URDUپی ایس ایل 2026 کی مایوس ترین کارکردگی ( دوسرا حصہ )

پی ایس ایل 2026 کی مایوس ترین کارکردگی ( دوسرا حصہ )

لاہور۔ پاکستان سپر لیگ 2026 کا اختتام ہوگیا۔ پشاور زلمی نے اپنا دوسرا ٹائٹل جیت لیا اور بابر اعظم نے بطور کپتان پہلی ٹرافی اٹھالی۔ 30
اپریل کو ہم نے ان چار ٹیموں کی سب سے بڑی مایوسیوں کا جائزہ لیا تھا جو پلے آف تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھیں ان میں لاہور قلندرز، کراچی کنگز، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور راولپنڈیز شامل تھیں ۔
اسی سلسلے کے دوسرے حصہ میں اب ذکر ان کھلاڑیوں کا جن کی ٹیمیں پلے آف تک تو پہنچیں لیکن یہ کھلاڑی اپنی ٹیموں کے معیار اور توقعات پر پورا نہ اترسکے۔

اس دوسرے حصے کے ناکام کھلاڑیوں کا پہلے حصے میں شامل کھلاڑیوں کے درمیان فرق نمایاں ہے کہ یہ کھلاڑی جیتنے والی مہم کا حصہ تھے۔ کئی مواقع پر ان کی کم کارکردگی ٹیم کی کامیابی کے سائے میں چھپ گئی لیکن یہ جائزہ لینے کے قابل ہے کیونکہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ جیسے انتہائی کم مارجن والے مقابلے میں ان کھلاڑیوں کی کارکردگی اور ان کی صلاحیت کے درمیان فاصلہ پلے آف سے باہر ہونے اور ٹائٹل جیتنے کے درمیان موجود فرق جیسا رہا ہے۔
عامر جمال ( پشاور زلمی )
عامر جمال لیگ کے مرحلے کے پہلے نصف میں بیٹنگ اور بولنگ میں ناکام رہے اور پانچ میچوں میں 25 رنزبنائے اور تین وکٹیں حاصل کیں اور یہ بات پشاور زلمی کے لیے بظاہر فائدہ مند ثابت ہوئی کیونکہ ان کی جگہ لینے والے ایرون ہارڈی، نے فائنل میں چار وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ناقابل شکست نصف سنچری بناکر ٹیم کو ٹائٹل جتوادیا۔ اگر عامر نے شاندار کارکردگی دکھائی ہوتی تو ممکن ہے کہ ہارڈی کھیل ہی نہ پاتے اور اگر ہارڈی نہ کھیل پاتے تو زلمی چیمپئن نہ بنتی۔
اپنے پانچ میچوں میں عامر نے جو کارکردگی دکھائی وہ ان کی پچھلی پرفارمنس سے یکسر مختلف ہے۔2025 میں کراچی کنگز کے لیے عامر نے 108 رنز بناۓ اور پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ 2024 میں پشاور زلمی کے لیے انہوں نے 138 رنز بنائے اور پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ 2023 میں کراچی کنگز کے لیے انہوں نے 31 رنز بنائے اور سات وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کبھی بھی اس آل راؤنڈر کے لیے پسندیدہ میدان نہیں رہی جنہوں نے اپنی شہرت ریڈ بال کرکٹ میں پاکستان کے آخری دورہ آسٹریلیا میں بنائی تھی اور پی ایس ایل 2026 نے اس مایوس کن رجحان کو جاری رکھا۔ عامر جمال امید رکھیں گے کہ پشاور زلمی انہیں 19 ملین روپے میں دوبارہ حاصل کرے اور پی ایس ایل 2027مختلف کہانی بیان کرے۔
محمد حارث (پشاور زلمی)
محمد حارث پاکستان کرکٹ کے سب سے زیادہ فطری صلاحیت رکھنے والے جارحانہ بیٹرز میں سے ایک ہیں۔ جب وہ بھرپور فارم میں ہوتے ہیں جیسا کہ انہوں نے پی ایس ایل 2023میں دکھایا، جب انہوں نے 186 کے اسٹرائیک ریٹ سے 350 رنز بنائےتھے۔ وہ کسی بھی مقابلے میں اتنے ہی پرجوش اور تباہ کن بیٹر ہوتے ہیں جتنا کوئی اور بیٹر۔ پی ایس ایل 2026 وہ ٹورنامنٹ ہونا چاہیے تھا جس میں انہوں نے خود کو اعلیٰ سطح کے حقیقی میچ ونر کے طور پر منوایا ہوتا۔ اس کے بجائے یہ ٹورنامنٹ مواقعوں کے ضائع ہونے اور ناکام آغاز کا رہا۔
انہوں نے متاثر کن اسٹرائیک ریٹ 177.58 حاصل کیا جو ان کی ٹیم میں عبدالصمد کے بعد دوسرا سب سے زیادہ تھا لیکن نو میچز میں 206 رنز اس بات کی بہت کمی تھی جو ایک ایسے بیٹر سے توقع کی جاتی ہے جسے بابر اعظم کے ساتھ اوپن کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہو۔ ان کا سب سے زیادہ اسکور 47 رنز راولپنڈیز کے خلاف اوپننگ میچ میں آیا۔ ملتان سلطانز کے خلاف 38 اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف 35 رنزان کی صلاحیت کی جھلکیاں پیش کرتے ہیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ مایوسی اور بھی بڑھ جاتی ہے جب بابر اعظم نے اوپننگ میں 588 رنز اور کوسال مینڈس نے 550 رنز بنائے ۔ حارث کے پاس لمبی اور مؤثر اننگز کھیلنے کا بالکل موقع تھا لیکن اس کے بجائے انہوں نے بار بار اچھے اسٹارٹ ضائع کیے۔ ایک ایسا پیٹرن جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ابھی تک ممکنہ صلاحیت کو مستقل کارکردگی میں تبدیل کرنے کی مہارت حاصل نہیں کر پائے باوجود اس کے کہ وہ پاکستان کے لیے 6 ون ڈے اور 35 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں۔
انہوں نے 2023کی پی ایس ایل میں 350 رنز اسکور کیے تھے لیکن پی ایس ایل 2026 کے فائنل کے پہلے ہی اوور میں وہ ایسے وقت آؤٹ ہوئے جب زلمی اپنے اوپنرز سے پریشر کو ہینڈل کرنے کی توقع رکھے ہوئے تھے ۔
محمد حارث کو پشاور زلمی نے 20.2 ملین پاکستانی روپے ( 79,000 ڈالرز ) میں خریدا تھا۔
گلین میکسویل (حیدرآباد کنگز مین)
چند کھلاڑی ہی کسی فرنچائز ٹورنامنٹ میں ایسی توقعات کے بوجھ کے ساتھ پہنچتے ہیں جیسا کہ گلین میکسویل حیدرآباد کنگز مین کے لیے آئے تھے۔ آسٹریلیا کے لیے ٹی ٹوئنٹی اور 50 اوورز کے ورلڈ کپ جیتنے والے، ممکنہ طور پر دنیا کے سب سے خطرناک مڈل آرڈر بیٹر میکسویل کی پہلی پی ایس ایل میں شمولیت کنگز مین کی خواہش، اس کی مسابقتی صلاحیت اور ارادوں کے تناظر میں انتہائی اہم تصور کی گئی تھی۔
پاکستان کے کرکٹ کے شائقین کو اس وقت ایک شاندار کارکردگی دیکھنے کو ملی جب راولپنڈیز کے خلاف اہم آخری لیگ میچ میں میکسویل نے 37 گیندوں پر 70 رنز بنائے جس میں آٹھ چوکے اور تین چھکے شامل تھے جس سے کنگز مین کی پلے آف میں کوالیفائی کی راہ ہموار ہوئی لیکن اس کے گرد آٹھ میچ گمنامی کے تھے۔ انہوں نے اپنے دوسرے میچ میں اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف نو گیندوں پر 21 رنز ناٹ آؤٹ بنائے اور باقی میچوں میں کارکردگی قابل ذکر نہ تھی ۔ انہوں نے نو میچوں کی آٹھ اننگز میں صرف 99 رنز 143.47 کے اسٹرائیک ریٹ سے بنائے اور پانچ وکٹیں حاصل کیں جوان کے معیار کے لحاظ سے کافی کم تھے۔
کنگز مین نے میکسویل کو 23 اعشاریہ 4 ملین روپے میں حاصل کیا تھا اور اس بات کے روشن امکانات ہیں کہ وہ پی ایس ایل میں دوبارہ آئیں گے۔
صائم ایوب (حیدرآباد کنگز مین )
صائم ایوب پی ایس ایل کے سب سے مہنگے پاکستانی کھلاڑی تھے جنہیں 12.6 ملین پاکستانی روپے میں خریدا گیا تھا۔ اس سرمایہ کاری کے ساتھ جو توقعات وابستہ تھیں وہ غیر معقول نہیں تھیں۔ 2023میں انہوں نے پشاور زلمی کے لیے 341رنز بنائے تھے۔ 2024میں انہوں 345 رنز بنائے اور آٹھ وکٹیں حاصل کیں۔
جب ان کا دن ہو تو وہ پاکستان کرکٹ کے سب سے زیادہ دلکش اور ُپرجوش بیٹرز میں سے ایک ہیں جو تنہا ہی میچ کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پی ایس ایل 2026 باآسانی ان کا سب سے خراب سیزن تھا جس میں وہ 258 رنزبنانے میں کامیاب ہوسکے جو حیدرآباد کنگز مین کا چوتھا سب سے زیادہ اسکور رہا 13 میچوں میں انہوں نے چھ وکٹیں حاصل کیں۔ ان کااسٹرائیک ریٹ 119.44 رہا جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کریئر کے اسٹرائیک ریٹ 135.91 کے مقابلے میں کم تھا۔ ان کے قدرتی اسکورنگ ریٹ اور اس مقابلے میں ان کی اصل کارکردگی کے درمیان یہ فرق خود ہی ان کی کہانی بیان کرتا ہے جو پورے 38 روزہ ٹورنامنٹ میں کبھی واقعی قائم نہیں ہوا یا اپنا تال میل نہیں بنا سکا۔
ان کا سیزن کا بہترین اسکور 54 رنز تھا جو پشاور زلمی کے خلاف فائنل میں شکست والے میچ میں رہا – یہ نصف سنچری ان کی ٹیم کو 129 رنز تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوئی۔ ان کے اگلے بہترین اسکورز اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف 38 اور 35 تھے۔ ان جیسی مہارت اور قیمت رکھنے والے کھلاڑی کے لیے مقابلہ تقریباً مکمل طور پر گزر گیا۔
فہیم اشرف ( اسلام آباد یونائٹڈ )
فہیم اشرف کا پی ایس ایل ریکارڈ اس ایونٹ کی تاریخ کے چند بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک ہے۔ جب اسلام آباد یونائیٹڈ نے 2018 میں اپنا دوسرا ٹائٹل جیتا تو انہوں نے 129 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 21 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اپنی کامیاب 2024 کی مہم میں انہوں نے 100 رنز بنائے اور چھ وکٹیں حاصل کیں۔ 2023 میں انہوں نے 215 رنز بنائے اور آٹھ وکٹیں حاصل کیں۔ 2025 میں 121 رنز بنائے اور نو وکٹیں حاصل کیں۔
اسلام آباد یونائٹڈ کے ساتھ چار سیزن کے دوران وہ ان کے سب سے قابل اعتماد اور مستقل میچ ونرز میں سے ایک رہے ہیں۔ پی ایس ایل 2026 ان معیار کے لحاظ سے ایک قابلِ ذکر مایوسی تھی جس میں صرف 73 رنز بنانے کے علاوہ نو وکٹیں حاصل کیں جو سب سے زیادہ تکلیف دہ انداز میں ختم ہوئی۔ حیدرآباد کنگز مین کے خلاف ایلیمینیٹر ٹو میں فائنل کا موقع ملتے ہوئے فہیم حسان خان کو کیچ دے گئے حُنین شاہ نے آخری اوور میں چھ رنز کا دفاع کرتے ہوئے کنگز مین کو دو رنز سے فتح دلائی۔ ایسے کم فرق والے میچ میں فہیم جیسے تجربہ کار اور ریکارڈ رکھنے والے کھلاڑی سے توقع کی جا سکتی تھی کہ وہ میچ ونر ثابت ہوں لیکن وہ نہیں ہوئے۔
فہیم اشرف کو یونائٹڈ نے 85 ملین روپے میں خریدا تھا۔
اس فیچر میں بیان کیے گئے آٹھ کھلاڑیوں میں وہ سب سے مہنگے کھلاڑی ہیں لیکن انویسٹمنٹ اور ریٹرن کا فرق بھی سبے واضح ہے۔
حیدر علی (اسلام آباد یونائٹڈ)
آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ 2020 کے بعد ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر ایان بشپ نے حیدر علی کو دنیائے کرکٹ کے تین مستقبل کے اسٹارز میں شامل کیا تھا ان کے ساتھ آسٹریلیا کے جیک فریزر مک گرک اور جنوبی افریقہ کے جیرالڈ کوئٹزے بھی تھے۔ دیگر دو نے بین الاقوامی سطح پر اس وعدے کو پورا کیا۔ حیدر بدقسمتی سے ایسا نہیں کر سکے اور پی ایس ایل 2026 نے بھی کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیا ہے۔
ان کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل آغاز ستمبر 2020 میں اولڈ ٹریفورڈ میں تھا جس میں انہوں نے نصف سنچری اسکور کی تھی ۔اس کے بعد 35 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں انہوں نے 505 رنز اسکور کیے ہیں جس میں تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ایان بشپ کی شناخت کردہ صلاحیت واضح طور پر موجود ہے لیکن اس کے مطابق مستقل مزاجی حاصل کرنا مشکل ہے۔
پی ایس ایل 2026 وہ پلیٹ فارم ہونا تھا جس پر حیدر نے اپنے بین الاقوامی امکانات کو دوبارہ جلا بخشنا تھا لیکن انہوں نے 11 میچوں میں سات اننگز میں صرف 103 رنز اسکور کیے اوسط 17.16 اور اسٹرائیک ریٹ 132 ۔
ان کا سیزن کا بہترین اسکور ایلیمنیٹر ٹو میں حیدرآباد کنگز مین کے خلاف 31 رنز تھا۔ پچھلے دو سیزن میں بھی وہ قابل ذکر اسکورنہیں کرپائے تھے یعنی 77 اور 103 رنزیعنی اعدادوشمار میں بمشکل فرق آیا ہے جو پریشان کن بات ہے۔
حیدر کو اسلام آباد یونائٹڈ نے 15 ملین پاکستانی روپے $54,000 ) میں خریدا۔ اس قیمت پر ان کی صلاحیت میں سرمایہ کاری جائز معلوم ہوتی ہے لیکن صلاحیت بھی بغیر کارکردگی کےایک مدت کی پابند ہوتی ہے۔
محمد نواز (ملتان سلطانز)
ملتان سلطانز جب اس سیزن کو یاد کرے گی تو ایک سوال تکلیف دہ طور پر دماغ میں گھومتا رہے گا کہ اگر محمد نواز نے اپنے وسیع بین الاقوامی تجربے کا بہتر استعمال کیا ہوتا اور 11 میچوں میں 54 رنز اور 6 وکٹوں سے زیادہ کارکردگی دکھائی ہوتی تو کیا ہوتا؟ ۔
ڈیتھ اوورز میں درکار اسپیڈ سے رنز نہ بنانا اور مڈل اوورز میں اہم وکٹیں نہ لینے کی ان کی ناکامی ٹیم کو اہم میچوں میں مہنگی پڑی۔ انہوں نے چھ میچ جیتے اور پانچ ہارے اور حیدرآباد کنگز مین کے خلاف ایلیمنیٹر ون میں باہر ہوگئے۔
تاریخی ریکارڈ اس سیزن کو اور بھی زیادہ حیران کن بناتا ہے۔
2023 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے نواز نے 10 میچوں میں شاندار 314 رنز بنائے اور 9 وکٹیں حاصل کیں ۔یہ وہ آل راؤنڈ پرفارمنس ہے جو ان کی
کی اکسٹھ ملین روپے کی قیمت کو جائز ٹھہراتی ہے۔ 2022میں انہوں نے 78رنز بنائے تھے اور 6 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ 2024میں ان کے 88 رنز تھے اور 2وکٹیں تھیں جبکہ 2025میں انہوں نے 44 رنز بنانے کے علاوہ 4 وکٹیں حاصل کی تھیں ۔ ان جیسے معیار کھلاڑی کے لیے پی ایس ایل 2026 واقعتاً موقع ضائع کرنے کے مترادف رہی۔
محمد وسیم جونیئر (ملتان سلطانز)
اس دو حصوں پر مشتمل سیریز میں پیش کی گئی تمام کم پرفارمنسز میں سے محمد وسیم جونیئر کی کارکردگی کو بیان کرنا شاید سب سے مشکل ہے ۔
چوبیس سالہ فاسٹ بولر 2 ٹیسٹ، 27 ون ڈے اور 34 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا تجربہ کار، لاہور اور کراچی کے حالات کا عمدہ علم رکھنے والا، جہاں اس مقابلے کے تمام میچ کھیلے گئے اور پھر بھی 10 میچز میں صرف 7 وکٹیں اور اکنامی ریٹ 10.98۔
محمد وسیم جونیئر ہی کی ٹیم کے ساتھی 41 سالہ پیٹر سڈل جو اپنا پہلا پی ایس ایل سیزن کھیل رہے تھے، مقامی حالات سے ناواقف اور زیادہ تر لوگ جو پیشہ ور فاسٹ بولر کے قدرتی کریئر کی مدت سمجھتے ہیں ، وسیم سے بہت آگے نکل گئے ۔ ملتان کے سب سے کامیاب بولر کے طور پر وہ 13 وکٹیں لے کر اکنامی ریٹ 8.87 کے ساتھ سامنے آئے۔
دونوں کے درمیان واضح فرق رہا۔ وسیم نے صرف دو بار میچ میں دو دو وکٹیں حاصل کیں ۔حیدرآباد کنگز مین کے خلاف 37 رنز دے کر دو وکٹیں اور اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف 42 رنز دے کر دو وکٹیں لیکن پانچ میچز میں کوئی وکٹ نہ لے سکے۔ ان کے سب سے مہنگے اعداد و شمار بغیر وکٹ کے 46 رنز حیدرآباد کنگز مین کے خلاف آئے۔ 2022 اور 2023 میں انہوں نے اسلام آباد یونائٹڈ کے لیے آٹھ آٹھ وکٹیں حاصل کیں۔
2024 اور 2025 میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے انہوں نے بالترتیب 11 اور 10 وکٹیں حاصل کیں۔ پی ایس ایل 2026 سات وکٹیں جبکہ اکنامی ریٹ تقریباً 11 ان کے چار سیزنز میں سب سے خراب کارکردگی تھی ۔
وسیم کو ملتان سلطانز نے 41 ملین روپے میں خریدا تھا۔ 24سال کی عمر میں ان میں صلاحیت اور وقت موجود ہے کہ وہ اس سیزن کی مایوس کن کارکردگی کی تلافی کرسکیں لیکن فی الحال اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس عمر اور صلاحیت والا بولر اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ ایک 41سالہ بولر نے اسے شکست دے دی۔
حصہ 2 میں بیان کیے گئے آٹھ کھلاڑیوں کی مجموعی قیمت 277.8 ملین پاکستانی روپے (997,000 ڈالر) بنتی ہے۔
مجموعی پیغام یہی ہے کہ صلاحیت بغیر مستقل مزاجی کے اور تجربہ بغیر عمل درآمد کے ، پاکستان کرکٹ کے سب سے مستقل اور پریشان کن مسئلے کی خصوصیات ہیں ، فرینچائز سطح پر بھی اور قومی سطح پر بھی۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.