URDUسائیکیا کا بیان بھارت کے ״ سیاسی کھیل״ کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے

سائیکیا کا بیان بھارت کے ״ سیاسی کھیل״ کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے

بھارتی ویمنز کرکٹ ٹیم کی جانب سے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ایشیا کپ کی وننگ ٹرافی وصول نہ کرنے کے بعد بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیو جیت سائیکیا نے بھارتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے احترام یکجہتی اور ناقابل سمجھوتہ حالات کا معاملہ قرار دیا ہے۔

لیکن خود سائیکیا کی وضاحت جواب دینے کے بجائے مزید سوالات پیدا کرتی ہے اور فائنل میں بی سی سی آئی کے دو اعلی عہدیداروں کی موجودگی اس موقف کو مزید متضاد بنادیتی ہے۔

بھارت نے دبئی میں سری لنکا کو 72 رنز سے شکست دے کر ویمنز ایشیا کپ کا ریکارڈ آٹھویں مرتبہ ٹائٹل جیتا، لیکن جشن اس وقت متنازع ہوگیا جب بھارتی ٹیم نے محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کردیا۔ یہ وہی مؤقف تھا جو بھارتی مردوں کی ٹیم نے گزشتہ سال کے ٹورنامنٹ کے بعد اختیار کیا تھا

بی سی سی آئی کا کہنا تھا اس نے اے سی سی کو اپنے موقف سے فائنل سے قبل اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا تھا۔

تاہم بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا اور سیکرٹری سائیکیا دونوں فائنل میں موجود تھے اور جب دیپتی شرما نے کاؤشینی نوتھیانگانا کو آؤٹ کیا اور بھارت ٹورنامنٹ کی واحد ناقابلِ شکست ٹیم کے طور پر فاتح بنا تو دونوں نے محسن نقوی سے مبارک باد بھی وصول کی تھی ۔

یہ بات اہم ہے کیونکہ یہ کوئی ایسا ایونٹ نہیں تھا جواے سی سی کے ڈھانچے سے باہر منعقد ہورہا ہو ۔

یہ اے سی سی کا سب سے اہم براعظمی ٹورنامنٹ تھا، جو اسی تنظیم کے اختیار کے تحت منعقد ہوا جس کے سربراہ محسن نقوی ہیں۔

لہٰذا سائیکیا خود بھی ایک ایسے ایونٹ میں موجود تھے جس کی قیادت وہی شخص کررہے تھے جسے انہوں نے بعد میں ٹرافی پیش کرنے کے لیے ناقابل قبول قرار دے دیا۔

 

سائیکیا نے کہا

ہماری واحد تشویش یہ ہے کہ ہم اس مرحلے پر کسی ایسے شخص سے ٹرافی قبول نہیں کرسکتے جو ہمارے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔

لیکن اگر محسن نقوی ناقابلِ قبول تھے تو سوال بالکل واضح ہے پھر بی سی سی آئی کے سیکریٹری اور نائب صدر خود اس ایونٹ میں شرکت کرنے میں کیسے خود کو مطمئن محسوس کررہے تھے؟

سائیکیا نے اپنی وضاحت میں سیاست اور دوطرفہ کشیدگی کو بھی بار بار شامل کیا۔

انہوں نے کہا۔۔۔

سب جانتے ہیں کہ گراؤنڈ پر کیا ہورہا تھا اور سرحد کے دوسری جانب کیا ہورہا ہے۔ ہمارے ملک میں ایک خاص دشمن ملک کے خلاف نہ کھیلنے کا بہت بڑا مطالبہ تھا۔

انہوں نے براہِ راست حکومتی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود ہم نے آئی سی سی اور اے سی سی کے مینڈیٹ اور ہماری حکومت کی پالیسی کا احترام کیا کہ ہمیں تمام کثیر ملکی ایونٹس میں کھیلنا چاہیے۔

یہ اعتراف اس مؤقف کے بنیادی تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔

بھارت اے سی سی کے ایک مقابلے میں شرکت کے لیے تیار تھا، اس کے قوانین اور نظام کے تحت کھیلنے کے لیے تیار تھا، فائنل میں اپنے اعلیٰ بورڈ عہدیدار بھیجنے کے لیے تیار تھا اور پورے ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لیے تیار تھا لیکن جب ٹرافی اے سی سی کے صدر کو پیش کرنی تھی تو بی سی سی آئی نے تقریب کے طریقہ کار کو تبدیل کرنا چاہا۔

سائیکیا نے خود اس تنازع کو انتہائی سادہ الفاظ میں بیان کیا ہے۔۔۔۔

’’واحد مسئلہ یہ تھا کہ ہمیں ٹرافی کس سے وصول کرنی ہے۔‘‘

بالکل یہی اصل نکتہ تھا۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ بھارت کھیلے گا یا نہیں۔ وہ کھیا۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ اسے سی سی کے ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گا یا نہیں ؟ اس نے شرکت کی۔

مسئلہ یہ بھی نہیں تھا کہ بی سی سی آئی کے عہدیدار فائنل میں موجود ہونگے یا نہیں ؟ وہ موجود تھے۔

سائیکیا کے اپنے اعتراف کے مطابق اصل مسئلہ صرف یہ تھا کہ ٹرافی کون پیش کرے گا بی سی سی آئی کی تجویز تھی کہ ٹرافی اے سی سی کا ڈپٹی چیرمین پیش کرے۔

سائیکیا نے کہا ہم نے سفارش کی تھی کہ ٹرافی نائب چیرمین پیش کرسکتا تھا تاکہ تنازع سے بچا جاسکے۔

لیکن یہ محض ٹرافی پیش کرنے والے متبادل شخص کی تلاش کا معاملہ نہیں تھا بلکہ بی سی سی آئی ، براعظمی کرکٹ کی گورننگ باڈی سے یہ مطالبہ کررہا تھا کہ وہ اپنی ٹرافی پیش کرنے کی تقریب کا انتظام اس لیے تبدیل کردے کیونکہ اسے اپنے ہی صدر پر اعتراض تھا۔

اور یہ دلیل بھی مشکل سے قابلِ قبول ہے کہ بھارت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔

سائیکیا نے کہا

ہمارے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں کہ ہم اپنی مردوں کی ٹیم کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں، کیونکہ اب تک انہوں نے بھی ٹرافی وصول نہیں کی۔

درحقیقت ایک اور راستہ موجود تھا کہ اے سی سی کے صدر سے ٹرافی وصول کرلی جاتی اور کھیل کی کامیابی کو سیاسی تنازع سے الگ رکھا جاتا۔

اس کے بجائے بھارت نے گزشتہ سال کے مؤقف کو دوہرانے کا انتخاب کیا۔

یوں پچھلے سال کا انکار ایک اور انکار کا جواز بن گیا۔

سائیکیا نے روایت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دلیل دی کہ سابقہ ایڈیشنز میں فاتح ٹیم نے ٹرافی میزبان ملک کے کرکٹ بورڈ کے سربراہ سے وصول کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ روایت برقرار رہنی چاہیے

لیکن ماضی میں ٹرافی پیش کرنے کے طریقہ کار سے کسی ایک رکن بورڈ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوجاتا کہ وہ یہ طے کرے کہ اے سی سی صدر اے سی سی کی تقریب کس طرح کنڈکٹ کرے گا۔

ایشیا کپ بی سی سی آئی کا ایونٹ نہیں بلکہ ایک براعظمی مقابلہ ہے اور اے سی سی کی صدارت پر فائز شخص کی ذاتی شناخت سے ہٹ کر ایک ادارہ جاتی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔

سائیکیا نے مزید کہا کہ یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔ہم سب کا احترام کرتے ہیں، لیکن بعض حالات میں کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن کھیل کی دنیا یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ یہ ناقابلِ سمجھوتہ حالات آخر کیا ہیں؟ جب یہی بورڈ ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے، اس کے فائنل میں موجود رہنے اور ایسے ایونٹ میں اپنے اعلیٰ عہدیدار بھیجنے کے لیے تیارہے جس کا انعقاد اس ایونٹ کے سربراہ محسن نقوی کی قیادت میں ہورہا تھا۔

اس کا جواب بھی خود سائیکیا کی گفتگو میں موجود ہے۔

’’اپنی مردوں کی ٹیم کے ساتھ احترام اور یکجہتی برقرار رکھتے ہوئے…‘‘

’’گزشتہ ڈیڑھ سال سے صورتحال تبدیل نہیں ہوئی…‘‘

’’سب جانتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے… سرحد کے دوسری جانب…‘‘

’’ہمارے ملک میں بہت بڑا مطالبہ تھا…‘‘

یہ وضاحتیں کرکٹ کے پروٹوکول پر مبنی نہیں ہیں۔ یہ سیاسی عوامل ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کو محض ٹرافی پیش کرنے کے طریقۂ کار کے تنازع کے طور پر پیش کرنے کی کوشش تنقید کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی۔

دوسری جانب محسن نقوی نے بھارت کو ٹورنامنٹ جیتنے سے نہیں روکا۔ انہوں نے میچ میں مداخلت نہیں کی۔ انہوں نے بھارت کو اس کے ٹائٹل سے محروم نہیں کیا۔ وہ فائنل میں اے سی سی کے صدر کی حیثیت سے اپنے سرکاری کردار میں موجود رہے،

سب سے زیادہ معنی خیز جملہ اب بھی سائیکیا کا سب سے سادہ جملہ ہے:

’’واحد مسئلہ یہ تھا کہ ہمیں ٹرافی کس سے وصول کرنی ہے۔‘‘

بھارت نے مقابلے کو قبول کیا۔
اس نے ٹورنامنٹ کو قبول کیا۔
اس نے فائنل میں شرکت کی۔
اس کے اعلی عہدیدار اے سی سی کے یونٹ میں موجود تھے جس کی سربراہی محسن نقوی کررہے تھے۔

لیکن جب ٹرافی وصول کرنے کا مرحلہ آیا تو سیاست کو ترجیح دے دی گئی۔

اور سائیکیا کی وضاحت کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ معاملہ محض کرکٹ سے متعلق تھا۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.