URDUورلڈ کپ فارمیٹس میں نظرثانی ، درمیانے درجے کی ٹیموں کے لیے بہتر مواقع

ورلڈ کپ فارمیٹس میں نظرثانی ، درمیانے درجے کی ٹیموں کے لیے بہتر مواقع

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بدھ کے روز آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈ کپ 2027 اور آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کے فارمیٹس میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر ان تبدیلیوں کا مقصد درمیانے درجے کی ٹیموں کو دونوں عالمی مقابلوں میں آگے بڑھنے کا زیادہ مؤثر اور بامعنی موقع فراہم کرنا ہے۔

پرانے فارمیٹس کے برعکس جن میں مضبوط ترین ٹیمیں نسبتاً سیدھے راستے سے سیمی فائنل تک پہنچ جاتی تھیں نئے ڈھانچے نے بڑی ٹیموں کے لیے صورتِ حال کو دو مختلف انداز میں تبدیل کیا ہے اور ان دونوں پہلوؤں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔

ایک جانب، ٹرافی جیتنے کا راستہ اب پہلے سے زیادہ طویل ہو گیا ہے۔ ون ڈے ورلڈ کپ میں کسی اعلیٰ رینکنگ والی ٹیم کو پہلے چھ ٹیموں پر مشتمل گروپ مرحلہ کھیلنا ہوگا، اس کے بعد سات ٹیموں کے سپر سیون مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔ یعنی سیمی فائنل تک پہنچنے سے پہلے دو مکمل راؤنڈز کھیلنے ہوں گے، جبکہ 2019 اور 2023 کے ورلڈ کپ میں صرف 10 ٹیموں کے سنگل لیگ مرحلے کے بعد براہِ راست سیمی فائنل میں رسائی ممکن تھی۔

دوسری جانب یہی نیا نظام کسی ایک خراب دن کے اثرات کو کافی حد تک کم بھی کر دیتا ہے۔

پرانے فارمیٹ میں 10 ٹیموں میں ٹاپ چار میں جگہ بنانا لازمی تھا جبکہ نئے سپر سیون مرحلے میں سات میں سے چار ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچیں گی جو نسبتاً زیادہ آسان معیار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مضبوط ٹیم کسی کمزور حریف کے خلاف ایک میچ ہار بھی جائے تو صرف اسی شکست کی بنیاد پر اس کی مہم تقریباً ختم نہیں ہوگی، اگرچہ مجموعی طور پر ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے اب زیادہ میچز اور مسلسل اچھی کارکردگی درکار ہوگی۔

مختصراً، ورلڈ کپ جیتنا پہلے سے زیادہ مشکل لیکن ایک خراب دن کے باوجود ٹورنامنٹ میں برقرار رہنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔

ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کا نیا فارمیٹ

14 ٹیموں پر مشتمل ون ڈے ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے والی تین سب سے کم رینکنگ ٹیمیں پہلے سپر سیریز کے نام سے ایک راؤنڈ رابن مرحلہ کھیلیں گی، جس میں صرف فاتح ٹیم اگلے مرحلے میں پہنچے گی۔

اس کے بعد 12 ٹیموں کو چھ، چھ ٹیموں کے دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ دونوں گروپس کی ٹاپ تین ٹیمیں، جبکہ دونوں گروپس میں چوتھے نمبر پر آنے والی ٹیموں میں سے بہتر ریکارڈ رکھنے والی ایک اضافی ٹیم سپر سیون مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی۔

سپر سیون مرحلے کی سات ٹیموں میں سے ٹاپ چار سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی۔

ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کا نیا فارمیٹ۔

20 ٹیموں پر مشتمل ٹی20 ورلڈ کپ میں آئی سی سی نے دوسرے مرحلے کو آٹھ ٹیموں سے بڑھا کر دس کردیا ہے۔ یہ فیصلہ 2026کے ٹی ٹوئنٹی مینز ورلڈ کپ میں ابھرتی ہوئی ٹیموں کی کارکردگی کے بعد کیا گیا ہے۔

20 ٹیموں کو چار، چار ٹیموں کے پانچ گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں سپر 10 مرحلے میں پہنچیں گی۔

اس مرحلے میں 10 ٹیموں کو پانچ، پانچ ٹیموں کے دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا، جہاں ہر ٹیم راؤنڈ رابن بنیاد پر میچز کھیلے گی۔ دونوں گروپس کی فاتح ٹیمیں براہِ راست سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گی۔

باقی دو سیمی فائنل مقامات کا فیصلہ نئے ایلیمینیٹر مرحلے سے ہوگا۔ گروپ 2 کی تیسری ٹیم گروپ 1 کی دوسری ٹیم سے جبکہ گروپ 1 کی تیسری ٹیم گروپ 2 کی دوسری ٹیم سے مقابلہ کرے گی۔ دونوں ایلیمینیٹرز کے فاتح سیمی فائنل لائن اپ مکمل کریں گے، جس کے بعد سیمی فائنل اور فائنل پہلے کی طرح منعقد ہوں گے۔

آئی سی سی کی وضاحت

ان تبدیلیوں کی وجہ بیان کرتے ہوئے آئی سی سی نے کہا ہے کہ

یہ تبدیلیاں زیادہ بامعنی مقابلے پیدا کرنے، مسابقتی معیار کو بلند کرنے، دونوں ایونٹس کے مسابقتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور کھلاڑیوں و شائقین کے لیے ٹورنامنٹ کے تجربے کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔

دونوں ٹورنامنٹس میں فرق

اگرچہ دونوں عالمی مقابلوں کے فارمیٹس تبدیل کیے گئے ہیں لیکن ان کی توسیع ایک جیسی نہیں۔

ون ڈے ورلڈ کپ میں میچوں کی تعداد 48 سے بڑھ کر 57 ہوجائے گی۔

پرانے فارمیٹ میں 45 لیگ میچز اور تین ناک آؤٹ مقابلے شامل تھے، جبکہ نئے فارمیٹ میں:

  • سپر سیریز: 3 میچز
  • گروپ مرحلہ: 30 میچز
  • سپر سیون: 21 میچز
  • ناک آؤٹ مرحلہ: 3 میچز

اس کے برعکس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں میچوں کی مجموعی تعداد 55 ہی رہے گی۔2026 کے ایڈیشن میں بھی 55 میچز کھیلے گئے تھے، جبکہ نئے فارمیٹ میں

گروپ مرحلہ: 30 میچز

  • سپر 10: 20 میچز
  • دو ایلیمینیٹرز
  • تین ناک آؤٹ میچز

یوں مجموعی تعداد بدستور 55 رہے گی۔

دوسرے الفاظ میں، ون ڈے ورلڈ کپ میں واقعی مزید کرکٹ شامل کی جا رہی ہے، جبکہ ٹی20 ورلڈ کپ میں صرف انہی 55 میچوں کو نئے انداز سے تقسیم کیا گیا ہے تاکہ زیادہ ٹیموں کو اہم مقابلوں میں کھیلنے کا موقع مل سکے بغیر شیڈول میں اضافہ کیے۔

منظوری کا عمل۔

یہ تبدیلیاں سب سے پہلے آئی سی سی کرکٹ کمیٹی نے تجویز کیں جس کے سربراہ سارو گنگولی ہیں۔ بعد ازاں ان تجاویز کا جائزہ چیف ایگزیکٹوز کمیٹی نے لیا، جس میں مکمل رکن اور ایسوسی ایٹ ممالک کے چیف ایگزیکٹوز اور نمائندے شامل تھے۔

بالآخر ان تبدیلیوں کی منظوری آئی سی سی بورڈ نے ایڈنبرا میں ہونے والے سالانہ اجلاس کے دوران دی،جہاں ایسوسی ایٹ ممالک کے تین نمائندے بھی بورڈ کا حصہ تھے۔

ممکنہ پس منظر

تاہم اگر حالیہ ورلڈ کپس کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ اندازہ لگانا غیر معقول نہیں ہوگا کہ ان تبدیلیوں کا ایک مقصد دنیا کی بڑی اور تجارتی لحاظ سے اہم ٹیموں کو بہت جلد ٹورنامنٹ سے باہر ہونے سے بچانا بھی ہے جبکہ ساتھ ہی درمیانی درجے کی ٹیموں کے لیے زیادہ اہم میچز پیدا کیے جائیں۔

پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے ؟

پاکستان کے لیے پرانے سنگل لیگ فارمیٹ کے خلاف دلیل محض نظریاتی نہیں، بلکہ گزشتہ دو ون ڈے ورلڈ کپ مہمات میں اس کا عملی نقصان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

2019 ورلڈ کپ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ دونوں نے 11،11 پوائنٹس حاصل کیے، جبکہ دونوں کی پانچ، پانچ فتوحات اور تین تین شکستیں تھیں۔ پاکستان کو لارڈز میں اپنے آخری میچ میں بنگلہ دیش کو 300 سے زائد رنز سے شکست دینا ضروری تھا تاکہ وہ نیوزی لینڈ سے بہتر نیٹ رن ریٹ حاصل کر سکے۔ پاکستان نے 94 رنز سے کامیابی تو حاصل کی، جو عام حالات میں ایک بڑی جیت سمجھی جاتی ہے، لیکن وہ بھی کافی ثابت نہ ہوئی۔ نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ برقرار رہا اور پاکستان کا سفر اس لیے ختم ہوا کہ ایک دوسرے میدان میں ہونے والے نتائج اور اعشاریہ پر مبنی حساب کتاب نے فیصلہ کر دیا نہ کہ کسی حریف نے میدان میں اسے شکست دی۔

2023 ورلڈ کپ میں بھی تقریباً یہی صورتحال مختلف انداز میں سامنے آئی۔ پاکستان اور افغانستان دونوں نے نو میچوں میں چار، چار کامیابیاں حاصل کیں، مگر معمولی بہتر نیٹ رن ریٹ نے پاکستان کو پانچویں اور افغانستان کو چھٹے نمبر پر رکھا۔ تاہم دونوں ہی ٹیمیں سیمی فائنل تک پہنچنے میں ناکام رہیں۔

یوں مسلسل دو ورلڈ کپ میں پاکستان کی مہم براہِ راست کسی مضبوط حریف کے ہاتھوں ختم نہیں ہوئی بلکہ ٹائی بریکر اور نیٹ رن ریٹ کے فیصلے نے اس کا راستہ روکا۔ یہی وہ خامی ہے جسے نیا فارمیٹ کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اب 10 ٹیموں کی ایک واحد لیگ میں صرف نیٹ رن ریٹ کے ذریعے آخری کوالیفائنگ ٹیم کا فیصلہ کرنے کے بجائے، اگر کوئی ٹیم چھ ٹیموں پر مشتمل اپنے گروپ میں پوائنٹس پر برابر رہ جائے تو اسے ایک اور موقع مل سکتا ہے۔ دونوں گروپس میں چوتھے نمبر پر رہنے والی ٹیموں میں سے بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیم بھی سپر 7 مرحلے میں جگہ بنائے گی، جہاں ایک نیا راؤنڈ رابن مرحلہ ہوگا اور اس کے بعد ٹاپ چار ٹیمیں سیمی فائنل میں پہنچیں گی۔

یعنی جو ٹیم پہلی مرتبہ معمولی فرق سے آگے نہ بڑھ سکے، اس کے پاس خود کو دوبارہ ثابت کرنے کا حقیقی موقع ہوگا، بجائے اس کے کہ اس کا سفر صرف نیٹ رن ریٹ کے بے رحم حساب پر ختم ہو جائے۔

پاکستان جیسی ٹیم جسے حالیہ برسوں میں بارہا پوائنٹس برابر ہونے کے باوجود نیٹ رن ریٹ کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا، اس کے لیے یہ ایک تبدیلی شاید اس پورے نئے نظام کا سب سے اہم حصہ ثابت ہو۔

نظرثانی شدہ فارمیٹس کا خیرمقدم سابق عالمی چیمپئنز پاکستان، آسٹریلیا، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی جانب سے متوقع ہے، کیونکہ یہ چاروں ٹیمیں گزشتہ چند ورلڈ کپ ایڈیشنز میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ نہیں کر سکیں۔ البتہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ ٹیمیں نئے فارمیٹ سے حقیقی فائدہ اٹھا پائیں گی یا نہیں جبکہ مداحوں اور مبصرین کی حتمی رائے کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ بھارت، انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ نئے نظام میں کس مقام پر اختتام کرتے ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028میں کوالیفکیشن کا راستہ ۔

بارہ ٹیمیں موجودہ رینکنگ اور 2026ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کارکردگی کی بنیاد پر پہلے ہی کوالیفائی کرچکی ہیں۔

ان میں افغانستان، آسٹریلیا، بنگلہ دیش، انگلینڈ، بھارت، آئرلینڈ، نیوزی لینڈ، پاکستان، جنوبی افریقہ، سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور زمبابوے شامل ہیں۔ دیگر سولہ کا فیصلہ نئے متعارف کرائے گئے گلوبل کوالیفائر سے ہوگا۔

ان 16 میں سے آٹھ ٹیمیں وہ ہوں گی جنہوں نے 2026 ٹی20 ورلڈ کپ میں حصہ لیا تھا لیکن براہِ راست کوالیفائی نہ کر سکیں۔ ان میں کینیڈا، اٹلی، نمیبیا، نیپال، نیدرلینڈز، عمان، متحدہ عرب امارات اور امریکا شامل ہیں۔

دوسری جانب اسکاٹ لینڈ کو 2026 ورلڈ کپ میں اپنی غیر معمولی شرکت کے حالات کے پیشِ نظر براہِ راست یورپ ریجنل فائنل میں جگہ دی گئی ہے نہ کہ گلوبل کوالیفائر میں۔

گلوبل کوالیفائر کی باقی آٹھ نشستیں علاقائی کوالیفائنگ مقابلوں کے ذریعے پُر کی جائیں گی:

  • افریقہ سے دو ٹیمیں
  • ایشیا سے دو ٹیمیں
  • یورپ سے دو ٹیمیں
  • امریکا سے ایک ٹیم
  • ایسٹ ایشیا پیسفک سے ایک ٹیم

اس نئے نمایاں ٹورنامنٹ کی سفارش آئی سی سی کی ڈیولپمنٹ اور چیف ایگزیکٹوز کمیٹیوں نے کی تھی جسے بورڈ نے منظور کر لیا ہے۔ تاہم اس کی حتمی منظوری نومبر میں ہونے والے اجلاسوں میں آئی سی سی کی فنانس اینڈ کمرشل افیئرز کمیٹی کے جائزے کے بعد دی جائے گی۔

آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈ کپ 2027

یہ ٹورنامنٹ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا اور اس میں 14 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ نیا فارمیٹ تین مراحل پر مشتمل ہوگا، جس کے بعد فائنل کھیلا جائے گا۔

آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2028

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا یہ ٹورنامنٹ 20 ٹیموں پر مشتمل ہی رہے گا، تاہم اس کے فارمیٹ میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ سپر 10 مرحلے میں ابھرتی ہوئی ٹیموں کی نمائندگی کو مزید وسعت دی جا سکے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.