پی ایس ایل 11 کا نیا ڈھانچہ ۔ ریکارڈز اور سنگ میل
پی ایس ایل کے گیارہویں سیزن کے ڈھانچے میں پہلی دہائی کے مقابلے ایک واضح فرق پایا جاتا ہے۔ لیگ میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ ہوا ہے ڈرافٹ سسٹم سے پلیئرز کی نیلامی کی جانب منتقلی ہوئی ہے اور براڈکاسٹ، لائیو اسٹریمنگ اور برانڈ پارٹنرشپ رائٹس کے شراکت داروں کے ساتھ ریکارڈ قائم کرنے والے تجارتی معاہدے کیے گئے ہیں۔
میدان میں سب سے بڑی شہ سرخی پختگی کی ہے۔ نیلامی نے اسٹار پاور کو دوبارہ تقسیم کیا ہے اور اعلیٰ معیار کے غیر ملکی تجربے کو متعارف کرایا ہے – خاص طور پر مضبوط آسٹریلوی دستہ ۔
ہر پلیئنگ الیون میں 23 سال سے کم عمر کے پی ایس ایل ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی کی ضرورت بھی رکھی گئی ہے جو پاتھ وے کو تیز کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔
آپریشنل طور پر سیزن کا سب سے بڑا غیر متوقع پہلو آخری وقت میں مقام کی تبدیلی ہے۔ ٹورنامنٹ میں چھ مقامات پر ( فیصل آباد اور پشاور پہلی بار پی ایس ایل کے میزبان شامل تھے) 44 میچوں اور 39 دنوں کے پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا تاہم بعد میں اسے ایک نظر ثانی شدہ منصوبے میں تبدیل کر دیا گیا اور اب یہ میچز صرف لاہور اور کراچی میں کراؤڈ کے بغیر منعقد ہوں گے اور افتتاحی تقریب بھی نہیں ہوگی۔
تاریخی طور پر لاہور (177) اور کراچی (173) نے پی ایس ایل کے میچز میں پہلے بیٹنگ کرنے پر تقریباً ایک جیسا اوسط اسکور فراہم کیا ہے جبکہ بولرز کو راولپنڈی میں میچز نہ ہونے پر کوئی دکھ نہیں ہوگا جہاں پہلے بیٹنگ کرنے پر اوسط اسکور 202 رہا ہے۔
پشاور زلمی کے بابر اعظم پی ایس ایل کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں جنہوں نے3,792 رنز بنائے ہیں جن میں 38 مرتبہ پچاس سے زیادہ کا اسکور بھی ایک ریکارڈ ہے جس کے قریب کوئی بھی نہیں ہے۔اور اگر وہ اپنی کریئر اوسط 44.61 کو برقرار رکھتے ہیں تو سیزن کے دوران وہ پی ایس ایل میں 4,000 رنز تک پہنچنے والے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے۔
لاہور قلندرز کے فخر زمان وہ بیٹر ہیں جو بابر کے کریئر رنز کے لحاظ سے سب سے قریب ہیں لیکن وہ فی الحال ٹاپ پوزیشن کے لیے خطرے کی بجائے دوسرے مقام کو برقرار رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔ پچھلی پی ایس ایل میں ان کے 439 رنز نے انہیں ان کے پی ایس ایل کریئر میں 2,964 تک پہنچا دیا جو ان کے اپنے سنگ میل سے صرف 36 رنز کم ہے۔
راولپنڈی کے کپتان محمد رضوان بھی 3,000 کریئر رنز تک پہنچنے کی امید رکھیں گے کیونکہ وہ اس وقت 229 رنز دور ہیں ۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے رائلی روسو کو جو اپنا دسواں پی ایس ایل سیزن شروع کرنے والے ہیں ، مقابلے میں 2,500 رنز بنانے والا پہلا غیر ملکی کھلاڑی بننے کے لیے 213 رنز کی ضرورت ہے۔
بولنگ میں مقابلہ کافی قریب ہے جس میں حسن علی اس وقت 125وکٹوں کے ساتھ سر فہرست ہیں لیکن شاہین آفریدی 122وکٹوں کے ساتھ ان کے قریب ہیں۔
گزشتہ سال شاہین آفریدی نے نہ صرف اپنی قیادت میں لاہور قلندرز کو ٹائٹل جتوایا بلکہ وہ پی ایس ایل کی تاریخ میں سب سے کم عمر کھلاڑی ہوتے ہوئے کسی ٹیم کی قیادت کرنے والے پہلے کھلاڑی بھی بنے۔
اگر اس سیزن کے حالات نئی گیند کی سوئنگ اور ہائی امپیکٹ ڈیتھ اوورز کو فائدہ دینگے تو شاہین آفریدی سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر کے طور پر سامنے آسکتے ہیں۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کے فہیم اشرف پر بھی نظر رکھیں کیونکہ انہیں پی ایس ایل میں ایک ہزار رنز مکمل کرنے کے لیے صرف 34 رنز اور سو وکٹیں مکمل کرنے کے لیے صرف 5 وکٹیں درکار ہیں اور وہ شاداب خان کے بعد پی ایس ایل میں ڈبل مکمل کرنے والے دوسرے کھلاڑی بن جائیں گے۔
گزشتہ پی ایس ایل کے دو دیگر بہترین کھلاڑی بین الاقوامی میدان میں کامیاب سال گزار چکے ہیں اور اس سال کے ٹورنامنٹ میں اپنی بہترین کارکردگی کو جاری رکھنے کی امید رکھیں گے ان میں سے ایک صاحبزادہ فرحان گزشتہ سال 449 رنز کے ساتھ سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے تھے اس سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں وہ 383رنز کے ساتھ سب سے نمایاں رہے اور اسوقت ابھیشک شرما کے بعد آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی عالمی رینکنگ میں دوسرے نمبر پر ہیں۔
پچھلے سال اس وقت ، ابرار احمد نے صرف 10 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے تھے، لیکن گزشتہ سال کی پی ایس ایل میں 17 وکٹیں لینے کے حوصلے کے ساتھ وہ اب آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی عالمی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر ہیں۔
حارث رؤف نے گزشتہ سال فاتح قلندرز ٹیم کے لیے 17 وکٹیں حاصل کی تھیں ۔ قلندرز انہیں اس سیزن میں اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
حیدرآباد کنگز مین اس سال پی ایس ایل میں پہلی بار شریک ہے اور وہ بین الاقوامی فارم کو ڈومیسٹک میں منتقل کرنے کے سلسلے میں صائم ایوب پر انحصار کرے گی جو پچھلے ستمبر میں محمد حفیظ کے بعد آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی آل راؤنڈر رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے دوسرے پاکستانی کھلاڑی بنے تھے۔
کنگزمین کی قیادت مارنس لبوشین کریں گے جو پی ایس ایل میں پہلی بار شریک ہیں اور قابل ذکر غیرملکی کھلاڑیوں کی شہ سرخی کا حصہ ہیں۔
لبوشین کے ساتھ پی ایس ایل میں پہلی بار حصہ لینے والے دیگر کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کے اسٹیو اسمتھ ملتان سلطانز کے ساتھ ہیں اور ڈیون کانوے اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم میں شامل ہیں۔
اسمتھ آئی سی سی ٹیسٹ بیٹنگ رینکنگ میں سابق عالمی نمبر ایک ہیں اور کانوے ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں تیسرے نمبر تک آچکے ہیں۔دونوں ٹاپ آرڈر بیٹنگ میں استحکام اور تجربہ لائیں گے یہ خصوصیات ڈیوڈ وارنر، ڈیرل مچل اور کُسال پریرا میں بھی دیکھی گئی ہیں یہ تینوں پچھلے سال اچھی کارکردگی کے بعد دوسرے پی ایس ایل سیزن کے لیے واپس آ رہے ہیں۔
مچل اس وقت آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں سب سے اوپر ہیں جن کے 845 پوائنٹس جون 1983میں نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں میں صرف گلین ٹرنر کے مقابلے میں بہتر ہیں۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ٹام کرن اور کراچی کنگز کے معین علی دونوں نئے روسٹر اصول پر پورا اُترتے ہیں یعنی ایک غیر ملکی کو دو مہارتوں کے لیے استعمال کرنا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ نے پی ایس ایل کی تاریخ میں پہلے نیپالی کھلاڑی دپیندرا سنگھ ایری کو منتخب کیا ہے اور ان کے پاس نہ صرف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تاریخ میں سب سے تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ ہے بلکہ ورلڈ کپ کوالیفائر میں پانچ میچوں میں پانچ رن آؤٹ بھی کیے ہیں۔
آسٹریلیا کے ایڈم زمپا نیلامی میں دیگر اہم سائننگ میں سے ایک تھے جنہیں کراچی کنگز نے خریدا ہے۔ وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سو وکٹیں حاصل کرنے والے واحد آسٹریلوی کھلاڑی ہیں وہ اس فارمیٹ میں کل 147 وکٹوں کے ساتھ آٹھویں نمبر پر ہیں۔ وہ درمیانے اوورز میں وکٹیں لینے میں مہارت رکھتے ہیں ۔ 7 سے 15 اوورز میں دباؤ اکثر فیصلہ کن ہوتا ہے۔
دفاعی چیمپیئن قلندرز نے اپنے اسکواڈ میں فرنچائز اسپیشلسٹ مستفیض الرحمن کو شامل کیا ہے تاکہ کپتان شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ لیفٹ آرم سیم بولنگ کو مضبوطی فراہم کی جاسکے۔ بنگلہ دیشی پیس بالر کی اہم طاقت آخری اوورز میں ویری ایشن ہے جو خاص طور پر زیادہ رنز والے میچز میں مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ وہ 2018 میں اسی ٹیم کے لیے پانچ میچز کھیلنے کے بعد اپنی پہلی پی ایس ایل شمولیت کے لیے واپس آئے ہیں۔
ایک مسئلہ جو کچھ ٹیموں پر اثر انداز ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ میچوں کے مقامات کی تعداد میں کمی ہو گئی ہے وہ ٹیمیں جو اصل میں مخصوص ہوم کنڈیشنز کے لیے تیار کی گئی تھیں، جیسے راولپنڈی رفتار کے لیے، ملتان گرمی کے لیے اور پشاور ہوم کراؤڈ کے لیے، اب کراچی اور لاہور میں زیادہ معیاری ماحول کا سامنا کریں گی۔
صرف دو مقامات میں میچز ہونےکی صورت میں مقابلے کے نتیجے کا تعین کرنے والے دیگر اہم عوامل کیا ہو سکتے ہیں؟
پپیس بولنگ۔ پاور پلے میں کم از کم دو وکٹیں حاصل کرنے کی صلاحیت اور ڈیتھ اوورز کو قابو میں رکھنے کی قابلیت۔
ڈیتھ میں دس سے پندرہ رنز کا فرق ایک سو اسی اور دوسو رنز کے ہدف کے تعاقب میں جیت کے امکانات کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔
مڈل اوورز ۔ پی ایس ایل میں ہدف کے تعاقب میں فائدہ تاریخی طور پر پاور پلے اسکورنگ کے بجائے مڈل اوورز میں وکٹ محفوظ رکھنے سے آیا ہے جو اسپن کنٹرول سے ٹائٹلز تک پہنچنے کا براہ راست ذریعہ بناتا ہے۔
بیٹنگ ڈیپتھ شوٹ آؤٹ ۔ ڈیتھ اوورز کے اسٹرائیک ریٹس ماہر فِنشرز کے لیے 200 سے تجاوز کر سکتے ہیں، مطلب یہ کہ آخری پانچ اوورز ہائی اسکورنگ میچز میں انتہائی اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔
اس سیزن میں ٹیمیں کیسے لائن اپ کر رہی ہیں؟
حیدرآباد کنگز مین ۔ اس کی پہلے سیزن کی کارکردگی اس بات پر انحصار کر سکتی ہے کہ آیا ان کے پاس ایسے کھلاڑی ہیں جو اکیلے میچ جتوا سکتے ہیں ؟ اسکواڈ کی نمایاں سائننگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرنچائز سب سے پہلے بیٹنگ میں استحکام کی تلاش میں ہے اور پھر رفتار۔
گلین میکسویل سلو ہو سکتے ہیں لیکن عثمان خان اور معاذ صداقت اسکواڈ کے لیے بہترین اضافہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد یونائیٹڈ ۔ لچکدار ٹیم جو قیادت، آل راؤنڈ گہرائی اور مستحکم غیر ملکی کھلاڑیوں کو ترجیح دیتی ہے۔ وہ امید کریں گے کہ پاور پلے میں ابتدائی وکٹیں حاصل کریں اور بیٹنگ میں ہر اوور پرغالب آنے کے بجائے ڈیتھ اوورز میں زیادہ اسکور کرنے کی کوشش کریں ۔ وہ پچھلے سال کی صورتحال کو دوہرانے سے بچنا چاہیں گےجب انہوں نے اپنے پہلے پانچ میچ جیتے اور پھر صرف ایک اور میچ جیتنے کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہوگئے۔
کراچی کنگز۔ غیرملکی کھلاڑیوں کی کامیابی اور ہم آہنگی سے یہ ٹیم اچھے نتائج دے سکتی ہے۔ اسکواڈ واضح طور پر اعلیٰ درجے کی قیادت کے ساتھ ساتھ ماہر اسپن کے ساتھ ہے۔ اگر وہ مڈل اوورز میں گرنے سے بچ جائیں تو شوٹ آؤٹ جیت سکتے ہیں اگر وہ ابتدائی وکٹیں گنوا دیں تو انہیں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ ڈیوڈ وارنر نے انہیں پچھلے سیزن میں مقابلہ کرنے والی ٹیم بنادیا اور وہ امید کریں گے کہ سلمان علی آغا اور اعظم خان جارحانہ بیٹنگ سے انہیں مدد فراہم کرسکیں۔
لاہور قلندرز ۔ موجودہ چیمپیئنز جن کی نیلامی کی واضح ترجیح ایلیٹ پیس بولنگ اور ٹاپ آرڈر طاقت کو برقرار رکھنا ہے۔ وہ شاہین شاہ افریدی اور حارث رؤف کے ذریعے ابتدائی وکٹیں لینے، ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیم پر دباؤ ڈالنے اور حریفوں کو ڈیتھ اوورز میں کم سے کم ہٹنگ پر مجبور کرنے پر توجہ رکھیں گے۔ ان کے لیے واحد فکرمندی لوئر آرڈر پاور کے حوالے سے ہوسکتی ہے۔ وہ امید کریں گے کہ روبن ہرمین وکٹوں کے پیچھے اچھا پرفارم کریں۔
ملتان سلطانز۔ اس ٹیم کی سیالکوٹ کے بجائے دوبارہ ملتان سلطانز کے نام سے واپسی ہوئی ہے اس کی سب سے نمایاں براہ راست سائننگ اسٹیو اسمتھ کی شکل میں ہوئی ہے جبکہ ایک ثابت شدہ ملکی رنز اسکورر صاحبزادہ فرحان پر بھی توجہ مرکوز ہے۔ یہ پہلے بیٹنگ کریں یا استحکام کے ساتھ ہدف کا تعاقب کریں ، ان کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ کیا بولنگ یونٹ دو مقامات کے ماحول میں ٹوٹل کا دفاع کر سکتا ہے ۔ تبریز شمسی پر بہت دباؤ ہوگا۔
پشاور زلمی۔ زلمی کی توجہ بابر اعظم پر ہوگی جو ان کی بیٹنگ کی بنیاد رکھتے ہیں ساتھ ساتھ اوورسیز آل راؤنڈ سپورٹ بھی ہوگی تاہم اگر لیگ کے اسکورنگ رجحانات اکثر 200 کے قریب پہنچ جائیں تو اینکر کو یا تو اعلیٰ معیار کے اسٹرائیک ریٹ پارٹنر یا ڈیپ فنشنگ یونٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی کامیابی ان کی آخری پانچ اوورز میں کارکردگی پر منحصر ہو سکتی ہے، خاص طور پر مائیکل بریسویل اور عبدالصمد پر انحصار کرنے پر۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز۔ یہ ٹیم گزشتہ سال لیگ مرحلے میں پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست تھی ۔ان کا اسکواڈ مڈل اوورز کنٹرول کے لیے بہترین اسپن اور مستند غیر ملکی بیٹنگ کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ 7–15 اوورز میں وکٹیں لینے کی ان کی صلاحیت ممکنہ طور پر ان کی کامیابی کی کلید ہو سکتی ہے لیکن وہ فاسٹ بولنگ میں کمزور نظر آتے ہیں جس سے الزاری جوزف پر ابتدائی وکٹیں لینے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
راولپنڈیز: یہ اسکواڈ کپتان محمد رضوان کی مستحکم کارکردگی اور سب سے زیادہ قیمت والے مقامی فاسٹ بولر نسیم شاہ کے گرد بنایا گیا ہے اس کے علاوہ ایک غیر ملکی آل راؤنڈر ڈیرل مچل بھی شامل ہیں۔ نئی ٹیمیں عام طور پر اس وقت بہترین کارکردگی دکھاتی ہیں جب کردار سادہ ہوں جیسے دو مقررہ اوپنرز، دو مقررہ ڈیتھ بولرز اور ایک مقررہ غیر ملکی کامبی نیشن۔
بنگلہ دیش کے رشاد حسین نے پچھلے سال قلندرز کے لیے سات میچوں میں 13 وکٹیں حاصل کیں اور وہ اس سال کے اہم سائننگ کھلاڑیوں میں سے ایک ہو سکتے ہیں۔



Leave a Reply