URDUشان مسعود اور برینڈن مک کلم کی برطرفیاں ، دو فیصلے دو مختلف انداز

شان مسعود اور برینڈن مک کلم کی برطرفیاں ، دو فیصلے دو مختلف انداز

صرف ایک ہفتے کے وقفے سے ہونے والی دو بڑی برطرفیوں نے کھیلوں کی انتظامیہ کے لیے ایک اہم مطالعہ پیش کیا ہے۔ شان مسعود کو پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سے ہٹا دیا گیا جبکہ برینڈن مک کلم کو انگلینڈ کے ٹیسٹ ہیڈ کوچ کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

تاہم دونوں اپنی اپنی ٹیموں کے ساتھ بدستور وابستہ ہیں۔ شان مسعود ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا حصہ ہیں جبکہ مک کلم انگلینڈ کی وائٹ بال ٹیموں کے ہیڈ کوچ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

دونوں فیصلے غیر متوقع نہیں تھے اور نہ ہی انہیں قبل از وقت قرار دیا جا سکتا ہے۔ شان مسعود کی قیادت میں پاکستان نے 16 میں سے 12 ٹیسٹ میچ ہارے جبکہ مک کلم کی کوچنگ میں انگلینڈ اپنے آخری 12 ٹیسٹ میں سے 8 میں شکست سے دوچار ہوا جن میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کی ناکامیاں بھی شامل تھیں۔

یہ تحریر اس بحث کے لیے نہیں کہ آیا یہ فیصلے درست تھے یا غلط۔ معقول رائے رکھنے والے افراد اس بات پر متفق ہو سکتے ہیں کہ شاید یہ فیصلے ناگزیر تھے۔ اصل سوال اس پہلو کا ہے جسے کھیلوں کی انتظامیہ اکثر ثانوی حیثیت دیتی ہے: ایک مشکل فیصلہ کس انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور اس انداز سے ادارے کی اقدار کے بارے میں کیا پیغام جاتا ہے۔

اسپورٹس ایڈمنسٹریشن کے طلبہ اور مستقبل میں ایسے فیصلے کرنے والے بورڈز پاکستان کرکٹ بورڈ اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے طرزعمل کا تقابل نہایت سبق آموز ہے۔ یہ موازنہ صرف انہی باتوں پر مبنی ہے جو دونوں اداروں نے سرکاری طور پر بیان کیں اور عوامی ریکارڈ کا حصہ بنیں۔

پی سی بی نے فیصلہ کس انداز میں بیان کیا؟

پی سی بی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق شان مسعود پاکستان کے 35ویں ٹیسٹ کپتان تھے۔ان کی برطرفی کے اعلان میں پی سی بی نے اپنی وجوہات واضح طور پر چند تکنیکی اور حکمتِ عملی سے متعلق خامیوں پر مرکوز رکھیں۔ بیان میں کہا گیا کہ شان میں سخت مقابلوں میں فیصلہ کن انداز اختیار کرنے کی کمی تھی۔ ڈی آر ایس کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا اور اوور ریٹ کے معاملے میں بھی وہ کمزور ثابت ہوئے۔ اس سرکاری اعلامیے میں نہ تو شان مسعود کا کوئی بیان شامل کیا گیا اور نہ ہی پریس کانفرنس میں ان کی خدمات پر شکریہ ادا کیا گیا۔

یہاں لمحہ بھر رک کر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مقصد فیصلے پر دوبارہ بحث کرنا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ بیان کے انداز میں کیا چیز شامل نہیں تھی۔ شان مسعود نے ایک ایسے دور میں پاکستان کی قیادت کی جب ٹیم شدید عدم استحکام کا شکار تھی۔ ان کے دور میں پانچ مختلف ہیڈ کوچز آئے، تقریباً ایک درجن سلیکٹرز تبدیل ہوئے اور 9 کھلاڑیوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کیا۔

یقیناً یہ تمام عوامل ان کے خراب ریکارڈ کا جواز نہیں بن سکتے لیکن یہ ایسا پس منظر ضرور فراہم کرتے ہیں جسے صرف نتائج پر مبنی سرکاری بیان میں نظر انداز کر دیا گیا۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ مسئلہ نہ تو ادارے کی روایت کا ہے اور نہ ہی صلاحیت کی کمی کا۔ پی سی بی حالیہ برسوں میں کم از کم دو مواقع پر یہ ثابت کر چکا ہے کہ وہ کپتانی کی تبدیلی کو کہیں زیادہ باوقار اور مثبت انداز میں پیش کر سکتا ہے ۔

نومبر 2023 میں جب بابر اعظم کو وائٹ بال کپتانی سے ہٹایا گیا تو پی سی بی کے اعلامیے میں اُس وقت کے چیئرمین کا براہِ راست بیان شامل تھا جس میں بابر کو “واقعی عالمی معیار کا کھلاڑی”، “پاکستان کے عظیم ترین بیٹرز میں سے ایک”، “ہمارا قیمتی اثاثہ” اور “موجودہ نسل کے لیے رول ماڈل” قرار دیا گیا۔

اسی طرح اکتوبر 2024 میں جب بابر اعظم نے خود دوبارہ وائٹ بال کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو پی سی بی کا بیان اس سے بھی زیادہ فراخدلانہ تھا۔ اس میں بابر کی بطور کپتان خدمات، ٹیم کی ضروریات کو ترجیح دینے کی صلاحیت اور پاکستان کرکٹ کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی کو کھلے دل سے سراہا گیا جبکہ بابر اعظم کا ایک تفصیلی بیان بھی شامل کیا گیا جس میں انہوں نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں، کوچز اور بورڈ کا شکریہ ادا کیا۔

ان دونوں مثالوں کو سامنے رکھا جائے تو شان مسعود کی برطرفی کے اعلامیے میں اسی نوعیت کی قدردانی کا نہ ہونا کسی مستقل ادارہ جاتی روایت کا نہیں بلکہ ایک مخصوص انتخاب کا نتیجہ محسوس ہوتا ہے۔ شاید یہی اس پورے واقعے کا سب سے اہم سبق ہے۔ پی سی بی کو مستقبل میں ایسے مواقع پر بہتر تاثر قائم کرنے کے لیے اپنی صلاحیتیں بدلنے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف وہی معیار اپنانا ہوگا جسے وہ پہلے ہی کامیابی سے اپنا چکا ہے۔

ای سی بی نے فیصلہ کیسے پیش کیا؟

ای سی بی کے بیان کا انداز مختلف تھا۔ اس میں برینڈن مک کلم کی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے علیحدگی کی تصدیق کی گئی مگر ساتھ ہی چیف ایگزیکٹو رچرڈ ُ گلڈ اور منیجنگ ڈائریکٹر راب کی ، کی جانب سے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے باضابطہ بیانات بھی شامل کیے گئے جبکہ خود مک کلم کا یہ بیان بھی جاری کیا گیا:

״ یقیناً مجھے بہت افسوس ہے کہ میں یہ ذمہ داری مزید نہیں نبھا سکوں گا لیکن میں اس فیصلے کا احترام کرتا ہوں ״۔

تحریری بیان جاری کرنے کے بعد رچرڈ ُ گلڈ نے میڈیا کے سامنے بھی اس فیصلے پر بات کی جن میں لارڈز میں انگلینڈ اور بھارت کی ویمنز ٹیسٹ کے دوران ان کی میڈیا گفتگو بھی شامل تھی۔

جب ان سے بار بار اس فیصلے کی وجوہات کے بارے میں سوال کیا گی جن میں ایشز میں شکست، ویلنگٹن میں ہیری بروک سے متعلق واقعہ، لارڈز میں مینز ٹیسٹ کے بعد کرفیو کی خلاف ورزی، اور آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے فائنل تک نہ پہنچنے جیسے معاملات شامل تھے تو ُ گلڈ نے کسی فرد پر ذمہ داری ڈالنے یا تفصیلی وضاحت دینے کے بجائے مسلسل ایک ہی مؤقف اختیار کیا کہ فیصلہ نتائج کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی نتائج سے بالاتر نہیں، چاہے وہ کوچ ہو، کپتان، ڈائریکٹر آف کرکٹ یا چیف ایگزیکٹو۔ ہم میں سے کوئی بھی نتائج سے مستثنیٰ نہیں۔

جب ان سے براہِ راست پوچھا گیا کہ کیا اس تمام صورتحال میں انہوں نے کبھی اپنے عہدے کے بارے میں بھی سوچا تو انہوں نے سوال سے گریز نہیں کیا بلکہ کہا جی ہاں، میں روزانہ کی بنیاد پر اپنے عہدے کا جائزہ لیتا ہوں کیونکہ یہ ذمہ داریاں ایک اعزاز ہیں اور آپ ہمیشہ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ آپ ٹیم اور کھیل کو درست سمت میں لے جانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

اس تقابل سے کیا سبق ملتا ہے؟

دونوں طریقۂ کار کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو وہ کسی بھی کھیلوں کے منتظم کے لیے ایسے فیصلوں کے وقت چند اہم عملی اسباق فراہم کرتے ہیں۔

نتائج اور شخصیت کو الگ رکھا جائے
خراب کارکردگی یا ناقص ریکارڈ کا واضح ذکر کیا جا سکتا ہے مگر اس کے ساتھ متعلقہ فرد کی محنت، خدمات اور وابستگی کا اعتراف بھی کیا جانا چاہیے۔ ای سی بی نے اپنے ایک ہی بیان میں یہ دونوں پہلو مؤثر انداز میں سمو دیے جبکہ پی سی بی کے بیان میں ایسا توازن نظر نہیں آیا۔

جوابدہی صرف ڈریسنگ روم تک محدود نہیں ہونی چاہیے
رچرڈ ُگلڈ نے خود کو بھی کوچ اور کپتان کے ساتھ نتائج کے لیے یکساں طور پر جوابدہ قرار دے کر یہ تاثر دیا کہ احتساب پورے ادارے پر یکساں لاگو ہوتا ہے، نہ کہ صرف میدان میں موجود افراد پر۔

شکریہ ادا کرنا کمزوری نہیں بلکہ وقار کی علامت ہے
رخصت ہونے والے کپتان یا کوچ کی خدمات کو سراہنے سے انہیں ہٹانے کا فیصلہ کمزور نہیں ہوتا بلکہ جیسا کہ ای سی بی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے اس سے فیصلے کی ساکھ مزید مضبوط ہوتی ہے کیونکہ ادارہ ایک ہی وقت میں احترام اور احتساب دونوں اقدار کو برقرار رکھتا ہے۔

معیار اس بات پر منحصر نہیں ہونا چاہیے کہ جا کون رہا ہے؟
اگر کوئی ادارہ صرف بڑے ناموں یا نمایاں شخصیات کی رخصتی پر گرمجوشی کا اظہار کرے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ صرف انہی کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ حقیقی ادارہ جاتی ثقافت اسی وقت تشکیل پاتی ہے جب کوچ، کپتان، اسٹار کھلاڑی یا پسِ منظر میں کام کرنے والا عملہ ، سب کے ساتھ یکساں احترام اور مستقل معیار اپنایا جائے، نہ کہ یہ محض چند منتخب افراد کے لیے ایک رسمی روایت بن کر رہ جائے۔

یہ تقابل کسی بھی بورڈ کی مجموعی کارکردگی پر حتمی فیصلہ سنانے یا کسی فرد پر ذاتی تنقید کرنے کے لیے نہیں ہے۔ کھیلوں کا انتظام ایک نہایت مشکل ذمہ داری ہے جو مسلسل عوامی اور میڈیا کی کڑی نظر میں انجام دی جاتی ہے، اور

نہ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ اور نہ ہی انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ ہر فیصلہ درست کرتا ہے البتہ شواہد پی سی بی کے حق میں ضرور سامنے لاتے ہیں کہ اس کے ابلاغ کا انداز ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہا۔ بورڈ نے بابر اعظم جیسے سینئر کھلاڑی کو قیادت سے دو مرتبہ ہٹاتے ہوئے بھی ان کے لیے احترام، قدردانی اور گرمجوشی کا اظہار کیا۔ اس لیے اصل سبق صلاحیت کا نہیں، کیونکہ پی سی بی یہ صلاحیت پہلے ہی دکھا چکا ہے بلکہ یہ سبق مستقل مزاجی کا ہے۔ یعنی یہی معیار ہر رخصت ہونے والے فرد پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے، چاہے وہ کوچ ہو یا کپتان، نہ کہ صرف بڑے اور نمایاں ناموں کے لیے۔

یہ تقابل منتظمین اور قارئین دونوں کو صرف یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ کوئی ادارہ جن لوگوں سے اپنی راہیں جدا کرتا ہے ان کے ساتھ اس کا طرزِ عمل اس کی تنظیمی ثقافت کے بارے میں اتنا ہی کچھ بتاتا ہے جتنا میدان میں حاصل ہونے والے نتائج۔

پیشہ ورانہ کھیلوں میں نتائج ہمیشہ سب سے اہم حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان نتائج یا فیصلوں کو کس انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، آیا اس میں بنیادی احترام اور خدمات کے اعتراف کو شامل کیا جاتا ہے یا نہیں، یہ مکمل طور پر منتظمین کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اور یہی چیز اکثر اس وقت بھی یاد رکھی جاتی ہے جب اسکور بہت پہلے فراموش ہو چکا ہوتا ہے۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.