گلیسپی کے لیے کنگز مین کے ڈگ آؤٹ سے ثابت کرنے کا وقت
لاہور ۔ جب جیسن گلیسپی اتوار کی شام قذافی اسٹیڈیم میں حیدرآباد کنگز مین کے ڈگ آؤٹ میں اپنی سیٹ سنبھالیں گے تو یہ ممکنہ طور پر ان کے کوچنگ کریئر کے سب سے ُپرجوش لمحات میں سے ایک ہوگا۔
پانچ ماہ سے بھی کم عرصہ پہلے آسٹریلیا کے اس مایہ ناز فاسٹ بولر اور اپنے ملک اور یارکشائر میں سب سے زیادہ قابل احترام کوچز میں سے ایک نے پاکستان کے ریڈ بال ہیڈ کوچ کے طور پر اپنے نو ماہ کے عرصے کو ایک ایسا تجربہ قرار دیا تھا جس میں ان کی عزت نہیں کی گئی تھی۔
اتوار کو وہ پاکستان کرکٹ کے سب سے بڑے انعام کے انتہائی قریب کھڑے ہونگے ، پی سی بی کے ملازم کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان سپر لیگ کی تاریخ کی سب سے قابل ذکر کہانیوں میں سے ایک کے آرکیٹکٹ کے طور پر۔
اپریل 2024 میں پاکستان کے ریڈ بال ہیڈ کوچ کے طور پر مقرر ہونے کے بعد گلیسپی ہر موڑ پر حیران رہ گئے۔ ان کے سینئر اسسٹنٹ کوچ ٹم نیلسن کو پی سی بی نے برطرف کر دیا۔ جیسا کہ گلیسپی نے خود کہا ہیڈ کوچ کے ساتھ “زیرو کمیونیکیشن” کے ساتھ۔
انہوں نے کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ ان کا کردار میچوں سے پہلے کیچزکی پریکٹس کرانے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ آخر کار انہوں نے ایڈیلیڈ سے جنوبی افریقہ کے لیے پرواز میں سوار ہونے سے انکار کر دیا اور باضابطہ طور پر دسمبر 2024 میں استعفیٰ دے دیا۔ یہ رخصتی مالی تنازعے میں پھنس گئی ہے جس میں گلیسپی نے غیر ادا شدہ واجبات کا دعویٰ کیا اور پی سی بی نے اصرار کیا کہ انہوں نے اپنے معاہدے کی نوٹس مدت پوری نہیں کی۔
یہ رسوائی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ جب پاکستان 2025 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے ہوم گراؤنڈ میں ایک بھی میچ جیتے بغیر باہر ہو گیا اور ٹورنامنٹ کی تاریخ میں گروپ مرحلے میں باہر ہونے والا محض دوسرا میزبان ملک بن گیاتو ان کے جانشین عاقب جاوید نے الزام مسلسل کوچنگ تبدیلیوں پر ڈال دیا۔ گلِیسپی کا ردعمل واضح اور عوامی تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر عاقب کو مسِخرہ کہا اور الزام لگایا کہ عاقب پس پردہ انہیں اور وائٹ بال کوچ گیری کرسٹن کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہر فارمیٹ میں ہیڈ کوچ کا کردار حاصل کرسکیں۔ یہ کسی بھی بین الاقوامی کرکٹ کوچ کی جانب سے موجودہ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے بارے میں دیا گیا سب سے خطرناک عوامی بیان تھا۔
کرسٹن جو عالمی کرکٹ میں سب سے زیادہ معزز کوچز اور ٹیم ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں ، وہ شخص جس نے جنوبی افریقہ اور بعد میں بھارت کو حقیقی عالمی چیمپئنز میں تبدیل کیا صرف پانچ ماہ پاکستان کے وائٹ بال کوچ کے طور پر رہے اور پھر مایوسی کے عالم میں استعفیٰ دے دیا۔ حال ہی میں انہیں دو سال کے لیے سری لنکا کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے۔ ایک ملک جس نے ان کی قابلیت کو تسلیم کیا اور تیزی سے ان کی خدمات کو یقینی بنایا۔ دوسری جانب پاکستان وہ ملک جس نے انہیں رکھا اور جانے دیا، جواب تلاش کرنے میں اب بھی مصروف ہے۔
پاکستان آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ تمام فارمیٹس میں ان کی آئی سی سی رینکنگ مسلسل اور نمایاں طور پر گر گئی ہے۔ بابر اعظم پاکستان کی حالیہ تاریخ کے سب سے کامیاب وائٹ بال بیٹر اور تمام تینوں فارمیٹس میں سابق عالمی نمبر ایک کو قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے خارج کر دیا گیا۔ کپتانی تبدیل ہوتی رہی۔ سلیکشن کی پالیسی میں تجربات ہوتے رہے۔ ادارے میں غیر استحکام جو خود عاقب نے تسلیم کیا۔ تقریباً دو سال اور چھ ماہ میں 16 کوچز اور 26 سلیکٹرز آئے اور کوئی مربوط کرکٹ فلسفہ جڑ نہ پکڑ سکا۔
دریں اثنا اوٹس گبسن نے خاموشی سے انفرادی کوچنگ کی چند بہترین مثالوں میں سے ایک اس پی ایس ایل میں پیش کردی۔
ویسٹ انڈین اوٹس گبسن نے تین براعظموں میں اعلیٰ سطح پر کوچنگ کی ہے، پشاور زلمی میں ایک مخصوص چیلنج کے ساتھ آئے کہ بابراعظم کو اس فارمیٹ میں کیسے بحال کیا جائے جس سے ان کی اپنی قومی ٹیم نے انہیں ہٹا دیا ہے۔
گبسن کا حل بہت ہی سادگی کے ساتھ تھا کہ بابراعظم سے یہ مانگنے کے بجائے کہ وہ اپنا کردار طاقتور ہٹر کے طور پر دوبارہ ایجاد کریں، انہوں نے بیٹنگ آرڈر کو بابراعظم کی قدرتی قوت کے گرد ترتیب دیا۔ محمد حارث جیسے جارح مزاج اور کُوسال مینڈس جیسے شاندار کھلاڑیوں کو ان کے ساتھ رکھا اور انہیں وقت لینے، حالات کا اندازہ کرنے اور پھر گیئر تبدیل کرنے کی آزادی اور اعتماد دیا۔ بابراعظم اور کوسال مینڈس کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔
اسی دوران گبسن نے سفیان مقیم کو ٹورنامنٹ کا سب سے زیادہ وکٹ لینے والا بولربنادیا انہوں نے ایک متوازن اور خطرناک بولنگ اٹیک تیار کیا اور ایسے ٹیم ماحول کو فروغ دیا جہاں بڑے نام اور ابھرتی ہوئی صلاحیتیں یکساں عزم کے ساتھ کھیلتی ہیں۔
مجموعی طور پرجیسن گلیسپی اور اوٹس گبسن نے فرنچائز کے ڈھانچے میں وہ کچھ حاصل کیا ہے جو پاکستان کا قومی کوچنگ ڈھانچہ نمایاں طور پر پیدا کرنے میں ناکام رہا۔ پورے ٹورنامنٹ میں پاکستانی کرکٹرز کی وسیع رینج سے مسلسل اور اعلیٰ معیار کی پرفارمنس۔ اور یہ ایسے سوالات اٹھاتا ہے جنہیں پاکستان کرکٹ کی اسٹیبلشمنٹ اب نظر انداز نہیں کر سکتی۔
اگر غیر ملکی کوچز جن کے پاس بین الاقوامی سطح پر ثابت شدہ اسناد ہیں، فرنچائز کے ماحول میں پاکستانی کھلاڑیوں میں بہترین کارکردگی کو سامنے لا سکتے ہیں تو قومی کوچنگ کا ڈھانچہ ایک چھوٹے، زیادہ قابلِ انتظام بین الاقوامی سطح کے کرکٹرز کے گروپ کے ساتھ یہی کارکردگی کیوں نہیں دکھا پاتا؟ کیا یہ سب سے اعلیٰ فیصلہ سازی کی سطح پر کوچنگ کی اہلیت اور حکمت عملی کے علم کی بنیادی کمی ہے؟ کیا یہ ٹیم کے انتخاب میں ذاتی تعلقات اور ادارہ جاتی سیاست کی وجہ سے غلط فیصلے کرنا ہے ؟ بجائے میرٹ اور شواہد کے؟ یا پھر یہ وہ سفارش اور اقربا پروری ہے جو طویل عرصے سے پاکستانی کرکٹ کے انتظامی کلچر کو متاثر کرتی رہی ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں طاقت کے قریب ہونا اکثر یہ طے کرتا ہے کہ کون کوچ بنے، کون منتخب کرے اور کون کھیلے، چاہے اس کی اہلیت یا ٹریک ریکارڈ کچھ بھی ہو؟
حالیہ برسوں میں پاکستان کے کرکٹ ماحول کام کرنے والے تین سب
سے زیادہ مستند کوچز گلِیسپی، گبسن اور کرسٹن فی الحال قومی سیٹ اپ کے باہر کامیابی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ایک پی ایس ایل کے فائنل میں ہے جس نے ایک نئی فرنچائز کو چار مسلسل شکستوں کے بعد بالکل مختلف انداز میں تبدیل کیا ہے۔ ایک نے پاکستان کے عصر حاضر کےعظیم بیٹسمین میں پھر سے جان ڈال دی جبکہ قومی سیٹ اپ نے اسے رد کر دیا تھا۔ اور تیسرا کوچ ایک حریف ٹیسٹ قوم کو دوبارہ ترتیب دے رہا ہے جبکہ اسے پانچ ماہ کے بعد یہاں راستہ دکھادیا گیا تھا۔ اس دوران پاکستان دو سال سے کم عرصے میں اپنا چوتھا ہیڈ کوچ تلاش کر رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ میں کبھی بھی ٹیلنٹ مسئلہ نہیں رہا۔ بابر اعظم کو قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے نہیں نکالا جانا چاہیے۔ انہیں ایک ایسے کوچ کی ضرورت ہے جو یہ سمجھتا ہو کہ بیٹنگ آرڈر کو اس کی مضبوطی کے مطابق کیسے ترتیب دیا جائے۔ سفیان مقیم کو نظر انداز نہیں رہنا چاہیے ۔ انہیں ایک ایسے کوچ کی ضرورت ہے جو ان کی صلاحیت کو پہچانے اور انہیں مسلسل سپورٹ کرے۔ حیدرآباد کنگز مین کو کہانیوں پر مبنی تاریخ کی ضرورت نہیں انہیں ایک ایسے کوچ کی ضرورت ہے جو ایسا کلچر قائم کرے جس میں جوابدہی ہو جو واضح ہو اور جس میں کمٹمنٹ ہو۔
گلیسپی اور گِبسن نے ایک ہی ٹورنامنٹ میں یہ تینوں چیزیں دکھادی ہیں۔
اتوار کا فائنل بنیادی طور پر دو شاندار ٹیموں کے درمیان کرکٹ میچ ہے لیکن یہ پاکستان کے کھیل میں کوچنگ فلسفے، کرکٹ کی سمجھ بوجھ اور ادارہ جاتی کلچر پر بھی ایک ریفرنڈم ہے۔
پی سی بی نے معیار کی بجائے شناسائی اور واقفیت کو ترجیح دی ہے، میرٹ کی بجائے سیاست کو فوقیت دی ہے اور طویل مدتی وژن کے بجائے مختصر مدت کی آسانی کو ترجیح دی ہے۔ اس کے نتائج متواتر اہم آئی سی سی ٹورنامنٹس سے جلد باہر ہونا، رینکنگ میں کمی اور پاکستان کے غیر معمولی ٹیلنٹ پول اور اس کی اصل پرفارمنسز کے درمیان عدم تعلق یا فاصلے کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔
اتوار کی شام کے نتیجے سے قطع نظر گلیسپی اور گبسن پہلے ہی اپنے موقف کو کسی بھی لفظ سے زیادہ طاقتور انداز میں پیش کر چکے ہیں۔ دو کوچز جو پاکستان کے کرکٹ ماحول سے غیر اہم یا نکال دیے گئے تھے، وہ اس کے سب سے بڑے اسٹیج پر واپس آ چکے ہیں ، ایک ٹرافی اٹھانے کے لیے، ایک چیمپئن کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے۔
پی سی بی کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ وہ احتیاط سے صورتحال پر توجہ دے ۔ آیا وہ ایسا کرے گا یا ہمیشہ کی طرح ایسا ہی رہے گا جیسا رہا ہے۔ایک غیریقینی نتیجہ



Leave a Reply