ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ میں پاکستان کے پانچ تجربہ کار کھلاڑی
لاہور ۔ کپتانی کا ڈرامہ بالآخر اختتام کو پہنچا ۔ اب تمام تر توجہ اصل کرکٹ پر مرکوز ہے۔ پاکستان کی ٹیم کرکٹ کی دنیا کے دو مشکل ترین غیرملکی دوروں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے روانہ ہو رہی ہے لیکن حیران کن طور پر اسکواڈ کے زیادہ تر کھلاڑیوں کو ان دونوں مقامات پر ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا تجربہ نہیں ہے۔
ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے منتخب 16 رکنی اسکواڈ میں صرف چار کھلاڑی ایسے ہیں جنہوں نے وہاں پہلے کبھی ٹیسٹ میچ کھیلا ہے جبکہ انگلینڈ کے لیے اعلان کردہ 17 رکنی اسکواڈ جس میں صرف اس مرحلے کے لیے سعود شکیل شامل ہوں گے ، محض پانچ کھلاڑی ایسے ہیں جو اس سے پہلے انگلینڈ میں ٹیسٹ کھیل چکے ہیں۔
یہ صورتِ حال لازماً ناقص سلیکشن کا نتیجہ نہیں بلکہ جدید بین الاقوامی شیڈول کی عکاسی کرتی ہے۔ 2019 سے شروع ہونے والی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تحت ہر ٹیم ہر دو سال میں تین ہوم اور تین اوے سیریز کھیلتی ہے جن کا تعین باہمی رضامندی سے ہوتا ہے۔ اس نظام نے اُن طویل اور غیر رسمی دوروں کی گنجائش تقریباً ختم کر دی ہے جن کے ذریعے ماضی میں کھلاڑی غیرملکی کنڈیشنز کا تجربہ حاصل کرتے تھے۔ پاکستان اس حوالے سے تنہا نہیں ہے بلکہ کئی ٹیمیں اب نسبتاً کم تجربے کے ساتھ نئے مقامات پر پہنچتی ہیں۔
اس کے باوجود پاکستان کے پاس پانچ ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو ان دونوں خطوں میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں اور ان میں سے چند نے وہاں نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔
بابر اعظم (کپتان )
اس اسکواڈ میں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ دونوں میں کھیلنے کا سب سے زیادہ تجربہ رکھنے والے کھلاڑی خود کپتان بابر اعظم ہیں۔17-2016 سے 22-2021 کے درمیان چار مختلف دوروں میں انہوں نے ویسٹ انڈیز میں پانچ اور انگلینڈ میں چار ٹیسٹ میچ کھیلتے ہوئے مجموعی طور پر 592 رنز بنائے ہیں۔
17-2016 میں ویسٹ انڈیز کے اپنے پہلے دورے میں انہوں نے 72، 9 ناٹ آؤٹ اور 55 رنز بنائے جبکہ تین مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔ یہ ایک اتار چڑھاؤ سے بھرپور سیریز تھی لیکن اس میں ان کی صلاحیت کی جھلک بھی واضح تھی۔
22-2021 میں کپتان کی حیثیت سے واپسی پر وہ کہیں زیادہ پختہ نظر آئے۔ اس بار ان کی اننگز 30، 55، 75 اور 33 رنز پر مشتمل تھیں جو اگرچہ سنچری سے محروم رہیں مگر مستقل مزاجی کا واضح ثبوت تھیں۔
انگلینڈ میں ان کی کارکردگی نے بھی ملا جلا تاثر دیا۔ 2018 اور 2020 کےدوروں میں انہوں نے مجموعی طور پر263 رنز بنائے جن میں تین نصف سنچریاں شامل تھیں تاہم 2018 کا دورہ ایک بدقسمت واقعے کی وجہ سے زیادہ یاد رکھا جاتا ہے جب لارڈز میں 68 رنز پر ناٹ آؤٹ کھیلتے ہوئے ان کی کہنی ٹوٹ گئی اور وہ باقی سیریز سے باہر ہو گئے۔
2020 میں انہوں نے 69، 5، 47، 11 اور 63 ناٹ آؤٹ رنز کی اننگز کھیلیں۔ یہ ایک مناسب سیریز تھی لیکن وہ اب بھی انگلینڈ میں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری کے منتظر ہیں۔
اس دورے میں بابر اعظم کی سب سے بڑی خواہش غالباً یہی ہوگی کہ وہ ویسٹ انڈیز یا انگلینڈ میں اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کریں کیونکہ ان دونوں ممالک میں کھیلے گئے 9 ٹیسٹ میچوں میں وہ اب تک یہ سنگ میل عبور نہیں کر سکے ہیں۔
امام الحق (اوپنر)
بائیں ہاتھ کے اوپنر امام الحق نے 2018 میں ڈبلن میں ٹیسٹ ڈیبیو کے بعد اب تک 27 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں لیکن انہوں نے آج تک ویسٹ انڈیز میں کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلا جبکہ انگلینڈ کا یہ ان کا محض دوسرا دورہ ہوگا۔ 2018 کے پہلے دورے میں انہوں نے 4 ، 18 ناٹ آؤٹ ، صفر اور 34 رنز بنائے تھے۔
اپنے مجموعی تجربے کے باوجود یہ دونوں کنڈیشنز امام الحق کے لیے تقریباً نئی ہیں اور یہ دورہ ان کے کریئر کی ایک اہم کمی کو پورا کرنے کا بہترین موقع ہوگا۔
محمد عباس ( فاسٹ بولر)
اگر اس اسکواڈ میں کسی کھلاڑی کو ان دونوں ممالک کی کنڈیشنز کا حقیقی ماہر کہا جا سکتا ہے تو وہ محمد عباس ہیں۔
وہ پاکستان کے ویسٹ انڈیز کے آخری دونوں دوروں میں شامل تھے۔ انہوں نے 17-2016 میں تین ٹیسٹ میچوں میں 15 وکٹیں حاصل کیں۔ 20-2021 میں دو ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 6 وکٹیں حاصل کیں۔
انگلینڈ میں بھی ان کا ریکارڈ تقریباً اسی معیار کا ہے۔ انہوں نے پانچ ٹیسٹ15 وکٹیں حاصل کی ہیں جن میں 2018 میں دو ٹیسٹ میچوں میں 10 اور 2020 میں تین ٹیسٹ میچوں میں 5 وکٹیں شامل تھیں۔
ان کے اس اعتماد کی ایک بڑی وجہ کاؤنٹی کرکٹ بھی ہے جہاں وہ لیسٹرشائر، ہمپشائر اور ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ یہی تجربہ انہیں انگلینڈ کی کنڈیشنز میں اپنے ساتھی بولرز پر واضح برتری دیتا ہے۔
دونوں دوروں میں پاکستان کو سب سے زیادہ امیدیں انہی سے وابستہ ہوں گی۔
محمد رضوان (وکٹ کیپر بیٹر)
محمد رضوان کا ریکارڈ بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ دونوں شعبوں میں مستقل مزاجی کی عکاسی کرتا ہے۔
انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے گزشتہ دوروں میں انہوں نے مجموعی طور پر 255 رنز بنائے ہیں اور وکٹوں کے پیچھے 17 شکار کیے ہیں۔
2020 میں اظہر علی کی قیادت میں انگلینڈ میں انہوں نے تین ٹیسٹ میچوں میں 161 رنز اسکور کیے اور 6 کیچز/ اسٹمپڈ کیے جبکہ 21-2020 میں بابر اعظم کی قیادت میں ویسٹ انڈیز کے دورے پر دو ٹیسٹ میچوں میں 94 رنز بنانے کے علاوہ 11 شکار کیے۔
یہ ریکارڈ شاید بہت شاندار نہ ہو لیکن ایک غیرملکی دورے پر وکٹ کیپر کے لیے انتہائی قابلِ اعتماد بنیاد ضرور فراہم کرتا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب بیٹنگ لائن اپ کا بڑا حصہ ان کنڈیشنز سے ناواقف ہو۔
شان مسعود (ٹاپ آرڈر بیٹر)
شان مسعود اس اسکواڈ میں واحد کھلاڑی ہیں جو مصباح الحق کی قیادت میں 2016 کے یادگار دورۂ انگلینڈ کا حصہ تھے، وہی دورہ جو لارڈز میں پریس اپ جشن کی وجہ سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
اگرچہ اس دورے میں ان کی کارکردگی زیادہ نمایاں نہیں رہی اور دو ٹیسٹ میں صرف 71 رنز بنا سکے تھے۔
اس کے بعد انہوں نے 2017 میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کیا جہاں ایک ٹیسٹ میں 30 رنز بنائے لیکن 2020 میں انگلینڈ واپسی پر انہوں نے اپنے کریئر میں ان کنڈیشنز میں بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور تین ٹیسٹ میں 179 رنز بنائےجس میں اولڈ ٹریفرڈ میں 156 رنز کی اننگز بھی شامل تھی۔
ان پانچ تجربہ کار کھلاڑیوں میں شان مسعود کی یہی اننگز اب بھی ویسٹ انڈیز یا انگلینڈ میں موجودہ اسکواڈ کے کسی بھی کھلاڑی کی بہترین انفرادی ٹیسٹ اننگز سمجھی جاتی ہے جو اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ اگر پاکستانی بیٹرز ان کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو جائیں تو بڑی اننگز کھیلنا ممکن ہے۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ پانچ کھلاڑی ہی اس اسکواڈ کے محدود غیرملکی تجربے کا بڑا حصہ ہیں۔ ان کے علاوہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا تجربہ رکھنے والے کھلاڑی نہ ہونے کے برابر ہیں۔
آنے والے دو ماہ میں پاکستان کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار بڑی حد تک بابر اعظم، امام الحق، محمد عباس، محمد رضوان اور شان مسعود پر ہوگا کیونکہ اسکواڈ کے بیشتر کھلاڑیوں کے لیے تاروبا اور انگلینڈ کے میدان مکمل طور پر نئی آزمائش ثابت ہوں گے۔



Leave a Reply