URDUغیرملکی سرزمین پرلگاتار آٹھ ٹیسٹ ہارنے کے بعد پاکستان کی پہلی جیت

غیرملکی سرزمین پرلگاتار آٹھ ٹیسٹ ہارنے کے بعد پاکستان کی پہلی جیت

پورٹ آف اسپین ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے بالآخر ملک سے باہر لگاتار آٹھ ٹیسٹ میچز ہارنے کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو دوسرے ٹیسٹ میں 8 وکٹوں سے شکست دے دی ۔ اس کے ساتھ ہی اس نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی ایک ایک سے برابر کردی۔

ویسٹ انڈیز نے تاروبا میں پہلا ٹیسٹ 90 رنز سے جیتا تھا۔

بابراعظم کی بحیثیت کپتان 22 ویں ٹیسٹ میں یہ 11 ویں کامیابی ہے۔اس طرح وہ سب سے زیادہ ٹیسٹ جیتنے والے پاکستانی کپتانوں کی فہرست میں انضمام الحق کے برابر آگئے ہیں ۔ ان سے آگے وسیم اکرم 12 عمران خان 14 جاوید میانداد 14 اور مصباح الحق 26 کامیابیوں کے ساتھ موجود ہیں۔

دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی جیت کی بنیاد عبداللہ شفیق اور بابراعظم نے رکھی تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے والے دونوں اسپنرز ساجد خان اور علی عثمان تھے جنہوں نے اس میچ میں گرنے والی ویسٹ انڈیز کی 19 وکٹوں میں سے 14 وکٹیں حاصل کیں۔

میچ کے تیسرے دن آف اسپنر ساجد خان کی چار وکٹوں کی عمدہ کارکردگی نے پاکستان کی جیت کے امکانات روشن کردیے تھے تو چوتھے دن لیفٹ آرم اسپنر علی عثمان نے میزبان ٹیم کی بساط 117 رنز پر لپیٹ کر پاکستان کو جیتنے کے لیے صرف 75 رنز کا ہدف فراہم کردیا تاہم اس تک پہنچنے کے لیے اسے امام الحق اور اذان اویس کی وکٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا ۔

امام الحق صرف 9 رنز بناکر جیڈن سیلز کی گیند پر جسٹن گریوز کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

امام الحق اس سیریز کی چار اننگز میں 63 ۔3 ۔14۔ اور 9 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے۔

امام الحق نے مجموعی طور پر کسی بھی ٹیسٹ کی چوتھی اننگز میں 18 مرتبہ بیٹنگ کی ہے اور ان 18 اننگز میں ان کی صرف 4 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

اذان اویس 18 رنز بناکر شمر جوزف کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

بابراعظم نےواریکن کو لگاتار دو چھکوں کے ساتھ میچ کو جیت پر ختم کیا۔ وہ دو چھکوں اور دو چوکوں کے ساتھ 24 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

عبداللہ شفیق بھی ایک چوکے ساتھ 24 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ دونوں کے درمیان تیسری وکٹ کی ناقابل شکست شراکت میں 35 رنز بنے۔

اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے 103 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ پردوسری اننگز شروع کی لیکن اسی اسکور پر علی عثمان نے کیمار روچ کو صفر پر بولڈ کردیا۔

شمر جوزف نے علی عثمان کو دو چوکے لگائے لیکن اگلے ہی اوور میں محمد علی نے جسٹن گریوز کو 3 رنز پر بولڈ کردیا۔

کریز پر آنے والے آخری بیٹر جومیل واریکن تھے جنہیں صرف دو گیندیں ہی کھیلنے کو مل سکیں کیونکہ دوسری جانب سے علی عثمان نے شمرجوزف کو 9 رنز پر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ کراکر ویسٹ انڈیز کی اننگز ختم کردی۔ برینڈن کنگ جو بابراعظم کو رن آؤٹ کرتے ہوئے زخمی ہوگئے تھے بیٹنگ کے لیے نہ آسکے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم گزشتہ روز کے اسکور میں صرف 14 رنز کا اضافہ کرپائی۔

ساجد خان نے 32 رنز دے کر4 وکٹیں حاصل کیں اسطرح انہوں نے میچ میں 117 رنز دے کر8 وکٹیں حاصل کیں۔

علی عثمان نے بھی 4 وکٹیں 39 رنز دے کر حاصل کیں انہوں نے میچ میں 6 وکٹیں 119 رنز کے عوض حاصل کیں۔

پاکستان ٹیم ویسٹ انڈیز میں آخری مرتبہ ٹیسٹ سیریز 2000 ء میں ایک صفر سے ہاری تھی۔ اس کے بعد 2005 اور 2011 میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھیں۔

2017 میں پاکستان نے مصباح الحق کی قیادت میں پہلی بار ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز دو ایک سے جیتی تھی۔

2021 میں ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھی۔

ویسٹ انڈیز کے اس دورے کے بعد پاکستان ٹیم کی اگلی منزل انگلینڈ ہے جہاں اسے تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنی ہے۔ پہلا ٹیسٹ 19 اگست سے ہیڈنگلے میں کھیلا جائے گا۔ دوسرا ٹیسٹ 27 اگست سے لارڈز میں ہوگا جبکہ ایجبسٹن 9 ستمبر سے تیسرے اورآخری ٹیسٹ کی میزبانی کرے گا۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.