مصباح الحق سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی لیکن پی سی بی کے نوٹس میں کیا ہے ؟
مصباح الحق نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی قومی سلیکشن کمیٹی سے استعفی دے دیا ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے ان کے استعفے کے بارے میں باضابطہ طور پر نہیں بتایا گیا ہے۔
مصباح الحق نے یہ استعفی پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستان ٹیم میں غیرمعمولی تبدیلیوں کے ایک روز بعد دیا ہے۔
مصباح الحق کے قریبی ذرائع کے مطابق انہوں نے یہ استعفی پیر کی شب پی سی بی کو ای میل کردیا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمرگل کو لارڈز ٹیسٹ میں ٹیم کی شکست کے بعد فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹاکر ان کی جگہ وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کو ذمہ داریاں سونپ دی تھیں اس کے علاوہ ٹیم کے سات کھلاڑیوں کو بھی ڈراپ کرکے پاکستان سے سات دیگر کھلاڑی انگلینڈ روانہ کیے گئے ہیں۔
مصباح الحق نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بیٹنگ کنسلٹنٹ کا عہدہ بھی چھوڑدیا ہے۔
مصباح الحق ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 26 فتوحات حاصل کرنے والے پاکستانی کپتان ہیں ۔ان کی کپتانی میں پاکستان نے جون 2003 میں ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی ۔
ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے ہیں جن میں چیف سلیکٹر، ہیڈ کوچ اور پی سی بی چیف کے ایڈوائزر کا عہدہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ پی سی بی کی جانب سے مقرر کردہ پانچ مینٹورز میں بھی شامل تھے۔
مصباح الحق موجودہ سلیکشن کمیٹی میں اس سال مارچ میں شامل ہوئے تھے جس کے دیگر ارکان عاقب جاوید سرفراز احمد اور اسد شفیق شامل ہیں۔اس کے علاوہ وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں سال میں 180 دن کے حساب سے بیٹنگ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کررہے تھے۔

سلیکٹرز کو پی سی بی کا نوٹس
پاکستان کرکٹ بورڈ نے 31 اگست کو سلیکٹرز کو ایک نوٹس ارسال کیا جس میں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دورے کے لیے پاکستان ٹیم میں محمد رضوان اور امام الحق کے سلیکشن پر سلیکٹرز سے وضاحت طلب کی گئی کہ ان دونوں کا سلیکشن کن بنیادوں پر ہوا تھا۔ سلیکشن کمیٹی کا یہ اجلاس 2 جون کو ہوا تھا۔
سلیکٹرز کو اس نوٹس کا 24 گھنٹے میں تحریری جواب دینے کے لیے کہا گیا تھا۔
یہاں یہ بات انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کہ آخر پاکستان کرکٹ بورڈ کو صرف انہی دو کھلاڑیوں کے بارے میں سلیکٹرز سے جواب طلبی کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے ؟ اور انہیں ٹیم میں منتخب کرنے کی وجوہات معلوم کی گئی ہیں۔
دوسری سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ سلیکشن کمیٹی کے ہر اجلاس کے منٹس بورڈ کو جمع کرائے جاتے ہیں اس کی ایک ایک چیز کی تفصیل جمع کرائی جاتی ہے کہ آپ جس کھلاڑی کو سلیکٹ کررہے ہیں اس کی پرفارمنس کیا ہے۔ جیسا کہ 2 جون کو ہونے والے اجلاس کے منٹس بھی یکم جولائی کو جمع کرائے گئے تھے۔
تیسری اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی ٹیم سلیکٹ کرتے وقت کھلاڑی کی پرفارمنس اور سب سے اہم بات اس کی فٹنس کا ریکارڈ بورڈ کی طرف سے سلیکٹرز کو دیا جاتا ہے جس کے بعد کپتان اور ٹیم منیجمنٹ کے ساتھ متفقہ طور پر ٹیم تشکیل دی جاتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ منتخب کردہ ٹیم پی سی بی کے چیرمین کے پاس حتمی منظوری کے لیے جاتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ٹیم درست سلیکٹ نہیں ہوئی تھی تو اس وقت اس کی منظوری کیوں دی گئی؟۔
امام الحق اور محمد رضوان کی کارکردگی پر بورڈ کی جانب سے نوٹس اس لیے بھی حیران کن معلوم ہوتا ہے کہ امام الحق نے گزشتہ فرسٹ کلاس سیزن میں گیارہ سو سے زائد رنز بنائے تھے جس میں پانچ سنچریاں شامل تھیں۔
محمد رضوان کی بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کے خلاف دو سیریز میں تین نصف سنچریاں شامل تھیں۔
یہاں یہ بات بھی بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ انگلینڈ کے دورے میں دیگر کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی ہے لیکن بورڈ نے صرف رضوان اور امام الحق کے بارے میں جواب طلبی کی ہے جبکہ بورڈ ، سلیکشن کمیٹی کے اجلاس کے تمام منٹس پہلے ہی دیکھ چکا ہے کہ کس طریقہ کار کے تحت ٹیم کا سلیکشن ہوا تھا۔



Leave a Reply