بابراعظم اور سرفراز احمد کی جوڑی ، وقتی ضرورت یا مستقل حل ؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کا تازہ ترین فیصلہ کسی بے بسی میں کھیلا گیا آخری پاسا کم اور ایک سوچا سمجھا اور انصاف پر مبنی قدم زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے بابر اعظم کو دوسری مرتبہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا جبکہ اسی کے ساتھ ایک اہم انتظامی تبدیلی بھی سامنے آئی۔ پاکستان کے تجربہ کار سابق کپتان سرفراز احمد کو ہیڈ کوچ کی ذمہ داری سونپ دی گئی جس کا آغاز مئی میں بنگلہ دیش کے مایوس کن دورے سے ہوا تھا۔
جنگل میں شیر اکثر جوڑی کی صورت میں شکار کرتے ہیں کیونکہ باہمی اعتماد کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ پاکستان کرکٹ جو برسوں سے انتشار کا شکار رہی ہے شاید اتفاقاً ہی سہی مگر اسی اصول کو دوبارہ دریافت کر چکی ہے۔
بابر اعظم پاکستان کرکٹ بورڈ کی غیر مستقل قیادت اور بار بار بدلتے فیصلوں سے بخوبی واقف ہیں،بلکہ کئی مواقع پر انہیں غیر ضروری بے توقیری کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 2023 کے ورلڈ کپ کے بعد انہیں تینوں فارمیٹس کی کپتانی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ مارچ 2024 میں انہیں دوبارہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان بنایا گیا مگر یہ دور صرف چھ ماہ ہی چل سکا۔
یہ بے یقینی صرف کپتانی تک محدود نہیں رہی۔ ریڈ بال کرکٹ میں بھی انہیں 2024 میں انگلینڈ کے خلاف دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ سے ڈراپ کیا گیا پھر جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے واپس بلا لیا گیا۔ اس کے بعد کچھ عرصے کے لیے انہیں ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے بھی باہر رکھا گیا، پھر جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے دوبارہ منتخب کیا گیا، 2026 کے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اسکواڈ میں بھی شامل رہے مگر سری لنکا کے خلاف آخری میچ میں انہیں پھر باہر بٹھا دیا گیا۔
کئی مواقع پر یہ سلوک محض پیشہ ورانہ نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کا محسوس ہوا۔ پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی نمائندگی کے دوران ایک بااثر شخصیت نے جو قومی سلیکشن میں بھی اثر و رسوخ رکھتی تھی، ٹی وی پروگرام میں یہاں تک کہہ دیا کہ مخالف ٹیمیں بابر اعظم کو آؤٹ کرنے کے بجائے کریز پر موجود رکھنا زیادہ پسند کرتی ہیں۔
انتظامی نااہلی اور عوامی تنقید کے باوجود اب بابر اعظم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کو دوبارہ سنبھالیں جبکہ ٹیم اس وقت ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ27-2025 میں 9 میں سے 9 ویں اور عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں 7ویں نمبر پر موجود ہے۔
اگرچہ ناقدین اس تقرری کو وقتی ضرورت قرار دیں گے لیکن حقیقت میں یہ گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کرکٹ کی سب سے منطقی اور سب سے ضروری شراکت داری ثابت ہو سکتی ہے۔
استاد شاگرد کی رفاقت
اس شراکت داری کی اصل طاقت کو سمجھنے کے لیے بابر اعظم کے بین الاقوامی کریئر کے آغاز کی طرف دیکھنا ہوگا۔
سرفراز احمد نے 100 بین الاقوامی میچوں میں کپتانی کی جن میں سے 88 میچوں میں بابر اعظم ان کی ٹیم کا حصہ تھے۔ اس دوران سرفراز نے نوجوان بابر پر مکمل اعتماد کیا، انہیں تحفظ دیا، ان کی حوصلہ افزائی کی اور اس وقت ان پر یقین رکھا جب دنیا ابھی ان کی صلاحیتوں سے پوری طرح واقف نہیں تھی۔
بعد میں جب کردار تبدیل ہوئے اور بابر کپتان بنے تو انہوں نے بھی یہی وفاداری واپس لوٹائی۔ شدید بیرونی دباؤ کے باوجود بابر اعظم نے سرفراز احمد کو 2023 کے ورلڈ کپ تک تینوں فارمیٹس میں پاکستان کا دوسرا وکٹ کیپر برقرار رکھا۔
اب ایک بار پھر کردار بدل چکے ہیں مگر اس بار منظر زیادہ خوبصورت ہے۔ شاگرد میدان میں کپتان ہے اور استاد ڈریسنگ روم سے حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے۔ گویا وہی دو افراد ایک بار پھر ایک ہی مقصد کے لیے اکٹھے ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب دونوں ایک دوسرے کی سوچ، انداز اور فیصلوں سے مکمل طور پر واقف ہیں۔
کرکٹ کی تاریخ میں کامیاب کپتان اور کوچ کی جوڑیاں جان بکانن اور رکی پونٹنگ، روی شاستری اور ورات کوہلی، برینڈن میکلم اور بین اسٹوکس ، صرف حکمت عملی کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوئیں بلکہ اس اعتماد کی بنیاد پر کامیاب رہیں جو برسوں پہلے قائم ہو چکا تھا۔
پاکستان کے تناظر میں سرفراز احمد اور مکی آرتھر کی شراکت بھی اسی فہرست میں شامل کی جا سکتی ہے جنہوں نے 2017 کی چیمپئنز ٹرافی جیت کر پاکستان کو اس کی جدید دور کی سب سے بڑی وائٹ بال کامیابی دلائی۔
بابر اعظم اور سرفراز احمد کو یہ اعتماد اب نئے سرے سے پیدا کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ان کی مشترکہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور یہی وہ سرمایہ ہے جو شاید کسی بھی نئی کپتان اور کوچ جوڑی کو آسانی سے نصیب نہیں ہوتا۔
شاہین آفریدی کی عدم شمولیت: ایک حکمت عملی؟
اس نئے دور کی شاید سب سے اہم پیش رفت شاہین شاہ آفریدی کا ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ پانچ ٹیسٹ میچوں کے اسکواڈ سے باہر ہونا ہے۔
بظاہر تو یہ ان کی ریڈ بال کارکردگی میں آنے والی کمی اور بورڈ کی ناقص منصوبہ بندی کا اعتراف معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔
2023 کے بعد بورڈ نے شاہین کو ٹی ٹوئنٹی کپتان بنایا پھر چند ماہ بعد دوبارہ بابر اعظم کو یہ ذمہ داری واپس دے دی۔ اس مسلسل تبدیلی نے دونوں کے درمیان موجود اعتماد کو متاثر کیا۔
یہ صورتحال کسی حد تک 1990 کی دہائی میں وسیم اکرم اور وقار یونس کے درمیان پیدا ہونے والی رقابت کی یاد دلاتی ہے جب پاکستان کے دو عظیم فاسٹ بولرز حریفوں سے زیادہ خود اپنے آپ پر نظر رکھنے لگے تھے۔
شاہین کی عدم موجودگی نے بابر اعظم کو ایک اہم موقع فراہم کیا ہے۔ اب ڈریسنگ روم میں قیادت کا کوئی متبادل مرکز موجود نہیں جس سے وہ اور سرفراز احمد بغیر کسی اندرونی کشمکش کے ٹیم کا نیا ماحول تشکیل دے سکتے ہیں۔
ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کی مشکل وکٹوں پر بابر اس اطمینان کے ساتھ قیادت کر سکتے ہیں کہ پس منظر میں قیادت کی رسہ کشی یا اختیارات کی جنگ جاری نہیں ہوگی۔ اس طرح انہیں اور سرفراز احمد کو ایک حقیقی نیا آغاز ملے گا جس کی بنیاد پر وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ٹیم کے ماحول اور کلچر کو ازسرِنو مضبوط بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں۔
قربانی کے بکرے اور سلیکٹرز کا دوہرا معیار
بابر اعظم اور سرفراز احمد کی واپسی ایک امید افزا کہانی ضرور ہے لیکن اس کی آڑ میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور سلیکشن کمیٹی کی ذمہ داریوں سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔
شان مسعود کو کپتانی سے ہٹانے میں غیر معمولی تاخیر کی گئی۔
جب گزشتہ ہفتے انہیں برطرف کیا گیا تو سلیکٹرز نے فوری طور پر ان کی کمزور حکمت عملی، سست اوور ریٹ، ناقص ڈی آر ایس فیصلوں اور فیصلہ کن مواقع پر جارحانہ انداز نہ اپنانے جیسے اعتراضات گنوانا شروع کر دیے۔
اگر یہ تمام خامیاں پہلے سے واضح تھیں تو پھر انہیں مئی میں بنگلہ دیش کے خلاف شرمناک سیریز ہارنے تک کپتان کیوں برقرار رکھا گیا؟
حقیقت یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کے دورے کے بعد ہی ان کی کپتانی اپنی افادیت کھو چکی تھی۔ فیصلے میں تاخیر نے شکست خوردہ ذہنیت کو مزید مضبوط کیا اور ایک بار پھر ثابت ہوا کہ پاکستان کرکٹ میں انتظامی غلطیوں کی قیمت ہمیشہ کھلاڑی اور کوچ ہی ادا کرتے ہیں۔
بحالی کا راستہ
اگر پاکستان واقعی اپنی ٹیسٹ کرکٹ کو دوبارہ مضبوط بنانا چاہتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ بابر اعظم اور سرفراز احمد کی شراکت داری کو 2029 میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے اگلے سائیکل کے اختتام تک مکمل اعتماد اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کی ضمانت دے۔
سب سے بڑی غلطی یہ ہوگی کہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ پانچ ٹیسٹ میچوں کو ان دونوں کے مستقبل کا فیصلہ کن امتحان بنا دیا جائے۔ اگر ابتدائی ناکامیوں کے بعد ایک مرتبہ پھر تنقید کے دباؤ میں آ کر صرف چہرے تبدیل کیے گئے تو تباہی کا یہی سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
پاکستان کرکٹ کی بحالی کے لیے بورڈ کو وہ خوبی اپنانا ہوگی جس کی اس میں ہمیشہ کمی رہی ہے اور وہ ہے صبر۔
جوڑیاں پہلی ہی کوشش میں کامیاب نہیں ہوتیں بلکہ وہ اس لیے کامیاب بنتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے پر اعتماد رکھتے ہوئے مسلسل ساتھ کام کرتی رہتی ہیں۔
بابر اعظم اور سرفراز احمد کے پاس کرکٹ کا تجربہ بھی ہے، حکمت عملی کی سمجھ بھی اور ایک دوسرے پر برسوں سے قائم اعتماد بھی۔
اب انہیں صرف اتنا درکار ہے کہ ڈریسنگ روم، بورڈ اور شائقین انہیں اتنا وقت دیں کہ وہ اس شراکت داری کو نتائج میں تبدیل کر سکیں۔
کھنڈرات یقیناً بہت وسیع ہیں مگر ایک عرصے بعد پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کھنڈرات کو دوبارہ تعمیر کرنے والے ایک ایسے منصوبے کے ساتھ آئے ہیں جسے وہ پہلے بھی کامیابی سے آزما چکے ہیں۔



Leave a Reply