سلہٹ ٹیسٹ میں پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا
سلہٹ ۔ ڈھاکہ میں پہلا ٹیسٹ مایوس کن کارکردگی کے سبب 104 رنز سے ہارنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کو ہفتے کے روز سے سلہٹ میں شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے ۔
سب سے اہم سوال تو یہی ہے کہ کیا پاکستان ٹیم میں اتنا دم خم ہے کہ وہ دوسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کرسکے ؟۔ پہلے ٹیسٹ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد شائقین ٹیم سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں رکھے ہوئے ہیں۔
اگر پاکستان ٹیم دوسرا ٹیسٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوتی تو یہ بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف لگاتار دوسری کامیاب سیریز ہوگی۔ اس سے قبل وہ پاکستان میں ٹیسٹ سیریز دو صفر سے جیت چکی ہے۔
دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ پہلے ٹیسٹ میں غیرحاضری کے بعد بابراعظم دوسرے ٹیسٹ میں کیا ایسی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوسکیں گے جو ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکے؟
یاد رہے کہ بابراعظم گھٹنے کی تکلیف کے سبب پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل پائے تھے اور دوسرے ٹیسٹ میں ان کی واپسی یقینی ہے لیکن کافی عرصے سے وہ بھی ٹیسٹ کرکٹ میں قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھاسکے ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے آخری سنچری دسمبر 2022 میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں اسکور کی تھی اور اس کے بعد سے 30 اننگز بغیر سنچری کے گزرچکی ہیں۔
ان کی واپسی کی صورت میں کس کھلاڑی کو باہر بیٹھنا پڑے گا یہ بھی ایک سوال ہے ۔ تاہم پہلے ٹیسٹ کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ امام الحق کو بابراعظم کے لیے جگہ خالی کرنی ہوگی۔ عام خیال یہی ہے کہ سعود شکیل پر ٹیم منیجمنٹ اعتماد برقرار رکھے گی حالانکہ وہ بھی پچھلی 14 اننگز بغیر سنچری کے کھیل چکے ہیں۔
شان مسعود بحیثیت کپتان اور بیٹر دونوں میں مایوس کن کارکردگی کے سبب تنقید کی زد میں ہیں۔ بحیثیت کپتان وہ پندرہ میں سے گیارہ ٹیسٹ ہارچکے ہیں ۔ پہلے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں ڈبل فگرز میں آئے بغیر آؤٹ ہونے کے بعد ان پر بھی غیرمعمولی دباؤ ہے۔
سلمان آغا اور محمد رضوان دونوں اننگز میں جن شاٹس پر آؤٹ ہوئے وہ کسی طور بھی ان دونوں تجربہ کار بیٹسمینوں کے شایان شان نہ تھا۔ اس کے علاوہ محمد رضوان وکٹ کیپنگ میں بھی بجھے بجھے سے نظر آئے تھے۔
پہلے ٹیسٹ میں بیٹنگ میں اگر کوئی شاندار کارکردگی نظر آئی تو وہ اپنے ٹیسٹ کریئر کی ابتدا کرنے والے اذان اویس اور عبداللہ فضل کی طرف سے ۔اذان اویس نے پہلی اننگز میں سنچری بنائی جبکہ عبداللہ فضل دونوں اننگز میں نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب رہے۔
بولنگ میں سوائے محمد عباس کے کوئی بھی دوسرا بولر خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھاسکا۔ شاہین آفریدی کی اسپیڈ ُان پر ہونے والی تنقید کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔ دوسرے ٹیسٹ میں شاہین شاہ آفریدی اورحسن علی میں سے کسی ایک کو ڈراپ کیا جاسکتا ہے اور ان کی جگہ خرم شہزاد کو موقع دیے جانے کے امکانات روشن ہیں۔آف اسپنر ساجد خان بھی موقع ملنے کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیش ٹیم میں شادمان اسلام کی جگہ ذاکر حسن کو شامل کیا گیا ہے۔ سلمان آغا کا سلپ میں کیچ لیتے ہوئے گیند شادمان کے سینے پر لگی تھی۔
سلہٹ میں بنگلہ دیش کے دونوں اسپنرز تائج الاسلام اور مہدی حسن میراز بالترتیب 31 اور 22 وکٹوں کے ساتھ نمایاں رہے ہیں ۔
پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی شکست میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے فاسٹ بولر ناہید رانا نے سلہٹ میں تین ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں اور 11 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
بیٹنگ میں اس گراؤنڈ پر بھی مومن الحق اور نجم الحسین شانتو سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹرز ہیں۔ یہی دونوں پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں چھائے رہے تھے۔
سلہٹ میں پانچ ٹیسٹ میچز کھیلے جاچکے ہیں جن میں سے بنگلہ دیش نے صرف دو جیتے ہیں اور اسے زمبابوے نے دو مرتبہ جبکہ سری لنکا نے ایک مرتبہ شکست دے رکھی ہے۔



Leave a Reply