URDUپی ایس ایل 11 کی چند مایوس کن کارکردگی

پی ایس ایل 11 کی چند مایوس کن کارکردگی

لاہور۔ پاکستان سپر لیگ 2026 میں اس ایونٹ کی تاریخ کی چند بہترین اور ریکارڈ ساز کارکردگی دیکھنے میں آئیں۔ بابر اعظم نے فخر زمان کے 588 رنز کے ریکارڈ کی برابری کرلی ۔ انہوں نے اپنی ٹیم کو ریکارڈ پانچویں فائنل میں پہنچاتے ہوئے پی ایس ایل میں چوتھی اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں مجموعی طور پر 13 ویں سنچری اسکور کی۔ بابر کے ساتھی کوسال مینڈس اس سیزن میں 500 رنز مکمل کرنے والے پہلے بیٹر بنے اور اب ان کے 541 رنز ہیں جس میں ایک سنچری بھی شامل ہے۔ عثمان خان سب سے تیز بیٹر بنے جنہوں نے پی ایس ایل میں چار سنچریاں مکمل کیں یہ کارنامہ صرف 33 میچوں میں انجام دیا۔ نوجوان فاسٹ بولر علی رضا پی ایس ایل میں ہیٹ ٹرک کرنے والے ساتویں اور سب سے کم عمربولر بن گئے۔
دوسری جانب اس پی ایس ایل میں کچھ تجربہ کار پختہ اور مستند کھلاڑی اور کچھ ابھرتے ہوئے نام بھی تھے جنہیں بڑی رقوم میں خریدا گیا جن سے میچ جتوانے کی توقع تھی لیکن ان کے لیے ٹورنامنٹ مایوس کن رہا۔
چار ٹیمیں کراچی کنگز۔ لاہور قلندرز۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور راولپنڈیز پلےآف تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہیں ان کے مشہور کھلاڑیوں کی فارم اور مستقل مزاجی کی کمی اس ٹورنامنٹ میں واضح طور پر نظرآئی۔
پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا کی بیٹنگ میں اوسط محض 12.44 رہی۔ آسٹریلیا کے ایڈم زیمپا جو 147 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل وکٹوں کے ساتھ ورلڈ کپ جیت چکے ہیں، سات میچوں میں صرف پانچ وکٹیں حاصل کر سکے۔ حارث رؤف نے ہر اوور میں تقریباً 10 رنز دیے اور محمد رضوان پاکستان کے سب سے زیادہ اعزاز یافتہ وائٹ بال کرکٹرز میں سے ایک ہونے کے باوجود دو فرنچائزز میں کپتان کے طور پر اپنے آخری 21 پی ایس ایل میچوں میں سے 19 ہار چکے ہیں تاہم اس کی وجوہات محض خراب فارم میں نہیں بلکہ ٹیم کے انتخاب، میچ کی حکمت عملی اور انتظامی فیصلوں کے مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو بار بار ناکام ہوئے۔
یہاں جن 9 کرکٹرزکا ذکر کیا گیا ہے ان 9 کھلاڑیوں کی مجموعی قیمت 440 ملین پاکستانی روپے (1.57 ملین ڈالرز ) سے زائد ہے۔ ان معاوضوں کے مقابلے میں نتائج تقریباً ہر صورت انتہائی ناکافی اور غیرتسلی بخش رہے۔
سلمان علی آغا (کراچی کنگز)
پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا ان بڑے مقامی اسٹارز میں سے ایک تھے جن کی خراب فارم نے کراچی کنگز کی پانچ سے زیادہ کامیابیاں نہ ہونےمیں اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں وہ گروپ مرحلے میں ہی باہر ہو گئی۔
سلمان نے 10 میچوں کی 9 اننگز میں مجموعی طور پر صرف 112 رنز بنائے، اوسط 12.44 اور اسٹرائیک ریٹ 119 رہا۔ اگر اس دیکھا جائے تو کراچی کنگز نے انہیں 58.5 ملین پاکستانی روپے (210,000 ڈالرز ) میں خریدا جس سے ان کے رنز ٹورنامنٹ میں سب سے مہنگے قرار پائےیعنی تقریباً 522,000 پاکستانی روپے فی رن۔
ان کا سب سے زیادہ اسکور 29 تھا جو تیسرے میچ میں راولپنڈیز کے خلاف آیا۔ ان کے دیگر قابل ذکر اسکورز 24 حیدر آباد کنگزمین کے خلاف اور 22 کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف تھے۔ باقی میچوں میں انہوں نے لاہور قلندرز کے خلاف 0 اور 14، پشاور زلمی کے خلاف 5 اور 12، اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف 4 اور ملتان سلطانز کے خلاف 2 اسکور کیے یہ سلسلہ خود اس بات کی کہانی بیان کرتا ہے کہ ایک بیٹر جس نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران کبھی بھی متاثرکن کارکردگی نہیں دکھائی۔بولنگ میں انہوں نے صرف تین وکٹیں حاصل کیں۔
یاد رہے کہ 2025 کے سیزن میں انہوں نے اسلام آباد یونائٹڈ کے لیے 9 اننگز میں 201 رنز بنائے تھے۔
ایڈم زیمپا (کراچی کنگز) ۔
وہ اعداد و شمار جو کراچی کنگز نے ایڈم زیمپا کو خریدنے سے پہلے دیکھے ہوں گے بہت متاثر کن تھے۔ آسٹریلیا کے لیے 115 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں 147 وکٹیں جس میں آسٹریلیا کی آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 کے ٹائٹل جیتنے کی مہم میں 13 وکٹیں بھی شامل ہیں لیکن جو اعداد و شمار انہوں نے کراچی کنگز کے لیے کیے وہ کافی مایوس کن تھے یعنی سات میچز میں صرف پانچ وکٹیں، اوسط 43.20 اور اکانومی ریٹ 7.71۔
یہ زیمپا کا پہلا پی ایس ایل سیزن تھا اور پاکستان کے حالات میں پہلی بار کھیلنے کی پریشانیاں پورے سیزن میں ظاہر ہوئیں۔ ان کی بہترین کارکردگی صرف دوسرے میچ میں لاہور قلندرز کے خلاف چار اوورز میں گیارہ رنز کے عوض دو وکٹیں جس کے لیے انہیں پلیئر آف دی میچ کا انعام ملا لیکن اس کے بعد وہ ایسی کارکردگی نہ دوہراسکے۔
کراچی کنگز نے ایک ایسے بولر کے لیے 45 ملین پاکستانی روپے (161,000 ڈالرز) ادا کیے جو پاکستانی وکٹوں پر ان بیٹسمینوں کے خلاف جو انہیں جلد سمجھ لیتے ہیں، کبھی بھی وہ میچ ونر نہ بن سکے جیسا کہ ان کا انٹرنیشنل ریکارڈ رہا ہے۔
حارث رؤف (لاہور قلندرز )
لاہور قلندرز کا گیارہ ایڈیشنز میں ساتویں مرتبہ پلے آف تک نہ پہنچ پانا زیادہ تر ان کے بالرز کی بیٹسمینوں کی مدد نہ کرنے اور اہم مواقعوں پر کارکردگی دکھانے میں ناکامی کی وجہ سے رہا ہے۔
حارث رؤف جنہیں 76 لاکھ پاکستانی روپے (272,000 ڈالر) میں خریدا گیا جو یہاں ذکر کیے گئے 9 کھلاڑیوں میں سب سے مہنگے تھے اس کی سب سے واضح مثال ہے۔
اگرچہ حارث لاہور قلندرز کے دوسرے سب سے کامیاب بولر تھے، ان کے 9 میچز میں 12 وکٹیں لینے کی اوسط 24.08 اور اکنامی ریٹ 9.79 رہا۔ ایک ایسے ماہر ٹی ٹوئنٹی فاسٹ بولر کے لیے جن کا بین الاقوامی معیار ہو، یہ اعداد و شمار کافی کم کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں ۔ خاص طور پر اس وقت جب لاہور کے شکست کے مارجن اکثر اتنے کم تھے کہ تھوڑی بہتر بولنگ نتائج بدل سکتی تھی۔
حارث نے حیدرآباد کنگز مین کے خلاف دو وکٹیں 22 پر لے کر اچھا آغاز کیا، لیکن کراچی کنگز کے عباس آفریدی نے مسلسل دو گیندوں پر ایک چھکا اور ایک چوکا لگاکر فتح یقینی بنائی اور حارث نے تین اعشاریہ تین اوورز میں ایک وکٹ کے لیے 45 رنز دے ڈالے۔ انہوں نے ملتان سلطان کے خلاف دو اوورز میں 26 رنز دیے اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف 9 وکٹوں کی شکست میں اپنے واحد اوور میں 10 رنز دیے،انہوں نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف 33 رنز پر ایک وکٹ کے اعداد و شمار کے ساتھ 135 رنز کے ہدف کو صرف 16 اوورز میں مکمل ہونے دیا۔
حارث کی بہترین کارکردگی لیگ کے 27ویں میچ میں آئی جب لاہور قلندرز نے راولپنڈیز کو 32 رنز سے شکست دی جس میں انہوں نے چار اوورز میں43 رنز دے کر 3وکٹیں حاصل کیں۔ اپنے آخری تین میچوں میں، حارث نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف 2 وکٹیں 28 رنز پر ، کراچی کنگز کے خلاف 1 وکٹ 36 رنز دے کر اور پشاور زلمی کے خلاف 2 وکٹیں 46 رنز کے عوض حاصل کیں۔
سال بہ سال موازنہ حیران کن ہے۔ 2025 میں حارث نے 17 وکٹیں اوسط 25.70 اور اکانومی 10.28 پر حاصل کی تھیں۔ اس سیزن میں ان کا اکنامی ریٹ دراصل بہتر ہوا، لیکن وکٹیں لینے کی رفتار کم ہوگئی۔
محمد نعیم (لاہور قلندرز)
2025 میں محمد نعیم نے 12 میچوں میں 314 رنز بنائے تھے جن کی اوسط 26.16 اور اسٹرائیک ریٹ 162.69 تھا۔ پی ایس ایل 2026 میں وہ سات میچوں میں صرف 118 رنز بنا سکے اور اوسط 16.85 رہی ۔ اگرچہ ان کا اسٹرائیک ریٹ 161.64 تقریباً وہی رہا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ ان کی اسکور کرنے کی رفتار نہیں بلکہ ان کی اننگز بنانے اور آغاز کو اچھی کارکردگی میں تبدیل نہ کر پانے کی صلاحیت تھی۔
ان کی بہترین پرفارمنس ملتان سلطانز کے خلاف 28 گیندوں پر 60 رنز تھی جس سے وقتی طور پر یہ توقع تھی کہ وہ وہ شاندار اوپنر ہوسکتے ہیں جس کی لاہور کو ضرورت تھی لیکن بعد کے میچوں میں 30، 13، 0، 1 اور 4 رنز نے ایک مختلف کہانی بیان کی اور انہیں تین میچوں کے لیے ڈراپ کر دیا گیا پھر آخری لیگ میچ میں پشاور زلمی کے خلاف واپسی کی جس میں انہوں نے 10 رنز بنائے۔
لاہور قلندرز نے نعیم کو صرف 7 ملین پاکستانی روپے (25,000 ڈالرز) میں خریدا تھا۔
خواجہ نافع ( کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)
ورلڈ کپ 2026 کے لیے حیرت انگیز طور پر پاکستان کرکٹ ٹیم میں سلیکشن کے بعد خواجہ نافع کے پاس اپنے ناقدین کو خاموش کرنے اور پی ایس ایل میں اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے کا پورا پورا موقع موجود تھا لیکن وہ 8 میچوں میں صرف 77 رنز بنا سکے ان کی اوسط 9.62 اور اسٹرائیک ریٹ 124.19 رہا جو کہ یہاں بیان کیے گئے کسی بھی کھلاڑی کی نسبت میچز کے لحاظ سے سب سے کم کارکردگی ہے
ان کا سب سے زیادہ اسکور پشاور زلمی کے خلاف 20 رنز تھا۔ انہوں نے تقریباً ہر پوزیشن پر بیٹنگ کی، چھٹے نمبر سے لے کر اوپر کے نمبر تک تاہم انہیں کبھی بھی سیٹ رول نہیں دیا گیا جو بیٹر کو ردھم حاصل کرنے اور اعتماد بنانے کی اجازت دیتا ہے۔
اس سیزن میں ٹیم میں باقاعدہ جگہ کے ساتھ وہ طویل موقع دینے پر بھی اپنا بہترین کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے خواجہ نافع کو 65 ملین پاکستانی روپے (232,000 ڈالرز) میں خریدا تھا۔
ابرار احمد ، عثمان طارق (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز)
جب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نےپاکستان کی ٹی ٹوئنٹی اسپن جوڑی عثمان طارق اور ابرار احمد کو حاصل کیا تو توقع کی جا رہی تھی کہ یہ ایک مؤثر اسپن کامبی نیشن ہوگا جو کراچی اور لاہور کی سست پچز پر فیصلہ کن ثابت ہوگا تاہم یہ سوچ پوری طرح درست ثابت نہ ہوسکی۔
عثمان نے 10 میچوں میں 9 وکٹیں حاصل کیں جن کی اوسط 33.55 اور اکنامی ریٹ 7.55 تھا۔ ابرار نے بھی 10 میچوں میں 9 وکٹیں حاصل کیں جن کی اوسط 36.77 اور اکنامی ریٹ 8.48 تھا۔ مجموعی طور پر 18 وکٹیں جن کی مجموعی لاگت 126 ملین پاکستانی روپے (450,000 ڈالر) تھی یعنی تقریباً ہر وکٹ کی قیمت 7 ملین پاکستانی روپے۔
جو چیز اس کم کارکردگی کو خاص طور پر الجھن پیدا کرنے والی بناتی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں معروف بین الاقوامی کھلاڑی ہیں۔ عثمان کی بہترین کارکردگی لیگ کے 26ویں میچ میں لاہور قلندرز کے خلاف رہی جس میں انہوں نے اٹھارہ رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب حالات سازگار ہوں تو وہ کیا کر سکتے ہیں۔ ابرار کی بہترین کارکردگی دوسرے میچ میں حیدرآباد کنگز مین کے خلاف 23 رنز کے عوض تین وکٹیں تھی۔
دونوں نے اپنی بہترین کارکردگی جلد ہی دکھائی اور جیسے جیسے مقابلہ آگے بڑھا اور حریف بیٹرز انہیں زیادہ مؤثر طریقے سے سمجھنے لگے ان کی کارکردگی کم ہوتی چلی گئی۔
محمد رضوان ( راولپنڈیز)
اگرچہ محمد رضوان نے 10 میچوں میں 204 رنز بنائے جو راولپنڈیز کے لیے ڈیرل مچل، سام بلنگز اور یاسر خان کے بعد چوتھا سب سے زیادہ اسکور ہے اس کے باوجود محمد رضوان اس پی ایس ایل 2026 کے سب سے بڑے مایوس کن کھلاڑی تھے۔ یہ اس لیے نہیں کہ ان کے اعداد و شمار مایوس کن تھےبلکہ اس لیے کہ وہ کون ہیں ۔ انہوں نے کیا حاصل کیا اور ان سے کیا توقع کی گئی تھی۔
ریکارڈز اس تضاد کو واضح کرتے ہیں۔ رضوان نے 2021 میں 500 رنز، 2022 میں 546، 2023 میں 550، 2024 میں 407 اور 2025 میں 367 رنز بنائے تھے اس لحاظ سے موجودہ کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے مگر رنز سے زیادہ نقصان 116.57 کا اسٹرائیک ریٹ تھا جو ٹی ٹوئنٹی میں اوپنر کے متوقع 130 اسٹرائیک ریٹ کے لحاظ سے بہت کم ہے۔
بحیثیت کپتان رضوان پی ایس ایل میں دو فرنچائزز کے ساتھ اپنے آخری 21 میچوں میں سے 19 میچ ہار چکے ہیں حالانکہ ایک ٹیم گیم میں تمام الزام انہیں دینا ناانصافی ہوگی۔
راولپنڈیز نے محمد رضوان کو 56 ملین پاکستانی روپے (200,000 ڈالرز) میں خریدا۔ وہ ان کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی اور کپتان تھے۔ ان دونوں ذمہ داریوں کا بوجھ ایک نئے فرنچائز پر جو ابھی فرنچائز کرکٹ میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے شاید کسی ایک کھلاڑی کے لیے بہت زیادہ تھا۔
عبداللہ فضل (راولپنڈیز)
اس فیچر کی تمام کہانیوں میں عبداللہ فضل کی کہانی سب سے زیادہ پریشان کن ہے کیونکہ یہاں بیان کیے گئے ہر دوسرے کھلاڑی کے برعکس ان کی ناکامی کو خراب فارم، ٹیلنٹ کی کمی یا توقعات اور کارکردگی کے فرق کے سبب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تقریباً مکمل طور پر اس کی ٹیم مینجمنٹ سے منسوب کی جا سکتی ہے۔
23 سالہ عبداللہ فضل نے پی ایس ایل میں آنے سے پہلے پشاور میں چار نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میچز میں کراچی وائٹس کے لیے 189 رنز بنائے تھے جوفرنچائز میں جگہ بنانے کے لیے ایک متاثر کن آڈیشن تھا تاہم انہوں نے چھ میچوں میں صرف 91 رنز بنائے،ان کا اسٹرائک ریٹ 135.82 تھا لیکن اگر ان میچز میں پیش آنے والے طریقوں کو قریب سے دیکھا جائے تو تصویر نہایت مختلف دکھائی دیتی ہے۔
اپنے پہلے تین میچوں میں انہوں نے نمبر 6 پر بیٹنگ کی، اور 5 ناٹ آؤٹ، 18 ناٹ آؤٹ اور 23 رنز بنائے۔ چوتھے میچ میں نمبر 4 پر منتقل ہونے پر انہوں نے 14 رنز بنائے۔ اگلے دو میچوں میں انہیں نمبر 5 پر کھلایا گیا اور انہوں نے 20 اور 11 رنز بنائے اس کے بعد انہیں دو میچوں کے لیے مکمل طور پر باہر رکھا گیا۔ جب انہیں نویں میچ میں اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف واپس بلایا گیا تو انہیں اوپننگ کرنے کو کہا گیا ، ایک ایسی پوزیشن جس میں انہوں نے راولپنڈیز کے لیے کبھی بیٹنگ نہیں کی تھی اور وہ پہلی ہی گیند پر آوٹ ہوگئے اور آخری میچ سے انہیں ڈراپ کردیا گیا۔
محمد رضوان نے تمام 10 میچز میں اوپننگ کی۔ ان کے ساتھی اوپنرز ان نو میچز میں یا تو یاسر خان تھے یا شاہ زیب خان اور عبداللہ فضل ۔
عبداللہ فضل وہ کھلاڑی جن پر انتظامیہ کو بظاہر اتنا اعتماد نہیں تھا کہ انہیں ایک مستحکم بیٹنگ پوزیشن دی جا سکے۔
راولپنڈیز نے عبداللہ فضل کو صرف 6.7 ملین پاکستانی روپے (24,000 ڈالر) میں خریدا۔ انہوں نے جس ٹیلنٹ کو حاصل کیا اس کے لحاظ سے پیسے کی صحیح قیمت ملی تاہم انہیں جس طرح استعمال کیا گیا اس میں ہر ایک روپیہ ضائع ہوگیا۔ ان کی کہانی درحقیقت ناکامی کی کہانی نہیں ہے ۔یہ بدانتظامی کی کہانی ہے۔عبداللہ فضل اس بات کے مستحق ہیں کہ وہ اگلے سیزن میں آئیں اور مناسب مواقع ملنے پر یہ ثابت کرسکیں کہ وہ کیا کرسکتے ہیں۔
یہاں بیان کیے گئے 9 کھلاڑیوں کی مجموعی قیمت 440 ملین پاکستانی روپے (1.57 ملین ڈالر) بنتی ہے۔ مجموعی نقصان چار فرنچائز ٹیموں کا باہر ہونا ہے۔ ایک کپتان کا 21میچوں میں سے19 میچز ہارنا ہے دوسری جانب ایک 23 سالہ کھلاڑی کا یہ سوچنا کہ کیا ہوسکتا تھا ؟۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.