پاکستان پہلا ٹیسٹ 90 رنز سے ہارگیا، بیٹرز کی مایوس کن کارکردگی
تاروبا ۔ ویسٹ انڈیز نے پاکستانی بیٹرز کی دوسری اننگز میں روایتی غیرذمہ داری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلا ٹیسٹ چوتھے دن ہی 90 رنز سے جیت لیا۔
پاکستان کو جیتنے کے لیے 211 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن ویسٹ انڈین پیس بولنگ نے اسے120 رنز پر آؤٹ کردیا جس میں جیڈن سیلز پانچ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے ساتھ نمایاں رہے۔
یہ پاکستان ٹیم کی ملک سے باہر لگاتار آٹھویں شکست ہے اس سے قبل اسے آسٹریلیا میں تین جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش میں دو دو ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی تھی۔
پاکستان کی دوسری اننگز میں آؤٹ ہونے والے پہلے بیٹر امام الحق صرف 3 رنز بناکر کیمار روچ کی گیند پر وکٹ کیپر ہوپ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
امام الحق دسمبر 2022 میں انگلینڈ کے خلاف سنچری بنانے کے بعد سے بغیر سنچری کے لگاتار 22 اننگز کھیل چکے ہیں اس دوران وہ سات نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
اذان اویس بھی 3 رنز بناکر سیلز کی گیند پر ہوپ کے ہاتھوں کیچ ہوئے اور جب سیلز نے سلمان علی آغا کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کیا تو پاکستان کا اسکور3 وکٹوں پر صرف 25 رنز تھا۔
سلمان علی آغا کی بھی 22 اننگز بغیر سنچری کے ہوچکی ہیں۔آخری سنچری انہوں نے اکتوبر 2024 میں انگلینڈ کے خلاف بنائی تھی۔
محمد رضوان کے لیے یہ ٹیسٹ مایوس کن ثابت ہوا پہلی اننگز میں انہوں نے 12 رنز بنائے تھے دوسری اننگز میں وہ 11 رنز بنا پائے ۔ دونوں مرتبہ ان کی وکٹ جسٹن گریوز نے حاصل کی۔
محمد رضوان بھی دیگر سینئر کرکٹرز سے پیچھے نہیں ہیں اور وہ بھی ابتک 26 اننگز سنچری کے بغیر کھیل چکے ہیں۔
گریوز نے عامرجمال کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کردیا اور پھر کیمار روچ نے علی عثمان کو 2 رنز پرواپسی کی راہ دکھائی تو پاکستان کی 6 وکٹیں صرف 53 رنز پر گرچکی تھیں۔
پہلی اننگز کے سنچری میکر شان مسعود انگلی میں فریکچر کے باوجود آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے لیکن صرف 3 رنز بنا پائے اور سیلز نے انہیں جوزف کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔انہوں نے اپنی چوتھی وکٹ خرم شہزاد کو4 رنز پر بولڈ کرکے حاصل کی۔
71 کے اسکور پر جوزف نے محمد علی کو صفر پر بولڈ کرکے اپنی ٹیم کو جیت کے بالکل قریب کردیا۔
کپتان بابراعظم ایک اینڈ سنبھالے ہوئے تھے لیکن وہ مایوسی کے عالم میں دوسرے اینڈ پر وکٹیں گرتے دیکھتے رہے تاہم ان کے9 چوکوں کی مدد سے بنائے گئے 58 رنز ناٹ آؤٹ نے پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے خلاف سب سے کم اسکور 77 پر آؤٹ ہونے کی خفت سے بچالیا۔یہ ٹیسٹ میں ان کی 32 ویں نصف سنچری ہے۔
محمد عباس نے 4 چوکوں کی مدد سے 23 رنز کی اننگز کھیلتے ہوئے بابراعظم کے ساتھ آخری وکٹ کے لیے49 رنز کا اضافہ کیا ان کی یہ اننگز مستند بیٹرز کو شرمندہ کرنے کے لیے کافی تھی۔
جیڈن سیلز نے محمد عباس کو آؤٹ کرکے چوتھی مرتبہ اننگز میں پانچویں وکٹ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اننگز بھی اس کے انجام کو پہنچادی انہوں نے 20 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔ کیمار روچ اور جسٹن گریوز نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز 126 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی تو کیمار روچ اور شمر جوزف آسانی سے پاکستانی بولرز کے قابو میں آنے کے لیے تیار نہ تھے اور پاکستان ٹیم کو یہ پارٹنرشپ توڑنے کے لیے دن کے پانچویں اوور تک انتظار کرنا پڑا جب محمد علی نے شمرجوزف کو 38رنز پر بولڈ کردیا۔اس اننگز میں 4 چوکے اور خرم شہزاد کی گیند پر چھکا بھی شامل تھا۔ جوزف اور روچ نے آٹھویں وکٹ کی شراکت میں قیمتی 61 رنز کا اضافہ کیا۔
کیمار روچ کی 18 رنز کی اننگز کا خاتمہ محمد عباس کی گیند پر بابراعظم نے کیچ کرکے کیا۔محمد عباس نے اننگز میں اپنی پانچویں کامیابی جومیل واریکن کو بولڈ کرکے حاصل کی جو ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے14 رنز بناکرپاکستان ٹیم کی فرسٹریشن بڑھاتے جارہے تھے۔
ویسٹ انڈیز کے ٹیل اینڈرز نے 93 رنز پر 7 وکٹیں گرنے کے بعد اسکور میں 88 رنز کا اضافہ کیا اور اسکور کو 181 رنز تک پہنچادیا۔
محمد عباس نے22 رنز دے کر5 وکٹیں حاصل کیں یہ 7 واں موقع ہے کہ انہوں نے ٹیسٹ کی ایک اننگز میں پانچ یا زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اس ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 85 رنز دے کر8 وکٹیں حاصل کیں۔
خرم شہزاد اور محمد علی نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔
دوسرا ٹیسٹ 2 اگست سے پورٹ آف اسپین میں کھیلا جائے گا۔



Leave a Reply