URDUنسیم شاہ پر ریکارڈ جرمانہ ، سوشل میڈیا پر سخت ردعمل

نسیم شاہ پر ریکارڈ جرمانہ ، سوشل میڈیا پر سخت ردعمل

لاہور ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے ایک غیر معمولی فیصلے میں کرکٹر نسیم شاہ پر پاکستان سپر لیگ کے افتتاحی روز پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے بارے میں ان کے ( نسیم شاہ ) سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کیے گئے متنازعہ ٹویٹ پر 20 ملین پاکستانی روپے (تقریباً 72,000 امریکی ڈالر) کا جرمانہ عائد کردیا ہے۔
پی سی بی نے ایک بیان میں کہا کہ نسیم شاہ نے ‘ غیرمشروط معافی’ مانگی اور اپنے سوشل میڈیا منیجر کی خدمات ختم کر دی تھیں تاہم تین رکنی ڈسپلنری کمیٹی نے اس کے باوجود انہیں کٹیگری سی کے سینٹرل کنٹریکٹ کی مختلف خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا۔
تاہم پی سی بی نے تین رکنی ڈسپلنری کمیٹی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، نہ ہی یہ بتایا کہ نسیم شاہ کو کس کوڈ یا آرٹیکل کے تحت جرمانہ کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیان میں یہ بھی ذکر نہیں کیا گیا کہ نسیم شاہ کے پاس اپیل کا حق ہے یا نہیں ؟۔

پی سی بی کے فیصلے کا اعلان کرنے کے کچھ ہی دیر بعد نسیم شاہ نے ایکس پر لکھا: “میرے اکاؤنٹ سے حال ہی میں پوسٹ میری مینجمنٹ ٹیم نے کی تھی اور یہ میری رائے کی عکاسی نہیں کرتی۔ میں اپنے پلیٹ فارم کی مکمل ذمہ داری لیتا ہوں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تبدیلیاں کر چکا ہوں کہ یہ دوبارہ نہ ہو۔ میں اپنے پلیٹ فارم کے اس غلط استعمال سے متاثر ہونے والے ہر شخص سے مخلصانہ معافی مانگتا ہوں
سوشل میڈیا مینجر کی شناخت ظاہر کیے بغیر پی سی بی نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسے بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ پی سی بی کے دائرہ اختیار میں پاکستان کے کسی بھی سینٹرل کنٹریکٹ کے کھلاڑی کے ساتھ کام یا نمائندگی نہیں کر سکے گا۔
بورڈ نے کہا، “پی سی بی پروفیشنل اسٹینڈرڈز، معاہدوں کی ذمہ داریوں اور کھیل کے وقار کو قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
اس فیصلے نے فورا ہی سوشل میڈیا پر زبردست بحث چھیڑ دی جس میں مشہور شخصیات نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نسیم شاہ کے حق میں حمایت کی۔
کرکٹ انفو کے دانیال رسول نے ایکس پر لکھا کہ یہ جرمانہ اس جرمانے سے سولہ گنا زیادہ ہے جو عامر جمال کو اس کی کیپ پر 804 نمبر درج کرنے پر عائد کیا گیا تھا اور یہ نسیم کے کٹیگری سی سینٹرل معاہدے کی تقریباً دس ماہ کی تنخواہ کے برابر ہے۔
شہزاد اقبال نے جو ایک ٹی وی چینل پر کرنٹ افیئرز کے پروگرام کے میزبان ہیں لکھا کہ اتنا بھاری جرمانہ عائد کرنا ناانصافی اور نامناسب ہے جو نسیم کی سالانہ سینٹرل معاہدے کی تنخواہ کے برابر ہے اور جو پوسٹ تقریباً فوراً حذف کر دی گئی اور جس کے لیے غیرمشروط معافی بھی پیش کی گئی تھی انہوں نے مزید کہا کہ جرمانے روک تھام کے طور پر ہونے چاہئیں سبق سکھانے کے لیے نہیں۔
قانونی ر اور بین الاقوامی کمیشن آف جیورٹس کی رکن ریما عمر نے اس فیصلے کو من مانی غیرضروری اور ناجائز قرار دیا اور پی سی بی سے اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور تنبیہہ کی ہے کہ یہ طرز عمل آمرانہ ہے جس سے بچیں۔
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے بھی ایکس پر رائے دی اور ایک ٹویٹ کے لیے 2 کروڑ روپے کے جرمانے کو ‘حقیقت میں ایک آمرانہ ریاست کی بدترین خصوصیات کی نمائندگی’ قرار دیا۔
سابق ملتان سلطانز کے مالک علی خان ترین نے ایکس پر پی سی بی کی دوہری کارروائی کی منطق پر سوال اٹھایا، اور دلیل دی کہ جب سوشل میڈیا منیجر کو بلیک لسٹ کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی کھلاڑی پر پی سی بی کی تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے، تو یہ متضاد ہے اور پوچھا ، ‘ اگر آپ کی اپنی سزا یہ تصدیق کرتی ہے کہ منیجر نے یہ کیا ہے تو آپ کھلاڑی پر جرمانے کا جواز کیسے پیش کرسکتے ہیں ؟
بی بی سی کے براڈکاسٹر عاطف نواز نے ایکس پر اس جرمانے کو مضحکہ خیز قرار دیا اور اسے پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں سب سے بڑا جرمانہ قرار دیا ۔
کرک انفو کے عثمان سمیع الدین نے نسیم شاہ سے ہمدردی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔انہوں نے نسیم شاہ کے پچھلے مسائل کا حوالہ بھی دیا جن میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا جرمانہ اور گزشتہ سال دی ہنڈرڈ میں کھیلنے کے موقع سے انکار شامل ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی۔
اسٹیج اور ٹی وی آرٹسٹ شفاعت علی نے لکھا ہے کوئی بھی کرکٹر اپنا سوشل میڈیا خود نہیں چلاتا۔یہ ہمیشہ منیجمنٹ چلاتی ہے لہذا نسیم شاہ کو سولی پر چڑھانے سے قبل ہینڈلرز کے بارے میں تحقیقات کرنی چاہئیں اور کرکٹرز کو بھی اپنے منیجرز کو منظم کرنا شروع کر دینا چاہیے اور سیاسی مبصر بننا بند کر دینا چاہیے۔
دریں اثنا پی سی بی کی جانب سے فخر زمان کے حوالے سے مزید اعلانات کی توقع ہے جن پر بال ٹمپرنگ کا الزام ہے۔
دوسری جانب لاہور قلندرز نے ہفتہ کی شام ٹیم ہوٹل میں سیکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی میں ملوث ہونے پر شاہین شاہ آفریدی پر ایک ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا ہےہے۔
لاہور قلندرز نے ایک بیان میں کہا: “اس جائزے کے بعد لاہور قلندرز نے تصدیق کی کہ ٹیم ہوٹل میں ایک واقعہ رونما ہوا تاہم، اسے عوامی گفتگو میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور اس کے اصل سیاق و سباق سے زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا
نظم و ضبط قائم رکھنے اور جوابدہی کا مظاہرہ کرنے کے لیے فرنچائز نے شاہین شاہ آفریدی پر ایک ملین روپے کا جرمانہ عائد کر کے ایک رضا کارانہ اور فعال اقدام کیا ہے۔
لاہور قلندرز نے اس معاملے پر اپنے مشاہدات کے ساتھ ایک تفصیلی جواب بھی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو باضابطہ طور پر ارسال کیا ہے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.