پاکستان ویمنز ٹیم کو جنوبی افریقہ کے خلاف 2 وکٹوں سے شکست
ایجبسٹن ۔ کپتان فاطمہ ثنا کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی اور اسپنرز کی تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان ویمنز ٹیم کو جنوبی افریقہ ویمنز کے خلاف ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوسرے میچ میں 2 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ پاکستانی ٹاپ آرڈڑ بیٹرز کی انتہائی مایوس کن کارکردگی تھی۔ اگران بیٹرز نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہوتا تو نتیجہ مختلف ہوتا۔
اس سے قبل اسی ایجبسٹن گراؤنڈ پر پاکستان کو اپنے پہلے میچ میں بھارت کے خلاف 64 رنز سے شکست ہوئی تھی۔
جنوبی افریقہ کی یہ اس ٹورنامنٹ میں پہلی کامیابی ہے ۔پہلے میچ میں اسے آسٹریلیا نے 65 رنز سے شکست دی تھی۔
جنوبی افریقہ کی پاکستان کے خلاف مجموعی طور پر یہ 16 ویں اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مسلسل چوتھی کامیابی ہے۔
یاد رہے کہ جنوبی افریقہ گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی فائنلسٹ ٹیم ہے۔
پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا سلسلہ آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سہ فریقی سیریز میں شروع ہوا تھا جس کے بعد اسے عالمی ایونٹ کے دونوں وارم میچوں میں بھی شکست ہوئی تھی۔
بدھ کو ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سلسلے میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان ٹیم دو تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری ۔ تسمیہ رباب اور سائرہ جبین کی جگہ لیگ اسپنر طوبٰی حسن اور بیٹر ارم جاوید کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
جنوبی افریقہ کی کپتان لارا وولواٹ کا یہ 100 واں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل تھا۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر126 رنز بنائے۔
جواب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم 127 رنز کا ہدف 16.5 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرپائی۔
پاکستان کا آغاز کسی بھیانک خواب سے کم نہ تھا۔میچ کی پہلی ہی گیند پر ماریزان کیپ نے منیبہ علی کو ایل بی ڈبلیو کرنے کے بعد آخری گیند پر گل فیروزہ کو بھی ایک رن پر بولڈ کردیا۔
ماریزان کیپ نے اپنے اگلے ہی اوور میں تیسری کامیابی عائشہ ظفر کو 9 رنز پر ایل بی ڈبلیو کرکے حاصل کی ۔
نتالیہ پرویز صرف 4 رنز پر ایابونگا خا کا کی گیند پر بولڈ ہوکر پاکستان کی مشکلات بڑھاگئیں۔اسوقت پاکستان کا اسکور صرف 14 رنز تھا۔
رامین شمیم 6 رنز پر رن آؤٹ ہوئیں تو پاور پلے میں پاکستان کا اسکور 5 وکٹوں پر29 رنز تھا۔
دو انتہائی سینئر اور تجربہ کار بیٹرز ارم جاوید اور عالیہ ریاض کے پاس اچھا موقع تھا کہ وہ اس مرحلے پر ایک اچھی پارٹنرشپ سے ٹیم کو سنبھالا دے سکیں لیکن ارم جاوید 11 رنز پر رن آؤٹ ہوگئیں۔
عالیہ ریاض اپنے نام کے آگے 10 رنز کی ایک اور مایوس کن اننگز لکھواکر واپس لوٹ گئیں تو پاکستان کا اسکور 7 وکٹوں پر صرف 45 رنز تھا ۔
عالیہ ریاض لگاتار 18 اننگز کسی نصف سنچری کے بغیر کھیل چکی ہیں۔ نشرہ سندھو کے صفر پر رن آؤٹ ہونے پر اسکور 50 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ ہوگیا۔
کپتان فاطمہ ثنا کی مزاحمت سے بھرپور عمدہ اننگز نے پاکستان ٹیم کو جنوبی افریقہ کے خلاف اس کے سب سے کم اسکور 87/8 کھلاڑی آؤٹ کا ریکارڈ ٹوٹنے کی خفت سے بچالیا ۔ 6 چوکوں اور 2چھکوں کی مدد سے بنائے گئے ان کے55 رنز ناٹ آؤٹ کے نتیجے میں پاکستان ٹیم تین ہندسوں تک پہنچ سکی۔
یہ ان کی ٹی ٹوئنٹی میں تیسری نصف سنچری ہے۔
طوبی حسن نے بھی ان کا اچھا ساتھ دیتےہوئے 23 رنز بنائے۔ ان دونوں نے 9 ویں وکٹ کی شراکت میں 71 رنز کا اضافہ کیا جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان ویمنز کی سب سے بڑی شراکت ہے۔ اس سے قبل ثنا میر اور عالیہ ریاض نے 2016 میں نیوزی لینڈ کے خلاف نیلسن میں نویں وکٹ کے لیے 30 رنز بنائے تھے۔
جنوبی افریقہ کی طرف سے ماریزان کیپ نے 23 رنز دے کر3 وکٹیں حاصل کیں۔ایابونگا خاکا اور شبنم اسمعیل نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ شبنم اسمعیل 2023 میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد دوبارہ آئی ہیں۔
جنوبی افریقہ کی اننگز کے دوسرے اوور میں فاطمہ ثنا نے سونے لیز کو5 رنز پر بولڈ کردیا ۔ کپتان وولوارٹ اپنے 100ویں میچ کو اپنی بیٹنگ سے یادگار نہ بناسکیں اور 8 رنز بناکر طوبٰی حسن کی گیند پرسعدیہ اقبال کے ہاتھوں کیچ ہوگئیں۔
ماریزان کیپ 10 رنز بناکر نشرہ سندھو کی گیند پر منیبہ علی کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہوگئیں۔
پاکستان کو ایک اور اہم کامیابی اسوقت ملی جب طوبی حسن نے اینری ڈرکسن کو 52 رنز پر بولڈ کردیا ۔اس اننگز میں 7 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔جنوبی افریقہ کی چوتھی وکٹ 76 رنز پر گری۔
پاکستان کی اسپنرز کا دباؤ بڑھنے لگا اور اسی دباؤ میں سعدیہ اقبال نے پہلے ٹرائون کو4 رنز پر منیبہ علی کے ہاتھوں کیچ کرایا اور پھر کائلا رینیکے کو 2 رنز پر اپنی ہی گیند پر آؤٹ کرکے جنوبی افریقہ کو پریشانی میں مبتلا کردیا۔ یہ چھٹی وکٹ 107 کے اسکور پر گری اور جب جنوبی افریقہ جیت کے بالکل قریب تھی تو فاطمہ ثنا نے ایک ہی اوور میں پہلے سنالو جافتا کو5 رنز پر بولڈ کیا اور پھر37 رنز بنانے والی نادین ڈی کلیرک کو بھی پویلین کی راہ دکھادی لیکن وائیڈ کے ایک رن سے وولوارٹ کی ٹیم نے سکون کا سانس لیا۔
فاطمہ ثنا نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی دکھاتے ہوئے ناقابل شکست نصف سنچری بنانے کے بعد صرف 16 رنز دے کر3 وکٹیں حاصل کیں۔ سعدیہ اقبال اور طوبی حسنس نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان ٹیم گروپ اے میں اپنا تیسرا میچ 20 جون کو بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گی۔



Leave a Reply