URDUشان مسعود مسئلہ یا علامت ؟

شان مسعود مسئلہ یا علامت ؟

پاکستان بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ سیریز اور مسلسل چار ٹیسٹ میچ ہارچکا ہے اور اس نتیجے کے بعد شان مسعود کو کپتان کے عہدے سے ہٹانے کی آوازیں تیز ہو رہی ہیں اور بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے۔
16 ٹیسٹ میچوں میں 12 ناکامیاں اور صرف 4 کامیابیاں ۔ اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ میں سب سے خراب کپتانی ریکارڈ میں سے ایک ہے۔
لیکن بغیر سیاق و سباق کے اعداد و شمار گمراہ کن بھی ہو سکتے ہیں۔ شان کی کپتانی کے گرد جو ماحول رہا ہے وہ اتنا غیر مستحکم اور منتشر ہے کہ پاکستان کے زوال کو ایک فرد تک محدود کرنا اس کی گہرائی میں موجود ناکامیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
یہ شان مسعود کا دفاع نہیں ہے۔ یہ ایک کوشش ہے کہ تصویر کا ہر رخ دیکھا جائے۔
16 ٹیسٹ میچوں میں 5 کوچز
صرف 16 ٹیسٹ میچوں میں کپتان کے طور پر شان نے پانچ مختلف ہیڈ کوچز کے ساتھ کام کیا ہے۔
محمد حفیظ نے آسٹریلیا کے دورے میں نگرانی کی۔ جیسن گلیسپی نے بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز سنبھالی۔ عاقب جاوید جنوبی افریقہ کے دورے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز میں تھے۔ پھر اظہر محمود جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کے لیے آئے اور اب بنگلہ دیش کے دورے میں سرفراز احمد نے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری سنبھالی۔
کوچنگ میں تبدیلی میں نئے خیالات، حکمتِ عملی کی ترجیحات اور کھلاڑیوں سے تعلقات سامنے آتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایک کپتان سے تسلسل قائم کرنے، کلچر قائم کرنے یا طویل مدتی حکمت عملی مرتب کرنے کی توقع رکھنا غیر حقیقت پسندانہ ہے۔
اس کا موازنہ پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان مصباح الحق سے کریں۔ جنہوں نے 56 میچوں میں 26 کامیابیاں حاصل کیں۔ مصباح نے زیادہ تر ڈیوو واٹمور اور مکی آرتھر کے تحت کام کیا اور انہیں سپورٹ ملی۔ اس کامیابی کے پیچھے جو استحکام تھا وہ اسٹرکچرل تھا اتفاقیہ نہیں ۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا شان کو کامیاب ہونے کا منصفانہ موقع دیا گیا ہے ؟
سلیکشن کا نظام بغیر تسلسل کے۔
یہ عدم استحکام کوچنگ سے آگے بھی نظرآتا ہے۔
شان کی کپتانی کے دور میں تقریباً درجن بھر سابق کرکٹرز پاکستان کی سلیکشن کمیٹی میں آتے گئے جو دو سال سے زیادہ عرصے سے مستقل چیف سلیکٹر کے بغیر کام کر رہی ہے۔
شان کی کپتانی میں نو کھلاڑیوں نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ کئی کرکٹرز تو فوراً غائب ہوگئے۔ کامران غلام نے انگلینڈ کے خلاف ڈیبیو میں سنچری بنائی اور انہیں نکال دیا گیا۔ آصف آفریدی نے جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے واحد ٹیسٹ میں چھ وکٹیں حاصل کیں اور انہیں باہر کر دیا گیا۔
پاکستان نے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز سے پہلے چھ مختلف اوپننگ کامبی نیشنز بھی استعمال کیے جن میں عبداللہ شفیق، امام الحق، صائم ایوب، شان خود، بابر اعظم اور محمد ہریرہ شامل تھے۔
اسے آپ کسی طور بھی تسلسل نہیں کہہ سکتے۔

خود شان بھی طویل عرصے سے اسی غیر مستقل مزاجی کا حصہ ہیں۔ اکتوبر 2013 میں ابوظہبی میں ڈیبیو کرنے کے بعد انہوں نے پاکستان کے 93 ٹیسٹ میں سے صرف 46 کھیلے ہیں۔ اپنی تکنیکی صلاحیت کے کھلاڑی کو ایک زیادہ مستحکم نظام میں 2,653 ٹیسٹ رنز سے کہیں زیادہ حاصل کرنے چاہئیں تھے۔
اس کے بجائے، ان کا کریئر ایک معروف پاکستانی نمونے کی پیروی کرتا رہا ہے منتخب کیا گیا، ڈراپ کیا گیا، دوبارہ بلایا گیا اور پھر دوبارہ ڈراپ کیا گیا۔ جب وہ کپتان بنے اس وقت بھی وہ ٹیم میں اپنی جگہ کو دوبارہ مضبوط کر رہے تھے۔
پی سی بی کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے مداحوں، میڈیا اور سابق کھلاڑیوں کے دباؤ کے باوجود فوری طور پر انہیں ہٹانے کے معروف رجحان کی مزاحمت کی ہے لیکن کیا یہ شان کی قیادت پر حقیقی یقین کی عکاسی کرتا ہے یا صرف متبادل نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہے۔
مصروف کرکٹ کا کیلنڈر
26-2025 کے پاکستان کرکٹ کیلنڈر سے بنیادی مسئلہ نمایاں ہوتا ہے۔
اگست 2025 اور اپریل 2026 کے درمیان پاکستان کے کھلاڑی سات ماہ میں چھ ڈومیسٹک ٹورنامنٹس سے گزرے جن میں حنیف محمد ٹرافی، قائداعظم ٹرافی، پریذیڈنٹ ون ڈے ٹورنامنٹ، پریذیڈنٹ ٹرافی، نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ اور پاکستان سپر لیگ شامل ہیں۔
اسی دوران بین الاقوامی کرکٹ بھی جاری تھی جب پاکستان نے اکتوبر میں جنوبی افریقہ کی میزبانی کی اور بعد میں سری لنکا کے خلاف دو وائٹ بال سیریز میں حصہ لیا ۔ سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز، آسٹریلیا، آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور بنگلہ دیش۔ مختلف تربیتی کیمپس کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
نتیجہ متوقع تھا۔ کھلاڑی بنگلہ دیش پہنچے تھکے ہوئے اور ریڈ بال کرکٹ کے لیے تیار نہ تھے۔
پاکستان کے پچھلے ٹیسٹ میچ راولپنڈی اور میرپور کے درمیان سات ماہ کا وقفہ آرام یا تیاری کا عرصہ نہیں تھا۔ یہ دیگر فارمیٹس میں مسلسل کرکٹ کا وقت تھا۔
بابر اعظم کے گھٹنے کی چوٹ اکیلے سامنے نہیں آئی۔پاکستان کے تجربہ کار فاسٹ بولر شاہین آفریدی جنہوں نے 2018 سے 2024 کے درمیان 31 ٹیسٹمیں 116 وکٹیں حاصل کیں اپنے آخری چار ٹیسٹ میچوں میں صرف 10 وکٹیں حاصل کی ہیں اور انہیں چوٹ کے خدشات اور ورک لوڈ منیجمنٹ کی وجہ سے کھیلنے کے مواقع بھی کم ہوئے۔
نسیم شاہ جو فروری 2020 میں اپنے چوتھے ہی ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کے خلاف ہیٹ ٹرک کرنے والے سب سے کم عمر بولر بنے لیکن اس کے بعد سے 2024 میں جنوبی افریقہ کے خلاف باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے علاوہ کوئی ٹیسٹ نہیں کھیلے۔ انہوں نے 20 ٹیسٹ میں 60 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
جب کوئی ٹیم تھکن، انجریز، ناکافی ریڈ بال تیاری اور غیر مستقل سلیکشن کے ساتھ ایک مشکل غیر ملکی دورے پر جاتی ہے تو نتائج پر حیران نہیں ہونا چاہیے اور بنگلہ دیش کو تو شیڈول کا آسان حصہ سمجھاگیا تھا۔
شان کس چیز کے ذمہ دار ہیں ؟
ان سب سے شان مسعود بری نہیں ہو جاتے۔
ان کی کپتانی خاص طور پر سِلہٹ میں ایک بار پھر زیرِ غور آئی ہے جب انہوں نے بنگلہ دیش کو پہلی اننگز میں 116 رنز چھ کھلاڑی آؤٹ سے 278 تک اور دوسری اننگز میں 272 رنز چھ کھلاڑی آؤٹ سے 390 تک پہنچانے کا موقع دے دیا۔ اگست 2024 میں راولپنڈی میں اسی ٹیم کے خلاف پاکستان پہلا ٹیسٹ 10 وکٹوں سے ہارا تھا جب اپنی پہلی اننگز 448 رنز چھ کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلیئر کرنے کے بعد اور پھر دوسرا ٹیسٹ چھ وکٹوں سے ہارا تھا جب بنگلہ دیش کی پہلی اننگز میں 26 رنز پر چھ کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے۔
شان کی ڈی آر ایس منجمنٹ نے بار بار پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے۔ سب سے زیادہ قابل ذکر لٹن داس کا سلہٹ میں 52 رنز پر۔ جبکہ دیگر فیصلے بھی ناقص تھے۔ کپتان آخری فیصلہ کرتا ہے، اور یہ پیٹرن نظر انداز کرنے کے لیے بہت مستقل ہو چکا ہے۔
ان کی بیٹنگ نے بھی قیادت کی مثال فراہم کرنے میں ناکامی دکھائی جس کی پاکستان کو ضرورت تھی۔ بنگلہ دیش میں ان کے اسکورز میرپور میں 9 اور 2 اور سلہٹ میں 21 اور 71 ، کپتان کے اعلی معیار کے مطابق نہیں تھے۔ بحیثیت کپتان انہوں نے 34 کی اوسط سے 1,056 رنز اسکور کیے ہیں۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ شان نے بطور کپتان اپنے 16 ٹیسٹ میں سے صرف دو میں اوپننگ کی ہے۔ حالانکہ بطور اوپنر اس کا ریکارڈ نسبتاً بہتر ہے جہاں انہوں نے 54 اننگز میں 5 سنچریوں اور 6 نصف سنچریوں کی مدد سے 1576رنز بنائے ہیں جبکہ نمبر تین پر 30 اننگز میں ان کے 1003 رنز ایک سنچری اور 8 نصف سنچریوں کی مدد سے ہیں۔
ان کی کپتانی کا فیصلہ کن لمحہ سلہٹ میں میچ شروع ہونے سے پہلے ہی آ گیا تھا۔
اذان اویس نے میرپور میں اپنے ڈیبیو میچ میں سنچری اسکور کی جبکہ عبداللہ فضل نے نمبر تین پر 60 اور 68 رنز بنائے۔ شان کے پاس واضح آپشن تھا خود کو اذان کے ساتھ اوپننگ آرڈر میں لے جانا اور فضل کو اس رول میں کھیلنے دینا جہاں وہ پہلے ہی کامیاب ہو چکے تھے۔ اس کے بجائے شان نے نمبر تین اپنے لیے برقرار رکھا اور دو ناتجربہ کار کھلاڑیوں کو ناہید رانا، شریف الاسلام اور تسکین احمد کے سامنے اوپننگ کے لیے بھیج دیا۔وہ بھی ایک ایسے ٹیسٹ میں جہاں پاکستان کو جیت کی اشد ضرورت تھی۔
یہ بھی ایک سوال ہے کہ اختیار ہے یا نہیں؟ اگر شان کے پاس سلیکشنز پر اثر نہیں تھا تو یہ نظام کی خرابی کی عکاسی کرتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ اس بات کی بھی نشاندہی ہے کہ وہ اپنے گرد کے ڈھانچے کے اندر خود کو اہم ثابت میں ناکام ہوئے ہیں۔
قیادت صرف ان حالات کے بارے میں نہیں ہے جو آپ کو وراثت میں ملتے ہیں۔ یہ اس بات کے بارے میں ہے کہ آپ ان حالات کے ساتھ کتنی مضبوطی سے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
اگلا مرحلہ کیا ہے؟
پاکستان کرکٹ کے لیے وسیع تر تشویش یہ ہے کہ بنگلہ دیش اب اس سائیکل میں غیرمتوقع طور پر سب سے نچلے مقام پر نہیں ۔
ویسٹ انڈیز مشکل حالات میں رفتار اور باؤنس سے پاکستان کے بیٹرز کا امتحان لے گی۔ انگلینڈ لارڈز، ایجبسٹن اور ہیڈنگلے میں تکنیکی نظم و ضبط اور ذہنی استقامت کا تقاضا کرے گا جو اس بیٹنگ آرڈر نے ابھی تک نہیں دکھایا۔
پاکستان اس سات ٹیسٹ میچوں کی بیرون ملک مہم میں اس امید کے ساتھ داخل ہوا تھا کہ وہ آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 27۔ 2025 کے فائنل تک لارڈز میں پہنچے گا۔ یہ بلند حوصلہ اب تقریباً ختم ہو چکا ہے جو باقی پانچ ٹیسٹ ہیں وہ کریئر، شہرت اور پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی مستقبل کی سمت متعین کریں گے۔
دباؤ کے تحت ایک بیٹنگ آرڈر کا ناکام ہونا اچانک برج ٹاؤن یا برمنگھم میں یقین دہانی دوبارہ حاصل نہیں کرے گا۔ ایک سلیکشن ڈھانچہ جس میں تسلسل نہیں ہے، زیادہ دباؤ کے تحت اچانک مربوط نہیں ہو جائے گا۔
یہ الگ تھلگ ناکامیاں نہیں ہیں۔ یہ طویل عرصے کے عدم استحکام کے مجموعی نتائج ہیں۔
فیصلہ۔
ٹیسٹ کپتان کے طور پر شان مسعود کے خلاف کیس حقیقی ہے۔ 16 میچوں میں 12 شکست کو صرف سیاق و سباق کے ذریعے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ان کے گرد موجود نظام کے خلاف کیس بھی اتنا ہی مضبوط ہے اور اس کو کم کثرت سے تسلیم کیا جاتا ہے۔
کوچز کی بار بار تبدیلی ، غیر مستحکم سلیکشن عمل، بہت زیادہ مصروف کرکٹ کیلنڈر اور غیر مستقل ٹیم مینجمنٹ ڈھانچہ پاکستان کی ناکامیوں کے لیے بہانے نہیں ہیں۔ یہ ان کی مرکزی وجوہات ہیں۔
پاکستان کرکٹ طویل عرصے سے ادارتی زوال کی وضاحت کے لیے انفرادی شخص کو تلاش کرتی رہی ہے۔ شان مسعود شاید اس سلسلے کی تازہ ترین مثال بن جائیں لیکن جب تک بنیادی عدم استحکام کو حل نہیں کیا جاتا۔
انہیں تبدیل کرنے کا مطلب یہی ہوگا کہ موجودہ مسائل اگلے کپتان کو منتقل ہو جائیں گے۔
نظام کو درست کیے بغیر کپتان تبدیل کرنا جوابدہی نہیں ہے بلکہ اسے بار بار دوہرانا ہے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.