پی سی بی اولمپک کوالیفائر،ایشیا کپ اور ورلڈ کپ کے لیے کتنا سنجیدہ ؟
پاکستان کی کرکٹ کے منتظمین گزشتہ چند روز سے غیر معمولی طور پر مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹی وی پروگرامز، پریس کانفرنسیں، ایک کے بعد ایک بیانات ، کہیں وضاحتیں، کہیں دفاع، اور بعض اوقات ایک دوسرے سے متضاد مؤقف۔ لیکن ان تمام سرگرمیوں کے باوجود ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے کہ اولمپک کوالیفائر، ایشیا کپ اور ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کا واضح منصوبہ کیا ہے ؟
آئندہ پندرہ ماہ پاکستان کی وائٹ بال کرکٹ کے لیے ایک نسل میں آنے والا سب سے اہم دور ثابت ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اولمپک کوالیفائر میں حصہ لے گا پھر بنگلہ دیش میں اے سی سی مینز 50 اوورز ایشیا کپ کھیلے گا اور اس کے بعد آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے نمیبیا جنوبی افریقہ اور زمبابوے کا رخ کرے گا۔
تین بڑے ٹورنامنٹس ، تین ایسے مواقع جو پاکستان کی کرکٹ کے اس زوال کو روک سکتے ہیں جس نے نہ صرف شائقین بلکہ تجارتی شراکت داروں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز کرنا شروع کر دیا ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بہت شور سنائی دیا لیکن اب تک نہ کوئی واضح روڈ میپ سامنے آیا ہے، نہ طویل مدتی حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی اس بات کے آثار نظر آتے ہیں کہ ان تین بڑے ٹورنامنٹس کی تیاری فیصلہ سازی کا بنیادی محور ہے۔
اعداد و شمار خود حقیقت بیان کرتے ہیں
سب سے پہلے موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں۔ پاکستان اس وقت ون ڈے انٹرنیشنل رینکنگ میں پانچویں جبکہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رینکنگ میں چھٹے نمبر پر ہے۔ کاغذوں پر یہ پوزیشنیں قابلِ احترام ضرور ہیں مگر پس منظر کو دیکھتے ہوئے اتنی متاثر کن نہیں۔
پاکستان آخری مرتبہ 2015 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچا تھا۔ ایشیا کپ کا آخری ٹائٹل 2012 میں میرپور میں جیتا گیا جبکہ آئی سی سی کا آخری ٹی ٹوئنٹی عالمی ٹائٹل 2009 میں حاصل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان صرف ایک مرتبہ 2022 میں میلبرن میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل تک پہنچا جہاں اسے انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی قیادت میں پاکستان نے مجموعی طور پر ایک معقول ریکارڈ بنایا ہے۔ ان کی کوچنگ میں ٹیم نے 15 ون ڈے میچوں میں 9 فتوحات حاصل کیں جبکہ 39 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 26 کامیابیاں سمیٹیں۔ تاہم یہ اعداد و شمار اس وقت کم متاثر کن محسوس ہوتے ہیں جب مضبوط حریفوں کے خلاف کارکردگی دیکھی جائے۔ اعلیٰ رینکنگ والی ٹیموں کے خلاف پاکستان نے ون ڈے میں صرف چار فتوحات حاصل کیں اور دو میچ ہارے جبکہ ٹی ٹوئنٹی میں پانچ کامیابیاں، چھ شکستیں اور نیوزی لینڈ کے خلاف ایک میچ نتیجہ خیز نہیں رہا۔
دوسری جانب پاکستان مسلسل چوتھے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں بھی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اسی طرح 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ، آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025، اور 2024 و 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کی مہم نے بہتری سے زیادہ مایوسی کو جنم دیا۔
یہ وہی پاکستان ہے جس نے 2016 میں ٹیسٹ کرکٹ میں دنیا کی نمبر ایک ٹیم کا اعزاز حاصل کیا، 2019 میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رینکنگ میں پہلی پوزیشن سنبھالی اور مئی 2023 تک ون ڈے کرکٹ میں بھی دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گیا تھا۔یعنی یہ کامیابیاں کوئی بہت پرانی تاریخ نہیں۔
اسی لیے موجودہ تنزلی کا سفر پہلے سے کہیں زیادہ تشویشناک محسوس ہوتا ہے
اولمپک کوالیفائر، ایشیا کپ، ورلڈ کپ ، غلطی کی کوئی گنجائش نہیں
آئی سی سی نے پاکستان سمیت دنیا کی آٹھ بڑی ٹیموں کو 2028 کے لاس اینجلز اولمپکس میں جگہ بنانے کا موقع فراہم کیا ہے۔پاکستان اس موقع کو ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اسی کے ساتھ اسے بنگلہ دیش کی سرزمین پر کھیلے جانے والے ایشیا کپ میں بھی مضبوط واپسی کرنا ہوگی جہاں شائقین کی توقعات کے مطابق کم از کم فائنل تک رسائی ہی قابلِ قبول نتیجہ سمجھی جائے گی۔
اور پھر سب سے بڑا امتحان آئے گا ون ڈے ورلڈ کپ۔
سیمی فائنل سے کم کوئی بھی نتیجہ اس ٹیم کے لیے ایک اور بڑا دھچکہ ہوگا، جس کے مداح پہلے ہی کئی مایوس کن عالمی مہمات کا دکھ جھیل چکے ہیں۔
اگر پاکستان ان تینوں ٹورنامنٹس میں ناکام رہا تو یہ محض ایک خراب سال نہیں ہوگا۔ یہ اس خدشے کو مزید تقویت دے گا کہ پاکستان کی وائٹ بال کرکٹ ایک طویل زوال کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
وہ اولمپک موقع جس پر کم بات ہو رہی ہے۔
تقریباً 128 برس بعد کرکٹ ایک بار پھر اولمپک کھیلوں کا حصہ بن رہا ہے۔ کوالیفکیشن کا راستہ انتہائی سخت ہے۔ آٹھ ٹیمیں اور صرف ایک نشست۔
پاکستانی شائقین اپنی ٹیم کو دنیا کے سب سے بڑے اسپورٹس اسٹیج پر بھارت کے خلاف کھیلتے اور اسے شکست دیتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ لاس اینجلز میں بھارت میدان میں ہو اور پاکستان گھر بیٹھا رہ جائے۔
تاریخ ایک واضح وارننگ بھی دیتی ہے۔
پاکستان ہاکی کبھی اولمپکس پر حکمرانی کرتی تھی۔ قومی ٹیم نے 1960، 1968 اور 1984 میں طلائی تمغے جیتے لیکن لندن 2012 کے بعد سے پاکستان بار بار اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہا ہے اور اب اس عالمی قوت کا محض سایہ بن چکا ہے جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ پاکستان کا تازہ ترین اولمپک طلائی تمغہ پیرس اولمپکس میں ارشد ندیم کی تاریخی جیولین تھرو کامیابی کے ذریعے آیا۔
اگر کرکٹ ایک صدی سے زیادہ عرصے بعد ملنے والا اپنا پہلا اولمپک موقع گنوا دیتا ہے تو پھر ایسے جواز بہت کم ہوں گے جو پاکستانی شائقین کو مطمئن کر سکیں
صرف گفتگو حکمتِ عملی نہیں ہوتی۔
پی سی بی یقیناً خاموش نہیں رہا۔ بورڈ کے عہدیدار مختلف پلیٹ فارمز پر آ کر اپنے فیصلوں کی وضاحت کرتے رہے ہیں اور عوام سے رابطہ رکھنا بذاتِ خود کوئی غلط بات نہیں۔
لیکن فیصلوں کی وضاحت کرنا اور مؤثر قیادت کا مظاہرہ کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ ایک دوسرے سے متضاد بیانات، غیر واضح پیغام رسانی، اور پاکستان کے سابق کپتان کے بارے میں عوامی سطح پر کیے گئے تبصروں نے انتظامیہ پر اعتماد کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید کمزور کردیا ہے۔
اعتماد اور ساکھ ایک بار مجروح ہو جائے تو اسے دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔
سب سے زیادہ نمایاں کمی ایک واضح اور جامع حکمتِ عملی کی ہے۔ ایشین گیمز کے لیے صاحبزادہ فرحان کی قیادت میں نئی شکل دی گئی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سلمان علی آغا کے مستقبل کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ بابر اعظم دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بن چکے ہیں، جبکہ یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ آیا وہ 2027 سے قبل ایکروزہ ٹیم کی قیادت بھی دوبارہ سنبھال سکتے ہیں یا نہیں؟ ۔
یہ سب نہایت اہم فیصلے ہیں لیکن ان کے ساتھ یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فیصلے اولمپک کوالیفائر، ایشیا کپ اور ورلڈ کپ کے مجموعی منصوبے میں کس طرح فٹ بیٹھتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کامیابی کا پیمانہ کیا ہوگا، اس مبہم یقین دہانی کے علاوہ کہ ٹیم درست سمت میں گامزن ہے۔
وہ ڈومیسٹک ڈھانچہ جو اس پورے نظام کی بنیاد ہونا چاہیے اب تک منظرِ عام پر نہیں آیا، حالانکہ 2026-27 کا ڈومیسٹک سیزن اگست میں شروع ہونا ہے۔ کھلاڑی ایسے راستوں کے ذریعے ترقی نہیں کر سکتے جن کی ابھی تک واضح تعریف ہی نہ کی گئی ہو اور کوچز بھی ایسے نظام کے مطابق منصوبہ بندی نہیں کر سکتے جو باضابطہ طور پر موجود ہی نہ ہو۔
اگر پاکستان کے کرکٹ منتظمین واقعی 2027 کے اہداف کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے پیش رفت اسی شعبے میں نظر آنی چاہی اور یہ کام اکتوبر میں نہیں بلکہ ابھی ہونا چاہیے۔
پاکستانی کرکٹ میں جب بھی نتائج خراب ہوتے ہیں تو برسوں سے ایک ہی روایت دوہرائی جاتی ہے۔ پرانے فیصلوں کو دوبارہ زیرِ بحث لایا جاتا ہے، کھلاڑیوں، کپتانوں اور کوچز پر ذمہ داری ڈالی جاتی ہے جبکہ انتظامی کمزوریوں کا نسبتاً کم احتساب ہوتا ہے۔
اب اس سلسلے کو ختم ہونا چاہیے۔ کھلاڑی، کپتان اور کوچز غیر مستقل منصوبہ بندی، غیر مستحکم سلیکشن پالیسیوں اور ناقص فیصلوں کے نتائج بہت عرصے سے بھگتتے آ رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ منتظمین کو بھی ایک مختلف معیار پر پرکھا جائے۔ ان کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہ ہو کہ وہ ماضی کی کتنی مؤثر وضاحت کرتے ہیں بلکہ یہ ہو کہ آیا وہ اولمپکس، ایشیا کپ اور ورلڈ کپ تک پہنچنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور واضح راستہ تشکیل دے سکتے ہیں یا نہیں۔
یہ مایوسی پر مبنی مؤقف نہیں ہے۔ پاکستان کے پاس اب بھی اس زوال کا رخ موڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔ مسئلہ کبھی بھی ٹیلنٹ کی کمی نہیں رہا۔ کھلاڑیوں کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے واضح سمت، استحکام اور ایک ایسا جامع روڈ میپ جو یہ بتائے کہ آئندہ تین بڑے ٹورنامنٹس میں کامیابی کیسے حاصل کی جائے گی۔
یہ کم از کم وہ توقع ہے جس کا حق شائقین، اسپانسرز اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ان لوگوں سے ہے جنہیں پاکستان کرکٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ برادری پاکستان کی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہی ہے اور ہر تاثر پاکستان کے حق میں نہیں جا رہا اس کے باوجود موقع اب بھی موجود ہے۔ ایک واضح حکمتِ عملی ترتیب دیجیے، لاس اینجلز اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیجیے، ایشیا کپ میں ٹائٹل کے لیے بھرپور مقابلہ کیجیے اور ون ڈے ورلڈ کپ میں آخری مراحل تک رسائی حاصل کیجیے۔
22 دسمبر 2022 تک پاکستان کرکٹ ایک پیشہ ور، منتخب بورڈ کے تحت چل رہی تھی مگر اس تاریخ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کی جگہ دو مینجمنٹ کمیٹیوں نے سنبھالی۔ منتخب چیئرمین کی واپسی 6 فروری 2024 کو ہوئی۔ تاہم 22 دسمبر 2022 سے شروع ہونے والا یہ دور، مینجمنٹ کمیٹیوں کے زمانے سے لے کر اس کے بعد تک مسلسل غیر یقینی اور ہنگامہ خیز رہا۔ اس عرصے میں ٹیم مینجمنٹ، کوچنگ اسٹاف، انتظامیہ اور نتائج میں بار بار تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں جبکہ زیادہ تر تنقید کا بوجھ کھلاڑیوں، کپتانوں اور کوچز نے ہی اٹھایا۔
اگر 2027 آ گیا اور پاکستان کرکٹ پھر بھی بغیر کسی واضح سمت کے کھڑی رہی تو احتساب کا ایک اور مرحلہ ضرور آئے گا مگر اس بار ذمہ داری کا آغاز ڈریسنگ روم سے نہیں بلکہ بورڈ روم سے ہونا چاہیے۔



Leave a Reply