ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کا مایوس کن سفر نیدرلینڈز کو ہراکر ختم
برسٹل۔ پاکستان ویمنز ٹیم کا آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا مایوس کن سفر آخری میچ میں نیدرلینڈز کے خلاف 37 رنز کی جیت کے ساتھ اختتام کو پہنچ گیا۔
یاد رہے کہ نیدرلینڈز کی ٹیم پہلی بار ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شریک تھی اور اس عالمی کپ میں وہ سب سے نیچے کی رینکنگ ( 14 ) ٹیم تھی ۔
مجموعی کارکردگی کے اعتبار سے یہ پاکستان ٹیم کا خراب ترین ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ رہا جس میں اسے بھارت نے 64 رنز سے ، جنوبی افریقہ نے 2 وکٹوں سے ، بنگلہ دیش نے 23 رنز سے اور آسٹریلیا نے 113 رنز سے شکست سے دوچار کیا۔
انفرادی کارکردگی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان ویمنز کے ان پانچ میچوں میں صرف دو نصف سنچریاں بنیں جو کپتان فاطمہ ثنا اور گل فیروزہ نے جنوبی افریقہ اور نیدر لینڈز کے خلاف اسکور کیں ۔ بولنگ میں بھی فاطمہ ثنا نمایاں رہیں اور سب سے زیادہ 11 وکٹیں حاصل کیں۔دیگر کھلاڑیوں کی کارکردگی انتہائی خراب رہی جن میں قابل ذکر منیبہ علی اور عالیہ ریاض ہیں۔ان دونوں کا یہ چھٹا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تھا جس میں عالیہ ریاض 4 میچوں میں صرف 35 رنز بناسکیں اور بالآخر آخری میچ میں انہیں ڈراپ کردیا گیا جبکہ منیبہ علی نے5 میچوں میں صرف 110 رنز بنائے۔
نیدر لینڈز کے خلاف میچ میں رامین شمیم اور عالیہ ریاض کی جگہ طوبی حسن اور ایمان فاطمہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔ ایمان فاطمہ کا ورلڈ کپ میں یہ پہلا میچ تھا۔
فاطمہ ثنا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 126 رنز بنائے۔ اس سے قبل پاکستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف بھی 9 وکٹوں پر126 رنز بنائے تھے۔
نیدرلینڈز جواب میں 18 اوورز میں 89 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا اور منیبہ علی صرف 12 رنز بناکر لینڈیر کی گیند پر آؤٹ ہوگئیں۔
عائشہ ظفر 32 رنز بناکر آؤٹ ہوئیں جو اس ورلڈکپ میں ان کا سب سے بڑا اسکور ہے۔انہوں نے گل فیروزہ کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں 79 رنز کا اضافہ کیا جو اس ورلڈ کپ میں پاکستان ویمنز کی سب سے بڑی شراکت ہے۔ اس سے قبل فاطمہ ثنا اور طوبٰی حسن نے 9 ویں وکٹ کے لیے 71 رنز بنائے تھے۔
گل فیروزہ نے 9 چوکوں کی مدد سے 63 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی ۔یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کا سب سے بڑا انفرادی اسکور ہے۔
کپتان فاطمہ ثنا جو چوتھے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئی تھیں صرف 3 رنز بناسکیں۔
ایمان فاطمہ اس ایونٹ میں پہلی بار ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھانے میں بری طرح ناکام رہیں اور بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئیں۔
34 سالہ ارم جاوید کے لیے بھی یہ ورلڈ کپ انتہائی مایوس کن رہا اور وہ صرف2 رنز بناکر آؤٹ ہوئیں۔ چار میچوں میں وہ محض 36 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکیں۔سائرہ جبین کے نام کے آگے صرف 5 رنز لکھے جاسکے۔
دوسری وکٹ کی شراکت کے 79 رنز کے بعد پاکستان ٹیم اسکور میں صرف32
رنز کا اضافہ کرسکی۔
نیدرلینڈز کی طرف سے ولنگ نے دو وکٹیں حاصل کیں۔
نیدر لینڈز نے پاور پلے میں 39 رنز پر دو وکٹیں گنوائیں جن میں پانچ چوکوں کی مدد سے24 رنز بنانے والی ہیدر سیگرز کی وکٹ بھی شامل تھی۔
عائشہ ظفر نے ایک ہی اوور میں رابن ریکا اور سنیا کھورانا کو وکٹیں حاصل کیں اور جب انہوں نے اپنی تیسری وکٹ فریڈرک کو آؤٹ کرکے حاصل کی تو نیدر لینڈز کا اسکور 6 وکٹوں پر 89 رنز تھا۔اسی اسکور پر ولنگ بھی رن آؤٹ ہوگئیں۔
نیدرلینڈز کی امیدیں اب کپتان بیبیٹ ڈی لیڈے سے وابستہ رہ گئی تھیں لیکن وہ 30 رنز بناکر فاطمہ ثنا کی گیند پر بولڈ ہوگئیں جنہوں نے اسی اوور میں سیگرز اورکیرولائن کو بھی آؤٹ کردیا ۔
پاکستان کی طرف سے فاطمہ ثنا اور عائشہ ظفر نے بالترتیب 12 اور 13 رنز دے کر وکٹیں حاصل کیں۔ گل فیروزہ پلیئر آف دی میچ قرار پائیں۔



Leave a Reply