔
1958 کے دورۂ پاکستان میں فضل محمود نے پانچ اننگز میں تین مرتبہ سوبرز کو آؤٹ کیا۔ اس سیریز میں سوبرز کراچی میں 0 اور 14، ڈھاکہ میں 29 اور 45 جبکہ لاہور میں 72 رنز بنا سکے اور پاکستان نے یہ سیریز 1-2 سے اپنے نام کی۔
اپنے پورے کریئر میں فضل محمود نے سوبرز کو مجموعی طور پر پانچ مرتبہ آؤٹ کیا جو انگلینڈ کے جان سنو اور ٹونی لاک کے ساتھ مشترکہ طور پر کسی بھی بولر کی جانب سے سوبرز کو دوسرے سب سے زیادہ مرتبہ آؤٹ کرنے کا اعزاز ہے۔ اس فہرست میں صرف فریڈ ٹرومین ان سے آگے تھے۔
ایک بے مثال کریئر
سوبرز نے صرف 16 برس کی عمر میں بارباڈوس کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو کیا جبکہ 17 برس کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھا۔
383 فرسٹ کلاس میچوں میں، جن میں ویسٹ انڈیز، بارباڈوس، ناٹنگھم شائر اور ساؤتھ آسٹریلیا کی نمائندگی شامل تھی، انہوں نے 54.87 کی اوسط سے 28,314 رنز بنائے اور 27.74 کی اوسط سے 1,043 وکٹیں حاصل کیں۔
ان کا بین الاقوامی کریئر ون ڈے کرکٹ کے آغاز سے پہلے کا تھا اسی لیے وہ صرف ایک ہی ون ڈے انٹرنیشنل کھیل سکے جو 1973 میں ہیڈنگلے میں انگلینڈ کے خلاف تھا۔
1968 میں ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے سوانزی کے سینٹ ہیلنز گراؤنڈ میں گلیمورگن کے میلکم ناش کے ایک اوور میں مسلسل چھ چھکے لگا کر وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک اوور میں چھ چھکے جڑنے والے دنیا کے پہلے بیٹر بنے۔ بعد میں یہ کارنامہ بین الاقوامی سطح پر یوراج سنگھ نے بھی دوہرایا۔
دنیا بھر سے خراجِ عقیدت
پاکستان کرکٹ بورڈ نے 1959 کے دورۂ پاکستان کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ سر گارفیلڈ سوبرز کی غیر معمولی صلاحیتوں نے پاکستان کی سرزمین کو بھی رونق بخشی اور یہاں کی کرکٹ برادری پر انمٹ نقوش چھوڑے۔
پاکستانی کپتان بابر اعظم نے کہا ״سر گارفیلڈ سوبرز نے صرف کرکٹ نہیں کھیلی بلکہ ہمیں دکھایا کہ اس کھیل میں کیا کچھ ممکن ہے ״۔
انہوں نے سوبرز کے اہلِ خانہ اور ویسٹ انڈیز کے عوام سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا ہے ۔
کرکٹ ویسٹ انڈیز نے اپنے بیان میں کہا کہ “ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔” بورڈ کے صدر کشور شیلو نے انہیں دنیا کا عظیم ترین کرکٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی عظمت کرکٹ کی حدود سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی تھی۔
بھارت کے سنیل گاوسکر نے انہیں ” زمین پر چلنے والا عظیم ترین کرکٹر” قرار دیا جبکہ مائیکل ہولڈنگ نے کہا کہ “جو کچھ سوبرز کر سکتے تھے، وہ کوئی اور نہیں کر سکا۔”
آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ نے انہیں عالمی کرکٹ کی ایک عظیم اور باوقار شخصیت قرار دیا۔
جیف بائیکاٹ نے دی ٹیلی گراف میں نے سوبرز کو یاد کرتے ہوئے لکھا
״ جو بھی انہیں اپنے عروج کے دور میں کھیلتے ہوئے دیکھنے کا خوش نصیب رہا، اس کے پاس ایک عظیم بیٹسمین ، تاریخ کے بہترین آل راؤنڈر، ایک آئیکون اور زندگی میں صرف ایک بار پیدا ہونے والے غیر معمولی کرکٹر کی حسین یادیں ہمیشہ رہیں گی۔ مجھے ہمیشہ پسند تھا کہ گیری سوبرز کریز کی طرف کیسے آتے تھے۔ وہ ایک چیتے کی طرح پُراعتماد، پُرسکون اور باوقار انداز میں چلتے تھے۔ وہ کچھ کہتے نہیں تھے، انہیں کہنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی تھی۔ ان میں کوئی غرور نہیں تھا مگر ان کا اندازِ چلنا ہی مخالف ٹیم کو بتا دیتا تھا کہ وہ اپنا کام کرنے آ گئے ہیں ״۔
سر گارفیلڈ سوبرز تین بچوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ وہ پاکستان کے خلاف قائم کیا گیا تاریخی ٹیسٹ ریکارڈ، ویسٹ انڈین کرکٹ کے سنہری دور کی قیادت، اور ایک ایسی میراث چھوڑ گئے ہیں جس پر ساتھیوں، حریفوں اور بعد کی نسلوں کا اتفاق ہے کہ وہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈر تھے۔



Leave a Reply