URDUپاکستانی بیٹنگ کو بے بس کرتے ہوئے انگلینڈ اننگز اور 103 رنز سے کامیاب

پاکستانی بیٹنگ کو بے بس کرتے ہوئے انگلینڈ اننگز اور 103 رنز سے کامیاب

لیڈز ۔  پاکستانی بیٹرز کی ایک اور  مایوس کن کارکردگی نے انگلینڈ کو ہیڈنگلے ٹیسٹ میں اننگز اور  103 رنز کی جیت سے ہمکنار کردیا۔

میچ کا فیصلہ تیسرے دن ہی ہوگیا  جب پاکستان ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 37.3  اوورز کی بیٹنگ میں  صرف 135 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

یاد رہے کہ  وہ پہلی اننگز میں 171 رنز بنا پائی تھی۔

پاکستان کو ہیڈنگلے میں 12 ٹیسٹ میچوں میں  7 ویں  شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے جبکہ انگلینڈ میں اسے 57 ٹیسٹ میچوں میں  25 ویں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انگلینڈ نے جو روٹ کی قیادت میں 66  ٹیسٹ میچوں میں 28 ویں کامیابی حاصل کی ہے۔ 27 میں اسے شکست ہوئی ہے۔ 11 ڈرا ہوئے ہیں۔

پاکستان ٹیم نے پہلی اننگز کے 238 رنز کے خسارے کے ساتھ  دوسری اننگز شروع کی تو ابتدا ہی سے  یہ خسارہ  منافع میں تبدیل ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔

جوفرا آرچر جنہوں نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں قیمتی23 رنز ناٹ آؤٹ بناکر اپنی ٹیم کی برتری بڑھانے میں مدد دی تھی ،  نئی گیند سے دونوں اوپنرز کو بڑی آسانی سے پویلین واپس بھیجنے میں کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے پہلے امام الحق کوگیند کے راستے سے ہٹنے کا موقع ہی نہیں دیا اور گیند ان کے گلووز کو چھوتی ہوئی وکٹ کیپر اسمتھ کے پاس چلی گئی یوں پاکستان نے پہلا رن بنانے سے پہلے ہی پہلی وکٹ گنوادی۔

امام الحق ابتک  26 ٹیسٹ اننگز بغیر سنچری کے کھیل چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی تیسری اور آخری سنچری  2022 میں انگلینڈ کے خلاف راولپنڈی میں بنائی تھی۔

امام الحق کا انگلینڈ میں مایوس کن ریکارڈ بتاتا ہے کہ 3 ٹیسٹ کی 6 اننگز میں وہ  19.60 کی معمولی اوسط سے صرف98  رنز بناسکے ہیں جن میں سب سے بڑا اسکور پہلی اننگز میں بنائے گئے 42 رنز ہیں۔

اذان اویس کے لیے بھی یہ ٹیسٹ انتہائی مایوس کن رہا۔ اگرچہ انہوں نے پیئر کی خفت سے خود کو ضرور بچایا لیکن 9 رنز پر جوفرا آرچر کی گیند پر لیگ سلپ میں جو روٹ کو کیچ تھماگئے۔

یہ جو روٹ کا ٹیسٹ کرکٹ میں 219 واں کیچ تھا اسطرح انہوں نے اسٹیو اسمتھ کا سب سے زیادہ  218 کیچز کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کرلیا ہے تاہم وہ اسمتھ سے 43  ٹیسٹ زیادہ کھیلے ہیں۔

پاکستان کو تیسرا دھچکہ عبداللہ شفیق کی وکٹ کی صورت میں پہنچا جو 15  رنز بناکر رابنسن کی گیند پر سلپ میں ہیری بروک کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

شان مسعود اور سعود شکیل  مسلسل تین میڈن اوورز کھیل کر اسکور کو کھانے کے وقفے پر  59 تک لے جانے میں کامیاب ہوگئے لیکن وقفے کے بعد دوسرے ہی اوور میں سعود شکیل  14 رنز بناکر جوش ٹنگ کی گیند پر بیک ورڈ اسکوائر لیگ پر لارنس کے عمدہ کیچ پر حیران پریشان رہ گئے۔

سعود شکیل کی گزشتہ ایک سال کے دوران کارکردگی خاصی مایوس کن رہی ہے۔

جوش ٹنگ نے اپنے اگلے ہی اوور میں شان مسعود کو  29 رنز پر بین ڈکٹ کے ہاتھوں سلپ میں کیچ کراکر واپسی کی راہ دکھادی۔

انہوں نے اسی اوور میں کپتان سلمان علی آغا کو بھی 4 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرکے اننگز میں اپنی تیسری اور میچ میں آٹھویں کامیابی حاصل کی۔

پاکستان کی 6 وکٹیں صرف76  رنز پر پویلین لوٹ چکی تھیں اور شکست کے بادل آسمان پر چھائے بادلوں سے زیادہ گہرے ہوگئے تھے۔

رابنسن نے اپنی دوسری کامیابی علی عثمان کو 7 رنز پر سلپ میں جارڈن کاکس کے کیچ کے ذریعے حاصل کی۔اسوقت پاکستان کے سو رنز بھی مکمل نہیں ہوئے تھے۔

111 کے اسکور پر  آٹھویں وکٹ بھی گرگئی جب رابنسن کی گیند پر خرم شہزاد کا 8 رنز پر  جارڈن کاکس نے سلپ میں کیچ لے لیا۔رابنسن کی بھی یہ تیسری وکٹ تھی۔

محمد رضوان ٹیل اینڈرز کو ایکسپوز کرنے کے بعد  بالآخر 41 رنز بناکر گس اٹکنسن کی گیند پر بولڈ ہوئے تو انگلینڈ کو جیت کے لیے صرف ایک وکٹ درکار تھی  جس کے لیے اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور جوفرا آرچر نے عباس کو  6 رنز پر لارنس کے ہاتھوں کیچ کرادیا

انگلینڈ کے بولرز میں جوش ٹنگ نے 43  رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں اسطرح انہوں نے میچ میں مجموعی طور پر  صرف 89 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کیں جو کسی میچ میں ان کی بہترین کارکردگی ہے جو اس سے قبل گزشتہ سال اوول میں بھارت کے خلاف 182 رنز کے عوض 8 وکٹ تھی۔

اولی رابنسن نے تین وکٹیں  29 رنز پر حاصل کیں جبکہ جوفرا آرچر نے  تین وکٹوں کے لیے 50 رنز دیے۔ اس طرح اس ٹیسٹ میں پاکستان کی  تمام 20 وکٹیں فاسٹ بولرز نے حاصل کیں۔

اس سے قبل انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز 366  رنز 8  کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی اور 43 رنز کے اضافے کے بعد پوری ٹیم 409 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

جیمی اسمتھ 25 رنز بناکر خرم شہزاد کی گیندپر شان مسعود کے  ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

جوش ٹنگ 2 چوکوں کی مدد سے 8 رنز بناکرخرم شہزاد کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

جوفرا آرچر  ایک چھکے اور دو چوکوں کی مدد سے23  رنز ناٹ آؤٹ کی اہم اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے۔

خرم شہزاد نے 133  رنز کے عوض 3  وکٹوں کے ساتھ اننگز کا اختتام کیا لیکن یہ سودا خاصا مہنگا رہا کیونکہ ان کی بولنگ پر ایک چھکا اور 22 چوکے لگے۔

انگلینڈ کی اننگز میں مجموعی طور پر ایک چھکا اور 59 چوکے شامل تھے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.