پی ایس ایل 2026 کے دلچسپ اعدادوشمار
لندن ۔ پشاور زلمی نے پی ایس ایل 2026 کا آغاز ہی شاندار انداز میں کیا اور راولپنڈیز کے خلاف اپنے ابتدائی میچ میں ہی 215 رنز کا ہدف حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور پھر پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا اس سفر کا اختتام فائنل میں حیدرآباد کنگز مین کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر 2017 کے بعد اپنا پہلا پی ایس ایل ٹائٹل حاصل کر لیا۔
فائنل میں یہ فتح زلمی کی پی ایس ایل کی تاریخ میں 70ویں فتح تھی جو کسی بھی ٹیم سے زیادہ ہے اور وہ اب پانچ فائنلز میں شریک ہو چکی ہے جو سب سے زیادہ بھی ہے۔ یہ کامیابی اس نے 32,461 شائقین کی موجودگی میں حاصل کی جو لیگ کے ابتدائی میچوں کے خالی اسٹیڈیمز سے بہت مختلف تھی۔
فائنل کا کراؤڈ نہ صرف کسی پی ایس ایل میچ دیکھنے کے لیے سب سے بڑا تھا بلکہ پاکستان میں کسی بھی کرکٹ کے لیے ریکارڈ سب سے بڑی حاضری بھی بن گئی جو گزشتہ سال لاہور میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 32,437 شائقین سے زیادہ تھی۔
فائنل کے اسٹار ایرون ہارڈی تھے جو کسی بھی فرنچائز ٹی ٹوئنٹی فائنل میں نصف سنچری بنانے اور چار وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے اس کارکردگی نے بابراعظم کو بحیثیت کپتان پہلی بار پی ایس ایل کا فاتح بنادیا اور وہ بھی اس شہر میں جہاں وہ کرکٹ کھیلتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں اور یہ سفر بال بوائے سے شروع ہوکر ایک فاتح کپتان پر آکر ٹھہرا ہے۔
یہ فتح بابر کے لیے ایک شاندار ٹورنامنٹ کا اختتام بھی تھی جن کے 588 رنز 2022 میں فخر زمان کے ریکارڈ کے برابر تھے۔ انہیں فائنل میں نیا ریکارڈ قائم کرنے کا موقع ملا لیکن وہ محمد علی کی پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف سنچری بنانے کے بعد بابر ایک ایڈیشن میں دو سنچریاں بنانے والے عثمان خان کے بعد دوسرے بیٹر بن گئے۔
زلمی کی کامیابی کی ایک اور بنیاد کُوسال میندس تھے جنہوں نے 550 رنز کے ساتھ اس ایڈیشن کا اختتام کیا اور ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹرز میں پانچویں نمبر پر رہے۔
| نام | سال | اننگز | رنز | اوسط | اسٹرائیک | سنچری | ففٹیز |
| بابراعظم | 2026 | 11 | 588 | 73.50 | 145.90 | 2 | 3 |
| فخرزمان | 2022 | 13 | 588 | 45.23 | 152.72 | 1 | 7 |
| بابراعظم | 2024 | 11 | 569 | 56.90 | 142.60 | 1 | 5 |
| بابراعظم | 2021 | 11 | 554 | 69.25 | 132.53 | 0 | 7 |
| محمد رضوان | 2023 | 12 | 550 | 55.00 | 142.85 | 1 | 4 |
| کوسال مینڈس | 2026 | 11 | 550 | 55.00 | 168.19 | 1 | 4 |
بابر اور مینڈس کے درمیان کراچی میں 9 اپریل کو کراچی کنگز کے خلاف دوسری وکٹ کی شراکت 191 رنز کی تھی جو پی ایس ایل کی تاریخ میں کسی بھی وکٹ کے لیے ریکارڈ تھی جو 2021 میں کراچی میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کنگز کے لیے شرجیل خان اور بابر کی پہلی وکٹ کے لیے 176 رنز کی شراکت کو پیچھے چھوڑ گئی۔
مسلسل دوسرے سال اور پچھلے چار ایڈیشنز میں تیسری بار رنز کی اوسط 9 سے زیادہ فی اوور رہی، ہر وکٹ پر اوسط 27.10 رنز ریکارڈ کی گئی جو پی ایس ایل کی تاریخ میں دوسری سب سے زیادہ اوسط ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقابلے میں وقت کے ساتھ ترقی کی جانب رجحان ہے
| سال | رنزفی وکٹ | رنزفی اوو |
| 2016-2019 | 23.56 | 7.82 |
| 2020-2022 | 26.70 | 8.64 |
| 2023-2026 | 26.39 | 9.05 |
پی ایس ایل 2026 میں کافی حد تک ‘ ٹاس جیتو اور پہلے فیلڈنگ کرو’ کا رجحان تھا جو کہ فائنل میں بھی ظاہر ہوا، جس میں بابر اعظم نے ٹاس جیتا اور فوراً فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ صرف 11 بار ٹاس جیتنے والے کپتان نے بیٹنگ کرنے کا انتخاب کیا جبکہ 32 نے بولنگ کرنے کا انتخاب کیا۔ مکمل ہونے والے 43 میچوں میں سے 15 ٹیموں نے جو پہلے بیٹنگ کر رہی تھیں جیتا اور 28 ٹیمیں جو ہدف کا تعاقب کر رہی تھیں وہ کامیاب ہوئیں۔
رنز کے لحاظ سے سب سے دلچسپ میچ یکم مئی کو ہوا جب حیدرآباد کنگز مین نے اسلام آباد یونائٹڈ کو صرف دو رنز سے ہرایا جو صرف دو میچوں میں سے ایک تھا جن میں 10 رنز سے کم کے فرق سے فیصلہ ہوا۔ آخری بال کی بنیاد پر نتیجے لحاظ سے 8 اپریل کا میچ سب سے زیادہ سخت تھا جب عامر جمال نے حنین شاہ سے آخری گیند پر جیتنے والا سنگل رن حاصل کیا اور پشاور زلمی کے لیے چار وکٹ کی فتح حاصل کی۔
پی ایس ایل 2026 میں تیز بولرز اور اسپنرز دونوں کے لیے مدد موجود تھی۔ تیز بولرز نے مجموعی اوسط کے لحاظ سے بہتر کارکردگی دکھائی۔
| بولنگ | گیندیں | رنز | وکٹیں | اوسط | اکنامی |
| Pace | 5259 | 7836 | 300 | 26.12 | 8.94 |
| Spin | 4428 | 6048 | 204 | 29.64 | 8.19 |
ایک اسپنر نے ٹورنامنٹ میں بہترین وکٹ لینے والے کے طور پر اختتام کیا۔ پشاور زلمی کے سفیان مقیم نے 11 میچوں میں 22 وکٹیں حاصل کیں اور 14.40 کی اوسط کے ساتھ وہ ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلے اسپیشلسٹ اسپنر بن گئے۔
یہ کارنامہ اس لئے بھی زیادہ متاثر کن ہے کیونکہ سفیان نے مقابلے کا آغاز راولپنڈیز کے خلاف 28 رنز بغیر کسی وکٹ کے اعداد و شمار کے ساتھ کیا اس کے بعد انہوں نے اگلے پانچ میچوں میں کم از کم تین وکٹیں حاصل کیں ۔ٹورنامنٹ کی تاریخ میں یہ کارنامہ انجام دینے والے وہ پہلے بولر بنے ۔ان کی پرفارمنس نے انہیں اس موسم گرما میں انگلینڈ کے ٹی20 بلاسٹ میں ڈربی شائر کی نمائندگی کرنے کا موقع فراہم کردیا جس کی کوچنگ سابق پاکستانی ہیڈ کوچ مکی آرتھر کر رہے ہیں۔
اس سال غیر ملکی اسٹارز کا خاصا اضافہ ہوا خاص طور پر آسٹریلوی کھلاڑی، لیکن سب سے زیادہ رنز بنانے والے سب مقامی کھلاڑی ہی تھے جن میں بابر اور مینڈس کے پیچھے فخر زمان، عثمان خان اور صاحبزادہ فرحان شامل تھے جو ٹاپ پانچ میں شامل ہوئے۔
رنز بنانے والے بیٹرز میں چھٹے نمبر پر شاید سیزن کی سب سے بڑی غیر ملکی سائننگ تھی اسٹیو اسمتھ ، جو غیر مستقل آغاز کے بعد ایونٹ کے دوسرے نصف میں نمایاں اثر ڈالنے میں کامیاب ہوئے جس کی جھلک کراچی میں حیدرآباد کنگز مین کے خلاف ملتان سلطانز کے لیے صرف 50 گیندوں پر 106 رنز کی اننگز سے سامنے آئی۔
اسمتھ کے ہم وطن آسٹریلوی کھلاڑیوں میں مارنس لبوشین نے کنگز مین کے لئے 344 رنز بنائے، کئی مفید پارٹنرشپس قائم کیں لیکن 61 کا اسکور عبور نہیں کیا۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے رائلی روسو نے سیزن کے آخر میں اپنی بہترین فارم میں اضافہ کیا، اپنے آخری دو اننگز میں 62 اور 90 رنز بنائے اور پہلے غیر ملکی بیٹسمین بن گئے جنہوں نے پی ایس ایل میں 2,500 رنز مکمل کیے۔
بولنگ میں ٹاپ چھ پوزیشنز پر بھی پاکستانی بولرز نمایاں رہے جس میں حیدرآباد کنگز مین کے محمد علی نے 20 وکٹیں لے کر لیڈنگ پیس بولر کا اعزاز حاصل کیا۔ لیڈنگ غیر ملکی بولر پیٹر سڈل تھے جنہوں نے 41 سال کی عمر میں اپنا پی ایس ایل ڈیبیو کرنے کے باوجود ملتان سلطانز کے لیے 13 وکٹیں حاصل کیں اور اسلام آباد یونائٹڈ کے رچرڈ گلیسن سے ایک وکٹ زیادہ لے کر سیزن مکمل کیا۔
ٹورنامنٹ کی واحد ہیٹ ٹرک 18 سالہ علی رضا نے پشاور زلمی کے لیے کراچی کنگز کے خلاف لاہور میں کی۔ انہوں نے لگاتار گیندوں پر خوشدل شاہ ، شاہد عزیز اور حسن علی کو آؤٹ کیا۔
نوجوان اسٹارز میں اسلام آباد یونائٹڈ کے سمیر منہاس سے زیادہ کوئی دوسرا نہیں چمکا جنہوں نے تین نصف سنچریوں کے ساتھ 349 رنز اسٹرائک ریٹ 155.80 پر اسکور کیے۔ کنگز مین کے معاز صداقت نے 260 رنز اسٹرائیک ریٹ 178.08 پر بنائے، اور 16 بار گیند کو باونڈری کے پار پہنچایا۔ ایک اور نوجوان جس نے تین نصف سنچریاں اسکور کیں وہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے 21 سالہ شامل حسین تھے جنہوں نے 9 میچز میں 215 رنز کے ساتھ ٹورنامنٹ کا اختتام کیا۔
علی رضا کے علاوہ جنہوں نے مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کیں ، 22 سالہ حنین شاہ نے بولنگ میں شہرت حاصل کی، کنگز مین کے لیے انہوں نے 18.41 کی اوسط سے 17 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے چھوٹے بھائی عبید شاہ نے جو ان سے دو سال کم عمر ہیں، لاہور قلندرز کے لیے سات وکٹیں حاصل کیں۔ ایک اور نوجوان فاسٹ بولر جس نے متاثر کیا وہ 20 سالہ محمد اسمعیل تھے جنہوں نے ملتان سلطانز کے لیے 10 وکٹیں حاصل کیں۔
کچھ مشہور ناموں کی ناکامی کے باوجود میچز کے لحاظ سے سب سے بڑے پی ایس ایل ٹورنامنٹ کا اختتام قابلِ قدر چیمپیئن کے ساتھ ہوا جو ریکارڈ کراؤڈ کے سامنے تھے۔ اگلے سال مزید بڑے اور بہتر کے وعدے کے ساتھ یہ ایونٹ اپنی شاندار روایات کے ساتھ واپس آئے گا اور بہترین کرکٹرز ملک کے مزید وینیوز پر اپنی بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔
پی ایس ایل 2026 نے ایک ایسا معیار قائم کردیا ہے جس پر مستقبل کے ایڈیشنز پورا کرنے کی کوشش کریں گی۔



Leave a Reply