URDUپاکستان ویمنز کی ایک اور شکست ، آسٹریلیا ویمنز نے 113 رنز سے ہرادیا

پاکستان ویمنز کی ایک اور شکست ، آسٹریلیا ویمنز نے 113 رنز سے ہرادیا

لیڈز ۔ پاکستان ویمنز ٹیم اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مایوسی کے بھنور میں بری طرح پھنس گئی ہے کہ اس سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہیں رہا ہے اور ایک کے بعد ایک شکست اس کا مقدر بن چکی ہے۔

منگل کے روز ہیڈنگلے گراؤنڈ میں چھ بار کی ویمنز عالمی چیمپئن آسٹریلیا نے اس کے خلاف اپنا سب سے بڑا اسکور199 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ بناتے ہوئے 113 رنز کی شکست سے دوچار کردیا ۔

یہ آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف 17 میچوں میں 15 ویں جیت ہے ۔2 میچوں کا نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔

یہ پاکستان کی اس ٹورنامنٹ میں لگاتار چوتھی شکست ہے۔اس سے قبل وہ بھارت۔ جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش سے اپنے میچز ہارچکی ہے ۔اب اسے اپنا آخری گروپ میچ 27 جون کو ہالینڈ کے خلاف برسٹل میں کھیلنا ہے۔

آسٹریلیا ویمنز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر199 رنز بنائے۔

پاکستان ویمنز جواب میں 13.4 اوورز میں صرف 86 رنز بناکرآؤٹ ہوگئی۔

میچ کا آغاز پہلی ہی گیند پر بیتھ مونی کی وکٹ گرنے سے ہوا جو سعدیہ اقبال کی گیند پر سلپ میں گل فیروزہ کے عمدہ کیچ پر آؤٹ ہوگئیں۔

یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 9 واں موقع ہے جب سعدیہ اقبال نے اننگز کے پہلے ہی اوور میں وکٹ حاصل کی ہے۔

مونی کی وکٹ گرنے کے بعد ایلیز پیری اور جارجیا وول نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے پاور پلے میں64 رنز بناڈالے جو اس ورلڈ کپ میں کسی بھی ٹیم کا پاور پلے میں سب سے بڑا اسکور ہے۔ اس دوران فاطمہ ثنا نے اپنے پہلے اوور میں 17 اور ڈیانا بیگ نے اپنے پہلے اوور میں 19 رنز دے ڈالے۔

وول اور پیری نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 100 رنز کا اضافہ کیا۔ اس پارٹنرشپ کو نشرہ سندھو نے اپنے پہلے ہی اوور میں جارجیا وول کو 39 رنز پر آؤٹ کرکے ختم کیا اور پھر ایشلے گارڈنر کو بھی صفر پر آؤٹ کردیا۔

اگلے ہی اوور میں پاکستان کو108 رنز کے اسکور پر چوتھی کامیابی بھی حاصل ہوگئی جب رامین شمیم نے جارجیا وارہیم کی وکٹ 5 رنز پر حاصل کرلی۔

ایلیز پیری ذمہ دارانہ اننگز کھیلتے ہوئے 9 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 71 رنز بناکر فاطمہ ثنا کی گیند پر منیبہ علی کے ہاتھوں کیچ ہوگئیں ۔یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کی 10 ویں نصف سنچری ہے۔

انہوں نے اینابیل سدر لینڈ کے ساتھ پانچویں وکٹ کی شراکت میں 44 رنز کا اضافہ کیا۔ سدر لینڈ چار چوکوں کی مدد سے کریئر بیسٹ 27 رنز بناکر رامین شمیم کی دوسری وکٹ بن گئیں۔

وکٹیں گرنے کے باوجود آسٹریلیا نے رنز کی رفتار میں کمی نہیں آنے دی اور9.95 کے رن ریٹ سے اسکور بنایا جس میں ایک چھکا اور 27چوکے شامل تھے یعنی 57 فیصد رنز باؤنڈریز کی مدد سے بنے۔

پاکستان کی طرف سے سعدیہ اقبال ۔ نشرہ سندھو اور رامین شمیم نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ کپتان فاطمہ ثنا ( 45 رنز ایک کھلاڑی آؤٹ ) اور ڈیانا بیگ ( 30 رنز صفر وکٹ ) مہنگی ثابت ہوئیں۔

پاکستان کو دوسرے ہی اوور میں گل فیروزہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا جو ایک رن بناکر رن آؤٹ ہوگئیں جس پر وہ منیبہ علی سے خوش دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔

سائرہ جبین 5 رنز بناکر مولی نیکس کی گیند پر آؤٹ ہوگئیں ۔عائشہ ظفر بغیر کوئی رن بنائے رن آؤٹ ہوئیں تو مجموعی اسکور تین وکٹوں پر صرف 30 رنز تھا۔

منیبہ علی 13 رنز پر وکٹ کیپر مونی کے ہاتھوں ڈراپ کیچ کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہیں اور 32 رنز بناکر پیری کی گیند پر گارڈنر کے ہاتھوں کیچ ہوگئیں۔

ارم جاوید نے گارڈنر کو لگاتار تین چوکے لگائے لیکن 14 رنز پر انہیں جارجیا وارہیم نے بولڈ کردیا۔

عالیہ ریاض کی مایوس کن کارکردگی کا سلسلہ جاری رہا اور وہ 7 رنز بناکر پیری کی گیند پر مونی کے ہاتھوں کیچ ہوگئیں۔

رامین شمیم کوئی رن نہ بناسکیں اور پاکستان کی اننگز میں رن آؤٹ ہونے والی تیسری بیٹر بن گئیں۔اسی اوور میں مولی نیکس نے نشرہ سندھو کو بھی صفر پر بولڈ کردیا۔ آٹھویں وکٹ 75 رنز پر گری۔

کپتان فاطمہ ثنا کے17 رنز کی بدولت پاکستان ٹیم آسٹریلیا کے خلاف اپنے سب سے کم اسکور 82 کا ریکارڈ توڑنے سے بچ گئی لیکن شکست سے بچنا اس کے لیے کسی طور بھی ممکن نہ رہا تھا۔

The author

Lorem ipsum dolor sit amet, conse ctetuer adipiscing elit, sed diam nonum nibhie. Aenean sollici tudin, lorem auci elit consequat ipsutis sem niuis sed odio sit amet nibh vulputate cursus.

GET IN TOUCH WITH US

At Grassroots Cricket, we give paramount importance to feedback from our viewers. We value your opinions, and in case of suggestions or business inquiries, feel free to get in touch with us.