پی سی بی تمام حصہ لینے والی ڈپارٹمنٹل ٹیموں کا آڈٹ کرے گا
لاہور ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ آئندہ 27-2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ( اوجی ڈی سی ایل ) اور کنگز مین اکیڈمی کی ٹیمیں واپڈا اور ساحر ایسوسی ایٹس کی جگہ پریذیڈنٹ ٹرافی اور پریذیڈنٹ کپ گریڈ ون میں شرکت کریں گی۔
ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار کو مزید بہتر بنانے اور اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے کے لیے پی سی بی نے فرسٹ کلاس ڈپارٹمنٹل ٹیموں کو متعدد نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ قواعد و ضوابط گزشتہ سیزن میں پریذیڈنٹ ٹرافی اور پریذیڈنٹ کپ کے انعقاد کا جائزہ لینے کے بعد متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ ان ٹورنامنٹس کو مزید منظم اور پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جا سکے۔
واپڈا اور ساحر ایسوسی ایٹس پی سی بی کی مقررہ شرائط پر پورا نہیں اتر سکے جس کے باعث انہیں ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا اور ان کی جگہ او جی ڈی سی ایل اور کنگز مین اکیڈمی کو شامل کیا گیا ہے۔
پی سی بی کی جانب سے 27-2026 کے سیزن کے لیے جاری کی گئی نئی فٹنس پالیسی کے مطابق تمام ادارے اپنے کھلاڑیوں کے لازمی فٹنس ٹیسٹ کرانے کے پابند ہوں گے۔ اس پالیسی کے تحت ریڈ بال اور وائٹ بال دونوں ٹورنامنٹس میں ہر ڈپارٹمنٹ ٹیم کے لیے اپنی پلیئنگ الیون میں کم از کم ایک انڈر 21
کھلاڑی کو شامل کرنا لازمی ہوگا۔
پی سی بی نے واضح کیا ہے کہ تمام اداروں کو ان ضوابط پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا جن میں ٹورنامنٹس کے دوران اور اختتام کے بعد پی سی بی کی جانب سے تمام شریک ٹیموں کا آڈٹ بھی شامل ہے۔ اس آڈٹ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کھلاڑیوں کو ان کی سالانہ کنٹریکٹ فیس، میچ فیس اور یومیہ الاؤنس شفاف طریقے سے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ادا کیے جائیں۔ اس کے علاوہ کھلاڑیوں کو معیاری رہائش، بہترین خوراک اور فرسٹ کلاس و لسٹ اے کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔
پی سی بی کا کہنا ہے کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے ہر ادارہ کھلاڑیوں کے معاہدوں، تنخواہوں، رہائش، پری سیزن فٹنس ٹیسٹ اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود سے متعلق مقررہ اعلیٰ معیار پر سختی سے عمل کرے کیونکہ یہ امور پی سی بی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
27 -2026سیزن کے لیے گریڈ ون کی آٹھ ٹیموں میں خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل)، کنگز مین اکیڈمی، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی)، غنی گلاس، ایم آئی ٹی سلوشنز، سوئی ناردن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل ) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان شامل ہیں۔



Leave a Reply