تاریخی فتوحات ، یادگار لمحات لیکن تنازعات نے بھی پیچھا نہیں چھوڑا
پاکستان کرکٹ ٹیم دوطرفہ ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے 17 ویں مرتبہ انگلینڈ میں موجود ہے۔ اس دورے میں وہ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیل رہی ہے جس کا آغاز19 اگست سے ہیڈنگلے میں ہوگا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم ابتک انگلینڈ میں 56 ٹیسٹ میچز کھیل چکی ہے جن میں اس نے 12 جیتے ہیں 24 میں اسے شکست ہوئی ہے اور 20 ٹیسٹ ڈرا ہوئے ہیں۔
1954ء میں پہلی ٹیسٹ سیریز سے ہی دونوں ممالک کے درمیان دلچسپ مقابلوں کا آغاز ہوگیا تھا جن میں متعدد تاریخی فتوحات بھی شامل ہیں اور یادگار لمحات بھی ، لیکن تنازعات نے بھی ساتھ نہیں چھوڑا ہے۔
1954 اوول کی جیت پاکستان کا پہلا مکمل تعارف۔
پاکستان کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ رکنیت حاصل کرنے کے بعد اگرچہ بھارت کے پہلے دورے میں لکھنؤ ٹیسٹ کی جیت سے اپنا پہلا تعارف کرادیا تھا لیکن اسے صحیح معنوں میں بین الاقوامی کرکٹ میں شناخت اوول کی تاریخی جیت سے ملی جہاں اس نے ایک بڑی ٹیم کو شکست سے دوچار کیا تھا جو ایشیز کی فاتح تھی جس کے پاس سر لین ہٹن۔ ڈینس کامپٹن ۔پیٹر مے ۔ٹام گریونی ٹریور بیلی ۔فرینک ٹائسن۔ الیک بیڈسر اور جانی وارڈل جیسے شہرۂ آفاق کرکٹرز موجود تھے۔
عبدالحفیظ کاردار کی قیادت میں پاکستان نے اوول میں انگلینڈ کو24 رنز سے شکست دے کر سیریز برابر کردی تھی جس کا سہرا فضل محمود کے سر جاتا ہے جنہوں نے میچ میں بارہ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ سیریز میں بیس وکٹوں کی شاندار کارکردگی پر وہ بجا طور پر وزڈن کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل کیے گئے تھے۔
اس دورے میں نوجوان حنیف محمد اور وکٹ کیپر امتیاز احمد کی صلاحیتیں بھی کھل کر سامنے آئی تھیں۔
پاکستان کرکٹ کی یادگار تصاویر کی گیلری میں پہلی دو سب سے خوبصورت تصاویر جو آویزاں ہوئیں ان میں سے ایک کپتان عبدالحفیظ کاردار کی اوول کی بالکونی سے شائقین کو ہاتھ ہلاکر جواب دیتے ہوئے تھی اور دوسری میں فضل محمود ایک بچے کو گود میں لئے ہوئے ہیں۔
1962 ناتجربہ کار کپتان ، بدترین شکست ۔
انگلینڈ کے پہلے دورے میں شاندار کارکردگی کے آٹھ سال بعد جب پاکستان ٹیم دوبارہ انگلینڈ پہنچی تو منظرنامہ بالکل تبدیل ہوچکا تھا۔ سینئر کرکٹرز امتیاز احمد اور حنیف محمد کو نظرانداز کرکے ایک جونیئر کرکٹر جاوید برکی کو کپتان بنائے جانے کا فیصلہ پاکستان ٹیم کی بدترین شکست کی صورت میں سامنے آیا۔ پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں چار صفر کی ہزیمت نے پاکستان ٹیم کو بکھیر کر رکھ دیا۔ بارش نے پاکستان کو پانچویں شکست سے بچالیا۔
فضل محمود ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے لیکن جب حالات قابو سے باہر ہوئے تو انہیں انگلینڈ روانہ کیا گیا اور وہ آخری دو ٹیسٹ کھیلے جن میں اوول ٹیسٹ بھی شامل ہے اسی میدان پر انہوں نے آٹھ سال قبل پاکستان کو تاریخی جیت سے ہمکنار کیا تھا لیکن اس مرتبہ وہ اپنا الوداعی ٹیسٹ کھیل کر کرکٹ کی دنیا سے رخصت ہوئے۔
اوول ٹیسٹ امتیاز احمد کا بھی آخری ٹیسٹ ثابت ہوا۔
لارڈز میں نسیم الغنی اور کپتان جاوید برکی نے سنچریاں بنائیں ۔ نسیم الغنی اس لیے نمایاں رہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں نائٹ واچ مین کی حیثیت سے سنچری اسکور کرنے والے پہلے بیٹسمین تھے۔
اس سیریز کی سب سے قابل ذکر بات مشتاق محمد کی شاندار کارکردگی تھی جس میں ٹرینٹ برج ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ناقابل شکست سنچری بھی شامل تھی۔اس کارکردگی نے انہیں وزڈن کے پانچ بہترین کرکٹرز میں بھی شامل کرایا۔
1967 حنیف محمد اور آصف اقبال کی یادگار اننگز
پاکستان ٹیم حنیف محمد کی قیادت میں اگرچہ سیریز کے دو ٹیسٹ میچز ہارگئی لیکن حنیف محمد اور آصف اقبال نے اپنی شاندار بیٹنگ سے سب کے دل جیت لیے۔
لارڈز ٹیسٹ میں حنیف محمد نے 187 رنز ناٹ آؤٹ کی طویل اننگز کھیلی تو اوول ٹیسٹ میں آصف اقبال 146 رنز کی یادگار اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوئے ۔یہ وہی اننگز ہے جس میں انہوں نے انتِخاب عالم کے ساتھ نویں وکٹ کی شراکت میں 190 رنز کا اضافہ کیا جو ایک عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ میں نویں وکٹ کی ریکارڈ شراکت رہی۔
حنیف محمد اور آصف اقبال وزڈن کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل کیے گئے اور آصف اقبال پر کاؤنٹی کرکٹ کے دروازے کھل گئے اور وہ ایک طویل عرصہ کینٹ کاؤنٹی سے وابستہ رہے۔
1971 دنیا ایشین بریڈمین سے متعارف ہوئی
ابتک دنیا صرف سرڈان بریڈمین کو ہی جانتی تھی لیکن پاکستان ٹیم کے اس دورۂ انگلینڈ نے ایشین بریڈمین کو بھی دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ یہ ظہیرعباس تھے جنہوں نے ایجبسٹن ٹیسٹ میں 274 رنز کی یادگار اننگز کھیل کر ایک ایسے بیٹسمین کی آمد کی اطلاع دی جس نے آنے والے برسوں میں کئی خوبصورت اننگز کھیل کر اپنی اسٹائلش بیٹنگ سےشائقین کے دلوں پر راج کیا۔کاؤنٹی کرکٹ میں ظہیرعباس ایسے چھائے کہ گلوسٹر شائر انہی کے نام سے پہچانی جانے لگی ۔
اسی دورے میں عمران خان کے بین الاقوامی کریئر کا آغاز ہوا جو کامیاب نہ تھا لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح انہوں نے انتھک محنت سے خود کو دنیا کے چند عظیم آل راؤنڈرز اور بہترین کپتانوں میں شامل کرایا۔
اس دورے میں پاکستان ٹیم پہلی بار انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کے قریب آئی لیکن ہیڈنگلے میں بیٹرز کے قدم ڈگمگاگئے اور صرف 25 رنز کی شکست نے اسے سیریز جیتنے سے محروم کردیا۔
1974 ناقابل شکست رہنے والی دوسری ٹیم۔
انتخاب عالم کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے ایسی دوسری ٹیم ہونے کا منفرد اعزاز حاصل کیا جسے انگلینڈ میں کسی میچ میں بھی شکست نہیں ہوئی۔اس سے قبل یہ اعزاز صرف سرڈان بریڈمین کی 1948 کی آسٹریلوی ٹیم کو حاصل تھا۔
ٹیسٹ سیریز کے تینوں ٹیسٹ ڈرا ہوئے۔اوول میں ظہیرعباس نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی دوسری ڈبل سنچری ( 240 ) اسکور کی۔
انگلینڈ کے ڈیرک انڈرووڈ سیریز میں پاکستانی بیٹرز کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوئے۔
1978 بوتھم آئے اور چھاگئے ۔
وسیم باری کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے کیری پیکر سیریز میں جانے والے کھلاڑیوں کے بغیر ہوم سیریز تو ڈرا کرلی تھی لیکن انگلینڈ میں اسے دو صفر سے شکست ہوگئی۔ انگلینڈ کی اس جیت میں ای این بوتھم کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا عمل دخل نمایاں تھا جنہوں نے ایجبسٹن میں سنچری بنائی اور پھر لارڈز میں سنچری بنانے کے ساتھ ساتھ آٹھ وکٹیں بھی حاصل کرڈالیں۔
1982 محسن خان کی ڈبل سنچری اور گولڈن آرم مدثرنذر
جاوید میانداد کی کپتانی کے خلاف سینئر کرکٹرز کی بغاوت کے بعد کپتانی عمران خان کے حصے میں آئی ۔انگلینڈ میں اگرچہ ٹیسٹ سیریز وہ دو ایک سے ہارگئے لیکن انگلینڈ والوں کو پتہ چل گیا کہ اب مقابلہ برابری کا رہے گا۔
لارڈز میں پاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی۔ محسن خان لارڈز میں ڈبل سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹر بنے تو بولنگ میں مدثرنذر کا جادو سر چڑھ کر بولا جنہیں اینڈ تبدیل کرنے کے لیے لایا گیا تھا لیکن انہوں نے چھ وکٹوں کی شاندار کارکردگی سے میچ کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔
عمران خان نے وزڈن کے پانچ بہترین کرکٹرز میں جگہ بنائی ۔
1987 انگلینڈ میں پہلی بار ٹیسٹ سیریز کی جیت۔
اگرجانبدارانہ امپائرنگ آڑے نہ آتی تو پاکستان ٹیم 1982میں ہی ٹیسٹ سیریز جیت چکی ہوتی تاہم 1987 میں پاکستان ٹیم کو اس جیت سے روکنے والا کوئی نہ تھا ۔
عمران خان کی دس وکٹوں کی شاندار کارکردگی نے پاکستان کو ہیڈنگلے میں اننگز اور 18 رنز سے کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سیریز میں وہ 21 وکٹوں کے ساتھ سب سے نمایاں رہے۔
اس سیریز میں جاوید میانداد کی اوول میں ڈبل سنچری کے علاوہ سلیم ملک کی اوول میں سنچری اور ہیڈنگلے میں 99 رنز کی اننگز بھی قابل ذکر تھی۔ سلیم ملک نے بھی اس عمدہ پرفارمنس پر وزڈن کے پانچ بہترین کرکٹرز میں جگہ بنائی۔
1992 ٹو ڈبلیوز کے خطرناک وار
پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کی دو ایک سے کامیابی میں ٹو ڈبلیوز یعنی وسیم اکرم اور وقار یونس کی خطرناک بولنگ کا کلیدی کردار رہا ۔ وقار یونس نے سیریز میں 22 اور وسیم اکرم نے 21 وکٹیں حاصل کیں۔
ان دونوں کی ریورس سوئنگ میزبانوں کے لیے معمہ بنی رہی تو یہ الزامات لگنے لگے کہ پاکستانی بولرز نے گیند کے ساتھ گڑبڑ یعنی بال ٹمپرنگ کی ہے۔
یہ دونوں نہ صرف بولنگ بلکہ بیٹنگ میں بھی انگلینڈ والوں کے اعصاب پر سوار رہے ۔جب لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی آٹھ وکٹیں 95 رنز پر گرگئی تھیں تو ان دونوں نے نویں وکٹ کے لیے 46 رنز بناکر پاکستان کو 2 وکٹوں کی ڈرامائی جیت سے ہمکنار کردیا۔
اس سیریز میں سلیم ملک عامر سہیل اور کپتان جاوید میانداد کی بیٹنگ قابل ذکر رہی تھی جبکہ انضمام الحق کے ٹیسٹ کریئر کا آغاز بھی اسی سیریز میں ہوا۔
1996 ایک اور سیریز پاکستان کے نام
پاکستان نے انگلینڈ کی سرزمین پر لگاتار تیسری ٹیسٹ سیریز جیتی۔بیٹنگ میں سعید انور اعجاز احمد انضمام الحق سلیم ملک اور معین خان کے بلے سے سنچریاں نکلیں تو بولنگ میں کپتان وسیم اکرم وقار یونس اور مشتاق احمد نے انگلینڈ کے بیٹرز کو سنبھلنے نہیں دیا۔
سعید انور کی خوبصورت بیٹنگ سب پر حاوی رہی اور وہ وزڈن کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل کیے گئے۔
2001 معاملہ برابری کا ۔
دو ٹیسٹ میچوں کی یہ سیریز ایک ایک سے برابر رہی۔ لارڈز میں پہلا ٹیسٹ انگلینڈ نے اننگز اور 9 رنز سے جیتا۔کپتان وقاریونس نے اولڈ ٹریفرڈ میں 108 رنز کی جیت پر سکون کا سانس لیا جس کے لیے وہ انضمام الحق کے شکر گزار تھے جنہوں نے پہلی اننگز میں 114 اور دوسری اننگز میں 85 رنز اسکور کیے ۔
2006 بال ٹمپرنگ نے سب کو ہلاکر رکھ دیا۔
یہ دورہ اوول ٹیسٹ میں بال ٹمپرنگ کے سب سے بڑے قضیے کی وجہ سے یاد رہے گا جب آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستان ٹیم پر بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے گیند تبدیل کردی جس پر انضمام الحق کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے چائے کے وقفے کے بعد گراؤنڈ میں آنے سے انکار کیا ۔امپائر ڈیرل ہیئر نے انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا۔
ڈیرل ہیئر اس واقعے کے بعد لیک ہونے والی ایک ای میل کی وجہ سے خاصے متنازعہ بن گئے اور انہیں ایلیٹ پینل سے ہٹایا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ واپس آئے لیکن صرف دو مزید ٹیسٹ میچوں کے بعد وہ امپائرز پینل سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باہر کردیے گئے۔ دوسری جانب آئی سی سی نے رنجن مدوگالے کے ذریعے ہونے والی تفصیلی تحقیقات کے بعد انضمام الحق کو بال ٹمپرنگ کے الزام سے بری کردیا تاہم کھیل کی روح متاثر کرنے پر انہیں چار ون ڈے میچوں کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس سیریز میں پاکستان کی طرف سے محمد یوسف نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 631 رنز بنائے اور پلیئر آف دی سیریز کے ساتھ ساتھ وزڈن کے پانچ بہترین کرکٹرز میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔
2010 اسپاٹ فکسنگ کا طوفان ۔
بال ٹمپرنگ کی بازگشت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ 2010 کے دورے میں چند پیسوں کی خاطر مشکوک افراد کے ہاتھوں میں کھیلنے والے کپتان سلمان بٹ۔ محمد عامراور آصف پر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر نہ صرف آئی سی سی نے پابندیاں عائد کیں بلکہ اس جرم میں ان تینوں کو جیل بھی ہوئی۔
انگلینڈ نے یہ ٹیسٹ سیریز تین ایک سے جیتی لیکن جیت کی خبر سے بڑی شہ سرخیاں اس اسکینڈل کی رہیں جس نے پاکستان کرکٹ کو بہت بڑا دھچکہ پہنچایا۔
2016 میں دل جیت لیے گئے ۔
بال ٹمپرنگ اور اسپاٹ فکسنگ اسکینڈلز کے نتیجے میں پاکستان کی کرکٹ کو جو نقصان پہنچا تھا 2016 کے دورے میں مصباح الحق کی قیادت میں ٹیم نے اپنےکھیل اور مثبت طرزعمل سے اس کی تلافی کردی۔
اگرچہ چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز دو دو سے برابر رہی لیکن پاکستان ٹیم کی کارکردگی کافی نمایاں رہی۔ لارڈز میں مصباح الحق کی سنچری اور ُپش اپس نہ بھولنے والی یادیں بن گئے۔
اوول میں یونس خان کی شاندار ڈبل سنچری کے علاوہ اسد شفیق کی تین ہندسوں کی اننگز اور ایجبسٹن میں اظہرعلی کی سنچری کے علاوہ یاسرشاہ کی سیریز میں 19 وکٹیں پاکستان کے نقطہ نظر سے بہت اہم تھیں۔
وزڈن نے مصباح الحق اور یونس خان کو اپنے پانچ بہترین کرکٹرز میں بھی شامل کیا۔
2018 محمد عباس فتح گر بولر ۔
دو ٹیسٹ میچوں کی یہ سیریز بھی ایک ایک سے برابر رہی۔ لارڈز میں پاکستان محمد عباس کی آٹھ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کی بدولت 9 وکٹوں سے جیتا لیکن انگلینڈ نے ہیڈنگلے میں اننگز اور 55 رنز کی جیت سے حساب برابر کردیا جس میں پلیئر آف دی میچ جوز بٹلر کے 80 ناٹ آؤٹ نمایاں تھے۔
محمد عباس سیریز میں دس وکٹیں حاصل کرکے سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔
2020 کرس ووکس نے بازی پلٹ دی
کووڈ کے دنوں میں ہونے والی یہ سیریز پہلی مرتبہ شروع کی گئی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ تھی۔
انگلینڈ نے اولڈ ٹریفرڈ کا پہلا ٹیسٹ تین وکٹوں سے جیت کرسیریز اپنے نام کرلی ۔ساؤتھمپٹن میں اگلے دونوں ٹیسٹ ڈرا ہوگئے ۔
اگرچہ پاکستان نے شان مسعود کی سنچری اور بابراعظم کی نصف سنچری اور یاسر شاہ کی عمدہ بولنگ کی بدولت پہلی اننگز میں انگلینڈ پر برتری بھی حاصل کی تھی لیکن انگلینڈ نے 277 رنز کا ہدف جوز بٹلر کے 75 اور کرس ووکس کے 84 رنز ناٹ آؤٹ کی بدولت سات وکٹیں گنواکر حاصل کرلیا۔
اس سیریز میں شان مسعود کے علاوہ کپتان اظہرعلی نے بھی سنچری اسکور کی لیکن دو نصف سنچریوں اور پانچ کیچز اور ایک اسٹمپڈ کے ساتھ محمد رضوان نے وزڈن المانک کو زیادہ متاثر کیا خاص کر بین اسٹوکس کے ان کے کیچ کو بہت سراہا گیا اور وہ سال کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل کیے گئے۔



Leave a Reply