سلیکٹرز کوچز بن گئے ، سعد بیگ نظر انداز
لاہور ۔ سابق کپتان سرفراز احمد کو پاکستان مینز ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا گیا ہے جو آئندہ ماہ بنگلہ دیش میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گی جبکہ قومی سلیکٹرز نے 16 کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ کا اعلان بھی کیا ہے ٹیم کی قیادت شان مسعود کریں گے۔ پہلا ٹیسٹ 8 سے 12 مئی تک ڈھاکہ میں کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا ٹیسٹ 16 سے 20 مئی تک سلہٹ میں ہوگا۔
تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے 38 سالہ کھلاڑی کی مدت ملازمت کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے جنہوں نے پاکستان کو آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2006 اور آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2017 کے ٹائٹل جتوائے تھے۔
ریڈ بال ہیڈ کوچ کا عہدہ جیسن گلسیپی کے دسمبر 2024 میں جانے کے بعد سےخالی ہے۔ عاقب جاوید نے جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں عبوری ہیڈ کوچ کے طور پر خدمات انجام دیں جبکہ اظہر محمود نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیم کی کوچنگ کی تھی۔
دسمبر 2024 کے بعد سے پی سی بی کی کل وقتی ہیڈ کوچ کے انتخاب میں ناکامی واضح طور پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ کھیل کے روایتی فارمٹ کے لئے اس کی ترجیحات کیا ہیں ؟۔
پاکستان کرکٹ ٹیم جون سے نومبر کے درمیان مزید چار آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ مقابلے کھیلے گی جن میں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف بیرون ملک سیریز اور سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریزشامل ہیں۔
حال ہی میں سرفراز احمد نے پاکستان کے انڈر 19 اسکواڈز کے کوچ اور مینٹور کے طور پر خدمات انجام دی ہیں جن میں ایشیا کپ اور آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں انگلینڈ لائنز کے خلاف پاکستان شاہینز کی سیریز شامل تھی۔
سرفراز کے ساتھ اسد شفیق کو بیٹنگ کوچ اور عمر گل کو بولنگ کوچ مقرر کیا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سرفراز اور اسد دونوں ہی قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن بھی ہیں جنہوں نے یہ اسکواڈ منتخب کیا ہے جو 27 اپریل سے یکم مئی تک کراچی میں منعقدہ کیمپ میں حصہ لے گا۔ ٹیم 2 مئی کو ڈھاکہ کے لیے روانہ ہوگی تاہم لاہور میں 3 مئی کو ہونے والے پاکستان سپر لیگ کے فائنل میں کھیلنے والے کھلاڑی 4 مئی کو اسکواڈ میں شامل ہوں گے
شان مسعود کپتان برقرار رہیں گے اس ٹیم میں چار ان کیپڈ کھلاڑی شامل ہیں ان میں عبداللہ فضل، عماد بٹ، اذان اویس اور محمد غازی غوری شامل ہیں۔ فاسٹ بولر محمد عباس کو 11 فرسٹ کلاس میچز میں 61 وکٹیں لینے پر دوبارہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے اپنا 27واں اور آخری ٹیسٹ جنوری 2025 میں کیپ ٹاؤن میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا تھا۔
عامر جمال، عبداللہ شفیق، ابرار احمد، آصف آفریدی، فیصل اکرم ، کامران غلام اور روحیل نذیر کی ٹیم میں جگہ نہیں بنی جو گزشتہ سال لاہور اور راولپنڈی میں جنوبی افریقہ کے خلاف دو ٹیسٹ سیریز کے اسکواڈ کا حصہ تھے۔ ان میں سے آصف آفریدی نے ایک ٹیسٹ کھیلا تھا اور چھ وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ عبداللہ شفیق نے دو ٹیسٹ میں 106 رنز بنائے تھے۔
پی سی بی نے کھلاڑیوں کو شامل کرنے اور نہ کرنے کی وجوہات کے بارے میں کوئی باقاعدہ وضاحت نہیں دی اور اسکواڈ کو ایک میڈیا ریلیز کے ذریعے اعلان کیا ہے جس سے شفافیت کی صورتحال نہایت کم ہوگئی ہے، فیصلے تو اعلان کیے گئے لیکن کوئی باقاعدہ وضاحت یا وجہ فراہم نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں قیاس آرائی اور غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔
اذان اویس اور عبداللہ فضل وہ دو کھلاڑی تھے جنہوں نے 2025-26 کے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس سیزن میں 1,000 یا اس سے زیادہ رنز بنائے۔ اذان اویس نے 18 میچز میں 1,251 رنز کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ عبداللہ نے 13 میچز میں 1,047 رنز بنا کر چھٹی پوزیشن حاصل کی تھی۔
سعد بیگ کے لیے ٹیم میں کوئی جگہ نہیں جنہوں نے بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ دونوں شعبوں میں سر فہرست رہتے ہوئے 17 میچز میں 1,369 رنز بنائے اور وکٹ کے پیچھے 53 کیچز اور اسٹمپڈ کیے۔
غازی غوری نے نہ صرف روحیل نذیر کی جگہ لے لی جنہیں کبھی اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع نہیں ملا بلکہ کئی باصلاحیت اور اعلیٰ کارکردگی والے وکٹ کیپر بیٹرز بشمول سعد بیگ پر بھی ترجیح دی گئی۔ قائداعظم ٹرافی میں غازی نے 83 رنز بنائے اور کوئی کیچ نہیں لیا، جبکہ پریذیڈنٹ ٹرافی میں وہ 531 رنز کے ساتھ دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے اور وکٹ کیپنگ میں 21 کیچز کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے۔
اس کارکردگی کی بنیاد پر غازی کو مارچ میں بنگلہ دیش کے خلاف تین ون ڈے میچز کے لیے دوسرے وکٹ کیپر کے طور پر منتخب کیا گیا لیکن انہوں نے تیسرے ون ڈے میں نمبر تین بیٹر کے طور پر ڈیبیو کیا۔
30 سالہ عماد بٹ نے سات پریذیڈنٹ ٹرافی میچز میں 32 وکٹیں حاصل کیں اور 206 رنز بنائے جبکہ تین قائداعظم ٹرافی میچز میں 91 رنز بنانے کے علاوہ چار وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔
شان مسعود (کپتان) عبدللہ فضل، عماد بٹ، اذان اویس، بابر اعظم، حسن علی، امام الحق، خرم شہزاد، محمد عباس، محمد رضوان (وکٹ کیپر ) محمد غازی غوری (وکٹ کیپر ) نعمان علی، ساجد خان، سلمان علی آغا، سعود شکیل اور شاہین شاہ آفریدی۔
پلیئر سپورٹ اسٹاف۔ نوید اکرم چیمہ (منیجر) سرفراز احمد (ہیڈ کوچ ) اسد شفیق (بیٹنگ کوچ) عمر گل ( بولنگ کوچ ) عبدالسعد (فیلڈنگ کوچ) کلف ڈیکن (فزیوتھراپسٹ ) گرانٹ لوڈن (اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ) عثمان ہاشمی (انالسٹ ) سید نعیم احمد (میڈیا منیجر)، لیفٹیننٹ کرنل (ر) عثمان انوری (سکیورٹی منیجر)ڈاکٹر واجدعلی رفاعی ( ٹیم ڈاکٹر) اور محمد احسان ( میسیور)۔



Leave a Reply