آئی سی سی کا منافع بخش منصوبہ لیکن پاکستان کو اپنی اہمیت منوانی ہوگی
یہ بظاہر ایک خوش فہمی محسوس ہو سکتی ہے لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل( آئی سی سی ) نے خاموشی سے ایک نہایت منافع بخش امکان کی بنیاد رکھ دی ہے۔
آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2027 میں جو نمیبیا، جنوبی افریقہ اور زمبابوے کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا، پاکستان اور بھارت زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔
ایڈنبرا میں آئی سی سی کی حالیہ سالانہ کانفرنس میں منظور کی گئی بڑی تبدیلیوں کے تحت 14 ٹیموں پر مشتمل 2027 کے ورلڈ کپ کو اس کے ابتدائی مجوزہ فارمیٹ سے ہٹا کر ایک نئے تین مرحلوں پر مشتمل نظام میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
اگر پاکستان اور بھارت کو دوسرے مرحلے ( راؤنڈ 2 ) کے دوران چھ ٹیموں کے ایک ہی گروپ میں رکھا گیا تو دونوں ٹیمیں گروپ مرحلے میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ اگر دونوں ٹیمیں نئے تشکیل دیے گئے سپر 7 راؤنڈ روبن مرحلے کے لیے کوالیفائی کر جاتی ہیں تو ان کا دوسرا مقابلہ ہوگا جبکہ تیسرا سامنا ممکنہ طور پر ناک آؤٹ مرحلے میں یعنی سیمی فائنل یا فائنل میں ہو سکتا ہے۔
ایسا منظرنامہ ہم حال ہی میں اے سی سی ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2025 میں دیکھ چکے ہیں جہاں پاکستان اور بھارت گروپ مرحلے، سپر فور اور پھر فائنل میں تین مرتبہ آمنے سامنے آئے تھے۔ اگرچہ بھارت نے تینوں مقابلے جیتے لیکن ایونٹ کے منتظمین اور براڈکاسٹرز نے اس روایتی مقابلے سے بھرپور مالی فائدہ اٹھایا۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آخری دوطرفہ سیریز 13-2012میں کھیلی گئی تھی۔
ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں یہ تبدیلی جو پاکستان اور بھارت کے درمیان تین ممکنہ مقابلوں کی گنجائش پیدا کرتی ہے اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ یہ مقابلے آئی سی سی ایونٹس کا سب سے قیمتی تجارتی اثاثہ ہیں۔ ان مقابلوں سے کروڑوں ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی ہے جسے بعد ازاں ایک متفقہ فارمولے کے تحت ٹیسٹ اور غیر ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
اس اسٹرکچرل تبدیلی سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا یہ مؤقف بھی مزید مضبوط ہونا چاہیے کہ اسے آئی سی سی کے ریونیو ڈسٹری بیوشن ماڈل میں زیادہ حصہ ملنا چاہیے۔
اس وقت پی سی بی کو سالانہ تقریباً 34.51 ملین ڈالرز ملتے ہیں جو بھارت کے 231 ملین ڈالرز انگلینڈ کے 41.33 ملین ڈالرز اور آسٹریلیا کے 37.53 ملین ڈالرز کے بعد چوتھے نمبر پر ہیں۔
اس نئے فارمیٹ کے بعد پی سی بی کو چاہیے کہ وہ اگلے چار سالہ مالیاتی دور کے لیے اپنے حصے میں اضافے کی بھرپور مہم چلائے۔ فلسفہ بالکل سادہ ہے تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ بھارت بلاشبہ اپنی بے مثال مالیاتی صلاحیت کی وجہ سے سب سے بڑے حصے کا حقدار ہے لیکن پاکستان بھی بجا طور پر دوسرے سب سے بڑے حصے کا مستحق ہے۔ بھارت کے مقابل پاکستان کی موجودگی ہی وہ عنصر ہے جس کی بدولت آئی سی سی نشریاتی حقوق، عالمی اسپانسرشپ اور ٹکٹوں کی فروخت سے غیرمعمولی آمدنی حاصل کرتی ہے۔
ایڈنبرا میں کیے گئے فیصلے واضح طور پر اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ آئی سی سی کی اولین ترجیح اپنے تجارتی حقوق کی زیادہ سے زیادہ مالی قدر حاصل کرنا ہے۔ حال ہی میں جیو اسٹار انڈیا کی جانب سے زی انٹرٹینمنٹ کے خلاف ناکام براڈکاسٹنگ معاہدے پر ایک ارب امریکی ڈالر سے زائد ہرجانے کے دعوے کے بعد آئی سی سی کے مستقبل کے میڈیا رائٹس غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایسے میں بڑے، پرکشش اور یقینی طور پر ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرنے والے مقابلوں کی ضمانت دینا اب محض ایک ترجیح نہیں بلکہ مالیاتی ضرورت بن چکا ہے۔
یہ تجارتی حکمتِ عملی صرف ون ڈے فارمیٹ تک محدود نہیں۔
آئی سی سی نے 2028 کے لاس اینجلز اولمپکس کے لیے کوالیفکیشن کا راستہ بھی واضح کر دیا ہے جس کےتحت 2027 میں آٹھ ٹیموں پر مشتمل آئی سی سی اولمپک کوالیفائر کھیلا جائے گا۔ اگرچہ بھارت کی خواتین ٹیم پہلے ہی اولمپکس کے لیے کوالیفائی کر چکی ہے اور مردوں کی ٹیم بھی غالب امکان ہے کہ آئی سی سی درجہ بندی کے ذریعے براہِ راست جگہ حاصل کر لے گی لیکن پاکستان کی نیوزی لینڈ، افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسی ٹیموں کے ساتھ اس کوالیفائر میں شرکت براڈکاسٹرز کو مزید ہائی پروفائل اور فیصلہ کن مقابلے فراہم کرے گی جس سے آئی سی سی کی تجارتی معاملات طے کرنے کی طاقت مزید مضبوط ہوگی۔
اگرچہ بورڈ روم کی منصوبہ بندی ایک ممکنہ تین مقابلوں پر مشتمل پاک بھارت مقابلے کی راہ ہموار کر رہی ہے تاہم میدان کی حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ورلڈ کپ میں ان دونوں روایتی حریفوں کے درمیان تین مقابلوں کا امکان انتظامی اور کاروباری حلقوں کے لیے بے حد پرکشش ہو سکتا ہے لیکن موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کرکٹ مبصرین اسے محض خوش فہمی قرار دے سکتے ہیں۔ آئی سی سی کی ون ڈے ٹیم رینکنگ میں سرفہرست بھارت کو پانچویں نمبر پر موجود پاکستان پر 19 درجہ بندی پوائنٹس کی واضح برتری حاصل ہے۔
اکیسویں صدی میں دونوں ٹیمیں 51 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیل چکی ہیں جن میں بھارت نے 29 جبکہ پاکستان نے 21 میں کامیابی حاصل کی جبکہ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ اگرچہ مجموعی تاریخی ریکارڈ میں پاکستان کو اب بھی 58 کے مقابلے میں 73 فتوحات کی برتری حاصل ہے لیکن عالمی ایونٹس میں بھارت نے مکمل غلبہ قائم کر لیا ہے۔ بھارت نے ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف اپنے تمام آٹھ مقابلے جیتے ہیں جن میں 1992، 1996، 1999، 2003، 2011، 2015، 2019 اور 2023 کے ورلڈ کپ شامل ہیں۔
اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ سیاسی تعلقات بہتر بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے لیکن دونوں بورڈز کو اس تعطل کی مالی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ بی سی سی آئی نے تاحال پاکستان کے 13-2012 کے وائٹ بال دورے کا جواب دیتے ہوئے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ زیادہ آمدنی حاصل کرنے کے لیے آئی سی سی کی جانب سے ٹورنامنٹ فارمیٹ میں کی گئی تبدیلیاں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ اگر دونوں ممالک 2003 سے 2009 تک جاری ہوم اینڈ اوے دوطرفہ سیریز کی روایت برقرار رکھتے تو دونوں بورڈز اربوں روپے کی اضافی آمدنی حاصل کر سکتے تھے۔
یہ مسلسل تعطل نہ صرف دونوں بورڈز کی مالی صورتحال کو متاثر کر رہا ہے بلکہ خطے میں کرکٹ کی ترقی کی رفتار بھی سست کر چکا ہے جس کے نتیجے میں بھارت اور دیگر ٹیسٹ کھیلنے والے ممالک کے درمیان کارکردگی کا فرق مزید بڑھ گیا ہے۔
موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے شاید پاکستان اور بھارت آئی سی سی کے اس خواب کو حقیقت کا روپ نہ دے سکیں کہ وہ ایک ہی ورلڈ کپ میں تین مرتبہ آمنے سامنے آئیں لیکن زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے کے لیے ٹورنامنٹ کی تخلیقی تشکیل پر آئی سی سی یقیناً داد کی مستحق ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی عالمی کرکٹ میں اپنی حقیقی اہمیت کو سمجھے۔
حالیہ برسوں میں اوسط درجے کی کارکردگی کے باوجود پاکستان اب بھی کرکٹ کے سب سے قیمتی تجارتی معاملات کا لازمی حصہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پی سی بی محض ایک شریکِ کی طرح رویہ اختیار کرنے کے بجائے اپنی اصل اہمیت کو پہچانے، اپنے مفادات کا بھرپور دفاع کرے اور عالمی کرکٹ میں اپنے مقام کے مطابق مؤثر کردار ادا کرے۔



Leave a Reply