ڈھاکہ ٹیسٹ میں پاکستان کو 104 رنز سے شکست
ڈھاکہ ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اپنے تجربہ کار بیٹسمینوں کی انتہائی غیرذمہ دارانہ کارکردگی کا خمیازہ ڈھاکہ ٹیسٹ میں 104 رنز کی شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ بنگلہ دیش کو جیت سے ہمکنار کرنے والے ناہید رانا تھے جنہوں نے کریئر بیسٹ بولنگ کرتے ہوئے 40 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کو جیتنے کے لیے 268 رنز کا ہدف ملا تھا ۔چائے کے وقفے پر اس کا اسکور صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر 116 رنز تھا لیکن آخری سیشن میں اس کی 7 وکٹیں صرف 47 رنز کے اضافے پر گرگئیں اور پوری ٹیم 52 اعشاریہ5 اوورز میں صرف 163 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
بنگلہ دیش نے پاکستان کے خلاف یہ لگاتار تیسرا ٹیسٹ جیتا ہے۔ یاد رہے کہ 2024 کی سیریز میں اس نے دونوں ٹیسٹ جیتے تھے۔
پاکستان ، زمبابوے کے بعد دوسری ٹیم ہے جو بنگلہ دیش سے لگاتار تین ٹیسٹ میچ ہاری ہے۔
شان مسعود کی کپتانی میں پاکستان ٹیم ابتک 15 میں سے 11 ٹیسٹ میچز ہارچکی ہے۔
پاکستان کو پہلے ہی اوور میں امام الحق کی وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا جو 2 رنز بناکر تسکین احمد کی گیند پر لٹن داس کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
امام الحق کی سنچری کے بغیر یہ لگاتار 20 ویں اننگز تھی اس دوران انہوں نے 6 نصف سنچریاں بنائی ہیں جن میں دو نروس نائنٹیز ( 96 اور 93 ) بھی شامل ہیں
اذان اویس اور عبداللہ فضل نے دوسری وکٹ کی شراکت میں54 رنز کا اضافہ کیا۔یہ شراکت مہدی حسن میراز نے اذان اویس کو 15 رنز پر بولڈ کرکے ختم کی۔
کپتان شان مسعود کے لیے یہ ٹیسٹ مایوس کن رہا اور وہ پہلی اننگز میں 9 رنز کے بعد دوسری اننگز میں بھی 2 صرف رنز بناکر ناہید رانا کی گیند پر لٹن داس کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ پاکستان کی تیسری وکٹ 68 رنز پر گری۔
عبداللہ فضل نے ناہید رانا کو لگاتار تین چوکے لگاتے ہوئے اعتماد سے بیٹنگ کی تاہم چائے کے وقفے کے بعد ان کی11 چوکوں کی مدد سے 66 رنز کی اننگز تائج الاسلام نے ایل بی ڈبلیو کرکے ختم کردی۔
عبداللہ فضل چھٹے پاکستانی بیٹسمین ہیں جنہوں نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں پچاس سے زائد رنز اسکور کیے ہیں۔
اگلے ہی اوور میں سلمان علی آغا 26 رنز بناکر تسکین احمدکی گیند پر شادمان اسلام کو کیچ دے گئے۔
رضوان کو اگلی ہی گیند پر امپائر دھرما سینا نے ایل بی ڈبلیو دے دیا لیکن ریویو پر انہیں اپنا یہ فیصلہ تبدیل کرنا پڑا ۔ رضوان اس کے باوجود لمبی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکے اور 46 گیندوں پر 15 رنز بناکر ناہید رانا کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
اس سے قبل ناہید رانا سعود شکیل کو بھی 15 رنز پر لٹن داس کے ہاتھوں کیچ کراچکے تھے۔
تائج الاسلام نے حسن علی کو ایک رن پر ایل بی ڈبلیو کیا تو پاکستان کی یہ آٹھویں وکٹ 154 رنز پر گری اور پھر 158 کے اسکور پر ناہید رانا نے نعمان علی کو 4رنز پر ایل بی ڈبلیو کردیا اسطرح بنگلہ دیش کی جیت صرف ایک وکٹ کی دوری پر رہ گئی تھی اور یہ وکٹ بھی ناہید رانا نے شاہین آفریدی کو آؤٹ کرکے حاصل کرلی۔
ناہید رانا نے 9 اعشاریہ 5 اوورز کی بولنگ میں 40رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں جو ان کے ٹیسٹ کریئر کی بہترین بولنگ ہے۔ انہوں نے اپنے آخری اسپیل کے 4 اعشاریہ 5 اوورز میں صرف10 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے قبل میزبان ٹیم نے اپنی دوسری اننگز 240 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کردی تھی۔
اس اننگز کی خاص بات کپتان نجم الحسین شانتو کی عمدہ بیٹنگ تھی جنہوں نے 150 گیندوں پر7 چوکوں کی مدد سے 87 رنز بنائے۔وہ نعمان علی کو ریورس سوئپ کھیلنے کی کوشش میں ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ انہوں نے پہلی اننگز میں سنچری اسکور کی تھی۔اگر وہ دوسری اننگز میں بھی سنچری بنالیتے تو وہ سنیل گاوسکر رکی پونٹنگ اور ڈیوڈ وارنر کے بعد تین مرتبہ ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنانے والے چوتھے بیٹسمین بن جاتے۔
مشفق الرحیم چار چوکوں کی مدد سے 22 رنز بناکر حسن علی کی گیند پر مڈآن پر شان مسعود کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ لٹن داس کی وکٹ شاہین آفریدی کے حصے میں آئی۔
مہدی حسن میراز نے شاہین کو دو چوکوں اور نعمان کو ایک چھکے کے ذریعے جارحانہ جھلک دکھائی لیکن انہیں ایک چانس بھی ملا جب نعمان کی گیند پر رضوان انہیں اسٹمپڈ کرنے میں ناکام رہے لیکن نعمان ہی نے انہیں 24 رنز پر سلمان آغا کے ہاتھوں کیچ کرا کے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی 100 وکٹیں مکمل کرلیں۔
نعمان علی 39 سال اور 217 دن کی عمر میں ٹیسٹ کرکٹ میں سو وکٹیں مکمل کرنے والے سب سے عمر رسیدہ بولر ہیں۔اس سے قبل یہ ریکارڈ انگلینڈ کے بابی پیل کا تھا جنہوں نے 1896 میں 39 سال اور 182 دن کی عمر میں سو وکٹیں مکمل کی تھیں۔
نعمان علی نے 76 رنز دے کر3 وکٹیں حاصل کیں۔حسن علی 52 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ شاہین آفریدی نے دو جبکہ محمد عباس نے ایک وکٹ حاصل کی۔
نجم الحسین شانتو پلیئر آف دی میچ قرار پائے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا ٹیسٹ 16 مئی سے سلہٹ میں کھیلا جائے گا۔



Leave a Reply