URDUپی ایس ایل کا نصف مرحلہ : بولرز حاوی رہے ہیں

پی ایس ایل کا نصف مرحلہ : بولرز حاوی رہے ہیں

پی ایس ایل کے 22 میچز کے بعد لیگ کے پوائنٹس ٹیبل کی شکل سامنے آ گئی ہے اور شماریاتی رجحانات بھی واضح ہونے لگے ہیں۔ آٹھ ٹیموں میں سے چھ ٹیموں کی قسمت ان کے اپنے ہاتھ میں ہیں۔ صرف نئی شامل ہونے والی حیدرآباد کنگز مین اور راولپنڈیذ کو پلے آف میں پہنچنے کے لیے مطلوبہ نتائج کی ضرورت ہے۔
موجودہ صورتحال کے مطابق ٹیموں کو کم از کم 11 پوائنٹس کے حصول کا ہدف رکھنا چاہیے تاکہ وہ ٹاپ فور میں آنے کے حقیقی امکان میں رہیں۔ جبکہ 14 پوائنٹس یقینی طور پر جگہ دلا سکتے ہیں۔
پشاور زلمی کے لیے بدھ کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف جیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے لیے بد ترین نتیجہ نیٹ رن ریٹ کے ذریعے کوالیفکیشن سے محروم ہونا ہے حالانکہ موجودہ +2.722 کے اعداد و شمار کے ساتھ یہ موقع کم لگتا ہے۔
دو نئی فرنچائزز نے شدید چیلنج کا سامنا کیا ہے۔ حیدرآباد کنگز مین آخر کار اپنے پانچویں میچ میں فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی لیکن راولپنڈیذ بغیر کسی جیت اور بغیر کسی پوائنٹ کے سب سے نیچے ہے۔
بولنگ سبقت لے گئی
پشاور کی ٹاپ پوزیشن بنیادی طور پر ان کی مضبوط بولنگ اٹیک کی وجہ سے ہے جس کی قیادت سفیان مقیم اور افتخار احمد کر رہے ہیں۔ انہوں نے سے 17.02 رنز فی وکٹ کے حساب سے وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ فی اوور صرف 7.81 رنز دیکر بھی سبقت لے رکھی ہے۔ کسی اور ٹیم نے گیند کے ساتھ اتنی کامیابی حاصل نہیں کی۔ اگلی بہترین بولنگ اوسط لاہور قلندرز کی ہے جو 24.24 ہے۔
ملتان سلطانز دوسری پوزیشن پر ہے اور وہ ہائی رِسک ، ہائی ریوارڈ کرکٹ کھیلنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ واحد ٹیم ہے جو اس وقت 10 رنز فی اوور سے زیادہ کی رفتار سے کھیل رہی ہے لیکن وہ 9.95 فی اوور دے بھی رہی ہے جو راولپنڈیز کے بعد دوسری سب سے خراب کارکردگی ہے۔
ہدف کے تعاقب کی ٹیمیں حاوی ہیں
اکیس مکمل میچوں میں سے آٹھ میچ پہلی بیٹنگ کرتے ہوئے جیتے گئے اور تیرہ میچ ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے جیتے گئے۔ تاہم دونوں وینیوز کا فرق بھی اس میں موجود ہے۔
لاہور میں ہونے والے 13 میچوں میں سے صرف چار میچ پہلی بیٹنگ کرتے ہوئے جیتے گئے جبکہ 9 میچ ہدف کے تعاقب کرتے ہوئے جیتے گئے جبکہ کراچی میں نتیجہ چار چار برابر رہا۔ موازنہ کے طور پر آئی پی ایل کی پوری تاریخ میں 44.6% میچ پہلی بیٹنگ کرتے ہوئے جیتے گئے اور 55.4% میچ دوسری بیٹنگ کرتے ہوئے جیتے گئے۔
اب تک سب سے حیران کن نتیجہ کراچی کنگز کا لاہور میں اپنے تینوں میچ جیتنا رہا ہے جو ہوم ایڈوانٹج کے روایتی تصور کے منافی ہے۔
مینڈس بیٹنگ میں نمایاں ۔
کوسال مینڈس پشاور کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئے ہیں جنہوں نے کراچی کنگز کے خلاف 109 رنز کی نمایاں کارکردگی کے ساتھ 309 رنز بنائے ہیں۔ اگر وہ اسی رفتار سے کھیلتے رہے تو وہ فخر زمان کا 2022 کا ایک ہی پی ایس ایل ایڈیشن میں 588 رنز بنانے کا ریکارڈ توڑسکتے ہیں۔
صاحبزادہ فرحان اوربابر اعظم بالترتیب سلور اور برانز میڈل کی پوزیشن پر ہیں یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔ فرحان جو پچھلے سال ٹاپ اسکورر تھے اور 2026 کے آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ میں یہ کارنامہ دوبارہ انجام دیا، حیدرآباد کے خلاف ناقابل شکست 106 رنز بنائے۔
بابراعظم پی ایس ایل کی تاریخ میں 4,000 رنز تک پہنچنے والے پہلے کھلاڑی بنےہیں اور مینڈس کے ساتھ ان کی شراکتیں پشاور کے لیے اہم رہی ہیں۔
سات سرفہرست رنز بنانے والوں میں تمام ہی مقامی کھلاڑی ہیں جبکہ سب سے بڑی غیر ملکی سائننگ آٹھویں نمبر پر ہے۔ اسٹیو اسمتھ نے جب ملتان کے لیے سائننگ کی تو یہ شہ سرخیوں میں تھی انہوں نے کچھ مفید اننگز کھیلی ہیں لیکن وہ دوسرے نصف میں اپنے سب سے زیادہ 53 رنز کے اسکور سے بہتر کارکردگی کے خواہاں ہوں گے۔
اگلی چار پوزیشن غیر ملکی سائننگ کے پاس ہیں جنہوں نے کافی ملتی جلتی کارکردگی دکھائی ہے۔ جوش فلیپ، مارنس لبوشین، ڈیرل مچل اور ڈیون کانوے نے اپنی فرنچائزز کے لیے 154 سے 171 رنز کے درمیان اسکور کیے مچل کے سواسب ہی پہلی بار پی ایس ایل کھیل رہے ہیں۔
غیرملکی کرکٹرز میں سام بلنگز اور معین علی نے اپنی جھلک دکھائی ہے۔ بلنگز نے راولپنڈیز کے لیے دو نصف سنچریاں اسکور کی ہیں اور معین علی جو 2020 کے بعد پہلی بار مقابلے میں واپس آئے ہیں کراچی کنگز کے لیے دو 40 کے قریب اسکور کیے ہیں۔
تاہم ڈیوڈ وارنر اور رائلے روسو دونوں نے بیٹ کے ساتھ مایوس کیا ہے، روسو چار اننگز میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے 79 رنز بنا سکے ہیں۔
سفیان مقیم بولنگم میں نمایاں
لیفٹ آرم رسٹ اسپنر سفیان مقیم ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی دکھا رہے ہیں اور 13 وکٹوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔ اس ایڈیشن میں داخل ہونے سے پہلے انہوں نے اپنے کریئر کے آٹھ پی ایس ایل میچوں میں صرف پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن انہوں نے تسلسل کے ساتھ چار وکٹیں 32 پر، تین وکٹیں 18 پر، تین وکٹیں 21 پر اور تین وکٹیں 30 پر لے کر شاداب خان کے بعد دوسرے بولر بن گئے ہیں جو پی ایس ایل کے چار مسلسل میچوں میں کم از کم تین وکٹیں لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
تیز بولرز میں شاہین شاہ آفریدی لاہور قلندرز کے لیے 10 وکٹوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔ کراچی کنگز کے حسن علی نے 9 وکٹیں حاصل کی ہیںجس کا مطلب ہے کہ آل ٹائم پی ایس ایل وکٹ ٹیکرز لسٹ میں ان کا سخت مقابلہ شاہین سے ہے۔
خاص ذکر ناہید رانا کا ۔
23 سالہ بنگلہ دیشی فاسٹ بولر ناہید رانا، جو اپنی پہلی پی ایس ایل میں شرکت کر رہے ہیں ، چار میچوں میں سات وکٹیں لے چکے ہیں جس میں سات رنز کے عوض تین وکٹوں کی کارکردگی نمایاں ہے جن کی مدد سے زلمی نے کراچی کنگز کو صرف 87 رنز پر آؤٹ کیا یہ وہی میچ جس میں مینڈس نے سنچری اسکور کی اور مجموعی اسکور 246 رنز پر تین وکٹوں کے ساتھ پہنچا دیا، جو اس سیزن کا سب سے زیادہ اسکور ہے۔ ناہید کی اوسط رفتار 137.77 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی، جو صرف الزاری جوزف اور عاکف جاوید کے پیچھے ہے، جنہوں نے ایک سے زیادہ میچز کھیلے ہیں۔
پیٹر سڈل نے ثابت کر دیا ہے کہ ان میں ابھی جان باقی ہے۔ پی ایس ایل میں اپنی پہلی شرکت کرتے ہوئے 41 سالہ سڈل اس سال کے ٹورنامنٹ کے سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی ہیں ۔اور وہ سب سے عمر رسیدہ غیر ملکی کھلاڑی ہیں جنہوں نے 2020/21 ایڈیشن میں فواد احمد اور عمران طاہر کی طرح 41 سال کی عمر میں حصہ لیا ہے۔ انہوں نے ملتان سلطانز کے لیے چھ وکٹیں حاصل کی ہیں۔
کچھ غیر ملکی اسپنرز ابھی تک اپنا جادو نہیں دکھا سکے۔ ایڈم زمپا کو اپنی پہلی پی ایس ایل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، کراچی کنگز کے لیے ان کے پانچ میچز میں صرف چار وکٹیں ہیں، ہر ایک وکٹ 35.75 پر۔ وہ اوسطاً 7.15 رنز فی اوور کے ساتھ نسبتاً مہنگے ثابت ہوئے ہیں، لیکن وہ دوسرے نصف میں بہتر کارکردگی کی امید رکھیں گے۔ اسی طرح معین علی (تین وکٹیں 36.33 پر) اور مائیکل بریسویل (تین وکٹیں 34.66 پر) بھی وکٹیں لینے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ۔
نوجوان ٹیلنٹ۔
اس پی ایس ایل میں کئی نوجوانوں نے متاثر کیا ہے، جو پاکستانی ٹیلنٹ کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔
انڈر-19 سمیر منہاس نے پچھلے سال کے آخر میں دبئی میں بھارت کے خلاف ایشیا کپ انڈر 19 کے فائنل میں 172 رنز بنا کر شہ سرخیوں میں جگہ بنائی اور اس کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے شاندار کارکردگی دکھائی، جہاں انہوں نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف 82 ناٹ آؤٹ اور راولپنڈیز کے خلاف 70 رنز۔ ان کے بڑے بھائی عرفات منہاس ملتان سلطانز کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کے والد کاشف بطور فوٹوگرافر اس ٹورنامنٹ کو کور کرتے ہیں۔
بیس سالہ عبید شاہ لاہور قلندرز میں شاہین کی معاونت میں اچھا کام کر رہے ہیں اور انہیں مستقبل کے پاکستانی اسٹار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جن کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہے۔ وہ اپنے بڑے بھائی نسیم سے تحریک حاصل کر سکتےیں۔
پاکستان کے حالیہ دورہ بنگلہ دیش میں اپنے پہلے دو ون ڈے میچز میں ناکامی کے بعد21 سالہ شامل حسین نے جلد ہی واپسی کی اور پہلے دو پی ایس ایل میچز میں نصف سنچریاں بنانے والے صرف چوتھے کھلاڑی بن گئے، کراچی کنگز کے خلاف 52 اور حیدر آباد کنگز مین کے خلاف 54 رنز کی اننگز کھیلی۔

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.