ویسٹ انڈیز کو 155 رنز کی برتری ، شان مسعود کی سنچری ، عباس کی تین وکٹیں
تاروبا ۔ شان مسعود کی سنچری اور جسٹن گریوز کی کریئر بیسٹ بولنگ کے بعد پاکستانی بولرز کے جوابی وار کے نتیجے میں ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ میں اپنی دوسری اننگز میں 7 وکٹوں پر 126 رنز بنائے تھے اور اس کی7 وکٹیں گرچکی تھیں اس طرح اسے 155 رنز کی برتری حاصل ہے اور اس کی صرف 3 وکٹیں باقی ہیں۔
شمر جوزف 22 اور کیمار روچ 5رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔
ویسٹ انڈیز کی ٹیم ابتدا ہی سے پاکستانی بولرز کے دباؤ میں رہی ۔ محمد عباس کے ایک ہی اوور میں اس نے دو وکٹیں گنوادیں ۔ برینڈن کنگ 5 رنز بناکر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ ہوئے اور پھر کے ویم ہوج بھی بغیر کوئی رن بنائے محمد رضوان کو کیچ دے گئے۔
عامر جانگو 4 رنز بناکر محمد علی کی گیند پر انہی کے ہاتھوں کیچ ہوئے اور جب خرم شہزاد نے شے ہوپ کو 10 رنز بولڈ کیا تو ویسٹ انڈیز کا اسکور 4 وکٹوں پر 43 رنز تھا۔
80 رنز پر میزبان ٹیم کی پانچویں وکٹ گری جب سست روی سے بیٹنگ کرنے والے چندر پال 35 رنز بناکر عامر جمال کی گیند پر علی عثمان کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
صرف 5 رنز کے اضافے پر محمد عباس نے اننگز میں اپنی تیسری وکٹ جسٹن گریوز کو 20رنز پر بابراعظم کے ہاتھوں کیچ کراکر حاصل کی۔
ویسٹ انڈیز کی ساتویں وکٹ 93 رنز پر گری جو کپتان روسٹن چیز کی تھی جنہیں خرم شہزاد نے 8رنز پر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔
محمد عباس نے 14 رنز دے کر 3 اور خرم شہزاد نے 36رنز کے عوض 2وکٹیں حاصل کی ہیں۔
اس سے قبل پاکستان نے 199 رنز3 کھلاڑی آؤٹ پر اپنی پہلی اننگز شروع کی اور پوری ٹیم 282 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی اس طرح ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں29 رنز کی برتری حاصل ہوگئی ۔
شان مسعود ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلی اور مجموعی طور پرساتویں ٹیسٹ سنچری مکمل کرنے میں کامیاب ہوگئے تاہم پہلے سیشن کے آخری آدھے گھنٹے میں ویسٹ انڈیز کو ایک کے بعد ایک کامیابی ملتی چلی گئی۔اس آدھے گھنٹے میں پاکستان کی 5 وکٹیں صرف 15 رنز کے اسکور پر گرگئیں۔
سلمان علی آغا 20 رنز بناکر شمر جوزف کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
اگلے ہی اوور میں جسٹن گریوز نے شان مسعود کو بولڈ کرکے ان کی 109 رنز کی اننگز کا خاتمہ کردیاجس میں 12 چوکے شامل تھے۔
جسٹن گریوز اس کے بعد ایسے چھائے کہ اپنے اگلے چار اوورز میں بھی وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے پہلے عامر جمال کو 3 رنز پر بولڈ کیا۔اگلا شکار علی عثمان تھے جو بغیر کوئی رن بنائے ایل بی ڈبلیو ہوئے اور پھر سب سے اہم وکٹ محمد رضوان کی تھی جنہیں گریوز نے 12 رنز پر ہوپ کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔
اسوقت تک گریوز نے 6 اوورز کے اسپیل میں صرف 9 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کرڈالی تھیں لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی انہوں نے کھانے کے وقفے کے بعد اپنے پہلے ہی اوور میں محمد عباس کو بھی صفر پر ہوپ کے ہاتھوں کیچ کراکر پہلی مرتبہ ٹیسٹ کی اننگز میں پانچ وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کرلیا ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کے پانچ وکٹوں والے یہ تمام پانچوں اوورز میڈن تھے۔
انہوں نے 27 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں۔ اس سے قبل ان کی بہترین بولنگ 39 رنز کے عوض 3 وکٹیں تھی۔
خرم شہزاد 19 رنز پر کیمار روچ کی دوسری وکٹ اور وکٹ کیپر شے ہوپ کا اننگز میں چوتھا کیچ بنے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کی اننگز بھی اختتام کو پہنچی۔شمرجوزف دو اور جیڈن سیلز ایک وکٹ حاصل کرپائے۔



Leave a Reply