ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ : پاکستان کا پہلا بڑا امتحان بھارت کے خلاف
ایجبسٹن ۔ پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم 10 ویں آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا آغاز اتوار 14 جون کو روایتی حریف بھارت کے خلاف ایجبسٹن میں کرے گی۔
یاد رہے کہ اسوقت پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کی عالمی رینکنگ میں آٹھویں پوزیشن ہے جبکہ بھارت کا نمبر تیسرا ہے۔
فاطمہ ثنا دوسری مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم کی قیادت کررہی ہیں۔
پاکستان ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ اے میں ہے جہاں اس کا مقابلہ چھ بار عالمی چیمپئن بننے والی آسٹریلیا کے علاوہ بھارت۔ جنوبی افریقہ ۔ بنگلہ دیش اور ہالینڈ سے ہے۔
گروپ بی میں دفاعی چیمپئن نیوزی لینڈ ۔ انگلینڈ ۔ سری لنکا۔ ویسٹ انڈیز آئرلینڈ اور اسکاٹ لینڈ شامل ہیں۔
بھارت کے خلاف میچ کے بعد پاکستان ٹیم 17 جون کو جنوبی افریقہ کا سامنا ایجبسٹن میں کرے گی۔20 جون کو اس کا میچ بنگلہ دیش سے ساؤتھمپٹن میں ہوگا۔ 23 جون کو ہیڈنگلے میں آسٹریلیا کی ٹیم اس کے مدمقابل ہوگی اور 27 جون کو اس کا آخری گروپ میچ ہالینڈ سے برسٹل میں ہوگا۔
پاکستان ویمنز ٹیم نے گزشتہ دنوں ہوم گراؤنڈ پر زمبابوے کی ناتجربہ کار ٹیم کے خلاف کئی ریکارڈز قائم کرتے ہوئے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی دونوں سیریز میں کلین سوئپ کیا تھا لیکن اس کے بعد آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ہونے والی سہ فریقی سیریز میں اس کی کارکردگی مایوس کن رہی اور وہ تین ٹیموں میں آخری نمبر پر رہی۔ اسے ویسٹ انڈیز اور آئرلینڈ دونوں کے خلاف ایک ایک میچ میں شکست ہوئی اور دو میچ بارش کی نذر ہوگئے۔
پاکستان ٹیم نے عالمی مقابلے سے قبل سری لنکا اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف دو وارم اپ میچز بھی کھیلے ہیں۔ سری لنکا کے خلاف اسے 9 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں اسے41 رنز سے شکست ہوئی ہے۔
پاکستان ٹیم میں شامل 10 کھلاڑی فاطمہ ثنا۔ عالیہ ریاض۔ گل فیروزہ ۔ڈیانا بیگ۔ نشرہ سندھو۔ طوبٰی حسن ۔ سعدیہ اقبال ۔منیبہ علی۔عائشہ ظفراور ارم جاوید اس سے قبل بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں ۔
4 کھلاڑیوں کا یہ پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے جن میں ایمان فاطمہ ۔ سائرہ جبین ۔ نتالیہ پرویز۔ اور رامین شمیم شامل ہیں۔
تسمیہ رباب 2024 کے اسکواڈ میں شامل تھیں لیکن کوئی میچ نہیں کھیلی تھیں۔
پاکستان کی لیفٹ آرم اسپنر سعدیہ اقبال اسوقت ویمنز ٹی ٹوئنٹی کی بولنگ رینکنگ میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ تین مرتبہ عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرچکی ہیں۔
پاکستان ٹیم میں سب سے حیران کن سلیکشن 34 سالہ ارم جاوید کا ہے جو 2013سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہی ہیں اور ان 13 برسوں میں 54 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اننگز میں وہ صرف ایک نصف سنچری بناسکی ہیں جو چھ سال قبل بنی تھی۔ ان کی موجودہ بیٹنگ اوسط صرف 10 رنز ہے۔
نیشنل ویمنز ٹی ٹوئنٹی کپ میں وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والی بیٹرز میں چوتھے نمبر پر آئی تھیں لہذا یہ ایسی غیرمعمولی کارکردگی بھی نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ ورلڈ کپ اسکواڈ میں سلیکٹ کرلی گئیں۔
پاکستان ویمنز کا آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔اس نے تمام 9 ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرتے ہوئے ابتک 36 میچز کھیلے ہیں جن میں سے صرف 9 جیتے ہیں 26 میں اسے شکست ہوئی ہے اور ایک میچ نامکمل رہا ہے۔
پاکستان ویمنز ٹیم ابتک کسی بھی ٹورنامنٹ میں گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔اس کی سب سے اچھی کارکردگی 2014 اور 2016میں رہی تھی جب اس نے دو دو میچز جیتے تھے۔2014 میں اس نے آئرلینڈ کو14 رنز سے اور سری لنکا کو بھی 14 رنز سے ہرایا تھا۔ 2016 میں اس نے بھارت کو 2 رنز سے اور بنگلہ دیش کو9 وکٹوں سے شکست دی تھی۔
پاکستان ویمنز ٹیم 2012 میں بھی بھارت کو ایک رن سے شکست دے چکی ہے۔
پاکستان ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ فاطمہ ثنا ( کپتان ) منیبہ علی۔گل فیروزہ۔ سائرہ جبین۔ ارم جاوید۔ عائشہ ظفر۔نتالیہ پرویز۔ عالیہ ریاض۔ ڈیانا بیگ۔ سعدیہ اقبال۔ نشرہ سندھو۔رامین شمیم۔ ایمان فاطمہ ۔ طوبٰی حسن اور تسمیہ رباب۔



Leave a Reply