شان مسعود سنچری کے قریب ، محمد علی کی چار وکٹیں
تاروبا ۔ فاسٹ بولر محمد علی کی چار وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے بعد شان مسعود اور امام الحق کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کے سبب پہلے ٹیسٹ کا دوسرا دن پاکستان کے لیے بڑی حد تک اطمینان بخش ثابت ہوا ۔
ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 311 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی جس کے بعد پاکستان نے کھیل کا اختتام 199 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔ اسطرح وہ ویسٹ انڈیز کے اسکور سے 112 رنز پیچھے ہے اور اس کی 7 وکٹیں باقی ہیں۔
شان مسعود اپنی 7 ویں ٹیسٹ سنچری کی طرف بڑھتے ہوئے 11 چوکوں کی مدد سے 88 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں ۔
شان مسعود کی یہ کارکردگی ذہنی طور پر ان کا مضبوط ہونا ظاہر کرتی ہے کہ کپتانی سے ہٹائے جانے کے بعد جس طرح پریس کانفرنس میں ان کی کپتانی کی خامیوں کو پیش کیا گیا اس کے باوجود وہ ان تمام باتوں کو پس پشت ڈال کر صرف اور صرف اپنے کھیل پر فوکس نظر آئے ہیں۔
دوسرے ناٹ آؤٹ بیٹر سلمان علی آغا نے ابھی اسکور کا آغاز نہیں کیا ہے۔
شان مسعود اور امام الحق نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 156رنز کا اضافہ کیا۔ امام الحق 7 چوکوں کی مدد سے 63 رنز بناکر شمر جوزف کی گیند پر جسٹن گریوز کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ یہ ان کی 11 ویں نصف سنچری تھی ۔
اذان اویس 9 گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد بغیر کوئی رنز بنائے کیمار روچ کی گیند پر بولڈ ہوگئے تھے ۔
کپتان بابراعظم اعتماد سے بیٹنگ کررہے تھے تاہم 23 رنزپر جیڈن سیلز کی گیند پر ہوپ کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
اس سے قبل میزبان ٹیم اپنے گزشتہ روز کے اسکور 194 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ میں117 رنز کا اضافہ کرسکی۔
پاکستان ٹیم کو پہلے سیشن میں چار وکٹیں مل گئیں جن میں سے دو نئی گیند پر حاصل ہوئیں ۔کے ویم ہوج اپنے گزشتہ روز کے اسکور 83 میں صرف ایک رن کا اضافہ کرکے دن کے تیسرے اوور میں خرم شہزاد کی گیند پر سلپ میں سلمان علی آغا کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔
سلمان علی آغا ہی کے کیچ نے محمد علی کو جسٹن گریوز کی 15 کے انفرادی اسکور پر وکٹ دلادی۔
محمد عباس نے کپتان روسٹن چیز کو10 رنز پر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ کرایا اور پھر خرم شہزاد نے اپنی دوسری وکٹ کیمار روچ کو سلپ میں بابراعظم کے ہاتھوں کیچ کے ذریعے حاصل کی تو ویسٹ انڈیز کا اسکور7 وکٹوں پر274 رنز تھا۔
کھانے کے وقفے کے بعد محمد علی نے دوسری کامیابی ایک چھکے اور چار چوکوں کی مدد سے 23 رنز بنانے والے شمر جوزف کو سلپ میں سلمان علی آغا کے کیچ کی مدد سے حاصل کی۔ یہ سلمان علی آغا کا اس اننگز میں چوتھا کیچ تھا۔
محمد علی نے سب سے اہم کامیابی شے ہوپ کی وکٹ کی صورت میں حاصل کی جو 6 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 92 رنز بناکر ایل بی ڈبلیو ہوگئے یوں وہ اپنی چھٹی سنچری مکمل نہ کرسکے۔
محمد علی نے اسی اوور میں جیڈن سیلز کو صفر پر بولڈ کرکے ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز 311 رنز پر ختم کردی۔
محمد علی نے 50 رنز دے کر4 وکٹیں حاصل کیں جو ان کی کریئر بیسٹ بولنگ ہے ۔
یاد رہے کہ محمد علی نے چند روز قبل اسی گراؤنڈ میں وارم اپ میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
محمد عباس نے 63 رنز دے کر 3 اور خرم شہزاد نے 66 رنز کے عوض2 وکٹیں حاصل کیں۔ عامر جمال نے ایک وکٹ کے حصول کے لیے 81 رنز دیے۔ علی عثمان35 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہ کرپائے۔
سلمان علی آغا پاکستان کے 9 ویں کرکٹر ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کی ایک اننگز میں چار کیچز کیے ہیں۔ ان سے قبل والس متھائس ۔ حنیف محمد ( دو مرتبہ ) عامر ملک۔انضمام الحق۔سلیم الٰہی ۔یونس خان ۔ امام الحق اور توفیق عمر ( دو مرتبہ ) ٹیسٹ کی ایک اننگز میں چار کیچز کرچکے ہیں۔



Leave a Reply