فاطمہ ثنا کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں تیز ترین نصف سنچری، پاکستان کا کلین سوئپ
کراچی ۔ کپتان فاطمہ ثنا کی ویمنز ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی تیز ترین نصف سنچری اور اسپنرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت پاکستان ویمنز نے زمبابوے ویمنز کو تیسرے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں133 رنز سے شکست دے دی۔
فاطمہ ثنا نے صرف 15 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے 62 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز کھیلی۔ اس سے قبل ویمنز ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ نیوزی لینڈ کی ایس ایف ایم ڈیوائن ، آسٹریلیا کی لچفیلڈ اور بھارت کی ریچا گھوش کا تھا جنہوں نے 18 گیندوں پر نصف سنچریاں مکمل کی تھیں۔
اس کامیابی کے ساتھ پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی کلین سوئپ کرلیا۔ پاکستان ویمنز نے ون ڈے سیریز بھی تین صفر سے جیتی تھی۔
یاد رہے کہ پاکستان ویمنز نے ڈھائی سال بعد دو طرفہ ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتی ہے۔ آخری بار اس نے ٹی ٹوئنٹی سیریز دسمبر 2023 میں نیوزی لینڈ کے خلاف جیتی تھی جس کے بعد اسے دوطرفہ سیریز میں ویسٹ انڈیز۔ انگلینڈ۔ آئرلینڈ اور جنوبی افریقہ کےخلاف ( دو مرتبہ ) شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔
جمعہ کو نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان ویمنز دو تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری۔ گل فیروزہ اور ایمان فاطمہ کی جگہ رامین شمیم اور عالیہ ریاض کو ٹیم میں شامل کیاگیا۔
پاکستان ویمنز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور 20 اوورز میں 4 وکٹوں پر 223 رنز بنائے۔
جواب میں زمبابوے ویمنز 17 اعشاریہ ایک اوورز میں صرف 90 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
اوپنرز منیبہ علی اور عائشہ ظفر نے اپنی ٹیم کو 58 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا تاہم منیبہ علی ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکیں اور 22 رنز بناکر مابیرو کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئیں۔
منیبہ علی اگست 2025 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سنچری کے بعد سے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے انٹرنیشنل میں مجموعی طور پر 19 اننگز میں صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوسکی ہیں۔
پہلے ٹی ٹوئنٹی میں تیز ترین سنچری بنانے والی عائشہ ظفر 9 چوکوں کی مدد سے 45 رنز بناکر مابیرو کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئیں۔ نتالیہ پرویز صرف ایک رن بناپائیں۔
ارم جاوید نے 29 رنز کی اننگز کھیلی اور سائرہ جبین کے ساتھ چوتھی وکٹ کی شراکت میں 59 رنز کا اضافہ کیا۔
سائرہ جبین نے جو اپنے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں دوسری مرتبہ بیٹنگ کررہی تھیں 32 گیندوں پر 50 رنز ناٹ آؤٹ کی عمدہ اننگز کھیلی جس میں 8 چوکے شامل تھے۔
کپتان فاطمہ ثنا نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 19 گیندوں پر 2 چھکوں اور 10چوکوں کی مدد سے 62 رنز اسکور کیے اور آؤٹ نہیں ہوئیں۔ یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کی دوسری نصف سنچری ہے۔
ان کی جارحانہ بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے چیگورا کے ایک اوور میں چار چوکے لگائے اور پھر سبانڈا کے اگلے ہی اوور میں تین چوکے اور دو چھکوں کی مدد سے24 رنز بناڈالے۔
فاطمہ ثنا اور سائرہ جبین نے پانچویں وکٹ کی ناقابل شکست شراکت میں 71 رنز کا اضافہ کیا۔
زمبابوے کی بیٹرز اپنی ناتجربہ کاری کے سبب ایک بار پھر بڑے اسکور کا دباؤ برداشت نہ کرسکیں۔لیفٹ آرم اسپنر سعدیہ اقبال نے اپنے پہلے ہی اوور میں ایم ٹومبا کو بولڈ کردیا اور پھر اپنے دوسرے اوور میں کیلس این لووو اور بیلووڈ بیزا ( صفر ) کی وکٹیں حاصل کرلیں۔ کیلس نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ایک چھکے اور چھ چوکوں کی مدد سے32 رنز بنائے جس میں سے ایک چھکا اور تین چوکے انہوں نے فاطمہ ثنا کے پہلے ہی اوور میں لگائے تھے۔
سعدیہ اقبال کے بعد رامین شمیم نشرہ سندھو طوبٰی حسن اور فاطمہ ثنا نے بھی اپنے نام وکٹ لینے والی بولرز کی فہرست میں درج کرائے اور مہمان ٹیم کی مایوسی بڑھتی چلی گئی۔
سعدیہ اقبال نے 20 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ نشرہ سندھو نے 2 وکٹیں 21 رنز کے عوض حاصل کیں جبکہ رامین شمیم طوبی حسن اور فاطمہ ثنا ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہیں۔
پاکستان ویمنز ٹیم کی اگلی منزل آئرلینڈ ہے جہاں وہ 29 مئی سے 4جون تک آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں حصہ لے گی۔ 29 مئی اور4 جون کو اس کے میچز ویسٹ انڈیز کے خلاف ہونگے جبکہ آئرلینڈ سے وہ 31 مئی اور 3 جون کو مقابلہ کرے گی۔
سہ فریقی سیریز کے بعد پاکستان ویمنز ٹیم آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لے گی اس کا پہلا میچ 14جون کو بھارت کے خلاف ایجبسٹن میں ہوگا۔



Leave a Reply