پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف لگاتار تیسری ون ڈے سیریز جیت
لاہور ۔ پاکستان نے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی ون ڈے سیریز دو ایک سے اپنے نام کرلی۔
اس طرح اس نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز جیتنے کی ہیٹ ٹرک بھی کرلی۔ یاد رہے پاکستان نے2022 اور2024 میں آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز جیتی تھیں۔
پاکستان نے پہلا ون ڈے انٹرنیشنل 5 وکٹوں سے جیتا تھا جبکہ دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں آسٹریلیا نے 41 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔
آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن پوری ٹیم 42 اوورز میں 157 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
آسٹریلوی ٹیم پاکستان کے خلاف آخری 6 ون ڈے انٹرنیشنل میں 250 رنز تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔
پاکستان نے جواب میں 41.5 اوورز میں 6 وکٹوں پر مطلوبہ اسکور پورا کرلیا۔
شاہین شاہ آفریدی نے پہلے ہی اوور میں وکٹ لینے کی اپنی عادت کے مطابق دوسری گیند پر میتھیو شارٹ کو صاحبزادہ فرحان کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔
یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں 12 واں موقع ہے کہ شاہین نے اپنے پہلے ہی اوور میں وکٹ حاصل کی ہے۔
کپتان جوش انگلیز اور مارنس لبوشین کے درمیان 46 رنز کی شراکت لبوشین کے19 رنز پر رن آؤٹ ہونے سے ختم ہوئی۔
انگلیز اور الیکس کیری کی 52 رنز کی شراکت حارث رؤف نے الیکس کیری کو19 رنز پر بولڈ کرکے توڑی ۔
شاہین شاہ آفریدی نے اپنے دوسرے اسپیل کے پہلے اوور میں پہلے جوش انگلیز کو 65 رنز پر صاحبزادہ فرحان کے ہاتھوں کیچ کرایا اورپھر کیمرون گرین کو بھی 7 رنز پر بابراعظم کے کیچ کے ذریعے پویلین کی راہ دکھادی۔
ابرار احمد بھی وکٹ کے معاملے میں پیچھے نہیں رہے ۔ انہوں نے میٹ رینشا کو4 رنز پر سلپ میں سلمان آغا کے ہاتھوں کیچ کرادیا اور پھر اگلے ہی اوور میں کوپر کونولی کو 3 رنز پر بولڈ کردیا۔
شاداب خان کو بالآخر طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد ایک نہیں بلکہ دو وکٹ مل گئیں۔ پہلے انہوں نے وکٹ کیپر غازی غوری کے کیچ کے ذریعے اولی پیک ( 7 ) کو آؤٹ کیا اور پھر گگلی سے ایڈم زمپا ( 10 ) کو بولڈ کردیا۔
شاداب خان نے آخری ون ڈے وکٹ 2023 کے عالمی کپ میں سری لنکا کے پاتھوم نسانکا کو آؤٹ کرکے حاصل کی تھی جس کے بعد وہ لگاتار پانچ ون ڈے میچوں میں وکٹ سے محروم رہے تھے۔
آسٹریلیا کی آخری وکٹیں اسکور میں صرف 38 رنز کا اضافہ کرسکیں۔
شاہین شاہ آفریدی نے30 رنز دے کر3 وکٹیں حاصل کیں اس طرح انہوں نے اس سیریز میں 7 وکٹیں حاصل کیں۔ ابرار احمد نے 19 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں۔شاداب خان نے 2 کھلاڑی 28 رنز دے کر آؤٹ کیے۔
پاکستان کے دونوں اوپنرز ایک بار پھر بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے۔
صاحبزادہ فرحان صرف 6 رنز بناکر نیتھن ایلیز کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔وہ ابتک اپنی چھ ون ڈے اننگز میں 31 کے اسکور سے آگے نہیں نکل سکے ہیں۔
معاذ صداقت نے ون ڈے میں ٹی ٹوئنٹی والا انداز اپنایا لیکن پانچ چوکوں کی مدد سے 27 رنز بناکر میتھیو شارٹ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
وکٹ کیپر غازی غوری کونیمین کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے تھے ۔ ریویو پر ٹی وی امپائر رچرڈ کیٹل برو کا فیصلہ ان کے حق میں رہا لیکن اگلی ہی گیند پر وہ 8 رنز بناکر بولڈ ہوگئے۔
بابراعظم اور سلمان آغا کے درمیان شراکت صرف33 رنز کی رہی ۔ سلمان آغا کے لیے بھی یہ سیریز مایوس کن رہی ۔ پچھلے دو میچوں میں 6 اور 7 رنز کے بعد اس اننگز میں وہ صرف 15 رنز بناکر کونیمین کی گیند پر انگلیز کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
پاکستان ٹیم کو اسوقت زبردست دھچکہ پہنچا جب بابراعظم 40 رنز بناکرکونیمین کی گیندبولڈ ہوگئے۔
یہ 14 واں موقع ہے کہ بابراعظم ون ڈے انٹرنیشنل میں لیفٹ آرم اسپنرز کی گیند پر آؤٹ ہوئے ہیں آخری 10 ون ڈے میچوں میں وہ 5مرتبہ لیفٹ آرم اسپنرز کی بولنگ پر آؤٹ ہوچکے ہیں۔
پاکستان کی پانچویں وکٹ 112 کے اسکور پر گری۔اسی اسکور پر عرفات منہاس کی وکٹ بھی گرگئی جو9 رنز بناکر میٹ رینشا کی گیند پر سلپ میں کیمرون گرین کو آسان کیچ دے گئے۔ یہ ون ڈے انٹرنیشنل میں رینشا کی پہلی وکٹ تھی۔
جیت کے لیے درکار 46 رنز کو حاصل کرنے کے لیے شاداب خان اور عبدالصمد نے سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرنے میں کامیاب رہے۔
شاداب نے 42 گیندوں پر 2 چوکوں کی مدد سے 29 رنز بنائے۔ عبدالصمد نے 30گیندوں پر ایک چوکے کی مدد سے 18رنز کی اننگز کھیلی ۔دونوں کے درمیان 49 رنز کی ناقابل شکست شراکت رہی۔
کونیمین 38 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کرکے سب سے کامیاب بولر رہے۔



Leave a Reply