بابر سرفراز جوڑی کے عمدہ آغاز سے روشن مستقبل کی ُامید
بابر اعظم اور سرفراز احمد کی دوبارہ قائم ہونے والی جوڑی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو فوری فائدہ پہنچایا ہے ۔ پاکستان نے مسلسل آٹھ غیر ملکی ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سلسلہ روک کر ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز برابر کی ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی وہ ناقابلِ شکست ٹیسٹ سیریز بھی برقرار رکھی جو 2000 کے بعد سے جاری ہے۔
نومبر 2023 میں ٹیسٹ کپتانی چھوڑنے کے بعد بابر اعظم کی دوبارہ تقرری کے مثبت اثرات فوری طور پر سامنے آئے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 22 ٹیسٹ میچوں میں 11ویں کامیابی حاصل کی ہے جن میں سے 9 فتوحات بیرونِ ملک حاصل ہوئیں۔ دوسری جانب سرفراز احمد کو مئی میں بنگلہ دیش کے دورے سے قبل ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا۔ وہ پاکستان انڈر19 ٹیم کو اے سی سی انڈر19 ایشیا کپ اور آئی سی سی انڈر19 ورلڈ کپ میں رہنمائی فراہم کرنے کے بعد قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے منصب تک پہنچے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس غیر روایتی انتظامی ماڈل پر ابتدا میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا جن میں سے کئی خدشات اپنی جگہ درست بھی تھے۔ تاہم ایک اہم بات اس فیصلے کے حق میں گئ اور وہ تھی استاد اور شاگرد کا ایسا تعلق جو ایک دہائی پر محیط ہے۔ بابر اعظم کی بین الاقوامی کرکٹ میں ترقی کا بڑا حصہ سرفراز احمد کی کپتانی میں ہوا، وہ دور جس میں پاکستان نے 2017 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتی، ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور ٹیسٹ رینکنگ میں تیسری پوزیشن تک پہنچا۔ سرفراز احمد نے اپنے کریئر میں جن 100 بین الاقوامی میچز میں پاکستان کی قیادت کی ان میں سے 88 میں بابر اعظم ان کی ٹیم کا حصہ تھے جو دونوں کے درمیان مضبوط اعتماد اور بہترین ہم آہنگی کا ثبوت ہے۔
2019 میں سری لنکا کے خلاف ہوم ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد جب سرفراز احمد سے کپتانی واپس لے لی گئی تب بھی دونوں کے تعلقات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بعد میں جب بابر اعظم نے 21-2020 میں قومی ٹیم کی قیادت سنبھالی تو انہوں نے مسلسل اس بات کو یقینی بنایا کہ سرفراز احمد اسکواڈ کا حصہ رہیں حالانکہ محمد رضوان اس وقت پاکستان کے مستقل پہلے نمبر کے وکٹ کیپر بیٹر بن چکے تھے۔
اعتماد، واضح سوچ اور مشترکہ نظریہ کسی بھی کامیاب قیادت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ کرکٹ کی تاریخ میں ایسی کئی کامیاب جوڑیاں موجود رہی ہیں جنہوں نے صرف ٹرافیاں ہی نہیں جیتیں بلکہ ٹیموں کی شناخت بھی بدل دی۔ ناصر حسین اور ڈنکن فلیچر، پیٹ کمنز اور اینڈریو میکڈونلڈ، وراٹ کوہلی اور روی شاستری، بین اسٹوکس اور برینڈن مک کلم، یا پھر خود سرفراز احمد اور مکی آرتھر اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔
ٹرینیڈاڈ میں کھیلی گئی اس سیریز کے دوران بابر اعظم اور سرفراز احمد کے درمیان بہترین ہم آہنگی واضح طور پر نظر آئی۔
اہم فیصلوں میں ان کی سوچ نمایاں رہی۔ پہلے ٹیسٹ میں ساجد خان کے بجائے بائیں ہاتھ کے اسپنر علی عثمان کو ترجیح دینا، زخمی شان مسعود کی جگہ عبداللہ شفیق کو طلب کرنا، محمد عباس کو ٹیم سے باہر رکھنا، اور دوسرے ٹیسٹ میں کوئنز پارک اوول کی وکٹ کو میزبان ٹیم سے بہتر انداز میں سمجھتے ہوئے عامر جمال کی جگہ ساجد خان کو شامل کرنا جبکہ علی عثمان پر اعتماد برقرار رکھنا، یہ تمام فیصلے اسی حکمت عملی کا حصہ تھے۔
پورٹ آف اسپین میں ٹیم مینجمنٹ کی حکمت عملی مکمل طور پر درست ثابت ہوئی۔ عبداللہ شفیق نے پہلی اننگز میں ناقابل شکست 160 رنز بنائے جبکہ ساجد خان نے میچ میں مجموعی طور پر آٹھ وکٹیں لے کر پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے یادگار فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان دونوں کی یہ کارکردگی اس لیے بھی زیادہ اہم تھی کیونکہ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی مڈل اور لوئر آرڈر بیٹنگ دو مرتبہ بری طرح ناکام ہوئی تھی جس کے باعث ویسٹ انڈیز نے 90 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ اگر پاکستان ایک مکمل اور بے رحم ٹیم کی طرح کھیلتا تو وہ یہ دونوں مواقع ضائع نہ کرتا اور ممکن تھا کہ سیریز 2-0 سے اپنے نام کرتا۔
پورٹ آف اسپین ٹیسٹ میں بابر اعظم کی کپتانی پہلے سے کہیں زیادہ پختہ دکھائی دی۔ ان کی بولنگ میں بروقت تبدیلیاں، جارحانہ فیلڈ سیٹنگ، اوور ریٹ پر مکمل کنٹرول اور ڈی آر ایس کا مؤثر استعمال ان کی بہتر قیادت کا مظہر تھا۔ بیٹنگ میں بھی انہوں نے 23، ناقابل شکست 58، 88 اور ناقابل شکست 24 رنز کی اننگز کھیلیں اور جسٹن گریوز کے ساتھ مشترکہ طور پر پلیئر آف دی سیریز قرار پائے۔
اگرچہ ان کی دسویں ٹیسٹ سنچری کا انتظار ابھی ختم نہیں ہوا اور آخری سنچری دسمبر 2022 میں کراچی میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں بنی تھی، لیکن موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ انتظار زیادہ طویل نہیں ہوگا۔ 19 اگست سے 13 ستمبر تک انگلینڈ میں ہیڈنگلے، لارڈز اور ایجبسٹن میں کھیلی جانے والی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز انہیں یہ سنگ میل عبور کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گی۔
اجتماعی کامیابی کے ساتھ ساتھ کئی انفرادی کارکردگیوں نے بھی پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
21 سالہ اوپنر اذان اویس نے اوپننگ میں عمدہ حوصلہ اور اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے 76 رنز بنائے۔ بولنگ کوچ عمر گل بھی اپنے فاسٹ اور اسپن بولنگ یونٹ کی کارکردگی سے مطمئن ہوں گے کیونکہ محمد علی، محمد عباس، ساجد خان اور علی عثمان نے مل کر ویسٹ انڈیز کی مجموعی 39 وکٹوں میں سے 31 حاصل کیں۔ محمد علی 9 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے جبکہ عباس اور ساجد نے اپنی واحد شرکت میں آٹھ، آٹھ وکٹیں حاصل کیں۔ علی عثمان نے ڈیبیو ٹیسٹ میں کوئی وکٹ نہ لینے کے بعد دوسرے میچ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے مجموعی طور پر چھ وکٹیں اپنے نام کیں۔
عبداللہ شفیق کی واپسی بھی غیر معمولی رہی۔ وہ ابتدائی اسکواڈ سے باہر تھے، حالانکہ لاہور میں پری ٹور کیمپ میں شریک رہے تھے، لیکن شان مسعود کی انگلی فریکچر ہونے کے بعد انہیں گیانا سے طلب کیا گیا۔ پورٹ آف اسپین میں ان کی میچ وننگ اننگز ان کے کریئر کی شاندار واپسی ثابت ہوئی۔
تاہم ان کامیابیوں کے باوجود پاکستان کو بعض بنیادی مسائل کا بدستور سامنا ہے۔
امام الحق، سلمان علی آغا اور محمد رضوان کی فارم تشویش کا باعث ہے۔ پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں سات وکٹیں صرف 38 رنز پر گرنے اور دوسری اننگز میں 71 رنز پر 9 وکٹیں گرنے کی بڑی وجہ سلمان اور رضوان کی خراب فارم تھی۔ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی پاکستان نے 106 رنز کے اندر آٹھ وکٹیں گنوا کر اپنی کمزور لوئر آرڈر بیٹنگ کو ایک بار پھر ایکسپوز کر دیا۔
اس طرح کی بیٹنگ ناکامیاں کسی بھی مضبوط حریف کو میچ پر گرفت مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں تاہم امام ، سلمان اور رضوان باصلاحیت اور تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور پاکستان کو امید ہوگی کہ وہ انگلینڈ کے دورے سے قبل اپنی فارم بحال کر لیں گے۔
پاکستان کو جلد مزید تقویت بھی ملنے والی ہے۔ شان مسعود جو انگلی کی انجری سے صحت یاب ہو رہے ہیں اور سعود شکیل جو ویسٹ انڈیز سیریز میں فٹنس مسائل کے باعث دستیاب نہیں تھے، ہیڈنگلے ٹیسٹ سے قبل ٹیم میں واپسی کریں گے۔ ان کی آمد بابر اعظم اور سرفراز احمد کے لیے سلیکشن مشکل پیدا کرے گی جبکہ محمد عباس بھی دستیاب ہوں گے۔
ادھر انگلینڈ بھی پاکستان کی اس نئی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوگا۔ میزبان ٹیم اس وقت تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ جو روٹ نے دوسری مرتبہ ٹیسٹ کپتانی سنبھال لی ہے جبکہ نئے ہیڈ کوچ اسٹیفن فلیمنگ پاکستان سیریز کے بعد ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس دوران مارکس ٹریسکوتھک عبوری ہیڈ کوچ کے طور پر ٹیم کی رہنمائی کریں گے۔ اس کے برعکس پاکستان ایک ایسی قیادت کے ساتھ انگلینڈ پہنچے گا جو پہلے ہی بہترین ہم آہنگی کا مظاہرہ کر چکی ہے۔
پاکستان نے ویسٹ انڈیز میں منظم، جارحانہ اور نظم و ضبط کے ساتھ کرکٹ کھیلی۔ اگر یہی معیار انگلینڈ میں بھی برقرار رہا تو قومی ٹیم میزبانوں کے لیے سخت چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
آنے والے ہفتے کیا رخ اختیار کرتے ہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال پاکستان پورٹ آف اسپین کی کامیابی پر بجا طور پر فخر کر سکتا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ دورہ شروع ہونے سے قبل ایک سینئر پی سی بی عہدیدار نے کہا تھا کہ اگر پاکستان پانچ ٹیسٹ میچز میں سے صرف ایک بھی جیت گیا تو بورڈ اسے کامیاب دورہ تصور کرے گا۔
یہ معیار اب شاید بہت معمولی محسوس ہوتا ہے، کیونکہ ٹرینیڈاڈ میں پاکستان نے جس حوصلے، واضح حکمت عملی اور پختہ عزم کا مظاہرہ کیا اس نے نئی قیادت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے۔ بابر اعظم اور سرفراز احمد کے مشترکہ دور کا یہ صرف آغاز ہے لیکن اس کا پہلا باب مستقبل کے لیے امید افزا ضرور دکھائی دیتا ہے۔



Leave a Reply