URDUآئی سی سی ہال آف فیم میں پاکستان نظر انداز

آئی سی سی ہال آف فیم میں پاکستان نظر انداز

ہر سال جولائی میں آئی سی سی ہال آف فیم کرکٹ کی مستقل یادگار بننے کی جانب مزید ایک قدم بڑھا دیتا ہے۔

ہر نئی شمولیت کھیل کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرتی ہے جہاں ایسے عظیم کھلاڑیوں کے کریئر کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے محض اعداد و شمار سے بڑھ کر اپنی نسلوں پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہال آف فیم صرف اعزازات کی فہرست نہیں رہا بلکہ کرکٹ کی تاریخ کی ایک زندہ دستاویز بن چکا ہے جو نہ صرف عظیم ترین کھلاڑیوں بلکہ ان ادوار کو بھی محفوظ کرتا ہے جن کی وہ علامت تھے۔

اسی لیے ہر نئی فہرست کے اعلان کے بعد لازماً دو طرح کی گفتگو جنم لیتی ہے۔ پہلی اُن شخصیات کی پذیرائی ہوتی ہے جنہیں ہال آف فیم میں شامل کیا گیا جبکہ دوسری یہ گفتگو یہ سوال اٹھاتی ہے کہ آخر کون سے عظیم نام اب بھی اس اعزاز کے منتظر ہیں۔

2026 کے ہال آف فیم کے اعلان پر اختلاف کی گنجائش بہت کم تھی۔ سارو گنگولی نے نہ صرف بائیں ہاتھ کے شاندار بیٹر کی حیثیت سے بلکہ ایسے کپتان کے طور پر بھی بھارت کی مقابلے کرنے کی شناخت بدل کر رکھ دی جس نے جدید بھارتی کرکٹ کی برتری کی مضبوط بنیادیں رکھیں۔ کیون پیٹرسن نے انگلش بیٹنگ سے متعلق برسوں پرانے تصورات کو چیلنج کیا اور اپنے بے خوف اندازِ بیٹنگ اور غیر معمولی تسلسل کے ذریعے ٹیسٹ کرکٹ میں ایسا اثر چھوڑا جس نے انگلینڈ کی کرکٹ کی سوچ ہی بدل دی اسی طرح بھارتی ویمنز کرکٹ کی ترقی میں انجم چوپڑا کی خدمات بھی ناقابلِ تردید ہیں۔

تاہم ان ناموں کی شمولیت ایک ایسے سوال کو مزید نمایاں کر دیتی ہے جس کا جواب دینا آئی سی سی ہال آف فیم کے لیے مسلسل مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

یونس خان، انضمام الحق اور سعید انور جیسے تین پاکستانی بیٹرز اب تک اس اعزاز سے کیوں محروم ہیں؟ حالانکہ ان کی کامیابیاں ان ہی معیاروں پر پوری اترتی ہیں جن کی بنیاد پر ہال آف فیم میں شامل متعدد کھلاڑیوں کو پہلے ہی یہ اعزاز دیا جا چکا ہے۔

یہ وہ کریئرز نہیں تھے جو بیٹنگ کے لیے مسلسل سازگار وکٹوں کے دور میں پروان چڑھے۔ یہ سفر 1990 کی دہائی کے آغاز سے لے کر 2010 کی دہائی کے وسط تک اس زمانے میں طے ہوا جب کرکٹ کی تاریخ کے شاید مضبوط ترین بولنگ اٹیک کا سامنا تھا۔ گلین میک گرا، شین وارن، متایا مرلی دھرن، کرٹلی ایمبروز، کورٹنی والش، ایلن ڈونلڈ، شان پولاک، چمندا واس، جیک کیلس، بریٹ لی، ڈیل اسٹین اور انیل کمبلے جیسے عظیم بولرز دنیا بھر میں مختلف اور مشکل کنڈیشنز میں ان کے مدمقابل تھے۔

کیا یہ معاملہ اتنا سادہ اور آسان ہے کہ اسے یکسر نظرانداز کردیا جائے ؟۔

یونس خان ، پاکستان کے عظیم ترین ٹیسٹ بیٹر

اگر کسی پاکستانی بیٹر کو اب تک آئی سی سی ہال آف فیم میں جگہ مل جانی چاہیے تھی تو وہ یونس خان ہیں۔

2017 میں ریٹائرمنٹ کے وقت یونس خان پاکستان کے واحد بیٹر تھے جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز کا سنگِ میل عبور کیا تھا ۔ انہوں نے 118 ٹیسٹ میچوں میں 52.05 کی شاندار اوسط سے 10,099 رنز بنائے جن میں 34 سنچریاں شامل تھیں۔ ایشیا کے دیگر تمام بیٹرز جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز مکمل کیے ہیں ، سچن ٹنڈولکر، راہول ڈراوڈ، سنیل گاوسکر، کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے ، پہلے ہی آئی سی سی ہال آف فیم کا حصہ بن چکے ہیں۔

صرف یونس خان اس اعزاز سے محروم ہیں۔

ان کی ٹیسٹ اوسط سارو گنگولی (42.17) اور کیون پیٹرسن (47.28) دونوں سے کہیں بہتر ہے جبکہ ان کی 34 ٹیسٹ سنچریاں آج بھی پاکستان کا ریکارڈ ہیں۔

تاہم ان کا سب سے غیرمعمولی کارنامہ شاید وہ ہے جسے مناسب اہمیت نہیں دی جاتی۔

یونس خان ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے ہر اس حریف ٹیم کے خلاف سنچری اسکور کی جس کے خلاف انہوں نے ٹیسٹ کھیلا۔ سارو گنگولی جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کبھی سنچری نہ بنا سکے جبکہ کیون پیٹرسن بنگلہ دیش کے خلاف تین ہندسوں تک نہ پہنچ سکے۔ یونس خان نے اپنے دور کی تمام 9 ٹیسٹ ٹیموں کے خلاف سنچری اسکور کر کے ایسی ہمہ جہتی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جس کی مثال ٹیسٹ تاریخ میں نہیں ملتی۔

ان کی عظمت صرف اعدادوشمار تک محدود نہیں تھی۔

لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملے کے چند ہی ہفتوں بعد یونس خان نے 2009 میں انگلینڈ میں پاکستان کی قیادت کرتے ہوئے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جتوایا۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی کرکٹ کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا تھا، انہوں نے قوم کو 17 برس بعد پہلا آئی سی سی ٹائٹل دلوایا۔ یہ پاکستان کی کرکٹ تاریخ کی جذباتی اعتبار سے سب سے یادگار فتوحات میں سے ایک تھی۔

سعید انور، انفرادیت کا استعارہ

اگر یونس خان استقامت کی علامت تھے تو سعید انور جدت اور انفرادیت کا استعارہ تھے۔

ون ڈے کرکٹ میں جارحانہ مزاج کے اوپنرز کے عام ہونے سے بہت پہلے سعید انور نے ثابت کردیا تھا کہ کلاسیکل بیٹنگ اور مسلسل جارحانہ انداز ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔

1997 میں چنئی میں بھارت کے خلاف ان کی ناقابلِ فراموش 194 رنز کی اننگز اس وقت ون ڈے انٹرنیشنل میں صرف پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی اسکور نہیں تھی بلکہ اس اننگز کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ کارنامہ انہوں نے بھارت کی سرزمین پر ایک مضبوط حریف کے خلاف انجام دیا، نہ کہ کسی ابھرتی ہوئی کرکٹ ٹیم کے خلاف۔ یہی وجہ ہے کہ اس اننگز کی تاریخی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔

سعید انور نے 247 ون ڈے میچوں میں 20 سنچریوں کے ساتھ اپنے کریئر کا اختتام کیا جو اس وقت پاکستان کا ریکارڈ تھا۔ انہوں نے 39.21 کی اوسط سے رنز بنائے، ایسے دور میں جب رنز بنانے کی رفتار آج کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔

ان کا ٹیسٹ کیریئر بھی اتنا ہی داد کا مستحق ہے۔ صرف 55 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 45.52 کی اوسط سے 4,052 رنز بنائے، جو سارو گنگولی کی ٹیسٹ اوسط سے واضح طور پر بہتر ہے حالانکہ انہوں نے گنگولی کے مقابلے میں نصف سے بھی کم میچ کھیلے۔

1999 میں ایڈن گارڈنز میں بھارت کے خلاف ان کی ناقابلِ شکست 188 رنز کی اننگز پاکستان کی چند بہترین بیرونِ ملک ٹیسٹ اننگز میں شمار ہوتی ہے۔ اس میچ میں انہوں نے پوری اننگز کے دوران ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے بیٹ کیری کا اعزاز حاصل کیا اور ایسا کرنے والے پاکستان کے صرف تیسرے بیٹر بنے۔

ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں وزڈن نے 1997 میں انہیں اپنے کرکٹر آف دی ایئر کے اعزاز سے نوازا تھا۔

سعید انور کی بیٹنگ کی خوبصورتی نے انہیں یادگار بنایا لیکن ان کی کارکردگی نے انہیں عظیم کھلاڑیوں کی صف میں بھی لا کھڑا کیا۔

انضمام الحق ، ایک نسل کی بیٹنگ کی دھڑکن

اگر سعید انور نے پاکستان کی ایک روزہ کرکٹ میں اوپننگ بیٹنگ کی نئی تعریف متعین کی اور یونس خان پاکستان کے عظیم ترین ٹیسٹ بیٹر بن کر ابھرے تو انضمام الحق وہ ستون تھے جن کے گرد پاکستان کی بیٹنگ تقریباً پندرہ برس تک مضبوطی سے قائم رہی۔

انہوں نے اپنے بین الاقوامی کریئر کا اختتام 20 ہزار سے زائد رنز کے ساتھ کیا اور آج بھی وہ واحد پاکستانی بیٹر ہیں جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں یہ سنگِ میل عبور کیا ہے۔

ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں ان کے 11,739 رنز اب بھی ساروگنگولی کے مجموعی رنز سے زیادہ ہیں جبکہ ان کی 83 نصف سنچریاں ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی کھلاڑی کی سب سے زیادہ ففٹیز تھیں۔ یہ صرف طویل کریئر کا نہیں بلکہ غیر معمولی مستقل مزاجی کا بھی ثبوت تھا۔

ان کی عالمی شہرت یافتہ اننگز کا آغاز کریئر کے ابتدائی دنوں میں ہی ہو گیا تھا۔ 1992 کے ورلڈ کپ میں محض 22 برس کی عمر میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل اور پھر انگلینڈ کے خلاف فائنل میں ان کی جارحانہ اور فیصلہ کن اننگز نے پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ کا رخ بدل دیا اور ملک کو پہلا عالمی کپ جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ان کا ریکارڈ نہایت شاندار ہے۔ انہوں نے 49.60 کی اوسط سے 8,830 رنز بنائے 25 سنچریاں اسکور کیں جبکہ نیوزی لینڈ کے خلاف 329 رنز کی ان کی یادگار اننگز آج بھی پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ کی دوسری بڑی انفرادی اننگز ہے۔

بطور کپتان انہوں نے 2005 میں پاکستان کو بھارت میں تاریخی ٹیسٹ سیریز میں فتح دلائی جو 1987 کے بعد بھارتی سرزمین پر پاکستان کی پہلی کامیابی تھی۔ اسی سال ان کی قیادت میں پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز بھی اپنے نام کی۔

بہت کم کھلاڑی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے طویل کریئر، غیر معمولی مستقل مزاجی اور تاریخ ساز لمحات کو اس قدر مؤثر انداز میں یکجا کیا ہو۔

محض اعداد و شمار کسی کھلاڑی کو آئی سی سی ہال آف فیم میں جگہ دلانے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ ان تینوں پاکستانی عظیم کھلاڑیوں کا مقدمہ اس لیے زیادہ مضبوط ہے کہ ان کے ریکارڈز منفرد کارناموں، تاریخی اہمیت اور کھیل پر دیرپا اثرات سے مزید تقویت پاتے ہیں۔

یونس خان واحد بیٹر ہیں جنہوں نے اپنے تمام ٹیسٹ حریف ممالک کے خلاف سنچریاں اسکور کیں۔ سعید انور تقریباً تیرہ برس تک ون ڈے کرکٹ کے سب سے بڑے انفرادی اسکور کا عالمی ریکارڈ اپنے نام رکھتے رہے جبکہ انضمام الحق ایک دہائی سے زائد عرصے تک پاکستان کی بیٹنگ کی ریڑھ کی ہڈی بنے رہے اور ریٹائرمنٹ کے وقت دنیا کے کامیاب ترین رنز اسکوررز میں شمار ہوتے تھے۔

یہ تینوں عظمت کے مختلف پیمانوں پر پورا اترتے ہیں لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کا معاملہ جدید دور میں آئی سی سی ہال آف فیم کے مضبوط ترین اجتماعی دعووں میں سے ایک ہے۔

اس سے نہ تو گنگولی، چوپڑا یا پیٹرسن کی کامیابیوں کی اہمیت کم ہوتی ہے، اور نہ ہی ان کے مقام پر کوئی سوال اٹھتا ہے۔ ان کی ہال آف فیم میں شمولیت مکمل طور پر جائز اور مستحق ہے۔

اسی طرح یہ بھی دلیل نہیں کہ آئی سی سی نے تاریخی طور پر پاکستان کو نظر انداز کیا ہے۔ حنیف محمد۔ ظہیرعباس۔ جاوید میانداد وسیم اکرم وقار یونس اور عبدالقادر بجا طور پر ہال آف فیم میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔

اصل بات صرف تسلسل اور یکسانیت کی ہے۔

آئی سی سی ہال آف فیم کا مقصد کرکٹ کے عظیم ترین کریئرز کو محفوظ کرنا ہے نہ کہ صرف اُن کھلاڑیوں کو جو سب سے زیادہ شہرت کے حامل ہوں۔

کلاس آف 2027 آئی سی سی کو تاریخ دوبارہ لکھنے کا نہیں بلکہ اسے تسلیم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.