URDUپاکستان کو ویمنز ایشیا کپ کے پہلے ٹائٹل کا انتظار

پاکستان کو ویمنز ایشیا کپ کے پہلے ٹائٹل کا انتظار

ویمنز ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2026 کا آغاز 28 اگست سے دبئی میں ہورہا ہے۔

پاکستان ویمنز ٹیم آٹھ ٹیموں کے اس ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا گروپ میچ یکم ستمبر کو تھائی لینڈ کے خلاف کھیلے گی۔ 5 ستمبر کو اس کا دوسرا میچ بھارت کے خلاف ہوگا جبکہ 7 ستمبر کو وہ گروپ اے میں اپنا تیسرا اور آخری میچ ہانگ کانگ کے خلاف کھیلے گی۔

ٹورنامنٹ کا گروپ بی بنگلہ دیش انڈونیشیا سری لنکا اور متحدہ عرب امارات کی ٹیموں پر مشتمل ہے۔

ٹورنامنٹ کے سیمی فائنلز10 اور 11 ستمبر کو ہونگے جبکہ فائنل 13 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔

تمام 15 میچز پاکستانی وقت کے مطابق شام 7:30 بجے شروع ہوں گے۔

پاکستان نے جس ٹیم کا اعلان کیا تھا اس میں ایک تبدیلی کی گئی ہے ۔ گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا وکٹ کیپر بیٹر نجیہہ علوی کی جگہ صدف شمس کو پندرہ رکنی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے جو 2024 کے بعد سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل نہیں کھیلی ہیں لیکن ان کی ون ڈے انٹرنیشنل میں حالیہ کارکردگی بہت اچھی رہی ہے اور وہ اس سال 9 اننگز میں ایک سنچری اور 4 نصف سنچریوں کی مدد سے 488 رنز بناچکی ہیں۔

ٹیم کی قیادت ایک بار پھر فاطمہ ثنا کے پاس ہے جو دی ہنڈریڈ میں مصروف ہونے کی وجہ سے سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز نہیں کھیل پائی تھیں۔

فاطمہ ثنا ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کے لیے پرُامید ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ٹیم نے اس ٹورنامنٹ کی اچھی تیاری کے طور پر لاہور میں کیمپ کے دوران عبدالقادر کرکٹ اکیڈمی کی مینز ٹیم سے بھی میچز کھیلے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان ویمنز ٹیم نے اس سال ابتک 18 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں جن میں صرف 6 جیتے ہیں 10 میں اسے شکست ہوئی ہے اور 2 نامکمل رہے۔

اس نے زمبابوے کی کمزور ٹیم کو تین صفر سے شکست دی ۔ جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے خلاف دو طرفہ سیریز میں اسے دو ایک سے شکست ہوئی جبکہ آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سہ فریقی سیریز میں بھی وہ دونوں مکمل میچوں میں ناکام رہی۔

پاکستان ویمنز ٹیم اس سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی کھیل چکی ہے لیکن اس میں وہ صرف ہالینڈ کو شکست دینے میں کامیاب ہوسکی تھی۔ اس ٹورنامنٹ میں فاطمہ ثنا 11 وکٹوں کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر رہی تھیں۔

یہ 10 واں ویمنز ایشیا کپ ہے۔2004 سے 2008 تک یہ ٹورنامنٹ ون ڈے فارمیٹ کے تحت کھیلا گیا تھا۔ 2012 سے یہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے تحت کھیلا جارہا ہے۔

پاکستان نے 2012 اور 2016 میں دو مرتبہ فائنل کھیلا ہے تاہم وہ ابھی تک یہ ٹورنامنٹ نہیں جیت سکا ہے۔ دونوں مرتبہ اسے بھارت نے بالترتیب 18 رنز اور 17 رنز سے شکست دی تھی۔

دو سال قبل پاکستان نے سیمی فائنل کھیلا تھا جس میں اسے سری لنکا نے تین وکٹوں سے شکست دی تھی۔

بھارت نے سب سے زیادہ 7 مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتا ہے۔ اس وقت سری لنکا دفاعی چیمپئن ہے جس نے 2024 کے فائنل میں بھارت کو8 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

پاکستان ویمنز اسکواڈ۔

فاطمہ ثنا (کپتان) عائشہ ظفر، ایمان نصیر، ایمان فاطمہ، گل فیروزہ، مومنہ ریاست، منیبہ علی صدیقی (وکٹ کیپر) صدف شمس ، نَشرہ سندھو، سعدیہ اقبال، سائرہ جبین، شوال ذوالفقار، طوبیٰ حسن، امِ ہانی اور وحیدہ اختر۔

۔ریزرو ۔ تَسمیہ رباب، حمنہ بلال، ماہِم انیس

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.