پاکستان کا چار روزہ میچ تین روزہ میچ میں تبدیل ، سعود شکیل فٹ ، شان بدستور ان فٹ
پاکستان کرکٹ ٹیم کا ٹیسٹ سیریز سے قبل چار روزہ میچ اب تین روزہ میچ میں تبدیل کردیا گیا ہے جو اب جمعرات 13 اگست سے شروع ہوگا۔مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل مئی کے بعد پہلی مرتبہ ״ بڑی ״ کرکٹ میں واپسی کے لیے تیار ہیں لیکن شان مسعود پاکستان ٹیم کے واحد تین روزہ میچ میں حصہ نہیں لے سکیں گے جو کینٹ کاؤنٹی سلیکٹ الیون کے خلاف کاؤنٹی گراؤنڈ بیکنہم میں کھیلا جائے گا۔
یہ میچ انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز سے قبل پاکستان کا واحد وارم اپ میچ ہے جس کا آغاز 19 اگست کو ہیڈنگلے میں ہوگا۔
سعود شکیل انجری کے باعث ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں شرکت نہیں کر سکے تھے جبکہ انگلینڈ کے دورے میں بھی ان کی شمولیت فٹنس سے مشروط تھی لیکن عبداللہ فضل کے انجری کے باعث دورے سے باہر ہونے کے بعد پی سی بی نے انہیں متبادل کھلاڑی کے طور پر فوری طور پر ٹرینیڈاڈ روانہ کر دیا تھا۔ انہیں پورٹ آف اسپین ٹیسٹ میں کھیلنے کی ضرورت پیش نہیں آئی جہاں اویس ظفر نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا تاہم اب سعود کو کینٹ کے خلاف میچ کے لیے مکمل فٹ قرار دے دیا گیا ہے۔
شان مسعود جن کی انگلی پہلے ٹیسٹ میں سنچری اسکور کرتے ہوئے فریکچر ہوگئی تھی اور ان کی جگہ عبداللہ شفیق نے لی تھی، بدستور میچ سے باہر رہیں گے۔ ہیڈنگلے ٹیسٹ میں بھی ان کی شرکت مشکوک ہے۔
کینٹ کے خلاف میچ سعود شکیل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انہیں نہ صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ انجری سے مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں بلکہ طویل عرصے بعد میچ پریکٹس حاصل کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ بائیں ہاتھ کے اس بیٹر کی 23 ٹیسٹ میچوں میں تقریباً 44 کی اوسط ہے لیکن جنوری 2025 میں ملتان میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 84 رنز بنانے کے بعد سے ان کی کارکردگی میں مسلسل تنزلی دیکھی گئی ہے۔ اپنی آخری 11 ٹیسٹ اننگز میں سعود صرف 191 رنز بنا سکے ہیں جبکہ اس دوران ان کی واحد نصف سنچری 66 رنز کی ہے جو انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف راولپنڈی میں اسکور کی تھی۔
اس میچ سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے خواہشمند دیگر کھلاڑیوں میں سلمان علی آغا اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان بھی شامل ہیں۔
سلمان علی آغا کی 27 ٹیسٹ میچوں میں 37.40 کی اوسط ہے تاہم کیریبین میں تین اننگز کے دوران وہ صرف 20، صفر اور صفر رنز بنا سکے۔ اس کمزور فارم کے باوجود وہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹرز میں شامل رہے ہیں۔ انہوں نے 2024 میں بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز سے لے کر رواں سال کے دورۂ بنگلہ دیش تک 13 ٹیسٹ میچوں میں 854 رنز بنائے ہیں جن میں ایک سنچری اور چھ نصف سنچریاں شامل ہیں۔
ℹ️ UPDATE: PCC Select XI vs. Pakistan at Beckenham is now a three-day Test Warm Up match, beginning on Thursday 13 August, after originally having been advertised as a four-day match beginning on Wednesday 12 August.
— Kent Cricket (@KentCricket) August 11, 2026
All ticket purchasers for Wednesday 12 August will be refunded…
محمد رضوان نے 45 ٹیسٹ میچوں میں تقریباً 40 کی اوسط قائم کر رکھی ہے، تاہم ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں وہ صرف 12، 11 اور 18 رنز بنا سکے۔ اس سے قبل مئی میں بنگلہ دیش کے دورے کے آغاز پر ان کی فارم بہتر دکھائی دی تھی جہاں انہوں نے 59 رنز بنائے اور پھر دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 94 رنز اسکور کیے تاہم بدقسمتی سے پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رضوان کی تیسری اور تازہ ترین ٹیسٹ سنچری بھی بنگلہ دیش کے خلاف ہی بنی تھی جب انہوں نے اگست 2024 میں راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں سنچری اسکور کی تھی۔
اوپنر امام الحق بھی اس میچ میں اچھی کارکردگی دکھانے کے خواہاں ہوں گے۔ ان کی تیسری اور آخری ٹیسٹ سنچری 2024 میں راولپنڈی میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں بنی تھی اس کے بعد سے وہ سات نصف سنچریاں اسکور کر چکے ہیں، جن میں تاروبا میں بنائی گئی 63 رنز کی اننگز بھی شامل ہے۔ اس کے بعد ان کے اسکور 3، 14 اور 9 رہے ہیں۔
اس کے مقابلے میں پاکستان کے لیے بولنگ کا شعبہ سب سے کم تشویش کا باعث ہے۔ فاسٹ بولرز محمد عباس اور محمد علی کو انگلینڈ کی کنڈیشنز میں کھیلنے کا تجربہ حاصل ہے اور دونوں ویسٹ انڈیز کے دورے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں شامل رہے۔ ان کے ساتھ ساجد خان اور علی عثمان نے بھی متاثر کن کارکردگی پیش کی۔ محمد علی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں اس لیے انگلینڈ سیریز سے قبل ورک لوڈ کو متوازن رکھنے کے لیے توقع ہے کہ انہیں کینٹ کے خلاف میچ میں آرام دیا جائے گا۔
پاکستان نے ابھی تک کینٹ کے خلاف میچ کے لیے اپنی ٹیم کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تاہم فٹنس اپ ڈیٹس اور حالیہ فارم کو مدنظر رکھتے ہوئے متوقع پلیئنگ الیون یہ ہو سکتی ہے
اذان اویس، امام الحق، عبداللہ شفیق، بابر اعظم، سعود شکیل، محمد رضوان (وکٹ کیپر) سلمان علی آغا، علی عثمان، ساجد خان، خرم شہزاد اور محمد عباس۔



Leave a Reply