دوسرے ٹیسٹ میں عبداللہ شفیق کی سنچری ، بابراعظم سنچری کے قریب
پورٹ آف اسپین ۔ پاکستان نے عبداللہ شفیق کی شاندار سنچری اور کپتان بابراعظم کے ساتھ سنچری پارٹنرشپ کے نتیجے میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن اپنی پہلی اننگز میں 2 وکٹوں پر 266 رنز بنالیے تھے۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز کی ٹیم پہلی اننگز میں 344 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔اس طرح پاکستان اب صرف 78 رنز پیچھے ہے اور اس کی 8 وکٹیں باقی ہیں۔
پاکستان کی اننگز میں گرنے والی پہلی وکٹ امام الحق کی تھی جو صرف 14 رنز بناکر شمر جوزف کی گیند پر واریکن کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
اذان اویس نے بڑے اعتماد سے اپنی اننگز شروع کی اور دوسری ہی گیند پر کیمار روچ کو چوکا لگانے کے بعد ان کے اگلے اوور میں لگاتار تین چوکے لگائے۔ یہی نہیں انہوں نے شمر جوزف کے ایک ہی اوور میں چار چوکے لگائے تاہم نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد وہ 10 چوکوں کی مدد سے 55 رنز کے اسکور پر واریکن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے۔ ویسٹ انڈیز کو یہ وکٹ ریویو کی مدد سے ملی۔
ٹیم میں کم بیک کرنے والے عبداللہ شفیق نے واریکن پر اٹیک کرتے ہوئے اپنے پہلے دونوں چوکے اور دونوں چھکے انہی کی گیندوں پر لگائے ۔ انہوں نے اپنی ساتویں نصف سنچری چار چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے مکمل کی لیکن ان کی نظریں چھٹی ٹیسٹ سنچری پر لگی ہوئی تھیں جو انہوں نے واریکن کو مڈ وکٹ پر چوکا لگاکر مکمل کرلی۔انہوں نے آخری ٹیسٹ سنچری 2024 میں انگلینڈ کے خلاف ملتان میں بنائی تھی۔
کھیل کے اختتام پر وہ 10 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 107 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔
کپتان بابراعظم ایک چھکے اور 10 چوکوں کی مدد سے 86 رنز بناکر کریز پر موجود تھے۔
یہ ان کی ٹیسٹ میں 33 ویں نصف سنچری ہے لیکن وہ بھی ٹیسٹ میں اپنی 10 ویں سنچری پر نظریں جمائے ہوئے ہیں ۔
بابراعظم نے آخری سنچری دسمبر 2022 میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی میں بنائی تھی۔
یہ دونوں خوبصورت اسٹروکس کے ذریعے ویسٹ انڈین بولنگ پر حاوی ہوتے ہوئے تیسری وکٹ کی شراکت میں 168 رنز کا اضافہ کرچکے ہیں۔
بابراعظم نے بھی اننگز کی شروعات میں جارحانہ مزاج اپناتے ہوئے جیڈن سیلز کو تین چوکے لگائے اور پھر دو چوکے جوزف کی بولنگ پر بھی لگائے ۔ یہ اعتماد پوری اننگز میں بھرپور انداز میں نظر آیا ہے ۔
اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے 239 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پراپنی پہلی اننگز شروع کی۔گرنے والی پہلی وکٹ جسٹن گریوز کی تھی جو گزشتہ روز کے اسکور میں صرف 9 رنز کا اضافہ کرسکے اور 73 رنز بناکر علی عثمان کی گیند پر اویس ظفر کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔یہ وکٹ نئی گیند لیے جانے کے پہلی ہی گیند پر گری۔
گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ایک ہزار رنز بھی مکمل کیے۔ انہوں نے روسٹن چیز کے ساتھ چھٹی وکٹ کی شراکت میں 96 رنز کا اضافہ کیا۔
روسٹن چیز جنہوں نے دن کا آغاز اعتماد سے کرتے ہوئے محمد علی اور سلمان آغا کے اوورز میں دو دو چوکے لگائے تھے 70 رنز بناکر عبید شاہ کی گیند پر بولڈ ہوگئے ۔ اس اننگز میں 11 چوکے شامل تھے۔
اگلی تینوں وکٹیں ساجد خان کے حصے میں آئیں۔ پہلے انہوں نے شمر جوزف کو 8 رنز پر اپنی ہی گیند پر کیچ کیا اور پھر19 رنز بنانے والے کیمار روچ کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔انہوں نے اننگز میں اپنی چوتھی وکٹ جیڈن سیلز کو8 رنز پر بابراعظم کے ہاتھوں کیچ کراکر حاصل کی۔
علی عثمان ویسٹ انڈیز کی اننگز کا خاتمہ کردیتے لیکن عبید شاہ نے مڈ آف پر جیڈن سیلز کا کیچ ڈراپ کردیا تھا۔
ساجد خان نے32.4 اوورز میں85 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ علی عثمان عبید شاہ اور محمد علی نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔



Leave a Reply