URDUسرفراز احمد اور عمر گل برطرف ، حقیقت پسندانہ فیصلہ یا اپنی کوتاہیاں چھپانے کا معاملہ ؟

سرفراز احمد اور عمر گل برطرف ، حقیقت پسندانہ فیصلہ یا اپنی کوتاہیاں چھپانے کا معاملہ ؟

ایک انتہائی غیر معمولی اقدام کے طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے پیر کے روز ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور فاسٹ بولنگ کوچ عمر گل کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا ہے۔ ان کی جگہ انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے لیے بالترتیب وائٹ بال ٹیم کی کوچنگ جوڑی مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔

سرفراز احمد اور عمر گل کو جو پاکستان کے سب سے زیادہ قابلِ احترام اور ممتاز کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں ہٹانے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کو ہیڈنگلے ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ لارڈز ٹیسٹ میں بھی اسے 194 رنز سے شکست ہوئی۔ تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں شروع ہوگا۔

صورتحال نے ایک اور ڈرامائی موڑ اس وقت لیا جب سلمان علی آغا سمیت سات کھلاڑیوں کو بتایا گیا کہ وہ برمنگھم کا سفر نہیں کریں گے بلکہ لندن سے واپس پاکستان روانہ ہوں گے۔

سلمان نے ہیڈنگلے ٹیسٹ میں پاکستان کی قیادت کی تھی تاہم لارڈز ٹیسٹ میں انہیں ڈراپ کر دیا گیا۔ اس کے باوجود لارڈز میں انہوں نے متبادل فیلڈر کے طور پر شاندار کیچ پکڑ کر ہیڈ لائنز بنائیں جب انہوں نے تھرڈ سلپ میں جارڈن کاکس کا انتہائی شاندار کیچ لیا۔ سلمان پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کپتان بھی ہیں تاہم رواں ماہ ایشین گیمز میں ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کریں گے۔

لندن سے پاکستان واپس آنے والے دیگر چھ کھلاڑیوں میں عامر جمال، علی عثمان، اویس ظفر، امام الحق، محمد رضوان اور خرم شہزاد شامل ہیں۔

ان کھلاڑیوں کی جگہ عبداللہ فضل عرفات منہاس محمد عمران جونیئر، سعدبیگ محمد عمران رندھاوا، رضاء اللہ اور صائم ایوب کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

عرفات منہاس، عمران جونیئر، عمران رندھاوا اور رضاء اللہ نے ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی جبکہ صائم ایوب نے آخری مرتبہ جنوری 2025 میں کیپ ٹاؤن میں ٹیسٹ کھیلا تھا جہاں وہ ٹخنے کی انجری کا شکار ہوگئے تھے۔ عبداللہ فضل کو ابتدائی طور پر ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے منتخب کیا گیا تھا، تاہم تاروبا میں کمر کی انجری کے باعث انہیں وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔ عرفات منہاس پاکستان کی جانب سے تین ون ڈے اور چار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں

اویس اور عامر دونوں پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں شرکت کیے بغیر اسکواڈ سے رخصت ہوں گے جبکہ علی عثمان، رضوان اور خرم نے ہیڈنگلے اور لارڈز دونوں ٹیسٹ میچوں میں شرکت کی۔

امام الحق نے ہیڈنگلے ٹیسٹ کھیلا تھا اور لارڈز ٹیسٹ کے لیے بھی انہیں پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا تھا تاہم پنڈلی کی انجری کے باعث وہ بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اتر سکے۔ پی سی بی نے امام کی انجری کی نوعیت یا شدت کے حوالے سے کوئی تازہ معلومات فراہم نہیں کیں جس کے باعث میڈیا میں قیاس آرائیاں شروع ہوئیں اور اس صورتحال نے کھلاڑی اور ادارے دونوں کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔

سرفراز احمد جو آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان رہ چکے ہیں، اور پاکستان کے ممتاز ترین کرکٹرز میں شمار ہونے والے عمر گل کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر یقینی طور پر سخت سوالات اٹھائے جائیں گے۔ کرکٹ کی تاریخ میں کھلاڑیوں کو تادیبی بنیادوں پر وطن واپس بھیجا جاتا رہا ہے تاہم دورہ انگلینڈ کے دوران ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ دونوں کو برطرف کرنا بین الاقوامی کرکٹ میں ایک غیر معمولی اور انتہائی کم دیکھنے میں آنے والا واقعہ ہے۔

سرفراز کو مئی میں بنگلہ دیش کے دورے کے لیے ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا تاہم پی سی بی نے کبھی یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی تقرری کی مدت کتنی ہوگی ؟ ۔

جیسن گلیسپی آخری پاکستانی ریڈ بال کوچ تھے جنہیں باقاعدہ اشتہار کےعمل کے ذریعے مقرر کیا گیا تھا۔ عاقب جاوید، اظہر محمود جنہیں بولنگ کوچ سے ترقی دے کر ہیڈ کوچ بنایا گیا تاکہ وہ اپنے دو سالہ معاہدے کی مدت مکمل کر سکیں اور سرفراز، تینوں عبوری بنیادوں پر مقرر کیے گئے تھے۔

تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل کوچنگ اسٹاف کے دو ارکان کو برطرف کرنے اور سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجنے کا پی سی بی کا فیصلہ انگلش میڈیا کی جانب سے مزید توجہ حاصل کرنے کا امکان رکھتا ہے جو ہیڈنگلے ٹیسٹ سے قبل ہی پاکستان ٹیم پر خاصی تنقید اور کڑی نظر رکھے ہوئے تھا۔

سات کھلاڑیوں کو تبدیل کرنے کے فیصلے سے ڈیلی ٹیلیگراف کے اس تجزیے کو بھی تقویت ملتی ہے کہ یہ گزشتہ 50 برس میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستان کی کمزور ترین ٹیم تھی۔

اگرچہ پی سی بی نے ہیڈنگلے اور لارڈز میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کی ذمہ داری مؤثر طور پر کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف پر ڈال دی ہے، تاہم وہ افراد جو دورے کی منصوبہ بندی، ٹیم کی تشکیل اور مہم کے انتظام کے ذمہ دار تھے بدستور اپنے عہدوں پر موجود ہیں۔

سلیکٹرز نے اب انگلینڈ کے لیے ابتدائی طور پر منتخب کیے گئے اسکواڈ میں سات تبدیلیاں کر دی ہیں جبکہ وہ کرکٹ منتظمین جنہوں نے سرفراز اور عمر گل کو ذمہ داریاں سونپی تھیں، اب بھی اپنے عہدوں پر برقرار ہیں۔

زیادہ تر فیصلہ ساز اس وقت لندن میں پاکستان سپر لیگ کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں جواب دہی کا آغاز اور اختتام کھلاڑیوں سے ہی ہوتا ہے جبکہ بڑے فیصلوں کے لیے یکساں طور پر ذمہ دار افراد اپنے عہدوں کے مراعات اور اختیارات سے بدستور لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے کھلاڑیوں کو اپنی کارکردگی کا جواب دینا ہوگا۔ تاہم ہیڈنگلے اور لارڈز میں ہونے والی شکستوں کے بعد تیسرے ٹیسٹ سے قبل کیے گئے ڈرامائی فیصلے ان افراد کی کارکردگی اور ذمہ داری کا بھی جائزہ لینے کا تقاضا کرتے ہیں جنہوں نے دورے کی منصوبہ بندی کی، اسکواڈ کا انتخاب کیا، کوچز مقرر کیے اور وہ ماحول تشکیل دیا جس میں ٹیم سے کارکردگی کی توقع کی جا رہی تھی۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.