پشاور زلمی پی ایس ایل 11 کی فاتح بن گئی
لاہور ۔ پشاور زلمی ایرون ہارڈی کی شاندار آل راؤنڈ پرفارمنس اور عبدالصمد کی جارحانہ بیٹنگ کے نتیجے میں پی ایس ایل 11 کی چیمپئن بن گئی۔
اتوار کی شب قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ُپرجوش شائقین کے سامنے کھیلے گئے فائنل میں پشاور زلمی نے بابراعظم کی قیادت میں حیدرآباد کنگزمین کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی۔
ایرون ہارڈی نے پہلے اپنی بہترین بولنگ پرفارمنس دیتے ہوئے 27 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں اور پھر مشکل صورتحال میں 56 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگزکھیل کر اپنی ٹیم کو فاتح بنادیا۔عبدالصمد کا کردار بھی اتنا ہی اہم رہا۔
یاد رہے کہ پشاور زلمی نے اپنے پانچویں پی ایس ایل فائنل میں دوسری مرتبہ ٹائٹل جیتا ہے۔ اس سے قبل اس نے 2017 میں ڈیرن سیمی کی قیادت میں کامیابی حاصل کی تھی۔ بابراعظم بحیثیت کپتان پی ایس ایل کا پہلا ٹائٹل جیتے ہیں۔ اس سے قبل کھلاڑی کی حیثیت سے وہ 2020 میں ٹائٹل جیتنے والی کراچی کنگز کی ٹیم میں شامل تھے جس کے کپتان عماد وسیم تھے۔
حیدرآباد کنگز مین کی یہ پہلی پی ایس ایل تھی جس میں اس نے شاندار پرفارمنس دیتے ہوئے فائنل میں جگہ بنائی ۔
بابراعظم نے ٹاس جیت کر حیدرآباد کنگزمین کو بیٹنگ دی اور اپنے بولرز کی عمدہ کارکردگی کے ذریعے اسے 18 اوورز میں صرف 129 رنز پر آل آؤٹ کردیا۔
جواب میں پشاور زلمی نے 130 رنز کا ہدف 15 اعشاریہ 2 اوورز میں پانچ وکٹوں پر حاصل کرلیا۔
معاذ صداقت نے میچ کی دوسری ہی گیند پر افتخار احمد کو چھکا لگایا اور پھر محمد باسط کو بھی چوکا مارا لیکن یہ جوش اسی اوور میں عبدالصمد کے ہاتھوں کیچ کی صورت میں ٹھنڈا پڑگیا۔
اس ٹورنامنٹ میں معاذ صداقت سے بھی جتنی توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ پوری نہیں ہوسکیں اور ان کا ٹیلنٹ ملتان سلطانز کے خلاف صرف دو نصف سنچریوں کی جھلک دکھاسکا۔
صائم ایوب اور لبوشین دوسری وکٹ کی شراکت میں 35رنز کا اضافہ کرپائے تھے کہ کنگزمین کے لیے صورتحال ایسی پلٹی کہ اس کے لیے سنبھلنا ممکن نہ رہا۔
لبوشین پانچویں اوور میں 20 رنز بناکر ہارڈی کی گیند پر حارث کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ کنگزمین نے پاور پلے میں دو وکٹوں پر69 رنز بنائے تھے۔
ساتویں اوور میں عثمان خان8 رنز بناکر سفیان مقیم کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے اور پھر اسی اوور میں عرفان خان بھی ایک رن بناکر رن آؤٹ ہوگئے۔
اگلے ہی اوور میں پھر دو وکٹیں گرگئیں۔ ناہید رانا نے گلین میکسویل کو پہلی ہی گیند پر فرحان یوسف کے ہاتھوں کیچ کرادیا اور آخری گیند پر کوسال پریرا ایک رن پر بریسویل کے ہاتھوں رن آؤٹ ہوگئے۔پریرا رن آؤٹ دیے جانے پر خوش نہیں تھے کیونکہ ان کے خیال میں بولر ان کے راستے میں آگئے تھے تاہم ٹی وی امپائر الیکس واف نے کافی سوچ بچار کے بعد پریرا کو آؤٹ قرار دے دیا۔
حیدرآباد کنگز مین کی یہ 4 وکٹیں صرف 9گیندوں پر گریں۔
اننگز کے دسویں اوور میں ہارڈی نے حسان خان کو 12 رنز پر مینڈس کے ہاتھوں کیچ کرایا تو کنگز مین کی 7 وکٹیں صرف 97 رنز پر گرچکی تھیں۔
حنین شاہ بریسویل کو ایک چھکا مارنے کے بعد ناہید رانا کی گیند پر بولڈ ہوئے تو اسکور بورڈ پر صرف 108رنز کنگزمین کی بے بسی بیان کررہے تھے۔
صائم ایوب جنہوں نے ابتدا جارحانہ انداز سے کی تھی اپنے اینڈ سے ساتھی بیٹرز کو آتے اور جاتے ہوئے دیکھتے رہے تاہم اس دوران وہ رنز بنانا نہیں بھولے اور 5 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 50گیندوں پر 54رنز اسکور کیے جو اس ٹورنامنٹ کے آخری میچ میں ان کی بالآخر پہلی نصف سنچری تھی۔وہ ہارڈی کی گیند پر آؤٹ ہونے والے نویں بیٹر تھے۔ ہارڈی نے اسی اوورمیں کنگزمین کی اننگز کا اختتام عاکف جاوید کو 5 رنز پر آؤٹ کرکے کیا۔
ایرون ہارڈی نے 27 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں جو ٹی ٹوئنٹی میں ان کی بہترین بولنگ ہے۔
سفیان مقیم کی ایک وکٹ نے اس ٹورنامنٹ میں ان کی مجموعی وکٹوں کی تعداد کو 22 تک پہنچادیا ۔
اس سے قبل 2019میں حسن علی نے 25وکٹیں حاصل کی تھیں۔ 2024 میں اسامہ میر نے 24 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ 2023 میں عباس آفریدی نے23 اور احسان اللہ نے 22 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
پشاور زلمی کا آغاز کسی بھیانک خواب سے کم نہ تھا۔ اننگز کے پہلے ہی اوور میں محمد علی نے اسے بیک فٹ پر کردیا۔ پہلی ہی گیند پر چوکا مارنے والے محمد حارث نے ایک بار پھر جلد بازی دکھاتے ہوئے لبوشین کو کیچ دے کر اپنی وکٹ گنوائی۔
اور جب بابراعظم پہلی ہی گیند کا سامنا کرتے ہوئے وکٹ کیپر عثمان خان کو کیچ دے گئے تو اسٹیڈیم میں خاموشی طاری ہوگئی تھی۔گولڈن ڈک نے بابراعظم کو اس ٹورنامنٹ میں 600 رنز کے سنگ میل تک پہنچنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
صرف سات رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد کوسال مینڈس اور چوتھے نمبر پر آنے والے ایرون ہارڈی لمبی پارٹنرشپ قائم نہ کرسکے۔ ہارڈی کا انداز جارحانہ رہا اور انہوں نے عاکف جاوید کے ایک ہی اوور میں تین چوکوں سے ابتدا کی لیکن دوسری جانب حنین شاہ نے اپنے پہلے ہی اوور میں کوسال مینڈس کو9 رنز پر آؤٹ کرکے کنگزمین کو ایک اور بڑا دھچکہ پہنچایا۔
عاکف جاوید نے مائیکل بریسویل کو4 رنز پر عثمان خان کے ہاتھوں کیچ کرایا تو 40 رنز پر4 وکٹیں گنواتے ہوئے زلمی اپنی منزل سے دور ہوتی ہوئی نظر آنے لگی لیکن ہارڈی اور عبدالصمد نے پانچویں وکٹ کے لیے 85 رنز کی شاندار شراکت قائم کرکے میچ کو دوبارہ اپنی گرفت میں کرلیا۔
ہارڈی نے 39 گیندوں پر 56 رنز اسکور کیے اور آؤٹ نہیں ہوئے جس میں 9 چوکے شامل تھے۔یہ اس پی ایس ایل میں ان کی پہلی نصف سنچری بھی ہے۔
عبدالصمد نے 34 گیندوں پر 48 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں 3 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔
ایرون ہارڈی شاندار آل راؤنڈ پرفارمنس پر پلیئر آف دی فائنل قرار پائے۔



Leave a Reply