حیدرآباد کنگزمین پی ایس ایل کے فائنل میں
اہور ۔ پی ایس ایل میں پہلی بار حصہ لینے والی حیدرآباد کنگز مین کا انتہائی دلچسپ سفر بالآخر اسے فائنل میں لے آیا ہے۔ ایک ایسی ٹیم جسے اپنے پہلے چار میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہو اور پھر وہ اس ٹورنامنٹ کے سب سے کم اسکور 80 پر بھی آؤٹ ہوئی ہو اب اتوار کو ٹائٹل کے لیے 2017 کی چیمپئن پشاور زلمی سے مقابلہ کرے گی۔
حیدرآباد کنگز مین نے جمعہ کی شب قذافی اسٹیڈیم میں اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے تین مرتبہ کی چیمپین اسلام آباد یونائٹڈ کوسنسنی خیز مقابلے کے بعد صرف 2 رنز سے ہرادیا۔
اس ٹورنامنٹ میں کنگز مین اور یونائٹڈ کے درمیان یہ تیسرا میچ تھا ۔لیگ مرحلے میں حیدرآباد کنگز مین نے اسلام آباد یونائٹڈ کو پہلے میچ میں 6 وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ دوسرے میچ میں یونائٹڈ نے 8 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی ۔یہ وہی میچ ہے جس میں کنگز مین اس ٹورنامنٹ کے ابتک کے سب سے کم اسکور 80 پر آؤٹ ہوگئی تھی۔
دوسرے ایلیمنیٹر میں اسلام آباد یونائٹڈ نے ٹاس جیت کر حیدرآباد کنگز مین کو بیٹنگ دی جس نے 20 اوورز میں 5 وکٹوں پر 186 رنز بنائے۔
اسلام آباد یونائٹڈ 20 اوورز میں 7 وکٹوں پر 184 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکی۔
کنگزمین کی اننگز کے پہلے ہی اوور میں رچرڈ گلیسن نے معاذ صداقت کو صفر پر آؤٹ کردیا ۔ کپتان مارنس لبوشین اور صائم ایوب نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 70 رنز کا اضافہ کیا۔
صائم ایوب ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور 7 چوکوں کی مدد سے 38 رنز بناکر کرس گرین کی گیند پر چیپمین کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔یہ اس ٹورنامنٹ میں صائم کا سب سے بڑا اسکور ہے۔
عماد وسیم نے اپنے پہلے ہی اوور میں دو اہم وکٹیں حاصل کرکے کنگز مین کی مشکلات میں اضافہ کردیا ۔ پہلے انہوں نے لبوشین کو 39 رنز پر کرس گرین کے ہاتھوں کیچ کرایا اور پھر گلین میکسویل کو3 رنز پر سلمان مرزا کے ہاتھوں کیچ کرادیا۔ کنگزمین کی چار وکٹیں 85 رنز پر گرگئی تھیں۔
عثمان خان نے 6 رنز پر مارک چیپمین کے ہاتھوں ڈراپ کیچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے61 رنز ناٹ آؤٹ کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی جس میں 10چوکے شامل تھے جس کے نتیجے میں کنگزمین کی ٹیم یونائٹڈ کو 187 رنز کا ہدف دینے کی پوزیشن میں آسکی۔
یہ اس ٹورنامنٹ میں عثمان خان کی لگاتار تیسری نصف سنچری ہے۔ اس کے علاوہ وہ اس ٹورنامنٹ میں ایک سنچری بھی بناچکے ہیں۔
عثمان خان نے کوسال پریرا کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 101رنز کی اہم شراکت قائم کی ۔ پریرا 4 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے37 رنز بناکر فہیم اشرف کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
عماد وسیم 16 رنز کے عوض 2 وکٹوں کے ساتھ کامیاب بولر رہے۔
اسلام آباد یونائٹڈ جیت کے لیے جس کھلاڑی سے بہترین شروعات کی توقع رکھے ہوئے تھی وہ سمیر منہاس تھے جنہوں نے چھکے سے اننگز کی ابتدا کی لیکن 6 رنز پر وہ عاکف جاوید کی گیند پر لبوشین کو کیچ دے بیٹھے۔
محسن ریاض5 رنز بناکر محمد علی کی گیند پر عرفان خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے تو اسکور دو وکٹوں پر صرف 15 رنز تھا۔
ڈیون کانوے اور کپتان شاداب خان اسکور میں42 رنز کا اضافہ کرپائے۔کانوے ایک چھکے اور تین چوکوں کی مدد سے 30 رنز بناکر صائم ایوب کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
شاداب خان 22 رنز کے لیے 24گیندیں کھیل کر حسان خان کی گیند پر آؤٹ ہوگئے تو اسکور 4 وکٹوں پر صرف 68 رنز تھا۔
مارک چیپمین اور حیدرعلی اسلام آباد یونائٹڈ کو جیت کی طرف لے جارہے تھے کہ حیدرعلی 31 رنز بناکر محمد علی کی گیند پر میکسویل کے ہاتھوں کیچ ہوگئے ۔ انہوں نے چیپمین کے ساتھ 64 رنز کا اضافہ کیا۔
چیپمین کی 5 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 43 رنز کی اننگز حنین شاہ کی گیند پر پریرا کے عمدہ کیچ پر ختم ہوئی تو یونائٹڈ کو 15 گیندوں پر 34 رنز درکار تھے۔
اننگز کے 19 ویں اوور میں محمد علی نے22 رنز دے ڈالے ۔کرس گرین نے اس اوور میں دو چوکے اور ایک چھکا لگایا جبکہ ایک چھکا فہیم اشرف نے لگایا۔
یونائٹڈ کو آخری اوور میں جیتنے کے لیے صرف 6 رنز درکار تھے ۔ حنین شاہ نے اس اوور میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے صرف تین رنز دیے ۔ساتھ ہی وہ فہیم اشرف کی 19 رنز پر وکٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔
اس اوور کی آخری گیند پر کرس گرین کو جیت کے لیے چار رنز بنانے تھے لیکن لیگ بائی کا صرف ایک رن بن سکا۔ گرین21 اور عماد وسیم ایک رن کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
حنین شاہ نے37 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ محمد علی نے بھی دو کھلاڑی آؤٹ کیے تاہم انہوں نے 44 رنز دیے۔
اس میچ میں حسان خان کی فیلڈنگ شاندار رہی جنہوں نے آخری اوور میں فہیم اشرف کا کیچ لینے کے ساتھ ساتھ باؤنڈری پر یقینی چوکا بھی بچایا۔
پلیئر آف دی میچ ایوارڈ حنین شاہ نے حاصل کیا۔



Leave a Reply