ورلڈ کپ کا سال لیکن ڈومیسٹک کرکٹ میں 50 اوورز کا ٹورنامنٹ غائب
لاہور ۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے اگرچہ 27-2026 کے ڈومیسٹک کیلنڈر کو آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کی تیاریوں کے لیے موزوں قرار دیا ہے تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کا ورلڈ کپ سے قبل آخری طے شدہ ڈومیسٹک 50 اوورز کا ایونٹ عالمی کپ کے آغاز سے ایک سال سے بھی زیادہ پہلے کھیلا جائے گا۔
پی سی بی نے بدھ کے روز مردوں کے ڈومیسٹک سیزن کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے دو نئے لسٹ اے ٹورنامنٹس شامل کیے ہیں۔ چار ٹیموں پر مشتمل نیشنل چیمپینز کپ لسٹ اے ملتان میں 11 سے 18 اگست تک کھیلا جائے گا جس کے بعد کراچی میں21 اگست سے 8 ستمبر تک پریذیڈنٹ کپ لسٹ اے ٹورنامنٹ منعقد ہوگا تاہم دونوں ٹورنامنٹس کے فارمیٹس اور ٹیموں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
پی سی بی نے کہا ہے کہ
27-2026کے ڈومیسٹک کیلنڈر کا محور دو لسٹ اے ٹورنامنٹس ہیں، جن کے ذریعے سیزن کا آغاز ہوگا کیونکہ توجہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کی تیاریوں پر مرکوز ہے۔
تاہم 8 ستمبر 2026 کو پریزیڈنٹس کپ کے اختتام کے بعد پورا ڈومیسٹک سیزن فرسٹ کلاس کرکٹ کی طرف منتقل ہو جائے گا، جبکہ فروری اور مارچ میں ٹی20 ٹورنامنٹس کے ساتھ سیزن اختتام پذیر ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سال 2027 کے دوران کوئی بھی ڈومیسٹک لسٹ اے مقابلہ شیڈول میں شامل نہیں حالانکہ اسی سال پاکستان کو اے سی سی 50 اوورز ایشیا کپ اور آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2027 میں شرکت کرنی ہے۔
یوں ورلڈ کپ سے قبل پاکستانی کھلاڑیوں کو صرف تین ہفتوں سے بھی کم عرصے کی ڈومیسٹک ایک روزہ کرکٹ میسر ہوگی جس کے بعد ایک سال سے زائد کا وقفہ آ جائے گا۔ اس صورتحال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا یہ شیڈول واقعی 50 اوورز کی کرکٹ کے لیے مؤثر اور مسلسل تیاری فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ فرسٹ کلاس اور ٹی20 کرکٹ کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے اہم ہیں، لیکن دونوں فارمیٹس ون ڈے کرکٹ کی تکنیکی اور حکمتِ عملی پر مبنی ضروریات کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے۔
نیشنل ٹی20 کپ کو دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 12 ٹیموں پر مشتمل سلور مقابلے 5 سے 19 فروری تک جبکہ 10 ٹیموں پر مشتمل گولڈ مقابلے 23 فروری سے 6 مارچ تک لاہور میں ہوں گے۔ قمری کیلنڈر کی حتمی تصدیق سے مشروط دونوں ٹورنامنٹس کا بڑا حصہ ماہِ رمضان کے دوران ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب، پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پلیئرز ڈرافٹ کا انعقاد روایتی طور پر ٹورنامنٹ سے پہلے کیا جاتا ہے تاکہ فرنچائزز کو منصوبہ بندی کا وقت مل سکے۔ اس لیے امکان کم ہے کہ نیشنل ٹی20 کپ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی اسی سیزن کی پی ایس ایل ٹیموں کے انتخاب پر کوئی نمایاں اثر ڈال سکے۔ پی سی بی نے 2027 کی پاکستان سپر لیگ کی تاریخوں کا ابھی اعلان نہیں کیا اور کہا ہے کہ ان کا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔
ڈومیسٹک ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ سابق حنیف محمد ٹرافی کو ترقی دے کر قائداعظم ٹرافی سلور کا درجہ دیا گیا ہے جسے اب قائداعظم ٹرافی گولڈ کے ساتھ فرسٹ کلاس حیثیت حاصل ہوگی۔ دونوں ٹورنامنٹس ترقی اور تنزلیکے نظام کے تحت کھیلے جائیں گے۔
آٹھ ٹیموں پر مشتمل قائداعظم ٹرافی گولڈ اور 12 ٹیموں پر مشتمل قائداعظم ٹرافی سلور یکم نومبر سے بیک وقت شروع ہوں گی۔ گولڈ کی آخری پوزیشن پر آنے والی ٹیم اگلے سیزن میں سلور میں چلی جائے گی،جبکہ سلور کی فاتح ٹیم کو 2027-28 سیزن کے لیے گولڈ میں ترقی ملے گی۔
یہ ٹورنامنٹ نومبر میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان آئی سی سی فیوچر ٹورز پروگرام کے تحت شیڈول دو ٹیسٹ میچوں کی ہوم سیریز کے ساتھ بھی متصادم ہوگا جس کے باعث قومی ٹیم میں منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کی عدم دستیابی سے علاقائی ٹیمیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اداروں پر مشتمل پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ 12 ستمبر سے 28 اکتوبر تک کھیلا جائے گا جبکہ تین روزہ پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو مقابلے بھی اسی دوران بیک وقت 19 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔
پی سی بی نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ آیا گریڈ ٹو کے مقابلوں میں بھی ترقی اور تنزلی کا یہی نظام نافذ کیا جائے گا یا نہیں ؟



Leave a Reply