حیدرآباد کنگزمین فاتح بننے سے صرف ایک قدم دور
کس نے یہ سوچا ہوگا کہ پی ایس ایل میں پہلی بار قدم رکھنے والی فرنچائز حیدرآباد کنگز مین کی اونچی اڑان اسے فائنل میں لے آئے گی؟ خاص کر اسوقت جب یہ ٹیم لگاتار چار میچز ہارچکی تھی اسوقت تو کوئی اس ٹیم کو پلے آف کے قابل بھی نہیں سمجھ رہا تھا ۔
لیکن اب یہی حیدرآباد کنگزمین پی ایس ایل کا نیا باب رقم کرنے کے قریب ہے۔ اتوار کے روز وہ چیمپئن بننے کے لیے فیصلہ کن مقابلہ پشاور زلمی سے کرنے والی ہے جو اس ٹورنامنٹ میں کارکردگی کے لحاظ سے سب سے مستقل مزاج ٹیم کے طور پر سامنے آئی ہے۔
پشاور زلمی کا یہ پانچواں پی ایس ایل فائنل ہے ۔ اس سے قبل اس نے 2017میں ٹائٹل جیتا تھا جبکہ 2018 ۔2019 اور 2021 میں وہ رنراپ رہی تھی۔
اگر ہم حیدرآباد کنگز مین پر نظر ڈالیں تو پہلے چار میچوں میں اسے شکست ہوئی جس کے بعد ایک میچ میں وہ اس ٹورنامنٹ کے سب سے کم اسکور 80 رنز پر بھی آؤٹ ہوئی تاہم اس نے آخری آٹھ میں سے سات میچز جیتے ہیں جن میں سے تین میں اس نے ڈرامائی انداز میں آخری اوور میں کامیابی حاصل کی ہے۔
حیدرآباد کنگز مین کے کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ اس کے کوچنگ اسٹاف کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جس نے اپنے کھلاڑیوں پر اعتماد برقرار رکھا اور انہیں یہ باور کراتے رہے کہ وہ جیت سکتے ہیں ان میں نمایاں نام ہیڈ کوچ آسٹریلیا کے جیسن گلیسپی کا ہے۔
حیدرآباد کنگز مین میں سب سے زیادہ تنقید کپتان مارنس لبوشین پر ہوئی تھی کہ وہ ٹیسٹ فارمیٹ کے مستند کھلاڑی ہیں اور ٹی ٹوئنٹی ان کا فارمیٹ نہیں ہے لیکن انہوں نے نہ صرف کپتانی بلکہ اپنی بیٹنگ سے بھی اپنی ٹیم کو آگے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
گلین میکسویل دیر سے ٹیم میں شامل ہوئے لیکن اب ان کی موجودگی ٹیم کو نیا حوصلہ دے چکی ہے۔راولپنڈیز کے خلاف ان کی 70 رنزکی شاندار اننگز مدتوں یاد رہے گی۔
بولنگ میں محمد علی( 17 وکٹیں ) ۔ عاکف جاوید( 11 وکٹیں ) اور حنین شاہ ( 16 وکٹیں) حریف بیٹسمینوں کے لیے پورے ٹورنامنٹ میں مسئلہ بنے رہے ہیں۔
بیٹنگ میں عثمان خان کی شاندار کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ ابتدائی میچوں میں ناکامی کے بعد ان کا بیٹ رنز کے ڈھیر لگاچکا ہے۔ وہ ابتک ایک سنچری اور تین لگاتار نصف سنچریوں کی مدد سے 381 رنز بناچکے ہیں۔ عثمان خان ابتک پی ایس ایل میں سب سے کم 33 میچوں میں چار سنچریاں بنانے والے بیٹسمین ہیں۔
کپتان مارنس لبوشین نے ابتک دو نصف سنچریوں کی مدد سے324 رنز بنائے ہیں۔ معاذ صداقت 249 اور کوسال پریرا 209 رنز بناچکے ہیں۔
یہ وہی کوسال پریرا ہیں جو گزشتہ سال فائنل میں لاہور قلندرز کو ٹائٹل جتواتے ہوئے فائنل میں پلیئر آف دی میچ رہے تھے۔
اس شاندار کارکردگی میں کنگز مین کے لیے واحد تشویش کی بات صائم ایوب کا مسلسل ناکام رہنا ہے جن کا اس ٹورنامنٹ میں ابتک سب سے بڑا اسکور صرف 38 رنز ہے۔انہوں نے 12میچوں میں صرف 204 رنز بنائے ہیں۔
فائنل کی دوسری ٹیم پشاور زلمی نے لیگ مرحلے میں دس میں سے آٹھ میچز جیتے تھے اور صرف ایک میچ ہاری تھی۔ اس کی اس شاندار کارکردگی میں کپتان بابراعظم کی دو سنچریوں کا کردار بہت اہم رہا ہے۔وہ ابتک اس ٹورنامنٹ میں 588رنز بناچکے ہیں اور 2022 میں فخرزمان کے 588 رنز کا ریکارڈ برابر کرچکے ہیں اور ایک ایڈیشن میں 600 رنز بنانے والے پہلا بیٹر بننے کے اعزاز کے قریب ہیں۔
کوسال مینڈس نے بھی ایک سنچری اور چار نصف سنچریوں کی مدد سے 541 رنز کے ساتھ شاندار پرفارمنس دی ہے ۔ بابراعظم کے ساتھ ان کی تین سنچری پارٹنرشپ رہی ہیں۔
محمد حارث نے اس ٹورنامنٹ میں 200 رنز بنائے ہیں اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 177 ہے۔
بولنگ میں سفیان مقیم ٹورنامنٹ کی سب سے زیادہ21 وکٹوں کے ساتھ نمایاں ہیں۔ افتخار احمد 12 علی رضا 10 محمد باسط 9 اور بنگلہ دیش کے ناہید رانا 7وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
ناہید رانا بنگلہ دیش بورڈ سے اجازت ملنے کے بعد دوبارہ آگئے ہیں اور ان کی موجودگی سے زلمی کو زبردست حوصلہ ملا ہے۔ان کے علاوہ مائیکل بریسویل اور ایرون ہارڈی بھی کارکردگی کے لحاظ سے زلمی کے لیے اہم کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ عبدالصمد اور فرحان یوسف کو بھی کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
پشاور زلمی کا کوچنگ اسٹاف پروفیشنلز پر مشتمل ہے جس میں ہیڈ کوچ اوٹس گبسن قابل ذکر ہیں۔
دونوں ٹیموں کا اس ٹورنامنٹ میں فائنل سے قبل ایک مرتبہ مقابلہ ہوا تھا جس میں زلمی نے افتخار احمد کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے آخری گیند پر کامیابی حاصل کی تھی۔



Leave a Reply